زُکام ۔ وائرس (3) ۔۔وہاراامباکر

ساڑھے تین ہزار سال پہلے ایک مصری سکالر نے بیٹھ کر ایک میڈیکل ٹیکسٹ لکھا جو تاریخ میں معلوم سب سے میڈیکل سائنس کی سب سے پرانی دستاویز ہے۔ ایبرس پیپائرس میں بیان کردہ ایک بیماری “رشح” ہے۔ اس کی علامات میں کھانسی اور بہتی ناک ہیں۔ مصری طبیب 1550 قبلِ مسیح میں لکھی اس تحریر میں زکام کو بیان کر رہے تھے۔

کچھ وائرس نئے ہیں۔ کچھ بہت کم نظر آتے ہیں لیکن انسانی رائنووائرس ۔۔۔ زکام کی بڑی وجہ اور دمے کی بھی ۔۔۔ قدیم آبادیوں سے انسانی شہروں کے ساتھی ہیں۔ اوسطاً ایک شخص اپنی عمر کا ایک سال اس وائرس کی وجہ سے بیماری کی حالت میں گزارتا ہے۔ یعنی انسانوں کو بیمار کرنے والا کامیاب ترین وائرس کہا جا سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یونانی طبیب بقراط کا کہنا تھا کہ زکام ہیومر کے عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ ان سے دو ہزار سال بعد 1920 میں لیونارڈ ہل نے لکھا کہ زکام صبح ٹھنڈ میں باہر جانے سے ہوتا ہے۔ گرم جگہ سے سرد جگہ پر جانا اس کی وجہ ہے۔ اس کی اصل وجہ تک پہنچنے کا پہنا سراغ جرمن مائیکروبائیولوجسٹ والٹر کروز کو ملا۔ زکام کی حالت میں بہتی ناک سے حاصل کردہ سیال کو فلٹر سے چھان کر چند قطرے اپنے بارہ ساتھیوں کی ناک میں ڈالے۔ ان میں سے چار کو زکام ہو گیا۔ اگلا تجربہ چھتیس طلباء پر کیا۔ ان میں سے پندرہ بیمار پڑ گئے۔ اس گروپ کا موازنہ پینتیس طلباء سے کیا جن کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا تھا۔ اس گروپ میں اس عرصے میں صرف ایک فرد بیمار ہوا تھا۔

کروز کے تجربات سے یہ واضح ہو گیا کہ کوئی ننھا سا پیتھوجن اس بیماری کا ذمہ دار ہے۔ پہلے خیال تھا کہ کوئی بیکٹیریا ہو سکتا ہے لیکن الفونسے ڈوشے نے 1927 میں تجربے سے اسے غلط ثابت کر دیا۔ اس کے لئے یہی تجربہ ایسی فلٹر سے گزار کر کیا گیا جو بیکٹیریا کو چھان لے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائنسدانوں کو یہ پہچاننے میں تیس برس مزید لگے کہ کونسے وائرس اس کا ذمہ دار ہیں۔ یہ انسانی رائنو وائرس تھے۔ (رائنو کا مطلب ناک ہے)۔ بہت ہی سادہ۔ ان میں صرف دس جینز تھیں۔ (ہم میں یہ بیس ہزار ہیں)۔ اور یہ جینیاتی انفارمیشن کافی تھی کہ یہ ہمارے جسم پر حملہ آور ہو سکیں اور ہمارے دفاعی نظام کو شکست دے کر ہمیں بیمار کر دیں۔

اس کے پھیلنے کا حربہ یہ تھا کہ اس کے میزبان کی ناک بہنے لگتی ہے۔ لوگ ناک صاف کرتے ہیں۔ وائرس ہاتھ پر رہ جاتا ہے۔ اس سے دروازے کھولتے ہیں یا دوسرے سطحوں کو چھوتے ہیں۔ یہ ان سطحوں کو ہاتھ لگانے والوں کے ساتھ چپک جاتا ہے اور وہاں سے نئے میزبان کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔ (عام طور پر ناک کے راستے)۔ یہ ناک، گلے اور پھیپھڑے کے اندروں خلیوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ وہاں پر ایک چور دروازہ کھول لیتے ہیں اور چند ہی گھنٹوں میں اس قابل ہو جاتے ہیں کہ میزبان خلیے ان وائرس کی کاپی بنانے لگتے ہیں۔ پھر میزبان خلیہ پھٹ جاتا ہے اور یہ نئے وائرس فرار ہو کر دوسرے خلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔

رائنووائرس زیادہ خلیوں کو متاثر نہیں کرتے۔ اس لئے زیادہ نقصان نہیں پہنچاتے۔ لیکن یہ ہمیں اس قدر نڈھال کیوں کر دیتے ہیں؟ اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ متاثرہ خلیے پیغام رساں مالیکیول خارج کرتے ہیں جنہیں سائیٹوکائن کہا جاتا ہے۔ یہ دفاعی نطام کے لئے پکار ہوتی ہے۔ یہ دفاعی خلیے ہمیں مضمحل کر دیتے ہیں۔ گلے میں سوجن پیدا کرتے ہیں۔ اس سے گلے میں ہونے والی خارش اور انفیکشن کے گرد بہت سا بلغم پیدا ہوتا ہے۔ اس بیماری سے بحال ہونے کے لئے ہمیں نہ صرف وائرس ختم ہونے کا انتظار کرنا ہوتا ہے بلکہ امیون سسٹم کے واپس پرسکون ہونے کا بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مصری طبیب نے ریش کا علاج یہ تجویز کیا تھا کہ شہد، جڑی بوٹیوں اور لوبان کو مکس کر کے ناک کے گرد لگایا جائے۔ سترہویں صدی میں برطانوی ڈاکٹر نے بارود انڈے، گائے کے تلے ہوئے گوبر اور بھیڑ کے گردے کی چربی سے اس کا علاج تجویز کیا۔ بیسویں صدی میں لیونارڈ ہل نے تجویز کیا کہ صبح اٹھ کر ٹھنڈے پانی کا شاور لیا جائے۔ اکیسویں صدی میں اس کا کیا علاج ہے؟

اس کے لئے کوئی ویکسین نہٰں۔ کوئی دوا نہیں جس کا کوئی قابلِ ذکر اثر ہو۔ کچھ علاج بیماری کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ والدین اکثر زکام کا شکار بچوں کو کھانسی کا شربت دیتے ہیں۔ اس سے کوئی بھی جلدی صحت یاب نہیں ہوتا۔ کھانسی کا شربت کبھی کبھار سنجیدہ سائیڈ ایفیکٹ کا باعث بن سکتا ہے۔ جسم مفلوج ہو جانا، دل کی دھڑکن میں اچانک اضافہ اور موت۔ 2008 میں ایف ڈی اے نے وارننگ دی کہ دو سال سے کم عمر بچوں کو کھانسی کا شربت بالکل نہیں لینا چاہیے۔

ایک اور مقبول طریقہ اینٹی بائیوٹک کا ہے۔ حالانکہ یہ وائرس کے آگے بے کار ہیں۔ اور یہ بات بھی عام ہے کہ ڈاکٹر اینٹی بائیوٹک تجویز کر دیتے ہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بیکٹیریل انفیکشن ہے یا زکام۔ ایسا اس لئے بھی کیا جاتا ہے کہ پریشان مریض کی طرف سے “کچھ کرنے” کا پریشر ہوتا ہے۔ (بغیر دوا کے لوٹا دئے جانا مریض کو قابلِ قبول نہیں ہوتا)۔ غیرضروری اینٹی بائیوٹک کا استعمال اجتماعی طور پر خطرناک ہے کیونکہ یہ ڈرگ کے خلاف مزاحمت رکھنے والے بیکٹیریا کا ارتقا تیزرفتار کر رہا ہے۔ ایسا کرنے سے ڈاکٹر نہ صرف اپنے مریضوں کا علاج نہیں کر رہے بلکہ سب کے لئے خطرہ بڑھا رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زکام ناقابلِ علاج اس لئے رہا ہے کہ ہم نے اس کا ٹھیک اندازہ نہیں لگایا۔ اب آ کر سائنسدانوں کو اس کے جینیاتی تنوع کا احساس ہوا ہے۔ اس کے وائرس کی درجنوں اقسام ہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز تک اس کے دو خاندانوں کا علم تھا۔ 2006 میں HRV-A اور HRV-B کے بعد HRV-C بھی مل گیا۔ یہ تیسرا خاندان دنیا بھر میں عام ہے اور اس کی جینز میں فرق بہت کم ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ یہ بہت جلد دنیا بھر میں پھیلا ہے۔ اس خاندان کی اقسام کا مشترک جد شاید محض چند صدیاں پرانا ہو۔

تمام انسانی رائینووائرس میں کچھ کور جین مشترک ہیں۔ جبکہ کچھ حصے جلد ارتقا کرتے ہیں۔ یہ اس وائرس کو ہمارے دفاعی نظام سے بچنے میں مدد کرتے ہیں۔ جب ہمارا جسم کسی ایک سٹرین کے خلاف اینٹی باڈی بنا چکا ہوتا ہے تو دوسرے سٹرین پھر بھی انفیکشن کر سکتے ہیں کیونکہ یہ اینٹی باڈی ان کے جسم سے نہیں چپکتیں۔ ہر سال نئی اقسام کے رائنووائرس کام کرتے رہتے ہیں۔

یہ وہ وجہ ہے کہ اس کو ختم کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک ڈرگ یا ویکسین جو کسی ایک سٹرین کے خلاف موثر ہو، دوسرے پروٹین سٹرکچر کے خلاف بے کار ہوتی ہے۔ ارتقا کا ہتھیار ان کو مزاحمت فراہم کرتا رہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ سائنسدان پرامید ہیں کہ وہ زکام کا علاج بنا لیں گے۔ اس کی وجہ وائرس کے کور جین ہیں۔ یہ جین میوٹیشن برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر سائنسدان ایسا طریق دریافت کر لیں جو اس کی کور پر حملہ آور ہو تو یہ بیماری ختم کی جا سکتی ہے۔ اس میں ایک ممکنہ ٹارگٹ جو سہ شاخے پتے کی شکل کا لوپ والا سٹرکچر ہے۔ یہ اس وائرس کی کاپی کی رفتار کنٹرول کرتا ہے۔ اگر اس پتے کو غیرفعال کر دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ دنیا بھر سے ہر قسم کا زکام ختم کیا جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن کیا ایسا کرنا چاہیے؟ انسانی رائنووائرس خرابی صحت کے ذمہ دار ہیں۔ نہ صرف زکام کا باعث بنتے ہیں بلکہ زیادہ ضرر رساں پیتھوجن کے آنے کے لئے راستہ ہموار کرتے ہیں۔ لیکن یہ خود زیادہ خطرناک نہیں۔ عام طور پر زکام، بغیر مداخلت کے، چند روز میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس سے انفیکٹ ہونے والے چالیس فیصد لوگوں میں اس کی کوئی بھی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اور شاید یہ اپنے میزبانوں کے لئے کچھ لحاظ سے مفید بھی ہے۔

سائنسدان اب تک اس چیز کے بہت سے شواہد حاصل کر چکے ہیں کہ ایسے بچے جو غیرمضر وائرس اور بیکٹیریا کا بچپن میں زیادہ شکار ہوئے ہوں، وہ بڑے ہو کر الرجی یا کروہن بیماری وغیرہ کا شکار نہیں ہوتے۔ رائنووائرس ہمارے امیون سسٹم کی تربیت کرتے ہیں کہ معمولی چیزوں پر اوور ری ایکشن نہ کرے۔ اپنا غصہ اصل خطرات پر اتارے۔ شاید ہمیں زکام کو قدیم دشمن کے بجائے ایک دانا بزرگ استاد کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *