سوشلزم کا پرچم کونسا ہے؟۔۔شاداب مرتضی

سوویت یونین کے انہدام کے وقت سوشلزم کا پرچم بلند رکھنا یقینا ایک قابل ستائش عمل تھا۔ایک ایسے دورمیں جب سوویت یونین کے انہدام سے دنیا بھر میں انقلابی قوتوں کا سوشلزم کی سچائی پریقین بری طرح متزلزل ہوگیا تھا اورہرجانب شدید مایوسی اورناکامی کے گہرے بادل چھاگئے تھے ،تب سوشلزم کا پرچم لہرانا یقینا ً ایک جرآت مندانہ انقلابی قدم تھا۔ لیکن سوشلزم کے اس پرچم کو ٹراٹسکی ازم کے پرچم سے گڈ مڈ کرنا سوشلزم سے، بیسویں صدی کی سوشلسٹ تحریک سےاورسوویت یونین کی تاریخ سے نری ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اس کی وجہ سادہ ہے: ٹراٹسکی ازم نے تو اس وقت بھی سوشلزم کے خلاف اپنا پرچم بلند کررکھا تھا جب سوویت یونین سوشلزم کی تعمیر کے مسائل سے نبردآزما تھا۔ جب سوشلزم سوویت یونین کے جلو میں فاشزم کے خلاف اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔ روس کے اکتوبرسوشلسٹ انقلاب سے لے کر، مشرقی یورپ کے سوشلسٹ انقلابوں تک، چین اورشمالی کوریا کے انقلابوں سے لے کر کیوبا کے سوشلسٹ انقلاب تک، ٹراٹسکی ازم کا پرچم ہمیشہ سوشلزم کے خلاف، کمیونسٹ پارٹیوں کے خلاف، اور ان انقلابوں کے رہنماؤں کے خلاف ہی اٹھا ہے۔

سوویت یونین کے انہدام نے تو، درحقیقت، ٹراٹسکی ازم کے پرچم کو نئی توانائی بخشی کیونکہ اس کے انہدام نے سوشلزم کی ناکامی کے بارے میں ٹراٹسکی ازم کی نام نہاد “پیش گوئی” کومبنیہ طورپر درست ثابت کردیا تھاحالانکہ سوویت یونین کو تحلیل کی جانب لے جانے والے رہنماؤں نے ٹراٹسکی ازم سے نا صرف استفادہ کیا بلکہ ان میں سے بہت سے رہنما، خروشچیف سمیت، نظریاتی رجحان کے اعتبار سے ٹراٹسکائی نکتہ نظر کے متاثرین میں سے تھے۔ مثلا، 1988 میں لینن گراڈ ٹیکنیکل اسکول میں کمیسٹری کی معلمہ نینا اندریوا نے، جنہوں نے سوویت یونین کے انہدام کے بعد آل یونین بالشویک کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی، انہوں نے گورباچوف کی پیرسترائیکا پالیسی پرسخت تنقید پرمبنی ایک طویل خط مقتدر کمیونسٹ پارٹی کو لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ سوویت یونین میں ردانقلاب کی تاریخ جوزف اسٹالن کی کردارکشی کی مہم سے شروع ہوئی اوراس مقصد کے لیے گوربا چوف کی قیادت نے سوویت یونین او  ر سٹالن کے خلاف ٹراٹسکی کے پروپیگنڈہ سے بھرپوراستفادہ کیا تھا۔سوویتولوجی کے ماہر، امریکی اسکالر، گروورفرکے مطابق اسٹالن کے بعد اقتدار سنبھالنے والے خروشچیف نے 1956 میں  سٹالن پرجوالزامات عائد کیے ان کا ماخذ ٹراٹسکی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات ہی تھی جو بعد ازاں تحقیق میں غلط ثابت ہوئے۔

ٹراٹسکی ازم کے ساتھ تاریخ نے ایک سنگین مذاق کیا ہے۔ دنیا کے کسی ملک نے آج تک کوئی ایسا سوشلسٹ انقلاب نہیں دیکھا جس کی بنیاد ٹراٹسکی ازم کا نظریہ یا عمل ہو۔ البتہ دنیا نے یہ ضرور دیکھا ہے کہ ٹراٹسکی ازم نے دنیا کے ہرسوشلسٹ انقلاب کو “سٹالنسٹ” کہہ کراسے بدنام کرنے کی بھرپورکوشش کی ہے اورسوشلزم کے خلاف سامراجی پروپیگنڈہ اورسازشوں کو “اندرونی” طورپربھرپور کمک فراہم کی ہے۔چنانچہ، وہ لوگ جنہوں نے ٹراٹسکی ازم کا نظریہ اختیار کیا، ان کے انقلابی جذبے کتنے ہی صادق کیوں نہ ہوں، اوروہ کتنے ہی بڑے دانشور و مفکر کیوں نہ ہوں، معروضی طورپرانہوں نے سوشلزم کے بارے میں لوگوں کو صرف گمراہ کیا اور”سٹالن ازم” کے خودساختہ تصور کے ذریعے سوشلسٹ تحریک میں شخصیت پرستی اورفرقہ واریت کی بنیاد رکھی اوراسے گہرا کرنے کی کوشش کی۔ ان دانشوروں اورمفکروں کے افکار میں سے صرف “اسٹالن ازم” الگ کرنے کی دیر ہے اوران کے نام نہاد نظریاتی نظام کا سارا ڈھانچہ زمین بوس ہوجاتا ہے۔ ٹراٹسکی ، ٹراٹسکی ازم اورسوویت یونین کی تاریخ کے بارے میں ان کے دعوی جات کو بالکل ٹھوس انداز سے دستاویزی ثبوتوں اورشواہد کی ساتھ رد کیا جا سکتا ہے اورکیا جا چکا ہے۔ اس بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اختصا رکے ساتھ ذی شعور احباب کے لیے دوسری عالمی جنگ کے ابتدائی عرصے میں ، سوویت یونین کی حکومت کے خلاف ٹراٹسکی کے بیانات ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں تاکہ قارئین خود یہ اندازہ لگا سکیں کے ٹراٹسکی ازم کے پرچم کا سوشلزم کے لیے کیا کردارتھا اور، اگروہ مذید دھیان دیں تو جان سکتے ہیں کہ آج اس کا کیا کردارہے:

لیون ٹراٹسکی کے فاشزم ،سوویت یونین اورسوویت حکومت کے بارے میں خیالات:

فاشزم ایک کے بعد ایک فتح حاصل کررہا ہے۔ اوراس کا بہترین اتحادی وہ ہے جو دنیا میں اس کا راستہ صاف کررہا ہے، یعنی  سٹالن ازم۔

یقینا ً  سٹالن کے سیاسی طریقوں کوکوئی بھی چیز ہٹلرسے الگ نہیں کرتی۔ لیکن عالمی سطح پرسامنے آنے والے نتائج حیران کن ہیں۔

سوویت آلے کا ایک اہم حصہ، جو زیادہ سے زیادہ اہم ہوتا جارہا ہے، وہ ان فاشسٹوں سے مل کربنا ہے جنہیں ابھی خود کو اس حیثیت سے (فاشسٹ کی حیثیت سے) تسلیم کرنا ہے۔

سوویت حکومت کا فاشسٹوں سے موازنہ کرنا ایک عظیم تاریخی غلطی ہو گی۔۔۔لیکن سیاسی بالائی ڈھانچے کا تناسب اور آمرانہ طریقے اورنفسیاتی تشخص حیران کردینے والے ہیں۔۔۔سٹالن ازم کی اذیت روئے زمین پرسب سے خوفناک اورحقارت آمیز شے ہے۔

میں ہرگز سوویت یونین کے حق میں نہیں ہوں۔ میں ان محنت کش عوام کے حق میں ہوں جنہوں نے سوویت یونین تخلیق کیا اوراس بیوروکریسی کے خلاف ہوں جس نے انقلابی حاصلات کوہتھیا لیا۔ ایک سنجیدہ انقلابی کا فرض ہے کہ وہ کھلے عام یہ اعلان کرے: اسٹالن سوویت یونین کو ناکامی کے لیے تیارکررہا ہے۔

ہم دشمن کے خلاف سوویت یونین کا دفاع اپنی پوری طاقت سے کریں گے۔ تاہم، اکتوبرانقلاب کے فوائد لوگوں کے کام تبھی آسکیں گے جب وہ  سٹالنسٹ بیوروکرسی کے خلاف بھی ساتھ ساتھ اسی طرح جدوجہد کرنے کی صلاحیت دکھائیں جس طرح ہم نے زارشاہی بیوروکریسی کے خلاف اورسرمایہ داروں کے خلاف کی تھی۔

نئی جونکوں کے جبرواستبداد کے خلاف سوویت مزدوروں کی آمریت ہی معاشرے میں اکتوبرانقلاب کی باقیات کو بچا سکتی ہے۔۔۔اس معنی میں، اورصرف اسی معنی میں، ہم اکتوبرانقلاب اور(سوویت یونین) کا سامراج سے، فاشسٹوں سے اورجمہوریت پسندوں سے، اور اسٹالن کی بیوروکریسی اوراس کے “زرخریددوستوں” سے دفاع کرتے ہیں۔

رجعت پرست بیوروکرسی کا تختہ الٹ دینا چاہیے اورالٹ دیا جائے گا۔ سوویت یونین میں ایک سیاسی انقلاب ناگزیرہے۔

کریملن کے بوناپارٹسٹ ٹولے کا تختہ الٹ کرہی سوویت یونین کی فوجی طاقت کی بحالی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔جنگ، سامراج اورفاشزم کے خلاف جدوجہد جرائم سے ناپاک  سٹالن ازم کے خلاف سفاک جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ اس کی فوجی طاقت انقلاب کی، سوشلزم کی اورمظلوم عوام کی بدترین دشمن ہے۔

عوام نے شاہی مطلق العنانی، امراء اورسرمایہ داروں کے خلاف تین انقلابوں میں اپنی بقاء کو قائم رکھا۔ ایک لحاظ سے سوویت بیوروکرسی اس وقت تمام شکست خوردہ طبقوں کی خصوصیات کی مجسم ہے لیکن ان کی سماجی جڑوں اورروایتوں کے بغیر۔ وہ اپنے عظیم استحقاق کا دفاع (اسٹالن کے خلاف) صرف منظم دہشت گردی کے ذریعے ہی کرسکتی ہے۔

تاریخ کا قانون بتاتا ہے کہ  سٹالن جیسے ڈاکوکے خلاف پرتشدد اورجان لیوا حملے ناگزیرہیں۔

ٹراٹسکی کی اس ہذیان گوئی کے برعکس ، سوویت یونین کے عوام نے دوسری عالمی جنگ میں اسٹالن کی قیادت میں فاشزم کے خلاف عظیم قربانیاں دے کرفتح حاصل کی۔ 27 ملین سوویت شہری اس جنگ میں ہلاک و زخمی ہوئے۔ ان کا جنگی نعرہ تھا: “اسٹالن کے لیے۔ سوشلسٹ مادروطن کے لیے”! لوئس التھیوسر نے کہا تھا کہ یاتوہمیں یہ موقف ترک کرنا ہوگا کہ سٹالن ظالم و جابرآمرتھا یا پھراس بات کو غلط ماننا ہوگا کہ اسٹالن کے دورمیں ہی سوویت یونین کے عوام نے زبردست ترقی کر کے وہ سوشلزم تعمیر کیا جس کی ہم مثالیں دیتے ہیں ۔ یہ دونوں باتیں بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں۔ لیکن ٹراٹسکی ازم کے نزدیک یہ دونوں باہم متضاد باتیں بیک وقت درست ہیں کیونکہ ٹراٹسکی ازم ، درحقیت، ایک عصبیت، ایک فرقہ پرستی ہے۔ دلائل ، شواہد اورثبوت اس پراثراندازنہیں ہوتے۔ دنیا کے تمام سوشلسٹ انقلابی رہنماؤں نے ٹراٹسکی اورٹراٹسکی ازم کی سخت مذمت کی ہے اوراسے ایک ایسی تحریک قراردیا ہے جو “سوشلزم” کے پردے میں ہمیشہ سامراجی مفادات کو تقویت دینے کا باعث رہی ہے۔ کیا دنیا کے تمام سوشلسٹ انقلابی رہنما جنہوں نے سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کی، اپنے ملکوں میں سوشلزم قائم کیا وہ سب “فرقہ پرست” تھے اورایک اکیلا فرد واحد، ٹراٹسکی، غیر فرقہ پرست تھا؟

Avatar
شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *