عصری اور دینی اداروں کا تقابلی جائزہ(قسط 1)۔۔محمد احمد

انسانوں کے بنائے ہوئے نظام میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں م، خامیاں بھی، اداروں میں باصلاحيت اور باکردار لوگ بھی ہوتے ہیں ، نااہل اور ناکارہ بھی، جب بھی کسی چیز کے مابین تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے تو مجموعی صورتحال کو سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کہاں معیاری اور بہترین نظام موجود ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ عصری اور دینی تعلیم کی تفریق بھی بعد کی پیدا کردہ ہے، ورنہ پہلے مسلمانوں کا نظام تعلیم یکساں اور ایک تھا،جامعۃ القروین مراکش، جامعہ زیتونیہ اندلس، جامعۃ الازہر مصر شامل ہیں۔ جہاں کے فضلاء بنیادی دینی تعلیم سے بہرہ ور تھے، ان کے لباس، حلیہ، طرز کلام، طرز زندگی اور ثقافت میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ابن رشد، ابن خلدون،ابو ریحان البیرونی، ابن عربی اور قاضی عیاض وغیرہ ان میں بعض یا تو ان درسگاہوں کے فاضل ، یا استاد کے منصب پر فائز تھے۔ جہاں تفسیر، حدیث اور فقہ کے ساتھ ریاضی، طب اور فلکیات ساتھ پڑھائے جاتے تھے۔ برصغیر میں نظام تعلیم میں تفریق انگریز سرکار اور لارڈ میکالے کا شاخسانہ ہے۔

پاکستان بننے کے بعد بزرگوں نے یہ کوشش کی کہ  بنیادی نظام ایک ہو، اس کے بعد ہر ایک کو اختیار ہونا چاہیے کہ جو بندہ اپنی مرضی کے مطابق جس شعبہ کا انتخاب کرلے۔

تیسری بات کوئی بھی کسی سے کم مسلمان نہیں، کسی کے ایمان پر شک کرنے کی گنجائش نہیں، جس بندے نے کلمہ طیبہ پڑھ رکھا ہے وہ مسلمان ہے اب کسی ہما شما کو اختیار نہیں کہ وہ سرٹیفکیٹ بانٹیں کہ مدرسے والے زیادہ مسلمان اور کالج  یونیورسٹی والے کم مسلمان ہیں۔

چوتھی بات ہر شعبہ زندگی کے متعلق علم وفن کو سیکھنا کچھ افراد کے لیے فرض کفایہ کے درجہ میں ہے، مثلاً، طب، کھانا پکانا، انجینئرنگ سمیت دیگر فنون اگر کوئی بھی نہیں سیکھے گا تو سب گناہ گار ہونگے۔

پانچویں بات کہ درس نظامی پڑھنا ہر ایک مسلمان کے لیے فرض عین نہیں، بلکہ بنیادی علم یعنی  روزہ مرہ کی زندگی میں پیش آنے والے احکام اور متعلقہ شعبہ کے مسائل جاننا اور سیکھنا فرض ہے۔ ضابطے کا کورس کرنا کسی بستی اور شہر والوں کے لیے فرض کفایہ ہے، دوسروں کے لیے استحباب کے درجہ میں ہے۔

ان تمہیدی باتوں کے بعد ہمیں تقابلی جائزہ پیش کرنے میں آسانی رہے گی، کسی کو کوئی غلط فہمی بھی نہیں ہوگی۔ مدارس کا قیام اور یہ ایک خاص نصاب ونظام ایک ضرورت کے تحت وجود میں لایا گیا تھا کہ مسلمانوں کو اپنے دین اور دینی اقدار کو خطرات لاحق تھے، کچھ سامراجی قوتیں لادینی معاشرے کی تشکیل کی خواہاں تھیں ،تو اُمتِ مسلمہ کے غمخواروں اور ہمدردوں نے نیک جذبات کے تحت یہ نظام وجود میں لایا جہاں دینی علوم کی حفاظت کے ساتھ مسلمانوں کی  رہنمائی کی جاسکے، ورنہ یہ اصل فریضہ حکمرانوں کا ہے کہ وہ رعایا کے لیے تعلیم کا انتظام کریں، جب انہوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی تو کچھ درویشوں نے اپنی مدد آپ کے تحت بیڑا اٹھایا۔ پاکستان میں مدارس کے مقابلے میں  سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تعداد زیادہ ہے، اس کے باوجود ملک بھر میں جہالت کی شرح کچھ کم نہیں،ان سرکاری، نیم سرکاری اور پرائیویٹ اداروں پر اربوں روپے سالانہ بجٹ خرچ ہوتے ہیں،دوسری طرف مدارس کا بجٹ سرکار کے مقابلے میں عشر عشیر بھی نہیں۔

آخری بات کہ یہ موجودہ نظام تعلیم جس میں مُلا اور مسٹر کی تفریق موجود ہے یہ ہمارا آئیڈیل نظام تعلیم نہیں بلکہ ہم اس  نظامِ تعلیم کے خواہاں ہیں جو مسلمانوں کی دینی اور دنیاوی ضرورتوں کو پورا کرتا ہو اور بنیادی دینی علوم یکساں طور پر سب حاصل کریں، باقی ضابطے کا کورس سب کے لیے لازمی نہ ہو، بلکہ ضرورت کے تحت ہر شعبے میں قابل اور باصلاحيت افراد بھیجے جائیں۔

جاری ہے