الحاد مغرب اورہم۔۔ (تبصرہ)عبدالغنی محمدی

ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی کتاب” الحاد مغرب اور ہم ” کو پڑھا ۔ اس موضوع پر عامیانہ انداز میں لکھی گئی کتاب ہے ،تاہم الحاد ، مغرب ، مذہب اور وجود خدا کے حوالے سے مذہبی موقف اور اس کے دلائل کو یکجا کردیا گیاہے ۔ مغرب کے ملحدین ڈارون ، رسل ، مارکس وغیرہ کے افکار پر تبصرہ ، وجود باری پر دلائل ، مذہب کی ضرورت اور اسلام کی اہمیت جیسے اہم عناوین پر ان کی نگارشات ہیں ۔

خدا کے وجود پر کائناتی دلائل ذکر کرتے ہیں ، کائناتی دلائل کی جو توجیہہ  موجودہ دنیا کرچکی ہے مصنف اس پر بھی تبصرہ کرتے ہیں کہ بگ بینگ کی تھیوری ، نظریہ ارتقاء ایسی چیزیں بہت سے یورپی مفکرین کے ہاں بھی رد ہوچکیں اور ان کا وجود بھی فلسفیانہ سطح پر ہے ۔

الحادی مفکرین کے افکار پر مصنف کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ تو اقدار کا ہے ، اگر خدا کوکائنات سے نکال دیں تو زندگی گزارنے کے حوالے سے اقدار ہم کہاں سے اخذ کریں گے ، مذہب انسانوں کو رہن سہن کے ضابطے ، اقدار اور اخلاق کی نعمتوں سے نوازتاہے ۔لیکن موجودہ دنیا میں مذہب سے ہٹ کر بہت سے ممالک قائم ہیں اور انہوں نے مذہب کے مساوی اخلاقیات قائم کرلی ہیں، جن سے ان کے ممالک بہترین چل رہے ہیں اور موجودہ دنیا میں کوئی بھی مذہبی سٹیٹ ایسی نہیں ہے جو ان ممالک کو اپنی اقدار سے متاثر کرسکے ۔

انسانی روحانیت اور طمانیت و سکون کے لئے مذہب ناگزیر ہے ۔ اسی طرح انسانوں کے مابین اس دنیا میں کامل عدل نہیں ہوسکتاہے اور مذہب عقیدہ آخرت دیتا ہے جس کی رو سے انسانوں کے مابین عدل ہونا ہے تو اس دنیا کا نظام بھی اس طرح اچھے طریقے  چل سکتاہے ۔ الحادی افکار اور مذہب سے ہٹ کر قائم حکومتوں نے انسانیت کو مادی وسائل کے لئے قتل و غارت اور جنگوں کے تحفے دیے ہیں جس سے لاکھوں کروڑوں انسان لقمہ اجل بنے ۔

عبدالغنی
عبدالغنی
پی ایچ ڈی اسکالر پنجاب یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *