• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے؟۔۔صاحبزادہ محمد امانت رسول

کیا پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے؟۔۔صاحبزادہ محمد امانت رسول

میاں طفیل محمد مرحوم (سابق امیر جماعت اسلامی) نے “جماعتِ اسلامی کی دستوری جدو جہد” کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی ہے۔ اس کتاب کا پہلا باب “پاکستان کو ایک مذہبی ریاست ہونا چاہیے” کہ عنوان سے ہے۔

اس باب کا آغاز ایک مباحثہ سے ہے۔ یہ مباحثہ 18 مئی 1948 کو ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر ہوا تھا۔ سوال کرنے والے جناب وجیہہ الدین ہیں۔ اور جواب دینے والے جناب مولانا مودودی ہیں۔

tripako tours pakistan

وجیہہ الدین نے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کی Relevance آج بھی موجود ہے، لیکن مولانا مودودی کے جوابات دور حاضر سے غیر متعلق بلکہ 72 سال بعد ان کی جماعت ان نظریات اور ان نظریات کی عملیت میں ناکام ترین صورتحال سے دوچار ہے۔ مثلاً سوال بلکہ “اندیشہ” یہ ہے “آپ نے مذہبی ریاست کا جو مفہوم بیان فرمایا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ریاست کا سیاسی اقتدار ماہرین دینیات کے ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس طبقہ کا کام یہ ہوگا کہ وہ سیاسی اور انتظامی امور کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر سے تحقیق و تفتیش کریں۔ ریاستی قوانین وضع کریں اور شرعی احکامات کی بنا پر ہر سیاسی گتھی سلجھائے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طبقہ کے پشت پناہ کون لوگ ہوں گے؟ وجیہہ الدین مولانا مودودی کے جواب میں کہتے ہیں “میری ناچیز رائے میں سیاسی نظام کے مرتب کرنے میں صرف خلوص اور ایمانداری سے کام نہیں چل سکتا۔ ہمارے سامنے اس وقت بہت سے پیچیدہ سیاسی اور معاشی مسائل ہیں۔ جن پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے”۔

آگے جاکر کہتے ہیں “ریاست کی تعمیر کے لئے فقیہانہ تحقیق و تجسس اور مذہبی کتب کی چھان بین کے بجائے سیاسی تجزیہ اور تاریخی شعور کی ضرورت ہے”۔

وجیہہ الدین کہتے ہیں “ریاستی نظام بجائے خود کسی فلسفے یا مذہب کا حامل نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسا بنانے کی کوشش کی جائے تو وہ ایک مصنوعی اور عارضی کوشش ہوگی۔ قدیم یونان کی شہری ریاست افلاطون کے تخیل کی پیداوار نہیں تھی، بلکہ اس فکر اور فلسفہ زندگی کی پیداوار تھی جو یونان کے باشندوں میں مشترک تھا۔ اسی طرح اگر ہم اسلامی ریاست کی تعمیر چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ پاکستان کے باشندوں میں صحیح اسلامی سپرٹ پیدا کریں۔ اور انہیں دین کی اصلی اقدار سے روشناس کروائیں۔ جب یہ اقتدار مضبوط ہو جائیں گی اور ہمارے قومی کریکٹر میں اسلامی تصورات پوری طرح سرایت کر جائیں گے۔ اس وقت ہمارا سیاسی نظام خود بخود اسلامی رنگ اختیار کر لے گا۔ ہم اس وقت تک اسلامی ریاست کی داغ بیل نہیں ڈال سکتے جب تک ہماری روحانی شخصیات اور سماجی زندگی میں اسلامی روایات پوری تابندگی سے جلوہ گر نہ ہوں۔ اسلامی ریاست کو قائم کرنے کی تمام کوششیں پیش از وقت ہیں۔ ہماری بنیادیں ابھی اتنی استوار نہیں ہیں کہ ہم ان پر ایک عمارت کھڑی کر سکیں”۔۔

لیکن مولانا مودودی کا اس کے جواب میں یہی اصرار تھا “آپ کا یہ ارشاد بھی بالکل درست ہے کہ اگر ہم پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے باشندوں میں اسلامی شعور اور اسلامی ذہنیت اور اسلامی اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مگر میں نہیں سمجھا کہ اس کوشش میں حصہ لینے سے آپ خود ریاست کو کیوں مستثنیٰ  رکھنا چاہتے ہیں”۔

مولانا کی فکر میں اقامتِ دین کے لئے بھی سیاسی اقتدار ضروری ہے۔ اسی طرح ذہنی اور اخلاقی انقلاب کے لیے ریاست کے وسیع ذرائع اور وسائل کا استعمال بھی ایک ذریعہ خیال کرتے تھے۔ گویا وہ یہ خیال کرتے تھے کہ اگر ہم ریاست کو مذہبی بنالیں تو اسلامی قوانین کے نفاذ کے ذریعے معاشرہ بھی اسلامی بن جائے گا۔ اس طرح مسلمان اعلیٰ  اخلاق و کردار کا نمونہ بن جائیں گے۔

73 سال بعد،اگر ہم غیرجانبدارانہ تجزیہ کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وجیہہ الدین (میں انہیں نہیں جانتا) نے جو کہا وہ ایک درست سمت تھی۔ جس طرف نوزائیدہ مملکت کو لے جانے کی ضرورت تھی۔ آج جب کہ قرارداد مقاصد سے لے کر آئین پاکستان ،آئینِ پاکستان سے قانون ساز اسمبلیوں کی اسلامائزیشن، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، صوبائی اسمبلیوں میں پاس ہونے والی قراردادیں۔۔۔ سب کچھ اسلامی ہو چکا ہے۔ لیکن پاکستان میں رہنے والے عوام، اسمبلیوں میں بیٹھنے والے نمائندے، عدالتوں میں براجمان منصفین، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں اسلام کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ آج 73 سال گزرنے کے بعد بھی ہمارے ہاں اسلامی نظام کے نفاذ کی کوششیں جاری ہیں۔ 99 فیصد مسلمانوں کے ملک میں اسلام غیر محفوظ ہے۔صرف اسلام ہی نہیں بلکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قانونِ ختم نبوت میں تبدیلی کے الزامات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ یہ سب کچھ اس ریاست میں ہورہا ہے جو اول روز سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکی ہے۔

صاحبزادہ امانت رسول
صاحبزادہ امانت رسول
مصنف،کالم نگار، مدیراعلیٰ ماہنامہ روحِ بلند ، سربراہ ادارہ فکرِ جدید