“حورونا وائرس” کا پاکستان میں حملہ ۔۔۔ رمشا تبسم

SHOPPING
دنیا میں بے شمار خطرناک کیڑے اور وائرسسز  دن بہ دن سامنے آ رہے ہیں۔حال ہی میں چائنہ میں کرونا وائرس نے سر اٹھا لیا۔اس وائرس نے چائنہ کی گوشت مارکیٹ میں جنم لیا اور کم عرصے میں بہت خطرناک حد تک  پھیلنا شروع ہو گیا۔اس وائرس سے چائنہ کے کچھ شہر شدید متاثر ہیں اور پوری دنیا پریشان ہے لہذا اس کو اپنے ملک میں پھیلنے سے روکنے کے لئے ہر ملک نے ائیرپورٹ پر ملک میں داخل ہونے والوں کا معائنہ کرنا شروع کردیا ہے۔
کرونا وائرس نے جہاں چائنہ کو متاثر کیا ہے ۔پاکستان میں بھی نئے نئے خطرناک کیڑے اور وائرسسز نے جنم لینا شروع کیا ہوا ہے۔یہ وائرس نئے پاکستان میں ذیادہ جنم لے رہے ہیں۔کچھ کیڑے پرانے پاکستان میں پیدا کئے گئے ۔  کچھ لوگوں نے انہی کیڑوں کی بدولت نیا پاکستان کا خواب دکھایا پھر نیا پاکستان بنا کر   اس میں داخل ہو گئے اور ساتھ ہی ان  کیڑوں کو پیدا کر کے پروان چڑھا کر لے آئے جو اب مختلف وائرسسز پھیلانے میں مصروف ہیں۔ یہ کیڑا مختلف قسم کے وائرسسز پیدا کرتا نظر آ رہا ہے۔یہ خطرناک کیڑا  بظاہر کیڑے کی طرح نظر نہیں آتا تھا مگر صرف سنائی دیتا تھا۔کبھی کنٹینر پر سنائی دیتا کبھی گلی محلوں میں کبھی ٹی۔وی پر خاص ٹاک شو کرنے والوں کی زبان سے۔اس کیڑے کا نام “تبدیلی کیڑا” ہے۔اس کیڑے کی شکل و صورت سائنسدانوں نے ابھی واضح نہیں کی ہاں مگر اتنا ضرور بتا دیا ہے کے یہ کیڑا خاصا ہینڈسم ہے لہذا لوگ اس کا شکار  ہنسی خوشی ہو جاتے ہیں اور یہ تبدیلی کیڑا کالی ماش کی دال میں رہنا بہت پسند کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً شہد کی بوتلیں پینے کا شوقین بھی ہے۔سائنسدانوں کا یہ بھی ماننا ہے کے یہ کیڑا “کوکینو” پودے  سے جلد پروان چڑھتا ہے اور کوکینو پودے کے بغیر اس کا گزر بسر بالکل ممکن نہیں .یہ تبدیلی کیڑا پرانے پاکستان کو سنہرے خواب دیکھنے پر مجبور کر دیتا تھا۔اور ان کے دماغ کو مفلوج کرتا ہوا صرف وہی دیکھنے پر مجبور کرتا تھا جو تبدیلی کیڑا ایجاد کرنے والے چاہتے تھے کے سب دیکھیں اور سنیں۔
تبدیلی کیڑے نے سب سے پہلے “بوٹونا وائرس” پھیلایا۔اس وائرس میں مبتلا حضرات کو جب ناکامی کا دورہ پڑتا  ان کو ایک عدد بوٹ دے دیا جاتا وہ اس کو جس بھی طرح چمکاتے مگر چمکا لیتے اور انکی صحت میں آفاقہ ہو جاتا۔بوٹونا وائرس کی جڑیں  آج بھی بہت مضبوط ہیں۔اور یہ لا علاج مرض میں مبتلا لوگ جگہ جگہ اپنا خاص بوٹ لے کر پھرتے نظر آتے ہیں۔اور تقریباً  ہر جگہ پھیلتا نظر آ رہا ہے۔
“بوٹونا وائرس” کے خاندان سے  “غدارونا وائرس” بھی جنم لیتا ہے۔اس وائرس کا شکار لوگ آپ کو جگہ جگہ غدار غدار چیختے نظر آئیں گے۔اور کسی بھی لمحے آپ کو غدار کہہ کر اپنی صحت میں آفاقہ محسوس کریں گے۔
وقت گزرا نیا پاکستان بنا۔تبدیلی کیڑے نے پھر “یوٹرونا وائرس ” پھیلانا شروع کیا۔اس وائرس میں مبتلا لوگ ناکامی اور ذلت سے گھبرا کر شرمندہ ہونے کی بجائے یوٹرن لیتے اور اس پر پھر ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔یوٹرونا وائرس کا شکار لوگ جتنا ذیادہ یوٹرن لیں اتنا ہی انکی صحت کے لئے بہتر رہتا ہے۔یوٹرونا وائرس در حقیقت جھوٹے اور مکار لوگوں کی عزت بچانے میں کافی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
پھر تبدیلی کیڑے نے “غیرتونا وائرس ” پھیلانا شروع کیا۔یہ وائرس لوگوں کی غیرت کو رات و رات نگل جاتا ہے۔اور پھر غیرتونا وائرس کا شکار لوگ ہر صورت میں تبدیلی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور غیرتونا وائرس در حقیقت   تبدیلی کیڑے کی بقا کے لئے بھی انتہائی ضروری تھا۔ورنہ سائنسدانوں کا ماننا ہے کے غیرت مند لوگوں کی قوت مدافعت اتنی ذیادہ تھی کے ممکن تھا تبدیلی کیڑے کو تباہ کر دیتی لہذا  تبدیلی کیڑے نے  غیرتونا وائرس پھیلا کر اپنی جان بچا لی۔
“ڈالرونا وائرس” تبدیلی کیڑے  نے اس حد تک پھیلا دیا کے اب کسی کو ڈالر کی بڑھتی قیمتیں کبھی نظر نہیں آئیں گی لہذا تبدیلی کے خواہش مند مکمل مطمئن زندگی گزار سکے گے۔اور ڈالر کی اونچی پرواز دیکھنے سے قاصر رہیں گے۔
“کشکولونا وائرس” کا حملہ سب سے ذیادہ تبدیلی کیڑے پیدا کرنے والے پر ہوا ۔لہذا جگہ جگہ  جائز کشکول  اٹھائے پھرتے آپ کو  بہت سے لوگ نظر آتے ہیں جو بیرون ملک جب کشکول لے کر گئے تو کشکولونا وائرس کے خطرناک اثرات سے ڈر کر دوسرے ممالک نے  کشکول کو ہاتھ تک نہ لگایا اور ان کو خالی ہاتھ واپس بھیج دیا۔ یہاں غیرتونا اور بوٹونا وائرس کی شدت میں پھر اضافہ ہوتا دیکھا گیا۔
تبدیلی کیڑے نے “چھوڑونا وائرس” کا ایسا حملہ کیا کے ہر کوئی بڑی بڑی چھوڑتا نظر آتا ہے۔اس وائرس کا شکار لوگ خوابوں کی دنیا میں رہتے ہیں لمبی لمبی بھڑکیں مارتے ہیں اور دوسروں کو ذبردستی ان چھوڑی باتوں پر یقین کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
اب نئے پاکستان میں تبدیلی کیڑے نے “حورونا وائرس” کا حملہ کیا ہے۔اس کا شکار لوگ ہر جگہ حور دیکھتے ہیں اور ان کو ہر چیز مثبت  نظر آتی ہے۔۔یہ وائرس کہا جاتا ہے ایک عدد انجیکشن سے پھیلتا ہے۔وہی انجیکشن جو گلی محلے,کوڑے کے ڈھیڑ ,نہر کنارے بیٹھے لوگ اکثر ایک دوسرے کو یا خود ہی اپنے آپ کو لگاتے نظر آتے ہیں۔حورونا وائرس کے شکار لوگ معشیت کی  تباہی,ملک کی بدترین صورتحال, غربت سے مرتے لوگ, عوام پر بے جا ٹیکس کا بوجھ  اور ہر طرح سے برباد ہوتے ملک  کی وجوہات دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ان کو بڑھتے ڈالر,بڑھتی مہنگائی,بند کاروبار,ملک کی بربادی  ہر چیز میں صرف حوریں نظر آتی ہیں۔اور ان حوروں کے سر سے ملک قربان کرنے کو بھی تیار ہیں۔سائنسدانوں کا ماننا ہے حورونا وائرس کا شکار لوگ کسی کرسی پر جم کر اس وقت تک بیٹھ جاتے ہیں جب تک باقی لوگ قبر کے سکون میں نہیں پہنچ جاتے۔
پاکستان  میں بہت سے وائرسسز اس تبدیلی کیڑے نے پھیلا دیئے ہیں۔جن میں سے کچھ کا ذکر میں نے کر لیا ہے۔باقی کا ذکر آپ سب کر دیں کیونکہ آپ کی سوچ آپ کا وائرس ۔اور دعا کریں پاکستان میں تبدیلی کا کیڑا جلد از جلد ختم ہو جائے تا کہ ہم اس طرح کے وائرسسز کے جال سے نکل جائیں۔اور ہم ایک صحت مند معاشرے میں سانس لے سکیں۔۔
SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *