اگیانی نجومی کا کرسٹل بال(چار حصص میں ایک نظم کہانی)

(۱)
تم بہت بے صبر ہو، واقف نہیں ہو ضابطوں سے
زندگی کو چائے کے چمچوں میں بھر بھرکر
تحمل، قاعدے سے
لمحہ ، لمحہ ، مختصر وقفوں سے جینا ضابطہ ہے
تم نہیں سمجھو گے ! بولا وہ نجومی

اور میں
آوارگی کا آشنا، جو
اک ’دل ِ وحشی ‘ کی خاطر
ایک لمبی سانس میں پینے کا عادی ہو چکا ہوں
جس نے اپنی زندگی میں
’یک بیاباں جلوہ ء گُل‘ دیکھ کر بھی
بے نہایت وقت کے بے سود
لایعنی تسلسل کو جیا ہے
(اس کو پوری حرکت و حد ّت سمجھ کر)
ایک لمحہ سوچتا ہوں
اور پھر کہتا ہوں اگیانی نجومی سے ۔۔۔۔ برادر
میں تو وہ ہوں
جو کہ تھا بھی ۔۔۔۔ آج بھی ہے
اور کل بھی قائم و دائم رہے گا
جوتشی ہو، یہ تو سوچو
جس نے مستقبل کی اپنی زندگی کو
سیر ہو کر
بیتے کل میں جی لیا ہو
اس کے کرسٹل بال میں تم جھانک کر بھی کیا کرو گے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تصرف سے استعارہ ٹی ایس ایلیٹ سے مستعار
۰ کرسٹل بال : جام ِ جہاں نما

(۲)

تم تو اک شیشہ تھے، کہتا ہے نجومی
صاف، اُجلے
دیکھنے میں بے لچک،ناقابل ِ خم
کانچ، بلوریں، مگر بے حد ملائم
ٹوٹنے کے واسطے تیّار ہر دم
اور پھر حسّاس ۔۔۔ احساسات میں سیّال
شیریں، شبنمی
آب ِ رواں سے
اور تم ٹکرا گئے فولا د کی دیوار سے ۔۔۔
مضبوط رسموں اور رواجوں کی فصیل ِ آہنی سے؟
ٹوٹنا ہی تھا مقدرمیں تمہارے

اک فقط جھنکار ہی تھی ۔۔۔
ایک آواز ِ شکست ِ ذات ۔۔۔۔
(غالب’ نے بھی کچھ ایسے کہا تھا)

اور میں کہتا ہوں
اگیانی نجومی سے
برادر
شیشہ و فولاد کا باہم دگر ملنا تصادم ہی نہیں ہے
اور اگر ہو بھی ۔۔۔۔۔
تو شیشے کی شکست و ریخت
کیا ایک طے شدہ حتمی عمل ہے؟
میں نے تو فولا د کو بھی ٹوٹتے دیکھا ہے اپنے تجربے میں

(۳)
غم، یہ کہتا ہے نجومی، زہر ہے
اعصاب کو لمحہ بہ لمحہ کاٹتا ہے
اور تم اردو کے شاعر
کلفت و ماتم تمہاری شاعری ہے
نا خوشی، نقل و شرب ہے
برہمی، تشویش
سُستی، ماندگی کی لذتیت
تم شاعروں کے واسطے آسودگی ہے

تم نے ماضی کے عظیم المرتبت شعرا سے
خاکستر نشینی کی وراثت
پا کے یہ سمجھا ہے، جیسے
خوش نصیبی مل گئی ہو؟
یہ شہودی، سرمدی، مصلوبیت
(تم جانتے ہو)
اک بناوٹ ہے، تصنع، ڈھونگ ہی ہے
غم پرستی کا دکھاوا زہر ہے
شعر و سخن کو
تین صدیوں سے برابر کاٹتا ہی آ رہا ہے۔

۰ اور میں کہتا ہوں
اگیانی نجومی سے، برادر
نوّے فی صد شاعروں کے واسطے شاید تمہاری بات سچ ہو
میں مگر آزاد ہوں
اُن شاعروں سے مختلف ہوں
میرا تو ایمان ہے، غالبؔ بھی پہلے کہہ گئے ہیں
’’غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس‘‘ پر
ایسے عندالاصل دعویٰ میں بھی غالبؔ
اپنے بارے میں تو لب بستہ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(چار)
کیا کیا جائے ، برادر

میں یہ کہتا ہوں نجومی سے ۔۔۔
کسی بھڑوے کو آخر ووٹ اپنا ڈالنا ہے
زید ہو یا بکر ہو ۔۔۔ کوئی بھی ہو
(تم جانتے ہو)
ووٹ کتنا اہم ہے جمہوریت میں

اور اگیانی نجومی زور سے ہنستا ہے ۔۔۔ کہتا ہے
یقینا جانتا ہوں
ووٹ کا حتمی نتیجہ؟
ہاں، وہی ! ہر بار اپنے گھر کی چابی
چور کے ہاتھوں میں دے کر سوچنا
میری حفاظت اب یقینی ہو گئی ہے
آپ کے شاعر چچا غالبؔ بھی آخر
دن کو لُٹنے پر ہی شب بھر
چین سے سونے کی نعمت پا گئے تھے!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *