آپ لالہ عارف خٹک کی مدد کریں گے؟

میرا نام عارف خٹک ہے۔ میں ہر مظلوم کیلئے آواز اٹھاتا رہا ہوں۔ میں نے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کی۔ بس سامنے مظلوم ہونا چاہیے۔ میں لڑ  مر کر اس کیلئے تن تنہاء کھڑا ہوجاتا ہوں۔ نتائج سے بے پرواہ ہوکر کہ کل کلاں میرے لئے کون آواز اٹھائے گا۔

میں نے نقیب اللہ محسود کو دہشت گرد مرنے نہیں دیا۔ میں نے اس کا مقدمہ لڑا۔ ایسے لڑا کہ خود کو ایک بند گلی میں دھکیل دیا۔

میں نے لاہور میں ایک تیرہ سالہ وزیرستانی بچے کو اقبال مون مارکیٹ تھانے کے ایس ایچ او کے ہاتھوں خودکش حملہ آور قرار دیکر مرنے نہیں دیا۔ اتنا چیخا کہ فقط تین گھنٹوں میں لاہوریوں، شہباز شریف کی بیگم اور میاں نواز شریف صاحب نے بچے کو آزاد کروا دیا۔

میں وہ ہوں جس  نے ایک غریب نوجوان کی آواز میں آواز ملائی اور آج وہ ملک کا مقبول ترین ایم این اے بن چکا ہے۔

میں وہ ہوں جس  نے کراچی سہراب گوٹھ کے چار معصوم بچیوں کے والد کو لاپتہ افراد میں سے نکال کر ان کو یتیم نہیں ہونے دیا۔

میں وہ ہوں جس نے جب بھی آواز  دی ، پورے ملک نے لبیک کہا۔ منظور پشتین کا گلہ ختم کرنے واسطے پنجابیوں کو اسلام آباد میں اکھٹا کرکے ان کا مقدمہ لڑا۔ ریاست کے مضبوط کرداروں کے پیروں میں پڑا رہا کہ منظور کو سنا جائے۔

میں وہ ہوں کہ  جب آئی ایس پی آر نے اگلے دن ٹھان لیا تھا کہ منظور کو دہشت گرد قرار دے کر ان کو اور ان کے حواریوں کو زندہ درگور کردیں  گے ۔ منظور کا انٹرویو چھاپ کر اس وقت کے وزیر داخلہ اور آئی ایس پی آر کو یہ کہنے پر مجبور کرڈالا کہ “منظور اپنا بچہ ہے۔”۔

میں وہ ہوں جس نے پاکستان مخالف قوتوں کا سوشل میڈیا اور مین  سٹریم میڈیا پر تن تنہاء مقابلہ کیا اور کررہا ہوں۔

میں وہ ہوں جس  نے افغانستان کی  عوام کا اس وقت ساتھ دیا ،جب پاکستان نے  31  دن تک ان پر اپنی سرحدوں کے دروازے بند کردیے تھے۔ جس پر افغان حکومت کے پاکستان میں تعنیات سفیر نے میرا شکریہ ادا کیا۔

میں وہ ہوں جس نے ہمیشہ اپنے ملک کا مقدمہ لڑا۔ جس نے گالیاں کھا کر پنجابی، پشتون، سندھی اور بلوچ قوم پرستی کے سامنے کھڑے ہوکر ایک وطن اور ایک قوم کی بات کی۔

افغانستان میں موجود سفارتخانے کی کرپشن پر مفصل مضمون کیا لکھا کہ افغانستان میں تعینات پاکستانی سفیر نے میرے ہی خلاف نوٹیفیکشن نکال دیا۔

میں وہ ہوں جس نے اپنے دل میں ہزاروں غم چھپا کر آپ کو ہنسانے کیلئے اپنے آپ کو مسخرہ بنا کر پیش کیا۔ میں نظر لکھتا ہوں۔۔۔ میرا کام یہی ہے،مگر طنزومزاح میں برائیوں کو قہقہوں میں سامنے رکھ کر آپ کو شرمندہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ میں کن حالات میں رہ رہا ہوں؟۔
سب کیلئے آواز اٹھانے والا لالہ عارف خٹک خود کو روز کیسے مار کر جی رہا ہے۔ میرے گاؤں دریش خیل کُرک میں آج بھی پینے کا پانی نہیں ہے۔ میری ماں ،میری بہنیں آج بھی پانی کی  ایک ایک بوند کیلئے ترس رہی ہیں۔ مجھ سے پچیس سال قبل ایک وعدہ کیا گیا تھا کہ مجھے میرے گاؤں میں ایک چھوٹا سا ڈیم بنا کر دیا جارہا ہے۔ آج کی حکومت نے اس کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ اس ڈیم کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔ یہ ڈیم میرے لئے غیر ضروری ہے۔ اس سے آبپاشی نہیں کی جاسکتی، میں پیاس سے مر رہا ہوں  اور سنگلاخ پہاڑوں میں حکومت کو زرعی زمین کی آبپاشی کی پڑی ہوئی ہے۔میری بہنیں اپنے بچوں کو صبح چھ بجے بھوکا پپاسا چھوڑ کر پانچ چھ کلومیٹر دور پہاڑوں میں جاکر صرف دس لیٹر پانی کیلئے صبح سے لیکر شام تک گھروں سے غائب رہتی ہیں۔

julia rana solicitors

میں نے زندگی میں آج تک کسی سے مدد نہیں مانگی۔ ۔مگر آج آپ سب لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر ایک سوال کررہا ہوں۔ کیا آپ لوگ میری مدد کریں گے؟۔۔ “منزلے ڈیم” بنانے کیلئے میری آواز بنیں گے؟۔ قسم اللہ پاک  کی ،میری بہنیں اور بیٹیاں پہاڑی ٹپہ میں آپ کا ذکر صدیوں تک کریں گی ۔ مجھے میرے گاؤں میں ایک چھوٹا سا ڈیم چاہیے۔ کم از کم اتنا تو میرا حق ہے، اس حکومت پر، اس ملک پر اور آپ پر!

Facebook Comments

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply