• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نمازِ باجماعت کا تعطل اور علماء کی منقسم آراء۔۔محمد احسن سمیع

نمازِ باجماعت کا تعطل اور علماء کی منقسم آراء۔۔محمد احسن سمیع

کسی بھی شعارِ دین کا عارضی طور پر معطل ہوجانا ان لوگوں کے لئے کس قدر دِلی اذیت کا سبب ہوسکتا ہے جو آج بھی  کمترین درجے میں ہی سہی ، ایمان کو ہی اپنی حتمی دولت سمجھتے ہیں،  یہ  دین بیزار طبقے کے لئے سمجھنا  مشکل نہیں۔ اسی لئے عالمی وباء کے اس نازک موقع پر بجائے  افہام و تفہیم کے ماحول میں صحت مندانہ مکالمہ کرنے کے بجائے بڑھ بڑھ کر پھبتیاں کَسی جارہی ہیں۔ وقاص گورایہ جیسے بے شرم بغیر کسی لگی لپٹی کے  معاذ اللہ ثم معاذ اللہ خانۂ خدا کے اجڑنے پر بغلیں بجاتے پھر رہے ہیں۔  مسجدیں تو ان شاء اللہ، ایک نمازی کے ذریعے ہی سہی، اب بھی آباد ہی ہیں۔ خانۂ خدا سے تو اب بھی پانچ وقت اذان کی صدا بلند ہورہی ہے۔ ہاں ان خون آشام دیسی لبرلوں کے عیاشی کے اڈے ایسے اُجڑے ہیں کہ اب کسی آدم زاد کی آواز وہاں سنائی نہیں دیتی۔

خیر، اس دین بیزار طبقے کا علاج تو شاید ناممکن ہے۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، وہ تو فرعون کے گھر میں موسیٰؑ کی پرورش کا سامان کردیتا ہے۔ شاید ہمارے یہ لنڈے کے ملحد بھی کسی روز سدھر جائیں۔ اس وقت زیادہ اہم موضوع اس وبائی صورتحال میں مساجد میں باجماعت نمازوں کی ادائیگی کے حوالے سے علمائے کرام کی منقسم آراء ہیں۔  عمومی تاثر یہ ہے کہ محض برصغیر پاک و ہند کے علماء ہی اپنی روایتی ’’کوتاہ نظری‘‘ کے پیش نظر مساجد میں جماعتوں پر اصرار کررہے ہیں جبکہ باقی پورا عالم اسلام مساجد میں جماعت کے تعطل پر یکسو ہے، جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ علماء کی آراء دیگر ممالک میں بھی منقسم ہی  ہیں اور ملائیشیا، انڈونیشیا اور خود عالم عرب کے بھی غیر معروف علاقوں کی مساجد میں باجماعت نماز کے انعقاد کی خبریں سامنے آئی  ہیں۔  اصل بات یہ ہے کہ اب بھی مسلمانوں کی بڑی تعداد کے دل میں ایمان کی اتنی رمق باقی ہے کہ اس کے لئے جماعت کی بندش کے فیصلے کو دل سے تسلیم کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اسی لئے عرب حکومتوں کو اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے سخت قوانین اور جرمانوں کا سہارا لینا پڑرہا ہے۔

شعار اسلام کی تعظیم کا یہ عوامی جذبہ اگرچہ لائقِ تحسین ہے، تاہم حکومتوں کو  اس وقت وسیع تر معاشرتی مفاد میں فیصلے کرنے ہیں، اور علمائے کرام کو بھی یہ نکتہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ حقیقت بہرحال یہی ہے کہ ہم عامیوں اور کم علموں کی جید اور کبار علماء کے آگے کوئی حیثیت نہیں کہ ان پر زبان دراز کرنے کی جرأت کریں۔ تاہم اس بات کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا  کہ اس طرح کی وبائی صورتحال دورِ نبویﷺ میں پیش نہیں آئی، اور دور صحابہؓ اور تابعینؒ میں بھی وباء کے پھیلاؤ کے اسباب کے بارے میں اتنی جامع معلومات میسر نہیں تھیں، جو آج ہیں۔ اسی لئے موجودہ صورتحال میں مساجد میں جماعت کا تعطل بہرحال ہے ،ایک اجہتادی مسئلہ ہے جس پر علمائے کرام کی آراء کا مختلف ہونا کوئی غیرفطری یا اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ ہرمجتہد اپنے مزاج کے مطابق ہی شرعی مآخذ سے مسائل کا استنباظ کرتا ہے۔ پیشِ نظر علماء کی  دونوں ہی جماعتوں کے امت کا اجتماعی مفاد ہے۔ بنظرِ غائر اگر دیکھا جائے تو ایک رائے دین کی شانِ عزیمت کی ترجمان ہے تو دوسری تسہیل و رخصت کی۔ اب جبکہ تجربہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ اس وبا میں مریض اور غیر مریض کا فرق کرنا عملاً ناممکن ہے اور بظاہر صحت مند نظر آنے والا شخص بھی درجنوں افراد تک بیماری منتقل کرنے کا باعث بن سکتا ہے، ایسے میں عمومی معاشرتی مفاد کے پیشِ نظر یہی رائے زیادہ صائب معلوم ہوتی ہے کہ فی الحال نمازیں گھرپر ادا کی جائیں۔

ہمارے ملک میں زیادہ ترمساجد میں امام، مؤذن اور خادم مسجد کے ساتھ ہی مقیم ہوتے ہیں، سو ان شاءاللہ یہ صورت تو کبھی پیش نہیں آئے گی کہ مساجد پر تالا پڑجائے اور اذان و اقامت ہی رک جائے۔ مساجد میں محدود پیمانے پر جماعت کا اجرأ رہے گا۔ جن علاقوں کی مساجد میں امام و موذن مقیم نہ ہوں، وہاں 4 سے 5 افراد رضاکارانہ طور پر مساجد میں 15 دن کا نفلی اعتکاف کرکے خود کو وہاں آئسولیٹ کرلیں اور لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد گھروں کو لوٹنے سے قبل وائرس کا ٹیسٹ کروا لیں۔ ہمارے یہاں عموماً چھوٹے بچے، نوعمر لڑکے مساجد میں نہیں جاتے، جب کہ گھر کی خواتین کو زندگی میں شاید ہی کبھی جماعت کی نماز کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنے اہل خانہ میں جماعت کی ترویج کی جاسکتی ہے جس سے ان کے دلوں میں جماعت کی نماز کی اہمیت بڑھے گی۔

میری انتہائی ناقص رائے میں، اب جبکہ مقامی علماء کی جانب سے بھی اس وبائی صورتحال میں گھروں میں نماز کے جواز کے فتاویٰ سامنے آچکے ہیں، حکومت  اس پابندی کو نافذ کروانے کی اخلاقی پوزیشن میں ہے اور عمومی معاشرتی مفاد کے پیش نظر اسے ایسا کرلینا چاہیے۔ جو علمائے کرام اب بھی اس موقف کے خلاف ہیں، انہیں حکومت کے فیصلے کے خلاف مزاحمت سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ایک تو قرائن سے واضح ہے فی الوقت یہ فیصلہ دین دشمنی یا شرارت پر مبنی نہیں۔ چونکہ آپ کی رائے بھی اجتہادی رائے ہی ہے، اس لئے خطا کا احتمال تو بہرحال اس میں بھی ہے۔ پھر اگر آپ کی رائے ہی صائب ہو، اور جماعت کی تعلیق والا موقف مبنی بر خطاء ہو، تو بھی یہ ایک اجہتادی غلطی ہی کہلائے گی، تاہم یہ حدیث بھی تو معروف ہے کہ مجتہد اگر اپنے اجتہاد میں خاطی بھی ہو تو عنداللہ مأجور ہی ہوتا ہے۔

عوام کے لئے بھی ضروری ہے کہ انتہاپسندانہ سوچ کے بجائے دلوں میں وسعت پیدا کریں۔ جو علماء نماز باجماعت پر زور دے رہے ہیں، وہ کسی ذاتی مفاد کے حصول کے لئے نہیں بلکہ شعارہائے دین کی حفاظت اور خوفِ خدا کے جذبے کے تحت ہی ایسا کہہ رہے ہیں۔ آپ بھلے رخصت کو اختیار کریں، مگر دلوں میں دیگر علماء کے لئے بغض و کدورت نہ پالیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر پیار محبت کے ماحول میں صحت مندانہ تبادلہ خیال کیا جائے تو سب کو ایک موقف پر قائل کیا جاسکتا ہے۔ ہم توکل علی اللہ اور دیگر عقائد کا مذاق اڑا کر، پھبتیاں کس کر سامنے والے کو ردعمل کی نفسیات میں مبتلا کردیتے ہیں، جس سے احتراز کرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو اس وبا سے محفوظ فرمائے اور اس عرصے میں ہمارے اعمال میں جو بھی کمی کوتاہی ہو، اسے اپنے فضل و کرم سے معاف فرمائے۔ آمین۔

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *