دی پلیٹ فارم(فلم ریویو)۔۔۔ادریس آزاد

میں عموماً جب کوئی اچھی فلم دیکھتاہوں تو شوقین دوستوں کے ساتھ اس کا تھیم شیئر کرتاہوں۔ لیکن یہ فلم یعنی ’’دی پلیٹ فارم‘‘ مجھے اتنی پسند آئی کہ میں نے اس کا پلاٹ لکھنے کا فیصلہ کیا۔آپ بھی دیکھیے! یقیناً سرخ لٹریچر ابھی تک بھی لکھاجارہاہے۔ کورونا وائرس کی وحشت میں یہ تحفہ حالیہ انسانی موضوعات پر کتنا منطبق ہوتاہے یہ آپ نے مجھے کمنٹ میں بتاناہے۔

فلم کا پلاٹ
زمین کے نیچے ایک عمارت ہے۔ بہت گہری۔ اتنی گہری کہ اس کی گہرائی کا کسی کو اندازہ نہیں۔یہ ایک جیل ہے۔ اس کی ہرمنزل فقط ایک کمرے پر مشتمل ہے۔ ہرکمرے میں دوقیدی ہیں۔ہر کمرے کے فرش کے عین درمیان میں فرش کا ایک بڑا سا چوکورٹکڑا موجود نہیں ہے۔ یعنی کمرہ یہاں سے کٹاہوا ہے اور اُوپر سے جھانک کر دیکھاجائےتو نیچے تک ان گنت منزلیں نظرآتی ہیں۔ کسی کمرے کا کوئی قیدی جب نیچے والوں یا اُوپر والوں کو بہ آوازِ بلند پکارے تو نیچے یا اُوپر کے قیدیوں کے جواب اور گالیاں آسانی سے سنائی دیتی ہیں۔

جیل سے باہر کی دنیا میں ایک نیک دِل انسان ہے جو سگریٹ چھوڑنا چاہتاہے اور چاہتاہے کہ چھ ماہ کے لیے کسی جیل میں رضاکارانہ طورپر قید ہوجائے تاکہ سگریٹ کو آسانی سے چھوڑ سکے۔ کوئی بھی قیدی جب جیل میں بھیجا جاتاہے تو اسے اپنی پسند کی فقط ایک عدد چیزساتھ لے جانے کی اجازت ہے۔ یہ چیز کوئی بھی چیز ہوسکتی ہے۔ یہاں تک کہ آلۂ قتل وغیرہ بھی۔ اس نیک دل نوجوان سے جب پوچھا جاتاہے کہ تم اپنے ساتھ کیا لے جانا چاہتے ہو تو وہ کہتاہے، کتاب۔ فلم کی علامات میں یہ کتاب صحیفے کی علامت ہے اور وہ شخص مسیحا کی۔ اِسی طرح ہرقیدی سے پوچھا جاتاہے کہ اس کا پسندیدہ کھانا کون ساہے۔ اُسے بتایا جاتاہے کہ جیل کے مینیو میں اس کا پسندیدہ کھانا بھی شامل کیا جائےگا ، اِس لیے پوچھا جارہاہے۔

اگلے دن جیل کے ایک بستر پر اس کی آنکھ کھلتی ہے۔ وہ کمرہ نمبراڑتالیس میں ہے۔ کمروں کے نمبرنچلی منزلوں کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ یعنی اڑتالیس سے نیچے اننچاس، پھر پچاس اور اسی طرح ان گنت کمرے ہی کمرے نیچے سے نیچے زمین کی گہرائی میں جاتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ ہمارا ہِیرو جس کا نام ’’گرینگ‘‘ ہے، جب کمرہ نمبراڑتالیس میں بیدا ہوتاہے تو اس کا روم میٹ ایک بوڑھا شخص ہے۔ جو کافی عرصہ سے اس جیل میں ہے۔ وہ گرینگ کو بتاتاہے کہ یہ جیل کیسی جیل ہے۔ وہ گرینگ کو بتاتاہے کہ فرش کے درمیان میں جو چوکور خلاہے یہ کھانے کے میز کے گُزرنے کا خلا ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں ایک بار اُوپر سے کھانے کا میز نیچے کی طرف کسی لفٹ کی طرح سے اُترتا ہوا منزل بہ منزل سفر کرتا چلا جاتا ہے۔ کھانے کا میز فقط اتنی سی دیر کے لیے کمرے میں آکر رُک جاتاہے کہ میز کے دونوں طرف بیٹھ کر دونوں قیدی اپنے حصے کا کھانا کھاسکیں۔اگرکوئی قیدی کچھ کھانا چھپالیتا ہے تو کمرے کا درجہ حرارت اتنا بڑھ جاتاہے یا گھٹ جاتاہے کہ بندہ مرسکتاہے۔

منزل نمبر ایک سے جب کھانے کا میز روانہ ہوتاہے تو اس پر بڑے اچھے اچھے اورلذیذ کھانے سجائے جاتے ہیں۔ یہ کھانےبنوانے اور سجانے کا انتظام بہت ہی اعلٰی اورصاف سُتھری جگہ پر کیا جاتاہے جو منزل نمبر ایک پر موجود ہے ، جہاں دراصل جیل کی انتظامیہ رہتی ہے۔ یہ منزل تمام منازل کے اُوپر یعنی آخری منزل ہے۔ میز پر سجے ہوئے کھانے دراصل وہ تمام کھانے ہیں جو اِن قیدیوں نے جیل میں داخل ہونے سے پہلے انتظامیہ کو بتائے تھے کہ یہ اُن کے پسندیدہ کھانے ہیں۔ یوں گویا ہرقیدی کے حساب سے ایک عدد ڈِش اُس بڑے میز پر رکھی ہوئی روزانہ اُوپر سے نیچے نازل ہوتی ہے۔

جیل کا ہرقیدی ایک منزل پر فقط ایک مہینے کے لیے ہی رہتاہے۔ مہینہ مکمل ہونے کے بعد ایک خاص قسم کی گیس کمرے میں داخل ہوکر قیدیوں کو سُلا دیتی ہے اور اگلے دن جب وہ جاگتے ہیں تو ان کا کمرہ یا منزل نمبر تبدیل ہوچکاہوتاہے۔ گرینگ کمرہ نمبر اڑتالیس میں بیدار ہوتاہے تو اس کا بوڑھا روم میٹ جو ایک خطرناک قیدی ہے اُسے باقی معلومات دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتاہے کہ اُس کے پاس ایک سمورائی خنجر ہے اور یہ خنجر اُس نے جیل میں داخل ہونے سے پہلے اپنی پسند کی چیز کے طورپر طلب کیاتھا، تاکہ وہ جیل کے اندر سروائیو کرسکے۔یادرہے کہ سمورائی قدیم دو رکے جاپانی جنگجوؤں کو کہا جاتاہے۔

کھانے کا میز اُوپر سے نازل ہوتاہے تو گرینگ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتاہے کہ میز پر ساری غذائیں تباہ و برباد ہوئی پڑی ہیں۔ برتن ٹوٹے پڑے ہیں۔ کھانے کی چیزوں میں گندگی شامل ہوچکی ہے۔ پینے کی چیزیں میز پر الٹ چکی ہیں۔ چٹنیاں ، رائتے، گوشت کے پارچے، شراب کی بوتلیں، سویٹ ڈِشیں، غرض سب کچھ ہی بُری طرح سے تباہ کردیا گیاہے۔ پھر بھی گرینگ کا بُڈھا روم میٹ پاگلوں کی طرح بچے کھچے کھانے پرٹوٹ پڑتاہے اور گرینگ کو بھی کہتاہے کہ وہ کھانا کھالے ورنہ چوبیس گھنٹے بھوکا رہنا پڑےگا۔ گرینگ کھانا نہیں کھاتا، لیکن بڈھے سے سوال کرتا رہتاہے کہ آخر یہ کھانا کس نے تباہ کیا؟ بڈھا اسے جواب دیتاہے کہ اُوپر والی منزلوں سے ہوکر آرہاہے۔ ہر منزل پر تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے رُکا ہے۔ اُوپر والوں نے میز کا یہ حال کیاہے۔ لیکن جب بڈھا کھانا کھالیتاہے اورمیز نیچے مزید نیچے جانے لگتاہے تو بڈھا اُوپر سے کھڑے ہوکر اس پر یعنی میز پر پیشاب کردیتاہے۔ اس بات سے گرینگ بہت خفا ہوکر اسے منع کرتاہے تو بڈھا جواب دیتاہے کہ جب ہم کبھی نیچے ہوتے ہیں تو اُوپر والے ہم پر اسی طرح پیشاب کرتے ہیں۔ یہ تو اپنی اپنی باری ہے۔ ہرمہینے کے بعد کس کو پتہ ہے کہ کون سا کمرہ ملنے والا ہے۔ اس لیے جن کے نصیب میں ایک مہینے کے لیے ہی سہی اوپر والا کمرہ آتاہے تو وہ اچھا کھانا دیکھ کر پاگل ہوجاتے ہیں اور اُنہیں نچلی منزلوں میں گزارا ہوا اپنا وقت یاد آتاہے اس لیے وہ بدلہ لیتے ہیں۔

گرینگ کہتاہے کہ اس طرح تو بہت زیادہ نیچے والی منزلوں تک کھانا پہنچ ہی نہیں پاتاہوگا؟ بڈھا اسے بتاتاہے کہ بہت نیچے والی منزلوں میں لوگ اپنے روم میٹوں کو قتل کر کے اُن کا گوشت کھاجاتے ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کھانا پڑتاہے۔ گرینگ اس سے پوچھتاہے کہ اس نے بھی نچلی منزلوں میں رہتے ہوئے کبھی کسی انسان کا گوشت کھایا ہے تو بڈھا مکروہ ہنسی ہنستے ہوئے اسے بتاتاہے کہ کئی انسانوں کا۔وہ بتاتاہے کہ اس نے چاقو اسی لیے رکھاہوا ہے اور جب کبھی ضرورت پیش آئی تو وہ گرینگ کو مار کر اس کا بھی گوشت کھاجائےگا۔ یہی اُصول ہے اس جیل کا۔

اُوپر سے اگر کوئی شخص نیچے کی منزلوں تک اپنی مرضی سے جانا چاہے تو وہ ایسا کرسکتاہے کہ وہ کھانے کے میز پر چڑھ کر بیٹھ جاتاہے اور مزید نیچے جاسکتاہے۔ ایک عورت جو پاگلوں جیسے حلیے میں ہے اور شکل سے انڈونیشیائی یا ایشیائی دِکھتی ہے، اکثر میز پر بیٹھ کر نیچے جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ گرینگ بڈھے سے پوچھتاہے کہ یہ عورت نیچے کیوں جارہی ہے؟ تو بڈھا اُسے جواب دیتاہے کہ اس کا بچہ کھوگیاہے۔ اور اس لیے یہ ہرماہ نچلی منزلوں پر اپنا بچہ ڈھونڈتی پھرتی ہے۔ بڈھا اسے بتاتاہے کہ یہ عورت بہت خطرناک ہے اور یہ کئی قیدیوں کا قتل بھی کرچکی ہے۔

ایک مہینہ گزر جانے کے بعد گرینگ اور اس کا روم میٹ بے ہوش کردینے والی گیس کی وجہ سے جب سو کر اگلے دن اُٹھتے ہیں تو ان کا نیا کمرہ ، منزل نمبر ایک سو سترہ(117) پر ہے۔ گرینگ اپنے آپ کو بستر پر بندھا ہوا پاتا ہے تو حیران ہوکر بڈھے کی طرف دیکھتاہے۔ بڈھا خنجر لہرا لہرا کر اسے کہتاہے کہ اِس منزل پر کھانا کسی قیمت پر پہنچ ہی نہیں پاتا۔ اس سے پہلے ہی لوگ میز پر گری ہوئی غذاتک چاٹ لیتے ہیں۔ برتن سارے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں اور کچھ بھی کھانے کو نہیں ہوتا۔ بڈھا اسے بتاتاہے کہ اس نے گرینگ کو اس لیے باندھ رکھاہےکہ وہ اسے بھوک کی شدت میں تھوڑا تھوڑا کرکے کھاتا رہیگا تاکہ وہ زندہ رہے اور اس کا گوشت ایک مہینہ تک خراب نہ ہو۔ بڈھا اسے یہ بھی بتاتاہے کہ وہ اسے اُس کا اپنا گوشت کھلاتا بھی رہے گا تاکہ وہ ایک مہینے تک زندہ رہ سکے۔ اپنا ہی گوشت کھا کر زندہ رہنے کے تصور پر گرینگ کی حالت بُری ہوجاتی ہے۔ بڈھا کافی دن تک برداشت کرتاہے اورپھر ایک دن جب وہ بھوک سے نڈھال ہوجاتاہے تو بندھے ہوئے گرینگ کا گوشت کاٹ کر کھانا شروع کردیتاہے۔ اسی اثنا میں ایک دن وہ پاگل عورت اُوپر سے نیچے اُتررہی ہوتی اور دیکھتی ہے کہ بڈھا اُس نیک دِل قیدی کا گوشت کاٹ کر کھارہاہے تو وہ بڈھے پر حملہ کردیتی ہے اور گرینگ کی رسیاں کھول دیتی ہے۔ گرینگ غصے کی وجہ سے بڈھے پر خنجر کے وار کرتاہے اور بڈھے کو قتل کردیتاہے۔ وہ عورت مزید نچلی منزل پر چلی جاتی ہے اور گرینگ مرے ہوئے بڈھے کا گوشت کھاکھا کر باقی مہینہ گزارتاہے۔

اگلے مہینے خوش قسمتی سے گرینگ کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ منزل نمبر سترہ کے کمرے میں بیدار ہوتاہے۔ منزل نمبر سترہ توظاہر ہے اُوپر کی منزلوں میں سے ہے اس لیےگرینگ جانتاہے کہ اس منزل پر تو کسی حدتک اچھا کھانا پہنچتاہوگا۔گرینگ دیکھتاہے کہ اس بار اس کی روم میٹ ایک عورت ہے۔ اُسے یاد آتاہے کہ یہ عورت تو باہر کی دنیامیں بھی اسے مل چکی ہے اور یہ عورت تو خود جیل کی انتظامیہ میں شامل تھی۔ وہ اس عورت کے ساتھ باتیں کرتاہے اور اسے بہت سی نئی معلومات ملتی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ اس عورت کے خیال میں اس عمارت کی کل دوسومنزلیں ہیں۔ گرینگ کی نئی روم میٹ یعنی وہ ادھیڑ عمر عورت کینسر کی مریضہ ہے اور وہ بتاتی ہے کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ کینسر کی موت کی وجہ سے اس نے بھی اپنے آپ کو رضاکارانہ طورپر قیدیوں کی خدمت کے لیے اِس جیل میں بھجوایا۔

کھانے کا میزنازل ہوتاہے تو وہ عورت گرینگ کو سمجھاتی ہے کہ اس ساری جیل کا معاملہ اس لیے خراب ہے کہ لوگ سلیقے سے خوراک کا استعمال نہیں کررہے۔ یہ کھانا آخری منزل تک ہرایک کے لیے کافی ہے۔ اگر ہم کسی طرح نچلی منزلوں کے لوگوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں کہ وہ فقط اپنے حصے کا کھانا کھائیں تو باقی کا کھانا آخری منزل کے بدحال اور بھوکے لوگوں تک پہنچایا جاسکتاہے۔ وہ عورت ہرروز نیچے والی منزل یعنی منزل نمبر سترہ کے لوگوں کو بہ آوازِ بلند نصیحت کرتی ہے کہ خدارا کھانا ضائع مت کرو! فقط اُتنا کھاؤ جتنے کیلوریز تمہیں ضرورت ہیں تاکہ مزید نچلی منزلوں تک کھانا پہنچ سکے۔ پندرہ دن تک وہ منتیں کرتی رہتی ہے لیکن نچلی منزل والے اس کی بات نہیں مانتے۔ آخر ایک دن گرینگ نیچے والی منزل کے لوگوں کو عین کھانے کے وقت یہ دھمکی دیتاہے کہ اگر تم لوگوں نے اس شریف عورت کی بات نہ مانی تو میں تمہارے کھانے میں پیشاب کردونگا۔ نیچے والی منزل کے لوگ ڈر جاتے ہیں اور ان کی بات مان لیتے ہیں۔ وہ ان سے یہ بھی کہتاہے کہ اپنے سے نیچے والی منزلوں کوبھی یہ پیغام اسی طرح منتقل کرتے چلے جاؤ! اگر کسی بھی منزل پر خلاف ورزی کی گئی تو میں تمہارے کھانے میں سب سے پہلے پیشاب کرونگا۔ چنانچہ نچلی منزل والے اپنے سے نچلی منزل والوں کو اور وہ اپنے سے نچلی منزل والوں کو ڈراتے ہیں تو کچھ منزلوں تک معاملہ سدھر جاتاہے۔

تب وہ عورت گرینگ سے کہتی ہے کہ یہ کوئی طریقہ نہیں۔ کھانا گندا کرکے دینے کی دھمکی سے یہ لوگ ہماری بات پر عمل کررہے ہیں۔ ان کو خود سے یہ حقیقت سمجھ نہیں آئی۔ وہ عورت گرینگ کو یہ بھی کہتی ہے کہ نچلی منزلوں کا معاملہ تو تم نے حل کردیا لیکن اس سے اوپر والی منزلوں کامعاملہ کون حل کرےگا؟ اُوپر والوں کو تم کس طرح سمجھاؤگے؟ تب گرینگ جواب دیتاہے کہ،

’’اوپر والوں کو میں نہیں سمجھاسکتا‘‘

وہ عورت پوچھتی ہے کہ ’’کیوں نہیں سمجھاسکتے ؟‘‘

تو گرینگ جواب دیتاہےکہ

’’ کیونکہ میں اُوپر کی طرف پیشاب نہیں کرسکتا‘‘

اگلے مہینے گرینگ مزید اوپر کی منزل پر بیدار ہوتاہے۔ یعنی منزل نمبر چھ پر۔ یہ منزل تو باہر نکلنے کے بہت ہی قریب ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے اوپر فقط پانچ منزلیں اور پھر منزل نمبر ایک، جہاں انتظامیہ ہے۔اِس بار گرینگ کا روم میٹ ایک حبشی ہے۔ جس کے پاس رسی ہے۔ گرینگ اس سے پوچھتاہے کہ تم نے یہ رسی کیوں رکھی ہوئی ہے تو وہ کہتاہے اوپر چڑھنے کے لیے۔ حبشی بے پناہ خوش ہوتاہے اور گرینگ سے کہتاہے کہ وہ ضرور اُوپر چڑھ سکتاہے کیونکہ یہاں سے کُل پانچ منزلوں کا فاصلہ ہی تو ہے۔ وہ اپنے سے اوپر والوں کو آواز دے کر منتیں کرتا ہے کہ اس کی رسّی کا سرا پکڑ لیں تاکہ وہ اوپر جاسکے تو وہ لوگ اس سے پوچھتے ہیں کہ تم خدا میں یقین رکھتے ہو؟ حبشی خوش ہوکر بتاتاہے کہ ’’جی ہاں‘‘۔ وہ ان کے سامنے گڑگڑاتا ہے تو اس کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں اور اس کی رسی کا سرا اُسے اوپر پھینکنے دیتے ہیں۔ جب وہ رسی سے چپک کر اُوپر چڑھتاہے اور قریب ہوتاہے کہ وہ منزل نمبر پانچ پر پہنچ جائے، اوپر کی منزل والے اس کے منہ پر گندگی کردیتے ہیں۔ وہ نیچے گرتاہے تو اس کی رسی بھی چھوٹ کر نچلی منزلوں میں گرتی چلی جاتی ہے۔

تب گرینگ کو ایک آئیڈیا سوُجھتاہے ۔ وہ اپنے حبشی روم میٹ سے کہتاہے کہ ’’تم میرا ساتھ دو تو ہم یہ معاملہ سنوار سکتے ہیں۔ اورتم اوپر بھی جاسکتے ہو۔ ‘‘۔ وہ اسے اپنا پلان بتاتاہے کہ ہم ہتھیارلے کھانے کے میز کے درمیان میں کھڑے ہوجائیں گے اور اوپر جانے کی بجائے پہلے نیچے جائیں گے۔ ہم کھانے کے میز پر محافظ بن کر کھڑے رہینگے اور جب بھی نیچے والی منزلوں کے قیدی میز کے نزدیک آئیں گے ہم ان کو نزدیک نہ آنے دیں گے۔ انہیں قتل کرنا پڑا تو قتل کردینگے۔ اس طرح ہم پہلے سب سے نچلی منزلوں والوں کو ان کے حصے کا کھانا دیتے چلے جائیں گے ۔ یہاں تک کہ ہم آخری منزل تک پہنچ جائیں۔ وہاں سے تو یہ میز واپس آتاہے، اس لیے ہم اس میز کے ساتھ جب واپس آئیں گے تو منزل نمبر ایک تک اوپر چلے جائیں۔

وہ دونوں گرینگ کے پلان کے مطابق لوہے کے دو راڈز لے کر میز پر چڑھ جاتےہیں اور کسی کو نزدیک نہیں آنے دیتے۔ رستے میں انہیں ایک دانا شخص ملتاہے جو ان سے کہتاہے کہ واپسی پر منزل نمبر ایک تک جانے کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ وہاں سے تم واپس بھیج دیے جاؤگے کیونکہ منزل نمبر ایک خود کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ تم اگر اس جہنم سے نکلنا چاہتے ہو تو پہلے اس جیل کے مقصد کو سمجھو۔ جیل کا بنانے والا یہ چاہتاہے کہ قیدی فقط اپنے حصے کا کھانا کھائیں۔ اس لیے اگر تم اسے کسی طرح یہ ثابت کردو کہ اب قیدیوں نے فقط اپنے حصے کا کھانا کھایا ہے اور باقی کھانا خراب نہیں کیا ہے تو وہ تمہیں جیل سے نکال دےگا۔ تم لوگوں کوپہلے پیار سے سمجھاؤ! اگر وہ نہ مانے تب انہیں قتل کرو! تم سمجھاتے چلے جاؤ اور خاص طورپر اوپر والی منزل والوں سے کہو کہ وہ لوگ اگر ایک آدھ دن بھوکے بھی رہ لینگے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس طرح نچلی منزل والوں کو انکا کھانا پورا مل سکےگا۔

تم خود منزل نمبر ایک جانے کی بجائے منزل نمبر ایک تک بچا ہوا کھانا واپس بھیجو! کوئی ایسی اچھی سی ڈش جو بہت ہی بڑھیا ہو اور اسے کسی نے ہاتھ بھی نہ لگایا ہو۔ وہ ڈش اگر آخری منزل سے صحیح سلامت واپس اوپر منزل نمبرزیروتک پہنچ جاتی ہے تو تم کامیاب ہوجاؤگے۔

وہ دانا شخص کی بات مان لیتے ہیں اور ایک ڈش بچالیتے ہیں۔ لیکن جب وہ آخری منزلوں کی طرف بڑھنے لگتے ہیں تو انہیں وہاں بہت زیادہ بدحالی دیکھنے کوملتی ہے۔ بہت زیادہ لڑنا پڑتاہے۔ نچلی سے نچلی منزلوں پر انسانوں کی حالت بہت بری ہے۔ کچھ کٹے پھٹے پڑے ہیں ۔ کچھ جلے پڑے ہیں۔ کسی کووباؤں نے مار دیا ۔ کسی کو بھوک نے اور باقیوں نے ایک دوسرے کو کاٹ ڈالا ہے ۔ بالآخر آخری منزل پر پہنچ کر وہ حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ اس منزل پر ایک بیڈ کے نیچے ایک چھوٹی سی بچی چھپی ہوئی ہے۔ یہ وہی بچی ہے جس کی ماں وہ پاگل عورت تھی جو اپنا بچہ ڈھونڈنے کے لیے نچلی منزلوں کی طرف آنا تو چاہتی تھی لیکن کبھی بھی آخری منزل تک نہ پہنچ پاتی تھی۔ فلم کے مبصرین کے مطابق یہ بچی انسانیت کی علامت ہے۔ گرینگ اور اس کا ساتھی دیکھتے ہیں کہ بچی بھوکی ہے اور ان کے پاس تو فقط تحفے والی ڈِش بچی ہے جو منزل نمبر زیرو پر جیل کے خالق کو واپس بھیجنی ہے تو وہ پریشان ہوجاتے ہیں۔ لیکن گرینگ اپنے ساتھی کو مجبور کرلیتاہے کہ یہ ڈش بچی کوہی دے دو!

یہ فلم کا آخر ہے۔ یہاں گرینگ فیصلہ کرتاہے کہ منزل نمبر ایک پرجو پیغام بھیجنا چاہیے، وہ کھانے کی ڈش نہیں بلکہ یہ بچی ہے۔ اس بچی کو اُوپر بھیجناچاہیے تاکہ جیل کے خالق کو معلوم ہوسکے کہ اس کی جیل کی سب سے آخری منزل پر معصوم بچے بھوکے پڑے ہیں۔ چنانچہ وہ بچی کو اوپر بھیج دیتاہے۔

میں نے اس کہانی کے بعض حصے بیان نہیں کیے۔ نہ ہی اس کے حبشی ساتھی کا انجام وغیرہ اور نہ ہی اس پاگل عورت یا کینسر والی عورت کا حال وغیرہ۔ ظاہر ہے آپ خود بھی تو فلم دیکھیں گے۔

یہ سب پڑھنے کے لیے بہت شکریہ۔

ادریس آزاد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *