بے وفا کے نام۔۔سلمان امین

 

میری طرف سے آپ کو سلام اور امید ہے کہ تم جواب میں والسلام نہیں کہوں گی کیوں کہ سلام کا مطلب سلامتی کی دعا کرنا  ہے،اور اگر تم یہ دعا کرو گی تو مجھے لگے گا کہ جیسے میرا تمسخر اُڑا رہی ہو۔ کیوں کہ میری ساری سلامتی تم ہی سے ہے اور اب تم نے بھی مجھے اکیلا چھوڑ دیا ہے۔ محبت کے ماروں کو سلامتی کی دعا نہیں ،مرنے کی دعا دی جاتی ہے، کیوں کہ پل پل مرنے سے تو مرجانا ہی بہتر ہے

تم سے پہلے میری ذندگی میں کوئی نہیں تھا ،شاید اب زندگی میں تو دور کی بات ،نظر میں بھی کوئی نہ آسکے۔ جب سے تمہارے ساتھ رابطہ ہوا تھا ایسا تھا کہ جیسے زندگی کا مقصد مل گیا ہو جیسے برسوں سے پیاسے کو پانی مل گیا ہو۔

کتابوں میں افسانوں میں جب یہ پڑھا تھا کہ محبت بہت دُکھ دیتی ہے تو میں یہ سمجھتا تھا کہ ایسے ہی جھوٹ بول رہے ہیں، محبت تو زندگی دیتی ہے محبت تو خوشی دیتی ہے محبت تو جینا سکھاتی ہے مگر اب محسوس ہوا کہ واقعی محبت بہت دُکھ دیتی ہے کرب سے گزارتی ہے۔ موت کے کنارے پہ لا   کھڑا کردیتی ہے۔ مرنے دیتی ہے نہ جینے دیتی ہے۔ تمہارے چھوڑ جانے کے بعد پتہ چلا کہ قیس کو مجنوں کیوں کہا جاتا تھا۔ اب میں ڈر رہا ہوں کہ لوگ مجھے بھی اس لقب سے نہ پکارنے لگ جائیں کیونکہ تمہارے چھوڑ جانے کے بعد میں بھی پاگلوں کی سی حرکتیں کرنے لگ گیا ہوں، لیکن کوئی  بات نہیں، میرا کیا ،میں تو جیسے تیسے زندگی کے جو چار دن لکھے ہیں۔ اِن کو پورا کرلوں گا۔ اس ٹوٹے ہوئے دل سے تمہارے لیے دعا ہے، تم اُس کے ساتھ ہمیشہ خوش رہو۔ مگر گزارش ہے کہ اب اِس کو مت چھوڑنا کیونکہ محبت کی چوٹ ہر کوئی برداشت نہیں کرسکتا۔

ذرا سا سوچ لینا تم

کسی کو چھوڑنے سے پہلے

تعلق توڑنے سے پہلے

ذرا  یہ سوچ لینا تم

کہ اگر اسکی جگہ تم ہوتو!

وہ کہ جس نے تیری خاطر سب کو بھلا دیا ہے

تجھے پانے کی خاطر سب کو چھوڑ دیا ہے

اسے اگر تم بھی چھوڑ دو گے تو

اس پہ کیا گزرے گی

فقط یہ سوچ لینا تم

وہ اک زندہ لاش کی مانند

چلتا پھرتا تو نظر آئے گا

مگر جیتا جاگتا نہیں

صرف رخصت ہوتے ہوئے تم

اس کے چہرے پہ جو قیامت ہوگی

اُس کو دیکھ لینا !

سلمان امین
سلمان امین
اقبال و فیض کا ہمسایہ ہونے کے ناطے ہلکا پھلکا ادب سے لگاؤ رکھتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *