گھٹن۔۔(قسط1)طہماس سعید

پس منظر!
جنوبی ایشیائی ملک کے شمال میں واقع ایک شہر جو کہ انگریز دور کے کمشنر کے نام سے منسوب تھا میں مسلسل عجیب وغریب واقعات ہو رہے تھے ۔ شہر کے عین وسط میں واقع سو سال پرانی سرسبز عیدگاہ کے ساتھ لنک روڈ جو کہ شہر کی مین شاہراہ پر ختم ہوتی تھی اسی چوک پر جو کہ شہر کی سب سے بلند پہاڑی کے نام سے منسوب تھا پر کئی لوگ دم گھٹنے کی وجہ سے بے ہوش ہونے لگے تھے ۔جنہیں جلد طبی امداد سے بچا لیا جاتا لیکن ہر مہینے اسی جگہ تقریباً ایک ہی طرح کی کیفیت کا شکار ہو کر راہگیر بے ہوش ہو رہے تھے, جس سے لوگوں میں زبردست خوف و ہراس پھیلنا شروع ہوگیا۔ یہ سڑک شہر کے ایک حصے کو دوسرے حصے سے ملاتی تھی اور مین بازار کیلئے بھی یہی استعمال ہوتی تھی، عام طور پر اس پر پیدل چلنے والے لوگوں کا رش ہوتا تھا ۔
اسی طرح انتظامیہ کے لیے شہر کے عین وسط میں واقع شاہراہ کو بند کرنا ممکن نہیں تھا ۔شہر میں بدستور ہُو کا عالم تھا۔ اسی وجہ سے ملکی میڈیا میں یہ واقعات موضوع بحث تھے, مقامی لوگوں کے ذہن میں مختلف چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں، اور کوئی اسےانڈرگراؤنڈ گیس کا اخراج سمجھ رہا تھا اور کچھ اسے ذرا فاصلے پر ریڑھی بانوں کے خلاف سازش قرار دے رہے تھے۔
غرض ‏ جتنے منہ اتنی باتیں ۔
پولیس ہیڈکوارٹر میں ایک خاتون پولیس آفیسر کے زیر صدارت ہنگامی اجلاس جاری تھا ان کے سامنے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ندیم موجود تھے ۔جنہوں نے سمری اور پریزنٹیشن تیار کر رکھی تھی اور اس نے پروجیکٹر کی مدد سے پریزنٹیشن شروع کی ۔

’’میڈم جنوری 2018 میں پہلا واقعہ ہوا لیکن رپورٹ نہیں ہوا, وقوعہ کے روز مقامی کالج میں انگریزی کے پروفیسر دن 12 بجے اپنے گھر واپس جا رہے تھے ، چوک کراس کرنے کے تھوڑی دیر بعد تقریباً بیس فٹ ہی چلے تھے کہ اچانک بیٹھے اور پھر وہیں لیٹ گئے۔ بعد ازاں جب یہ واقعات عام ہو گئے ان کا بھی انٹرویو لیا گیا اور ان کے مطابق ان کے ساتھ ایسا زندگی میں پہلی بار ہوا تھا ورنہ انھیں ایسی کوئی شکایت نہیں تھی البتہ کبھی کبھار پہاڑوں پر سانس لینے میں ہلکی پھلکی دقت ہوتی تھی لیکن اس طرح کی حالت ان کی کبھی پہلے نہیں ہوئی۔
دوسرا کیس فروری کی 20 تاریخ کو رپورٹ ہوا، جب ایک پانچ سال کی بچی ، جو کہ اپنی والدہ کے ساتھ اس مقام سے گزر رہی تھی اپنی والدہ سے دم گھٹنے کی شکایت کی کہ تھوڑی دیر میں بےہوش ہوگئی ،اس بچی کو پہلے ہی دمے کی شکایت تھی۔ ابھی تک تقریباً 12 لوگوں کو امداد دے کے بچا لیا گیا ہے ۔
خوش قسمتی سے اب تک کے واقعات میں سے کسی کی بھی جان نہیں گئی۔ ہم اس بات پر حیران ہیں کہ شاہراہ پر کچھ فاصلے پر ریڑھی بان مستقل موجود رہتے ہیں لیکن آج تک کوئی بھی اس کیفیت کا شکار نہیں ہوا۔ البتہ ان کا یہ کہنا ہے کہ وقوع کے وقت انہیں بھی فضا میں گھٹن محسوس ہوئی، میڈم سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر وقوعہ سے پہلے بروقت 1122 کو کال کی گئی جن کی فوری مدد سے لوگوں کی جان بچی ۔ ہمارا شک ہے کہ یہ کوئی جان بوجھ کر تخریبی حرکت کر رہا ہے اب تک کی تفتیش کے مطابق راہگیر جو بھی بےہوش ہوا، انہیں سانس کی بیماری تھی لیکن ان سب کا کہنا تھا کہ انھیں اس قسم کا تکلیف کا تجربہ پہلی بار ہوا تھا انہیں ایسے لگتا ،جیسے فضا میں سے آکسیجن ختم ہوگئی ہے۔‘‘
عمران صالح فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا اپریل 2018 میں جبکہ وہ کالج میں ایڈمیشن فارم جمع کرواکے واپس آ رہا تھا عین اس وقت اس کی طبیعت بوجھل ہوئی اور پھر اس کے مطابق اسے ہوش ہاسپٹل میں آیا، پولیس آفیسر کے سامنے مختصراً اب تک کے تمام واقعات رکھے گئے تھے ۔
افشاں خان کو ڈیوٹی سنبھالے تین سال ہو چکے تھے ، عمر کوئی پینتیس برس ، کاندھے پر ستارہ، ان کے رینک کی عکاسی کر رہا تھا۔ ایلیٹ کورس کا بیج اور نام اس کا تعارف بھی پیش کر رہا تھا۔
اپنے آفس میں خاموش گہری سوچ میں گم تھی۔ اپنے کریئر کے دوران آج تک اسے اس قدر شدید ذہنی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا ۔ وہ کیس کے تمام پہلوؤں پر غور کر رہی تھی کہ اچانک اس کے ذہن میں اپنے نام آنے والے خط کھٹکنے لگے۔
جنوری کے مہینے میں اسے پہلا خط موصول ہوا جس میں سے ایک ہی صفحہ برآمد ہوا اس پر ایک بچے کی تصویر تھی اس کو نہایت مہارت سے پنسل سے بنایا گیا تھا۔ چھوٹا سا معصوم بچہ جس کی عمر تقریبا ًتین سے چار سال کے درمیان ہو گی اپنے گھٹنوں پر بیٹھا تھا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے گلے کو پکڑ رکھا تھا، اس کے سامنے ایک گملا گرا ہوا تھا اس کا پھول مرجھایا ہوا تھا ایسا لگتا تھا جیسے بچے کے پاس آنے سے پہلے ہی پھول مرجھا چکا تھا ۔

یہ عجیب و غریب خط تھا جس پر کوئی جوابی پتا تحریر نہیں تھا اس کے بعد ہر مہینے ایسی ہی چٹھی موصول ہوئی تھی،اب تک تمام سکیچز افشاں خان کے سامنے پڑے تھے وہ سوچ رہی تھی شاید اس کا بھی اس کیس سے کوئی تعلق ہو، خط کے لفافے پر کمپیوٹر سے ٹائپنگ کی گئی تھی اس کے بعد اس پرچے کو خط سے چسپاں کیا گیا تھا اس نے آخرکار تمام خطوط کو لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لئے بھجوا دیا تاکہ فنگرپرنٹس حاصل کیے جاسکیں۔
لیبارٹری رپورٹ حیران کن تھی خط کے لفافوں میں جو نشان پائے گئے وہ ان کے اپنے عملے اور پوسٹ آفس کے سٹاف کے تھے اس کے علاوہ اس پہ کوئی نشان نہیں پائے گئے یا ان کو مہارت سے مٹا دیا گیا تھا ۔ کوئی بھی ایسا نشان نہیں ملا جس سے اس کا تعلق دوسرے کیس سے جوڑا جائے سکے یا سراغ لگایا جاسکے۔
اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا اس نے اپنے سیکریٹری کو بلایا اور اس نے تمام خطوط کی کاپی کرنے کا کہا اور پھر مزید
کچھ ہدایات دینے کے بعد 1122 کے آفس کی طرف روانہ ہوگئی وہاں پہنچنے کے بعد 1122 کی کارڈ کی کاپی چیک کی گئی،تمام لوگوں کے نمبر ٹریس کیے گئے حیرت انگیز طور پر ہر بار مختلف نمبروں سے کال کی گئی اور موبائل فون ریکارڈ کے مطابق تمام لوگ جائے وقوعہ پر موجود تھے ، اس کے بعد ایک ایک کر کے تمام لوگوں کو پولیس سٹیشن لے جایا گیا سب اسٹوری ایک جیسی تھی واقعے کے روز وہ اس جگہ سے گزر رہے تھے انہوں نے لوگوں کو گرتے دیکھا سب نے کہا انہیں ایک اور نوجوان نے تقریبا ًروندی سی آواز میں1122 کال کرنے کو کہا انہوں نے ہمدردی کے تحت 1122 کو کال ملائی ۔
البتہ اس کا ہمدردی دکھانے والے نوجوان کا حلیہ سب نے مختلف بتایا کسی کے مطابق نوجوان کی فرنچ کٹ داڑھی تھی ,کسی نے اسے نوکدار مونچھوں والا اور کسی نے اس کو کلین شیو بتایا لیکن ایک چیز کا من تھی وہ تھی اس کی عمر سب نے اس کو نوجوان بتایا 24سے 28 سال کے درمیان تھا ۔
اس کے علاوہ جو چیزیں عینی شاہدین کے مطابق پتہ لگیں،اس کے مطابق نوجوان کی شکل صورت اور حلیہ معقول ہوتا , کالی زلفیں ، آراستہ پلکیں ، آنکھوں میں ہمدردی کے آنسو ، ابھرے ہوئے گال ,لمبی ناک, باریک گلابی ہونٹ , صراحی نما گردن, لمبا قد اور ہموار جسم تھا۔
اس حلیے کے مطابق آرٹسٹ کو اسکیچز یا پلیز ایکسپورٹ کو اسکیچز بنانے کی درخواست دے دی گئذی ۔
افشاں خان جانتی تھی جلدی عوامی دباؤ اس قدر بڑھ سکتا ہے کہ اس کا ٹرانسفر یہاں سے کردیا جائے گا اور اسے یہ کیس جلد حل کرنا ہوگا ورنہ قیمت چکانی پڑے گی۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس نے فیصلہ کیا اس مقام پر پولیس اہلکار روز ڈیوٹی کریں گے , تو پولیس اہلکار روزانہ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی دینے لگے اور وہ خود بھی اکثر اس مقام پر موجود رہتی ۔
وہاں موجود نہ ہوتی تو تب بھی دن بھر اس کے دل میں کھٹکا رہتا , حیرت انگیز طور پر اورخوش قسمتی سے اگلے تین مہینے تک کوئی بھی واقعہ ظہور پذیر ‏ نہ ہوا ، افشاں خان نے مطمئن ہوکر پریس کانفرنس کرکے اعلان کر دیا کہ ہم نے تین مہینے سخت نگرانی کر کے مجرم کو پکڑ لیا ہے اور ہم جب میڈیا کے سامنے پیش کر دیں گے ساتھ ہی نگرانی ختم کرنے کا اعلان کر دیا اسے ایک ہفتہ قبل تک تاجروں نے پولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ,کیوں کہ شہر میں ہونے والے واقعات اور بعدازاں پولیس کی بھاری تعداد کی موجودگی سے شہر کی سیاحت انڈسٹری پر سخت برے اثرات مرتب ہوئے تھے سو پولیس افسر کی اس پریس کانفرنس کا ایک مقصد اپنے اوپر دباؤ کو بھی کم کرنا تھا ۔
نوجوان کی نگاہیں سکرین پر مرکوز تھیں، وہ پریس کانفرنس دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر حیرت کے اثرات نمایاں ہوئے ۔کئی ہفتوں سے شیو نہ کرنے کی وجہ سے اس کی داڑھی اچھی خاصی بڑھ چکی تھی ۔ تین مہینے حجامت نہ ہونے کی وجہ سے بال بےترتیبی سے بڑھ کر ‏ شانے تک پہنچ چکے تھے ۔اس نے آئینے پر نگاہ ڈالی, اسے سب صحیح لگا ۔
ٹھیک اگلے دن 1122 کے کنٹرول روم اطلاع آئی عین اس مقام سے کچھ دور تقریبا 20 ‏ فٹ کی دوری پر دو شہری بے ہوش پڑے ہیں۔
افشاں خان کو میڈیا کے نمائندوں سے پھر سے کال موصول ہونا شروع ہوگی ۔ایک بار پھر ملکی میڈیا کی توجہ کا مرکز وہی جگہ تھی۔ پھر وہی طریقہ واردات اور وہی تفصیل , دن ٹھیک ساڑھے بارہ بجے دو سگے بھائی جو کہ بازار میں سیلزمین تھے، مقامی ہوٹل سےکھانا کھا کے واپس جا رہے تھے, اسی مقام سے چند فٹ دور چلتے ہوئے دونوں کو سانس لینے میں شدید دشواری ہوئی اور پھر وہیں تڑپ کر گر گئے۔
راہ چلتے لوگوں میں سے میں سے ایک نئے ریسکیو کو کال کی اور یہاں بھی وہی تفصیل , البتہ خلیہ مختلف تھا اب کی بار ایک باریش نوجوان کو جھکا دیکھا گیا تھا جو خود سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا , ساتھ میں مسلسل ریسکیو کو کال کرنے کی بھی درخواست کر رہا تھا یوں لگتا تھا کہ اسے فرسٹ ایڈ کی تربیت حاصل تھی, البتہ اس افراتفری میں 1122 کی گاڑی کے آتے ہی وہ غائب ہوگیا,اس کا کچھ اتا پتہ نہ چلا ۔
جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *