کرونا وائرس ۔اسلامی لیبارٹری میں۔۔ڈاکٹر طفیل ہاشمی

کرونا وائرس کی وبا پھیلنے پر سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی ہے جس میں ایک طرف کچھ اسلامی شخصیات وظائف اور عملیات کے پیکج لے کر علاج کے لیے آ نمودار ہوئی ہیں تو دوسری طرف کچھ لوگ اسلام کو یوں مطعون کر رہے ہیں جیسے کرونا کی تمام تر ذمہ داری اسلام پر ہے. آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایسے مواقع پر بڑی تعداد میں مذہبی شخصیات توبہ استغفار کی تلقین کرتی ہیں
لیکن
توبہ استغفار کی بے پناہ اہمیت کے باوجود اس کے تصور کو سمجھنے کی ضرورت ہے.
توبہ اور استغفار
منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد انسان کو جواولیں تحفہ ملا وہ توبہ اور استغفار کا ھے ۔کم علمی کے باعث ہم نے اسےصرف گناہوں سے وابستہ کر دیا۔جب کہ ان کاتعلق زندگی کے ہر شعبے سے ھے ۔توبہ کا مطلب ھے لوٹ کر واپس اس جگہ پر آجانا جہاں سے غلط راہ پر چل پڑا تھا ۔یہ قطعی طور پر ایک سائنٹیفک عمل ھے۔اگر واپس آگیا تو توبہ ھے ورنہ نہیں ۔اس اعتبار سے توبہ انسان کے تحفظ کی قطعی ضمانت ھے۔
استغفار کامطلب ھے سر پر مغفر (ہیلمٹ)پہن لینا یعنی دوران سفر حفاظتی تدابیر اختیار کئے رکھنا تاکہ اگر کوئ حادثہ بھی پیش آجائے تو کسی بڑے نقصان سے بچاو ہو سکے ۔اس سے معلوم ہوتا ھے کہ توبہ واستغفار دونوں کا تعلق عمل سے ھے.
گویا
استغفار کا مطلب ہے کرونا سے بچنے کی حفاظتی تدابیر اختیار کرنا اور توبہ کا مطلب ہے اگر کرونا ہو جائے تو پوری توجہ اور دل جمعی سے اس کا علاج کرانا. یاد رکھیں محض توبہ استغفار کے الفاظ دھرانا نتیجہ خیز نہیں ہوتا اور یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص شادی کئے بغیر شب و روز اولاد کی دعا مانگے، جو کبھی قبول نہیں ہو گی.
جہاں تک کرونا وائرس کے مریضوں سے فاصلہ رکھنے کی بات ہے تو
رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارہا اور واشگاف الفاظ میں متعدی امراض کے مریضوں سے دور رہنے کی تلقین فرمائی مثلاً صحیح حدیث ہے کہ کوڑھی سے اس طرح دور بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو. ایک مرتبہ ایک کوڑھی بیعت ہونے کے لیے آیا تو آپ نے دور سے ہی اسے فرمایا کہ تمہاری بیعت قبول ہے تم واپس چلے جاؤ.
ایک دوسری حدیث ہے
کوئی مریض کسی صحت مند کو ملنے نہ جائے
اس ضمن میں ایک دوسری حدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی. در اصل وہ حدیث جاہلیت کے کچھ معتقدات کی تردید میں آئی ہے. اسے یوں سمجھیں کہ آج بھی او سی ڈی کے کسی مریض کو آپ کسی عامل کے پاس لے جائیں تو وہ کہے گا کہ
اس پر پرچھائیں ہیں
یعنی بدروح کے زیر اثر ہے. حیرت ان اہل علم پر ہے کہ جو تمام تر تحقیقات کی موجودگی میں اسلام کا بیانیہ اس طرح پیش کرتے ہیں جس پر اطمینان نہیں ہوتا.
رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کا طریقہ یہ تھا کہ دنیوی امور میں آپ اعلی ترین علم اور مہارت سے استفادہ فرماتے اور اس کی تلقین کرتے. آپ نے کئی صحابہ کرام کو عرب کے بہترین اطبا سے رجوع کرنے اور ان سے علاج کروانے کی تلقین فرمائی. آپ نے بہترین فصل حاصل کرنے کے لیے عربوں میں رائج تجربات کو جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے فرمایا
یہ تمہارے دنیوی امور ہیں جنہیں تم مجھ سے بہتر جانتے ہو
لیکن جب میں تمہیں دین کی کوئی بات بتاؤں تو اس پر سختی سے کاربند رہو.
آپ نے آلات حرب میں سے منجنیق اور دبابہ کی صنعت سیکھنے کے لیے اپنے دو صحابیوں کو دور دراز بھیجا تاکہ اسلامی ریاست معاصر آلات حرب کی صنعت میں خود کفیل ہو.
آپ نے سلمان فارسی کی تجویز پر خندق کھدوائی. ایسے درجنوں واقعات ہیں جن کا استقصا ممکن نہیں.
کسے یاد نہیں کہ 18 ہجری میں امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ سرکاری دورے پر تھے جب وہ فلسطین کے قصبے عمواس میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہاں طاعون پھیلا ہوا ہے. ابوعبیدہ بن الجراح نے جو وہاں اسلامی لشکر کے سالار تھے، حضرت عمر کو بتایا تو حضرت عمر وہیں سے واپس ہو گئے. ابو عبیدہ نے اعتراض بھی کیا کہ
آپ تقدیر الہی سے بھاگ رہے ہیں؟؟
آپ نے جواب دیا،
ہاں تقدیر الہی(قانون فطرت) سے بھاگ کر دوسری تقدیر الہی(قانون قدرت) کی پناہ میں جا رہے ہیں
یعنی قانون قدرت یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو جس طرح کے ماحول اور حالات میں لے جاؤ گے اسی طرح کا قانون آپ پر لاگو ہو گا. یعنی یہ آپ پر ہے کہ آپ اٹھ کر شاور کے نیچے بیٹھ جاتے ہو، نتیجتاً پانی سے شرابور ہو جاؤ گے یا دھوپ میں جا بیٹھتے ہو تو پسینے سے شرابور ہو جاؤ گے. یہی تقدیر ہے.
حضرت عمر کا یہ اقدام ہزار ہا صحابہ کرام کی موجودگی میں تھا اور بعد میں یہ طاعون پھیل گیا جس کی وجہ سے کئی بڑے بڑے صحابہ کرام سمیت پچیس سے تیس ہزار مسلمان اس کا شکار ہو گئے اور اس دوران میں یہ سرکاری پالیسی رکھی گئی کہ متاثرہ علاقہ سے لوگ دوسرے علاقوں میں منتقل نہ ہوں اور غیر متاثرہ علاقوں کے لوگ متاثرہ علاقوں میں نہیں جائیں.
گویا یہ کہ متعدی بیماریوں سے کیسے نبرد آزما ہونا ہے اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہو گیا تھا.
اطبا احتیاطی تدبیر کے طور پر ہاتھ دھونا اور کلی کرنا وغیرہ تجویز کرتے ہیں
جب اسلام ایک دوسرے موقع پر اسی طرح کی تلقین کرتا ہے تو اس پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہوا خارج ہونے کے بعد وضو کرنے یعنی ہاتھ منہ دھونے کی کیا تک ہے؟؟ جبکہ اگر ضرورت ہوتی تو استنجا کرنے کی ہوتی
لیکن شریعت کا حکم یہ ہے کہ کہ ہاتھ منہ دھوئیں
کرونا وائرس نے اس حکم کی حکمت بھی بتا دی کہ جب ایک شخص ہوا خارج کر کے فضا میں وائرس پھیلاتا ہے تو اس سے اس کے اور دوسروں کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لئیے اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ ہاتھ منہ دھو لے اور کلی کرے، ناک میں پانی ڈالے.
یہی احتیاطی تدابیر کرونا وائرس سے بچنے کے لیے بتائی جاتی ہیں، ان پر کسی کو اعتراض نہیں
البتہ
ہوا خارج ہونے پر وضو کرنے کا حکم ہمیں عجیب لگتا ہے.
حدیث نبوی کی رو سے اللہ نے ہر مرض کی دوا پیدا کی ہے جب مسلم امت قرآن کی حامل تھی تو ہر نئی ایجاد ان کی ہوتی تھی، چیچک کا ٹیکہ رازی نے ایجاد کیا تھا لیکن اب انہوں نے قرآن پر عمل کرنے کے بجائے عملیات کو اپنی مقدسات بنا لیا ہے.
اور
اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا عزم نہ کرلے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

ڈاکٹرطفیل ہاشمی
استاد، ماہر علوم اسلامی، محبتوںکا امین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply