قرنطینہ کے مکینوں کے نام۔۔اشفاق احمد

اگر سوچا جائے تو پورا ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا قرنطینہ بننے جا رہی ہے یہ کتنے دن تک قرنطینہ بنی رہے گی؟ سر دست کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دنیا جہاں کے کن قصوں میں مگن تھے ہم صاحب کہ وقت نے ایسی کروٹ لی کہ سب کو حیران و پریشان کر دیا ۔
وقت سے یاد آیا کہ یہ وقت بھی عجیب ہے۔ اگر گہرائی سے سوچا جائے تو وقت دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئی کے ساتھ گزرنے والا وقت اور ایک دنوں، مہینوں اور سالوں پر محیط وقت۔
گھڑی کی سوئی  پر منحصر وقت طویل لگتا ہے اور بتائے نہ بیتے والی کیفیت ہوتی ہے جبکہ دنوں، مہینوں اور سالوں پر محیط وقت ایسے گزرتا ہے کہ احساس بھی نہیں ہو پاتا۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ رمضان گذرا تھا لیجیے پھر آگیا۔
ہمیں ان دونوں وقتوں میں رہنا پڑتا ہے اور ان دونوں وقتوں میں رہنے کے لیے احساسات بھی کچھ الگ قسم کے درکار ہیں۔ کیسے؟؟
وہ ایسے کہ گھڑیوں کی سوئی  پر منحصر وقت کا تعلق  ” کام” سے ہے۔ یہ اگر کام اور صرف کام میں صرف ہو رہا ہے تو ہم بہتر کیفیت میں ہوتے ہیں جبکہ دنوں، مہینوں اور سالوں پر محیط وقت کا تعلق “نتائج” سے ہے۔ ان کو ہم جو بھی اچھا، برا، خوبصورت یا تلخ کا نام دیتے ہیں وہ درحقیقت نتائج ہوتے ہیں۔ پریشانی تب بنتی ہے جب ہم اس تعلق کو سمجھ نہیں پاتے اور کام کے دورانیے  کو بھی کسی فوری نتیجے سے نتھی کر دیتے ہیں یا پھر مہینوں ، سالوں پر محیط کچھ سنی ان سنی باتوں کے نتائج کو اسی کام کے دورانیے میں خود پر سوار کرکے اچھا خاصا کام بگاڑ دیتے ہیں۔

سو یہی ہو رہا ہے صاحب دیکھتے جائیے۔ کرونا سے جنگ کے ان دنوں میں جہاں ایک ایک لمحہ ہم سے کام، کام اور صرف کام کا تقاضا کرتا ہے ، ان لمحات میں ہم کام کی بجائے دو طرح کے رویوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایک طرف ان انتہائی  قیمتی لمحات کو لایعنی ابحاث کا موضوع بنا کر بنا کچھ ضروری تدابیر کیے بے بنیاد خوش فہمیاں اور تعصبات ہیں اور دوسری طرف فوری “نتائج” کی توقع “کام” پر غالب ہونے کی وجہ سے اندیشے، خوف اور مایوسی کا عالم ہے۔ ہمیں ان دونوں رویوں سے خود کو الگ کرنا ہوگا۔ ہر وقت اور ہر لمحہ کام کی صورت ان احتیاطی تدابیر کو دینا ہوگا جو ہمارے اور دوسروں کے حق میں سود مند ثابت ہوں جبکہ نتائج کے حوالے سے اپنا ذہن گھڑی کی سوئی  کی ٹک ٹک سے ہٹا کر آنے والے دنوں، مہینوں اور سالوں پر مرتکز کرنا ہوگا جو یقیناً  اس وبا سے پاک ہونگے انشاءاللہ۔ آج صرف کام پر توجہ دیں جتنا بھی کچھ اچھا ممکن ہو سکتا ہے وہ کریں۔ دنیا میں کسی بھی بڑے انسان یا عروج کی لذت سے آشنا قوموں کی کہانی پڑھ ڈالیے آپ کو یہی ملے گا کہ وہ تجربہ گاہوں، لائبریریوں، جنگلوں، بیابانوں یا کسی بھی میدان عمل میں صرف اور صرف کام میں جتے رہے اور کام کے ان لمحوں میں ان کا ذہن رتی برابر نتائج کی طرف نہیں جاتا تھا۔۔ ہاں البتہ جب کچھ دیر سستانے کو ملتا تو وہ آنے والے وقتوں میں اپنے ان کاموں کے نتائج کا تصور کرکے مطمئن اور مسرور ہو جاتے۔ ہمیں بھی یہی کرنا ہے صاحب آج ہی سے اور ابھی سے اپنے حصے کا دیا جلانے کے لیے جت جانا چاہیے۔ اچھا وقت آئیگا اور آنے والے دنوں میں ضرور آئیگا انشاءاللہ۔

ان وقتوں کے بارے میں ضرور تصور کیجیے کہ خود کو متحرک رکھنے کے لیے یہ لازم ہے لیکن ان کو ٹھیک اپنے مقام پر رکھ کر اس جانب “کام” کی صورت آگے بڑھیے۔ کسی لاچار کی مدد کرکے، کسی کو احتیاطی تدابیر سمجھا کر اور اسی طرح خود ان پر عمل کرکے۔ تاکہ آنے والے ان خوبصورت دنوں میں کسی چہرے پر سجی معصوم مسکراہٹ کو دیکھ کر دل کو پھر یہ اطمینان تو رہے کہ ہمارا بھی کچھ حصہ تھا ان مسکراہٹوں کے لوٹ کر آنے میں۔
آج اور ابھی کا گھڑی کی سوئی  پر ٹک ٹک کرتا گزرتا وقت ہم سے بس یہی چاہ رہا ہے۔ ہمارے ذمے “کام” ہے اور “نتیجہ” خالق کے ذمے ہے۔ بنا کچھ اور سوچے کرتے جائیے اور جب بھی کبھی تھکن یا اندیشہ محسوس ہو تو آسمان کی طرف دیکھیے۔ ایسی نگاہیں کبھی خالی واپس نہیں لوٹتیں۔ بس کچھ دن اور ۔۔۔۔۔
آئیے اپنے قرنطینہ کے ان دنوں کو یادگار بنا دیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *