نہ مولانا نہ باغی، جنرل صوفی محمد۔۔منصور ندیم

1989 میں ایک ایسی تحریک  جو بنیادی طور پر فاٹا ریگولیشن کے خاتمے اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے نام سے شروع کی جاتی  ہے ،   کا آغاز ہوتا ہے ، یہ تحریک   مختلف مذہبی جماعتیں شروع کرتی ہیں ، جس کا امیر مولانا صوفی محمد کو نامزد کیا جاتا ہے ، اس تحریک نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے مالاکنڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، ان کا بنیادی نعرہ تھا ” شریعت یا شہادت” اور اس تحریک نے وقت کےمختلف  اتار چڑھاؤ کے ساتھ اپنے کچھ مطالبات منوائے بھی تھے۔

۱۹۸۹ میں مالا کنڈ ڈویژن  کے کمشنر شکیل درانی مالاکنڈ کے سارے ڈویژن کے تمام مرکزی رہنماوں کو بلا کر ان لوگوں سے یہ کہتے ہیں کہ مالا کنڈ  میں پیپلزپارٹی کی حکومت فاٹاایکٹ کو ختم کرنے جارہی ہے ، اب آپ لوگ سول لاء چاہتے ہیں کہ زرداری نظام چاہتے ہیں ، وہاں موجود تمام ہی بڑی جماعتوں کے نمائندے جن میں جمیعت علماء اسلام ، جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ کے افراد شامل تھے،صوفی محمد اس میں جماعت اسلامی کے ایک نمائندے کی حیثیت سے شرکت کرتے ہیں۔بعدازاں ایک کمیٹی تشکیل پاتی ہے اور صوفی محمد کو اس کمیٹی کو جماعت اسلامی کی طرف سے امیر نامزد کر دیا جاتا ہے۔تمام جماعتوں کے سات سات افراد اس کمیٹی کے ممبر طے کئے جاتے ہیں اور شریعت کے نظام کے لئے صوفی محمد کو اس کمیٹی کا امیر مقرر کیا جاتا ہے ۔

یہاں سے صوفی محمد کی کہانی شروع ہوتی ہے، مولانا صوفی محمد بنیادی طور پرایک چھوٹے سے مدرسے کے مہتمم تھے ، جن کے پاس اتنے وسائل بھی نہ تھے کہ وہ اپنی ماہانہ تنخواہ سے دو بار شہر کا چکر ہی لگا سکیں، انہیں اس  سارے تحریکی امور کی انجام دہی کے لئے ابتدا میں جماعت اسلامی نے پیسے دیئے، بقول صوفی محمد یہ تحریک ایک غیر عسکری آغاز کے ساتھ شروع کی گئی تھی۔اس کے  آغاز کے ساتھ ہی شہر بھر میں جلسے اور دیر اور تیمر فری میں کیمپ لگائے گئے، کالی پگڑی اور کالے  جھنڈوں  سے اس کا آغاز شروع ہو گیا۔اور آنے والے وقت میں صوفی محمد کی اس تحریک کی امداد اور پذیرائی  پر کافی متنازعہ معاملات رہے ہیں۔

الیکشن کے دنوں میں اس تحریک نے پہلی بار ۱۱ مئی ۱۹۹۴ کو روڈ بند کئے، اور شریعت کے نفاذ کا اعلان کیا، وہاں مقامی طور پر جمعیت علماء اسلام اور جماعت اسلامی نے صوفی محمد کا بھرپور ساتھ دیا، الیکشن کے اعلان پر پہلی بار انہوں نے اعلان کیا کہ ہم الیکشن کا حصہ نہیں بنیں گے، لیکن جمعیت علماء اسلام نے اپنے طور پر الیکشن میں حصہ لیا لیکن ان کے ساتھ چلتےبھی رہے،ان کی تحریک نے نومبر ۱۹۹۴ میں پورے مالاکنڈ ڈویژن میں پرتشدد شکل اختیار کر لی اور ان کے حامیوں نے سیدو شریف ایئرپورٹ، تھانوں اور دیگر اہم مقامات پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس کشیدگی کے خاتمے میں حکومت کو ایک ہفتے کا وقت لگا لیکن اس سے قبل ۴۰  افراد جن میں ایک درجن سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے ہلاک ہو چکے تھے۔ ایک سال بعد وہ دوبارہ اپنے  حامیوں کے ساتھ سڑکوں پر اس شکایت کے ساتھ نکلے کہ حکومت کے ساتھ نفاذِ شریعت کا جو معاہدہ ہوا تھا اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ نائن الیون تک اس تحریک کا دائرہ کار یہیں تک رہا لیکن نائن الیون کے چند روز بعد ہی یعنی 20 ستمبر کو ان کی تنظیم نے منگورہ میں ایک عوامی جلسہ منعقد کیا اور افغانستان پر ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں دفاع کے لیے رضا کاروں کی ایک فورس تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ اکتوبر میں صوفی محمد ہزاروں رضاکاروں کے ساتھ بندوقیں اور ڈنڈے لے کر   براستہ باجوڑ افغانستان چلے گئے۔

سقوط طالبان ہونے کی دیر تھی صوفی محمد نے واپسی کی راہ لی، وہ خود تو واپس لوٹ آئے لیکن سینکڑوں رضاکار واپس نہیں آئے اور ان کے بارے میں آج تک معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ ضلع دیر کے ایک گاؤں کے درجن بھر نوجوان افغانستان میں آج بھی لاپتہ ہیں، پہلی بار ریاست پاکستان کی طرف سے ان کوپارہ چنار  سے گرفتار کیا گیا۔ اور ان کو سات سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صوفی محمد کے داماد فضل اللہ اور کچھ ساتھی ضمانت پر رہا ہوگئے ، لیکن صوفی محمد ضمانت نہیں کروانا چاہتے تھے کیونکہ انگریز کے قانون کے مطابق ضمانت کروانے پر ان کے خیال میں وہ دین اسلام سے خارج ہوسکتے تھے ۔کیونکہ وہ ایک غیر اسلامی نظام تھا اور وہ اس نظام  کے مخالف تھے۔

بی بی سی کے  ایک نمائندے کے مطابق ” جب میں خیبر پختونخوا کے جنوبی ڈیرہ اسمعیل خان جیل ایک خاص قیدی سے ملاقات کے لیے پہنچا تو جیلر نے برطانوی راج کے بنے ہوئے قید خانے کے اپنے سرکاری کمرے میں ملاقات کا اہتمام کر رکھا تھا۔تھوڑی دیر انتظار کے بعد بتایا گیا کہ چونکہ کمرے میں قائداعظم کی تصویر لگی ہے تو قیدی یہاں ملاقات نہیں بلکہ بغیر تصویر والے کمرے میں کرے گا۔ اٹھ کر سامنے ایک دوسرے کمرے میں جو کہ نچلے گریڈ کے عملے کا تھا ایک لکڑی کے بنچ پر ایک درمیانی قد کاٹھ کا شخص سفید جوڑا اور سیاہ پگڑی پہنے بیٹھا تھا۔ یہی سوات کے مولانا صوفی محمد تھے-”

صوفی محمد وہ شخص ہیں جنھوں نے اپنی سوچ اور عقائد کی وجہ سے اپنے پڑھاپے کا ایک بڑا حصہ قید میں گزار دیا ہے۔ ان کی حالیہ قید آٹھ برس جبکہ اس سے قبل بھی کئی موقعوں پر گرفتاریوں اور حراست کی مدت جمع کی جائے تو شاید عمر قید ہی بنتی ہے۔صوفی محمد نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں بھی کئی برس قید محض اس لیے کاٹی کہ وہ انگریزی قانون کے تحت رہائی کی درخواست نہیں دینا چاہتے تھے۔

جنوری ۲۰۰۲ کو اس وقت کی جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے ان کی تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر بین الاقوامی دباؤ میں آکر پابندی عائد کر دی تھی۔ قیاس ہے کہ ان کے حامی بعد میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہو گئے تھے۔پھر سال ۲۰۰۸  آتا ہے اور جیل کی ایک تاریک کوٹھری میں پڑے مولانا صوفی محمد، ہماری  حکومت یا ان اداروں کو جو اس ملک کی اصل باگ دوڑ  سنبھالتے ہیں ان کو ایک مسیحا کے روپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔انھیں سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جیل سے نکال کر نہ صرف سوات پہنچا دیا جاتا ہے بلکہ ان کے نظامِ عدل کے قیام کے مطالبے کو بھی دنوں میں عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ لیکن جب اس سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا تو وہ ڈرامائی انداز میں لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ تاہم ان کے دو قریبی ساتھی مولانا عالم اور ترجمان امیر عزت خان اور ایک بیٹا بھی  ایک ’مقابلے‘ میں مارے جاتے ہیں۔

پھر دھیمے لہجے والے مولانا صوفی محمد اپنے آبائی علاقے سے کرفیو اور سخت تلاشیوں کے باوجود نکل کر پشاور پہنچ جاتے ہیں اور پشاور کے مضافات میں سیٹھی ٹاؤن کا ایک مکان کرائے پر لے لیتے ہیں اور وہاں رہنے لگتے ہیں۔ لیکن جب وہ اپنی کالعدم تحریک کا اجلاس منعقد کرتے ہیں اور ٹی وی سکرینوں پر نظر آنے لگتے ہیں تو حکومت ایک اور کارروائی میں ۲۶ جولائی ۲۰۰۹کو انھیں دوبارہ  گرفتار کر لیتی ہے۔اس کے بعد سے وہ مختلف جیلوں میں رہے ہیں۔ ان کے خلاف دہشت گردی کے ۱۳مقدمات درج ہوئے۔ ان میں سے اکثر ۱۹۹۰ء کی دہائی کے دوران درج ہوئے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ان واقعات میں اکثر گواہان اب نہیں رہے لہذا اکثر مقدمات محض دستاویزات کی حد تک زندہ ہیں۔ اور اب ایک بار پھر انہیں ضعیف العمر ی کی بنیاد پر رہا کردیا گیا ہے اور اب ایسا لگتا ہے وہ پاکستان فوج کے ترجمان بن کر رہا ہوئے  ہیں۔

ان تمام  واقعات کو دیکھ کر ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے کچھ سوالات ضرور ذہن میں ابھرتے  ہیں۔

لگتا ہے آنے والے وقت میں صوفی محمد ریاست کی طرف سے پاکستانیوں کو دہشتگردی پر لیکچر دے گا، وہ بھی احسان اللہ احسان کی طرح ریاست کا  اعزاز ی مہمان  بنے گا۔صوفی محمد کے بیانات اور خصوصی انٹرویو کیا پاکستانی ریاستی اداروں کے منہ پر ایک طمانچہ نہیں ہیں ، یا پھر معاملہ کچھ اور ہے،  جیسے ماضی میں  لال مسجد کا واقعہ اور اس میں ریاستی اداروں کا کردار رہا، کیا آج تک کوئی بتا سکا کہ مولوی عبدالعزیز  برقعہ پہن کر کس سے ملنے کے لئے نکلا تھا،اور کن کی آشیرباد سے وہ کھیل کھیلا گیا تھا، اگر غور سے دیکھا جائے تو  مولوی عبدالعزیز  ہو یا مولوی خادم حسین رضوی جب چاہیں یہ لوگ اسلام آباد میں  ریاست پاکستان کا درالخلافہ یرغمال کر لیتے ہیں، آنے والے دنوں میں ملک کی ان کٹھ پتلیوں میں پیر سیال کا ایک مزید اضافہ ہونے جارہا ہے ۔اور امید ہے وہ بھی ہمیں شریعت کے نظام کا چورن بیچیں گے اور ان کی ڈوریں بھی کہیں اور سے ہلائی جائیں گی۔ان تمام کٹھ پتلیوں میں ایک مماثلت ہے کہ یہ تمام لوگ حجروں میں رہنے والے یا انتہائی محدود وسائل اور آمدنی والے رجعت پسند مولوی تھے لیکن جب انہیں لانچ کیا گیا تو ان کے پاس ہر طرح کے وسائل آگئے جس سے یہ ریاست کو چیلنج کرسکیں اور خصوصاً یہ کھیل ریاست میں سیاسی انتشار کے لئے کھیلے گئے۔میرا صوفی محمد ، مولوی خادم رضوی یا پیر سیال سے کوئی ذاتی اختلاف  نہیں، لیکن میرے سمجھنے کے لئے یہ کافی ہے کہ یہ کٹھ پتلیاں ہیں اور ان کی ڈوریاں کہیں اور سے ہی ہلائی جاتی ہیں۔

میری  رائے  تو یہی ہے ریاست کے ان اداروں کی طرف سے ان کی خدمات کے لئے   باقاعدہ اپنے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور جنرل کے  عہدے دے دینے چاہییں ۔ تا کہ ہم کسی غلط فہمی میں نہ رہیں ۔

( اس مضمون کے لئے بی بی سی کی ایک رپورٹ سے مدد لی گئی ہے)۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *