وفا جن کی وراثت ہو (باب دوئم ,قسط 4)۔۔سید شازل شاہ گیلانی

اگلے دن تمام ٹیم ممبرز کانفرنس روم میں اکٹھے تھے اور سی او سر انہیں ان کے مشن کے حوالے سے بریف کر رہے تھے ۔
بِسمِ اللّہ الرَحمٰنِ الرَحِیم!
جوانو! جیسا کہ تم  سب جانتے ہو ہم لوگ ہر کام میں پیش پیش رہے ہیں اور خاص طور پر شارپ شوٹرز مشنز میں ہمیں سرِفہرست رکھا جاتا ہے, جہاں یہ چیز ہم پر ہماری ہائی  کمانڈ کے بھروسے کو ظاہر کرتی ہے وہیں یہ اس چیز کی بھی متقاضی ہے کہ ہم گزشتہ مشنز کی طرح اپنا فرض مکمل ذمہ داری  سے سر انجام دیں ۔ ایک سولجر کی زندگی بہت قیمتی ہوتی ہے مگر یہ وطن اور اس میں امن و امان بنائے رکھنا ہماری زندگیوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے کیونکہ یہ وطن ہے تو ہم ہیں۔ اس میں بدامنی ہوگی تو ہمارے ہونے کا کوئی  فائدہ نہیں ہے۔

بلوچستان کے حالات کافی عرصے سے بدامنی کی طرف جا رہے ہیں, خاص طور پر پنجگور کا علاقہ دہشت گردوں کا گڑھ بن چکا ہے, آپ سب لوگ مختلف ایریاز میں مشنز کر چکے ہو اس لیے یہ علاقہ اتنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا ۔ باقی علاقوں اور پنجگور میں صرف ایک فرق ملے گا ،وہ ہے پہاڑی سلسلوں کا, دیگر علاقوں کی نسبت یہاں کے خشک اور چٹیل میدان مشکل پیدا کر سکتے ہیں, ہمیشہ کی طرح یہاں بھی ہمارا واسطہ ان بزدلوں سے پڑے گا، جو پیٹھ پیچھے وار کے عادی ہیں۔ مشکلات بہت ہیں, Hide & Seek نہیں ہوگا, موسم کی شدت اثر انداز ہوگی, بھوک اور پیاس کا غلبہ ہوگا غرضیکہ یہ سمجھ لیں کہ دشمن کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول بھی تم لوگوں کے خلاف ہوگا۔

ان تمام چیلنجز سے کیسے نمٹنا ہے میرے خیال میں تم سب یہ بہت اچھے طریقے سے جانتے ہو ۔ تم سب اپنے تمام مشنز نہایت کامیابی سے سر انجام دے کر آئے ہو اور مجھے پورا یقین ہے کہ اس علاقے میں بھی تم اپنی ہائی  کمانڈ کو مایوس نہیں کرو گے۔ ” ان شاء اللہ سر ” ٹیم ممبرز کی آواز گونجی۔

نقشے پہ اس علاقے کو اچھی طرح سٹڈی کر لو اور ایک ایک چیز ذہن نشیں کر لو، کہ کہاں پہ ایسی کیا چیز ہے جو کل تم لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ غیر ضروری سامان لیجانے سے گریز کرنا ہوگا ،تاکہ تمہاری نقل و حرکت میں کوئی  مسئلہ نہ بنے۔ اپنی اور اپنے کولیگز کی  مدد کی ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی, ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا اور خیال رکھنا ہوگا, زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے بے شک شہادت ہمارا نصب العین ہے مگر زندگی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے اس کا خیال رکھنا تم سب کی ذمہ داری ہے۔ ایک دو دن ہیں ابھی  تم لوگوں کے پاس, تمام چیزیں اچھی طرح ڈسکس کر لو۔ ہر بات مکمل طریقے سے سمجھ لو۔ کوئی  مسئلہ ہو یا کسی بھی چیز کی ضرورت ہو جو تم سمجھتے ہو کہ وہ تمہارے کام آ سکتی ہے مجھے بتاؤ میں وہ فراہم کر دونگا۔ اللہ تعالی تم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔ پاکستان زندہ آباد کے نعرے سے کانفرنس روم گونج اٹھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد پوری ٹیم پنجگور میں موجود تھی۔ یار علاقہ واقعی عجیب سا ہے دور دور تک پانی کا نام و نشان نہیں ہے ،کوئی  سبزہ نہیں ہے , اسے کھجوروں کا شہر بھی کہتے ہیں، یہاں اگر تم لوگوں کو کوئی  چیز وافر مقدار میں ملے گی تو وہ کجھور ہے اور دوسرا بی ایل اے والے۔

” سر اب یہاں آ تو گئے ہیں اب آگے کیا کرنا ہے ” ؟ آج تو ریسٹ کرو ،میں صبح ایف سی کمانڈنٹ سے مل کر حالات کا جائزہ لیتا ہوں، کیونکہ ہم یہاں ان کی مدد کے لیے آئے ہیں ۔ بہت قربانیاں دی ہیں انہوں نے مگر بی ایل والے اب انکے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں ۔ تم میں سے کوئی  بھی ریسٹ ہاؤس سے باہر نہیں جائے گا اور نہ ہی یہاں کسی کو اپنا تعارف کروائے گا کہ ہم لوگ کون ہیں, کس مقصد کے لیے آئے ہیں۔

ضرورت کا تمام سامان تم سب کے پاس موجود ہے پھر بھی کسی چیز کی ضرورت  پڑتی  ہے تو احمد کو بتا دینا ہم منگوا لیں گے۔ ہماری موجودگی کی اطلاع یہاں صرف ایف سی آفیشلز کو ہے اسکے  علاوہ  ریسٹ ہاؤس پہ موجود ایف سی گارڈز کو بھی علم نہیں ہے اور میں امید کرتا ہوں جب تک ہم یہاں پر موجود ہیں ان کو علم ہوگا بھی نہیں۔ باہر جاتے وقت کوئی  بھی جونیئر کسی سینئر کو سر کہہ کر مخاطب نہیں کرے گا اور نہ  ہی آپس میں کسی قسم کی آفیشل بات چیت ہوگی ۔ زین حفاظتی نقطہ نظر سے ٹیم کو ہدایات جاری کررہا تھا۔

صبح سویرے دو تین گاڑیاں ریسٹ ہاؤس میں داخل ہوئیں۔ سول کپڑوں میں ملبوس ایک آدمی باہر نکلا اور زین کے کمرے کی طرف بڑھا ۔ باہر کھڑے ٹیم ممبر نے اس سے اس کا تعارف پوچھا۔
بھائی  کیپٹن زین سے کہیں کہ ایف سی کمانڈنٹ کا اے ڈی سی آپکو لینے آیا ہے وہ اپنے آفس میں ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ ” ٹھیک ہے میں بتادیتا ہوں ”
سر باہر گاڑیاں آئی  ہیں آپ کو لینے۔ ٹھیک ہے میں آ رہا ہوں۔ زین اٹھا اور ان کے ساتھ چل دیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ ایف سی کمانڈنٹ کے سامنے بیٹھا تھا۔
السلام علیکم سر کیسے ہیں آپ ؟ اس نے کمانڈنٹ صاحب سے خیریت دریافت کی۔ ” اللہ کا شکر ہے آپ لوگ بتاؤ خیریت سے پہنچ گئے، کوئی  مسئلہ تو نہیں ہوا ” نہیں سر، سب خیریت ہے۔ زین جیسا کہ  تمہیں بریف کر دیا گیا ہوگا یہاں کے حالات کیسے ہیں۔ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ سرمچاری کمانڈر  ہیں۔ ہر کمانڈر کے زیرِ کمان سو ( 100 ) سے دو سو ( 200 ) لوگ کام کرتے ہیں۔ تمام کمانڈرز آپس میں وائرلیس کمیونیکیشن رکھتے ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں چار پانچ ٹارگٹ انگیج کرنا ان کے لیے کوئi  مسئلہ نہیں ہے۔

ہماری پوسٹوں اور کانوائے کو نشانہ بنانا ان کا وطیرہ بن چکا ہے اس کے علاوہ یہ لوگ جوانوں کو اغواء کرنے کے واقعات میں بھی ملوث ہیں۔ اپنے جوانوں کی زندگی کے عوض ہمیں انکی شرائط ماننا پڑتی ہیں۔ دن بدن انکی کاروائیوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے جو بہت اہم مسئلہ بن رہا ہے۔ ہمارا  مین  ٹارگٹ اب ان کو گھیر کر ختم کرنا ہے جس کے لیے آپ لوگوں کو یہاں پر بلایا گیا ہے۔ علاقے کی ریکی کر لو اچھی طرح اور اپنے اپنے ٹارگٹ سلیکٹ کر لو۔ فورس کی کمی نہیں ہے ہمارے پاس جتنی چاہیے ہوگی مل جائے گی۔ اس کے علاوہ ہر قسمی ہتھیار بھی موجود ہیں جو چاہیے ہوا بتا دینا، آپ لوگوں کے پاس پہنچا دیا جائے گا۔

سر فرسٹ آف آل میں آپکا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ہمیں اس ملک کی خدمت کا ایک اور موقع  دیا۔ پہلے ہم لوگ ریکی کریں گے اور اپنے ٹارگٹ پوائنٹ منتخب کریں گے تاکہ کام کرنے میں آسانی ہو۔ الحمداللہ ہم اپنی ضرورت کا تمام سامان ساتھ لیکر چلتے ہیں اس لیے امید ہے کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑے گی،پھر بھی کچھ چاہیے ہوگا تو ضرور بتائیں گے آپ کو۔ رہی آپکی فورس کی بات تو ہم کافی ہیں ،کیونکہ ہم اپنے طریقے سے کام کرنے کے عادی ہیں اور میں نہیں چاہوں گا کہ بلاوجہ آپ لوگوں کا نقصان ہو۔
” چلو جیسے آپ کو مناسب لگے آپ ویسا کریں کمانڈرز کی تمام تفصیلات آپکو فراہم کر دی جائیں گی تاکہ آسانی رہے ۔ ناشتہ منگواتا ہوں میرے ساتھ کر کے جانا ”

نہیں سر بہت شکریہ میں اب چلوں گا۔ لڑکے انتظار کر رہے ہونگے ۔ ہم آج ہی ریکی پہ نکلیں گے اب وقت ضائع کرنے کا کوئی  سوال پیدا نہیں ہوتا۔ Ok Best Of Luck Young Man۔

سر! کیسی رہی میٹنگ ؟ احمد نے سوال کیا۔ یار ایسا کرو سب سے کہو جلدی ناشتہ کر لیں پھر نکلنا ہے ہم نے۔ ” کہاں جا رہے ہیں سر ؟ ریکی کے لیے جانا ہے یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا ہم سوچ رہے تھے ۔ باقی جب تم لوگ ایریا دیکھ لو گے تو اندازہ ہو جائے گا

چند لمحوں بعد وہ ریکی ایریا کی طرف چل دئیے۔ بے آب و گیاہ پہاڑ ان کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھے۔ ” سر یہ تو بالکل ہی اوپن ایریا ہے کیسے ہوگا سب کچھ “؟۔ ایک شارپ شوٹر کا یہی امتحان ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات میان خود کو ڈھال لے۔ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔ اس علاقے کی مناسبت سے تلبیس اور چھپاؤ کا انتظام کرنا پڑے گا۔

یہ وہ راستہ ہے جہاں سے کانوائے گزرے گا۔ ہم لوگ پانچ پوائنٹ سلیکٹ کریں گے جہاں شوٹرز موجود ہونگے ۔ وہ سامنے جو موڑ نظر آ رہا ہے امید ہے کہ یہیں سے حملے کا آغاز ہوگا کیونکہ موڑ کی وجہ سے گاڑیاں آہستہ ہونگی تو ان کے لیے یہ بہت آسان ٹارگٹ ہوگا۔

دھیان رہے انکے پاس بھی شارپ شوٹرز موجود ہیں۔ ہم لوگ انکی نظروں میں آئے بناء ان کو نشانہ بنائیں گے۔ یہ ساری کاروائی  دن کے اجالے میں ہوگی اس لیے چُھپاؤ جتنا بہترین ہوگا ہماری کامیابی کے چانسز اتنے ہی زیادہ ہونگے۔ سب سے پہلے ایک ٹیم انکے شارپ شوٹرز کو تلاش کرے گی کہ انکی پوزیشن کیا ہے۔ ایک ٹیم آر پی جی اور 12۔7 ایم ایم فائررز کو نشانہ بنائے گی۔ ان لوگوں کی کوشش ہوگی کہ دور مار ہتھیاروں سے ہی کانوائے کو نشانہ بنائیں, بہت کم چانسز ہیں کہ وہ چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال کریں مگر ہم نے اس گروپ کو ختم کرنا ہے تاکہ اسے کے بعد وسیع پیمانے پہ آپریشن شروع کیا جا سکے۔

احمد تم اپنے گروپ کے ساتھ ایف سی فورٹ میں موجود رہو گے وہاں سے ہیلی کاپٹر ملے گا تمہیں, جیسے ہی ہمیں لگا کہ یہ لوگ پسپا ہو رہے ہیں میں تمہیں بتا دونگا کہ اب تم نے کیا کرنا ہے۔ زین نے ٹیم کو اپنے پلان سے آگاہ کیا۔

کسی کا کوئی  سوال ہو تو پوچھ سکتا ہے ۔ ” نو سر کوئی  سوال نہیں ہے ان شاء اللہ نمٹ لیں گے” ۔ اوکے گڈ ،چلیں اب تمام لوگ اپنی اپنی لوکیشن چیک کر لیں کہ کون کہاں پہ ہوگا۔۔
جاری ہے۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

سید شازل شاہ گیلانی
سید شازل شاہ گیلانی
پاسبان وطن سے تعلق , وطن سے محبت کا جذبہ اور شہادت کی تڑپ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *