واقعہ کربلا اور ہماری ذمہ داریاں۔۔۔محمد حسن جمالی

واقعہ کربلا تاریخ بشریت کا وہ منفرد واقعہ ہے جس میں جتنا غور کریں، اتنا ہی انسان کی حیرت اور تعجب میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، ہر سال اس واقعے کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن انسان کو نہ اس سے تهکن کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے پرانے پن کی بو آتی ہے، بلکہ ہر سال کائنات کی جگہ جگہ اسے سننے اور سنانے کے اہتمام میں شدت اور جدت ہی دکھائی دیتی ہے، ہر سال محرم کی آمد سے قبل ہی لوگ واقعہ کربلا سننے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں، اس لئے کہ واقعہ کربلا حق اور باطل کی جنگ کا نام ہے، اس واقعے سے انسان کو انسانیت سازی اور خود سازی کے دروس حاصل ہوتے ہیں، اس سے انسان کو استقامت، مقاومت، صبر، شجاعت، غیرت، عزت، صداقت، امانت، شرافت، وفاداری اور فداکاری کے اعلیٰ نمونے مل جاتے ہیں۔ تاریخ انسانیت میں جتنی جاودانگی واقعہ کربلا کو حاصل ہوئی، کسی اور واقعے کو اتنی جاودانگی نہیں ملی۔ سن 61 ھ میں پیش آنے والا یہ واقعہ آج بهی تاریخ کے دل میں زندہ حقیقت بن کر بشر کے دلوں کو گرما رہا ہے۔ چونکہ اس واقعے کا تعلق ایک ایسی عظیم ہستی سے ہے، جو کائنات کی ممتاز ترین شخصیت رحمت للعالمین کے نواسے، شیر خدا کے بیٹے اور جگر گوشہ بتول ہیں۔

آنحضرت (ص) نے جن کے بارے میں فرمایا: میں حسین (ع) سے ہوں اور حسین (ع) مجھ سے ہیں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرے، نیز آپ (ص) کا یہ ارشاد گرامی بهی ہے کہ شہادت حسین ابن علی (ع) سے مومنین کے دلوں میں ایسی حرارت پیدا ہوگی، جو کبھی سرد نہیں پڑے گی۔ حسین ابن علی (ع) کی شہادت نے دین اسلام کو حیات جاودانگی سے ہمکنار کیا، اسلام کا صرف نام باقی تها۔ بنی امیہ نے اسلام کے انسانی فطرت کے موافق زرین اصول اور پاکیزہ قوانین کو امت اسلامیہ کے ذہنوں سے محو کر دیا تها، دین محمدی کے اصولوں اور فروعات میں تحریف کر ڈالی تهی، عقل اور فطرت انسانی کے خلاف خود ساختہ، بناوٹی اور بے بنیاد باتوں کو اسلام ناب محمدی کی تعلیمات کا حصہ قرار دے دیا تها، بنو امیہ اور ان کے دسترخوان پر حرام غذا سے پیٹ بهرنے والے نادانوں نے ظلم و ستم کا بازار گرم کرکے امت محمدی کا جینا حرام کر رکها تها، اسلامی معاشرے سے امنیت اور سکون کی نعمت چهین کر مسلمانوں کو وحشت، خوف اور ظلم و بربریت کی تاریک فضا کی گہرائی میں حیوانی زندگی گزارنے پر مجبور کر رکها تها، مسلم معاشرے میں حق اور دینی حقائق دفن ہوچکے تهے، اسلام کا چہرہ مسخ ہوچکا تها، اس حالت میں سیدالشہداء نے قیام فرمایا، جس کے نتیجے میں واقعہ کربلا معرض وجود میں آیا۔

امام حسین (ع) نے کربلا میں اپنے عزیزوں کی جان سمیت اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے حق کا بول بالا اور باطل کو سرنگوں کر دیا۔ امام عالی مقام نے اپنا مقدس لہو دے کر اقدار اسلامی کو جامعہ اسلامی میں زندہ کیا، لوگوں کو حق اور باطل کا چہرہ دکهایا، عزت اور ذلت کے راستوں کی نشاندہی کرائی، بشریت کو جینے اور مرنے کا سلیقہ سکهایا، رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے نجات اور گمراہی کے رموز و اسرار سے واقف کرایا، قیامت تک آنے والی نسلوں کو یہ منطق اپنے عمل کے ذریعے سکها کر گئے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، باطل کی کثریت سے خوف زدہ اور مرعوب ہونے کے بجائے اس کے ساتھ پوری جوانمردی سے مقابلہ کرنے میں انسان کی عافیت پوشیدہ ہے، کامیابی حق کا مقدر بنتی ہے اور باطل خواہ افرادی قوت زیادہ ہی کیوں نہ رکهتا ہو، بالآخر فنا اور نابود ہو جانا ہے، حسین ابن علی (ع) نے اپنے پیروکاروں کو مقاومت اور استقامت کا سبق پڑها کر گئے ہیں۔

امام حسین (ع) نے ایک عظیم مقصد اور ایک عظیم ترین نصب العین کے لئے شہادت کو گلے سے لگایا، امام عالی مقام نے اپنے آبائی وطن کو چهوڑا، حج جیسی عبادت کو عمرہ میں تبدیل کر دیا، تین دن کی بهوک و پیاس برداشت کی، خود اپنی اور اپنے رفقاء کی قربانی دی، یہاں تک کہ اہل حرم کی اسیری برداشت کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے۔ ان کے پیش نظر صرف خوشنودی خدا، بقاء دین، حفاظت شریعت اور تحفظ انسانیت تهی۔ بظاہر آپ کی شمع حیات بجھ گئی لیکن کربلا والوں کے مقدس لہو نے جہان بشریت کو عرفان کی منزل کا پتہ بتایا، تہذیبی اور اخلاقی اقدار کو بچا لیا، شرافت کو موت کے گهاٹ اترنے سے بچا لیا، ظلم و ستم کے سامنے قیام کرنے کی ہمت دی، حق اور باطل کے سامنے حد فاصل قائم کی۔

اب یہ حسین (ع) کے ماننے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حسینی استغاثہ پر لبیک کہیں، حسین (ع) کی نصرت کے لئے ہمہ وقت آمادہ رہیں۔ یہ حسین (ع) پر آنسو بہانے والے ماتم داروں، غم گساروں اور نام لیواوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے اندر روح کربلا جذب کریں اور وہ زندگی گزاریں جس کی امام حسین (ع) نے دعوت دی ہے اور وہ عمل کریں، جو امام عالی مقام نے کہا ہے۔ آج اگر پوری دنیا میں مسلمان مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں تو وجہ یہ ہے کہ آج کے مسلمان حسین ابن علی (ع) کی سیرت طیبہ، ان کے ارشادات و فرمودات، ان کے کردار اور رفتار سے دوری اختیار کرکے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بدون تردید مسلمانان عالم کو حسین ابن علی (ع) اور ان کے باوفا اصحاب کے نقش قدم پر چل کر ہی ظلم و ستم سے نجات مل سکتی ہے، جیسے گاندھی نے ہندوستان کی آزادی کے سلسلے میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا: ”میں ہندوستانی عوام کے لئے کوئی نئی چیز نہیں لایا بلکہ میں نے تو فقط کربلا کے بہادر مجاہدوں کی زندگی کے بارے میں، اپنی تحقیقات اور اپنے مطالعات کے نتیجہ کو ملت ہند کی خدمت میں پیش کر دیا ہے، اگر ہندوستان کی نجات و آزادی مقصود ہے تو ہم سبھی لوگوں کو وہی راہ اختیار کرنی پڑے گی جسے حسین بن علی (ع) نے طے کیا ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *