تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو۔۔۔۔ ام رباب

انگریزی میں کہتے ہیں مائنڈ یور اون بزنس یعنی اپنے کام سے کام رکھو۔ ہماری ذاتی زندگی کی بیشتر مشکلات شروع ہی اس وقت ہوتی ہیں جب ہم دوسروں کے معاملات میں دخل در معقولات بلکہ نا معقولات شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لوگوں کو ہر وقت اپنی بجائے دوسروں کی فکر لاحق رہتی ہے۔کون کیا کر رہا ہے؟ کہاں آ رہا ہے؟ کہاں جا رہا ہے؟اس کا ذریعہء آمدنی کیا ہے؟کتنا کماتا ہے؟ اس کا گھر کتنا بڑا اور کیسا ہے؟ اس کے گھر میں کیا سامان ہے؟ وہ کیا کھاتا ہے؟ کیسے کپڑے پہنتا ہے؟ گویا ہر چھوٹی سے چھوٹی بات جو دوسروں سے متعلق اور خود سے غیر متعلق ہو، ہم اس کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔

دنیا میں کہیں بھی چلے جائیے، ان ممالک میں لوگوں کے رویے اس طرح کے نہیں ہیں، وہاں لوگ واقعی اپنے کام سے کام رکھتے ہیں، دوسروں کے معاملات میں ٹانگ نہیں اڑاتے، نہ ہی دوسروں کی فکر میں گھلنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہ رویہ غالباً بر صغیر میں زیادہ ہے وجہ شاید فراغت کی فراوانی ہے۔ یعنی ہم اپنے فارغ وقت کو کسی تعمیری کام میں استعمال کرنے کا سوچنا بھی گناہ سمجھتے ہیں حتیٰ کہ کوئی ہنر سیکھنا یا اسے اپنے شوق،مشغلے یا پیشے کے طور پر استعمال کرنا بھی ذلت سمجھتے ہیں۔ فنون لطیفہ سے تو ہماری دشمنی سدا کی ہے اور ان سے دل چسپی رکھنا تو گویا واقعی ایک گناہ ہے۔ اس سے دل چسپی رکھنے والوں کی راہ میں تو سماج اور مذہب سب سے پہلے روڑے اٹکاتے ہیں۔

tripako tours pakistan

عموماً یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان تمام باتوں کا الزام خواتین کے سر تھوپ دیا جاتا ہے گویا دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرنا صرف عورتوں کا شیوہ ہے۔آپ کسی دفتر میں چلے جائیں،خواتین تو اپنی سیٹوں پر خاموشی سے کام کرتی ملیں گی جب کہ مرد حضرات زور و شور سے گپیں لڑا رہے ہوتے ہیں ، افواہیں اڑا رہے ہوتے ہیں، بلکہ کہا جائے کہ بی جمالو کا کردار ادا کرنے کی پوری ذمہ داری انہوں نے اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھی ہوتی ہے۔ یہ لوگ ہر وقت اپنے ساتھیوں اور اپنی خواتین کولیگز کی فکر میں مبتلا نظر آتے ہیں گویا ان کے مسائل اور تفکرات کا بہترین حل انہی کے پاس ہے۔ ان کا مقصد ہمیشہ دوسروں کے کام میں مداخلت کرنا اور اپنی باتوں سے دوسروں کو پریشان کرنا ہی ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو نظر انداز کیا جانا سب سے بہترین حل ہے۔

اگر ہمیں دوسروں کی اتنی ہی فکر ہی یا ان کی زندگی کے بارے میں اتنا تجسس رکھتے ہیں تو کیوں نا ان کے بارے میں ہر سوال اس متعلقہ شخص سے ہی کر لیا جائے اور اس کے جواب کو مان بھی لیا جائے یعنی وہ شخص اپنے بارے میں جو بھی بتائے گا وہ کسی بھی گپ یا افواہ سے بہر حال بہتر سچ ہو گا۔ اس طرح ہو سکتا ہے تجسس رکھنے والے کے تجسس میں بھی کچھ کمی آئے اور وہ افاقہ بھی محسوس کرے۔ کچھ افراد تو ہر بات پر مشورہ دینے کے بھی عادی ہوتے ہیں، خواہ آپ نے اپنی کوئی مشکل یا پریشانی شیئر نہ بھی کی ہو لیکن وہ مفت مشورہ دینے سے باز نہیں آتے اور ہر وقت دوسروں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اس قسم کے لوگ دراصل اپنا احساس کمتری مٹانے کی خاطر دوسروں کوذہنی تکلیف میں مبتلا رکھنا پسند کرتے ہیں۔ اگر آپ یا وہ ایک دوسرے کو ذاتی حیثیت میں نہیں جانتے تو ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں ، ان کی باتوں پر ہر گز کان نہ دھریں۔ مشورہ صرف اسی وقت دینا اچھا لگتا ہے جب طلب کیا جائے ورنہ یہ دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی میں شمار ہوتا ہے۔

Advertisements
merkit.pk

اگر دیکھا جائے تو یہ تمام پریشانیاں یا مسائل ہم سب کے ذاتی مسائل اور پریشانیاں بھی ہیں۔اگر ہم انہی پر توجہ دیں تو نہ صرف ہمارا وقت بہت آسانی اور سکون سے گزرے گا بلکہ ہم اپنے ذاتی مسائل کو جو ، بوجوہ نظر انداز ہوتے رہتے ہیں سلجھا سکتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو سہل بنا سکتے ہیں۔222

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”تجھ کو پرائی کیا پڑی، اپنی نبیڑ تو۔۔۔۔ ام رباب

  1. مظمون اتنا خاص نہیں ہے۔ مگر چونکہ لکھنے والی شخصیت مشہور ہے اس لیے جواب دے رہا ہوں۔
    ایسا نہیں کہ یہ عادت یہاں زیادہ پائی جاتی ہے۔ دراصل آپ سارے منظرنامے کو دیکھیے۔ جن ریاستوں یا معاشروں میں ریاست افراد کی زمہ داریاں اٹھا لیتی ہے۔ وہاں انفرادی زمہ داری کم سے کم ہوتی جاتی ہے۔ ایسے میں افرادکی آپس میں باہمی تعلق کی بنیاد کمزور ہوتی جاتی ہے۔ سامنے پڑا مریض میری زمہ داری نہیں رہا کیوں کہ ریاست نے ایسےقوانین وضع کردیے کہ میری ایک باہمی معاشرے کے ہوتے ہوے بھی اُسے ضرورت نہ رہی۔ یہی مثبت انداز جب معطل ہوجائے تو کسی نہ کسی شکل میں ظہور پذیر ہوتا ہے اور وہ وہی انداز ہے جس طرف آپ نے اشارہ کیا۔

Leave a Reply