نیم حکیم۔۔۔۔۔جمال جامی

SHOPPING

پچھلے کچھ دنوں سے کافی کمزوری محسوس ہو رہی تھی،جس کا احساس گزشتہ شام فٹبال کھیلنے کے دوران بخوبی ہوا،سوچا کہ اب ہیلتھ فٹنس پر توجہ کے ساتھ ساتھ کچھ انویسٹمنٹ بھی کر لینی چاہیے۔
رات ہی کو ایک لیٹر خالص دودھ اور کچھ دیسی غذاؤں کی ڈیل پر سائن کیا۔۔بدست خود دودھ اُبالا، مقوی غذائیں حلیب برد کیں،سونے سے پہلے معمولی کسرت اور پھر دودھ نوشی اور کشتہ خوری سے فراغت پا کر سونے کے لئے بے سدھ ہو کر لیٹ گیا۔
دل ہی دل میں خیال آ رہا تھا صبح ایک شکتی شالی جامی کی آنکھ کھلے گی
خوف یہ تھا کہ کہیں Hulk جیسے دیوقامت جثے میں کنورٹ نہ ہو جاؤں۔۔
من خواہی یہ تھی کہ رینڈی اورٹن جیسی متناسب باڈی سے ایک انچ بھی نہ بڑھنے پاؤں۔۔

SHOPPING

ساتھ ہی ساتھ خود کو رونالڈو کی طرح گراؤنڈ میں دوڑتا ہوا ،سپر مین کی طرح اڑتا ہوا،اور سپائیڈر مین کی طرح چھلانگتا و پھلانگتا ہوا دیکھنے لگا
دریں اثناء نجانے کب آنکھ لگی، شب کٹی اور پھر آنکھ کھلی۔۔
صبح ہوئی تو واقعتاً منظر بدلا بدلا سا معلوم ہو رہا تھا،خود پر غور کیا تو دنگ رہ گیا۔
سر میں درد، پیٹ میں درد، جسم میں درد، اعضائے جمیعہ نڈھال اور چھینکوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔
پاس پڑا رومال اٹھایا، زکام کی وجہ سے وجود میں آنے والے سیل رواں کو بمشکل روکا اور پھر رومال کو بھاری کر کے سائیڈ پر رکھ دیا
پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر حاجت براری کے لئے حاجت گاہ پہنچا تو سیل بطن کا بھی علم ہوا۔۔واپس لوٹا تو انگ انگ ٹوٹ رہا تھا
دودھ و مقوی غذائیں بجائے سود مند ثابت ہونے کے ضرر رساں ثابت ہو رہی تھیں۔
ایک ہی رات میں خود کی حالت ساحر لودھی جیسی پائی، تو آنجہانی جامی پر رشک کرنے لگا۔اور ہاتھ کے ہاتھ کانوں کو ہاتھ لگا کر دیسی، خالص اور مقوی غذاؤں کے استعمال سے توبہ کی۔تلافی مافات کے لئے ہنگامی بنیادوں پر ٹیسٹی و تارا گولڈ کی پھکّی پھانکی تو حواس بحال ہونا شروع ہوئے۔
اور اب جامی بدست خود اعلانیہ توبہ کرنے کے لئے حاضر ہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *