منگیتر کے نام ۔۔۔۔شفیق الرحمن

SHOPPING

جناب بھائی صاحب!

آپ کا خط ملا۔ میں آپ کو ہر گز خط نہ لکھتی لیکن پھر خیال آیا کہ آپ کی بہن میری سہیلی ہیں اور کہیں وہ برا نہ مان جائیں۔ وہم و گمان میں بھی نہ آ سکتا تھا کہ کبھی کسی غیر مرد کو خط بھیجوں گی۔

امید کرتی ہوں کہ آئندہ لکھتے وقت اس بات کا خیال رکھیں گے کہ آپ ایک شریف گھرانے کی ایشیائی لڑکی سے مخاطب ہیں۔ احتیاطاً تحریر ہے کہ میرا آپ کو خط لکھنا اس امر کا شاہد ہے کہ ہم لوگ کس قدر وسیع خیالات کے ہیں۔

مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ رشیدہ اور حمیدہ کو جانتے ہیں۔ کلثوم اور رفعت سے بھی واقفیت رہ چکی ہے۔ ثریا اور اختر کو خط لکھا کرتے تھے۔ آپ کو کلب میں‌ناچتے بھی دیکھا گیا ہے اور ایک شام کو آپ چمکیلی سی پیلے رنگ کی چیز چھوٹے سے گلاس میں پی رہے تھے اور خوب قہقہے لگا رہے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم ماڈرن نہیں ہیں۔ ہمیں یہ ہوا نہیں لگی۔ نہ اس روش پر چلنے کا ارادہ ہے۔ ہمارے ہاں جہاں مذہب، شرافت اور خاندانی روایات کا خیال ملحوظ ہے وہاں اعلیٰ تربیت اور بلند خیالی بھی ہے۔

میں بی اے (آنرز) میں پڑھتی ہوں۔ شام کو مولوی صاحب بھی پڑھانے آتے ہیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ آپ نے مجھے تانگے میں کالج سے نکلتے دیکھا تھا اور میں نے برقعے کا نقاب الٹ رکھا تھا۔ آپ نے کسی اور کو دیکھ لیا ہو گا۔ اول تو میں ہمیشہ کالج کار میں جاتی ہوں، دوسرے یہ کہ میں نقاب نہیں الٹا کرتی۔ ہمیشہ برقعہ میرے ہاتھوں میں کتابوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔

جی ہاں مجھے ٹھوس مطالعے کا شوق ہے۔ ابا جان کی لائبریری میں فرائیڈ، مارکس، گراؤ چو مارکس، ڈکنز، آگاتھا کرسٹی، پیٹر چینی، تھورن سمتھ اور دیگر مشہور مفکروں کی کتابیں موجود ہیں۔میں نے سائیکا لوجی پڑھنا شروع کی تو یوں معلوم ہوتا تھا جیسے یہ سب کچھ تو مجھے پہلے سے معلوم ہے۔ فلاسفی پڑھی تو محسوس ہوا جیسے یہ سب درست ہے۔ سوشل سائنس پڑھی تو لگا کہ واقعی یونہی ہونا چاہئے تھا۔ آخر ہمیں ایک نہ ایک روز تو جدید تہذیب کے دائرے میں آنا تھا۔ زمانے کو بیسویں صدی تک بھی تو پہنچنا ہی تھا۔ میرے خیال میں میں کافی مطالعہ کر چکی ہوں۔ چنانچہ آج کل زیادہ نہیں پڑھتی۔

آپ نے پوچھا ہے کہ موجودہ ادیبوں میں سے مجھے کون پسند ہیں۔ سو ڈپٹی نذیر احمد، مولانا راشد الخیری اور پنڈت رتن ناتھ سرشار میرے محبوب مصنفین ہیں۔ شاعروں میں نظیر اکبر آبادی مرغوب ہیں۔ خواتین میں ایک صاحبہ بہت پسند ہیں۔ انہوں نے صرف دو ناول لکھے ہیں جن میں جدید اور قدیم زیورات و پارچہ جات، بیاہ شادی کی ساری رسوم اور طرح طرح کے کھانوں کے ذکر کو اس خوبصورتی سے سمو دیا ہے کہ یہ پتہ چلانا مشکل ہے کہ ناول کہاں ہے اور یہ چیزیں کہاں؟

ایک اور خاتون ہیں، جو باوجود ماڈرن ہونے کے ترقی پسند نہیں ہیں۔ ان کے افسانے، ان کی امنگیں، ان کی دنیا، سب کچھ صرف اپنے گھر کی فضا اور اپنے خاوند تک محدود ہے۔ مبارک ہیں ایسی ہستیاں۔ ان کی تصویریں دیکھ دیکھ کر ان سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا۔ پھر پتہ چلا کہ ان کا رنگ مشکی ہے اور عینک لگاتی ہیں۔

آپ کی جن کزن کا کہنا ہے کہ انہوں نے مجھے کلب میں دیکھا تھا ذرا ان سے پوچھیے کہ وہ خود وہاں کیا کر رہی تھیں۔

یہ جن حمید صاحب کا آپ نے ذکر کیا ہے، وہی تو نہیں جو گورے سے ہیں۔ جن کے بال گھنگھریالے ہیں اور داہنے ابرو پر چھوٹا سا تل ہے۔ گاتے اچھا ہیں۔ روٹھتے بہت جلد ہیں۔ جی نہیں۔ میں انہیں نہیں جانتی۔ نہ کبھی ان سے ملی ہوں۔

میری حقیر رائے میں آپ نے آرٹس پڑھ کر بڑا وقت ضائع کیا ہے۔ آپ کی بہن نے لکھا ہے کہ اب آپ کا ارادہ بزنس کرنے کا ہے۔ اگر یہی ارادہ تھا تو پھر پڑھنے کی کیا ضرورت تھی۔ عمر میں گنجائش ہو تو ضرور کسی مقابلے کے امتحان میں بیٹھ جائیے اور ملازمت کی کوشش کیجئے کیونکہ ملازمت ہر صورت میں بہتر ہے۔ اس کے بغیر نہ پوزیشن ہے نہ مستقبل۔ یہاں ڈپٹی کمشنر کی بیوی ساری زنانہ انجمنوں کی سیکرٹری ہیں اور تقریباً ہر زنانہ جلسے کی صدارت وہی کرتی ہیں۔ دوسرا فائدہ ملازمت کا یہ ہے کہ انگلستان یا امریکہ جانے کے بڑے موقعے ملتے ہیں۔ مجھے دونوں ملک دیکھنے کا ازحد شوق ہے۔

آپ نے موسیقی کا ذکر کیا ہے اور مختلف راگ راگنیوں کے متعلق میری رائے پوچھی ہے۔ جی ہاں مجھے تھوڑا بہت شوق ہے۔ جے جے ونتی سے آپ کو زیادہ دلچسپی نہیں۔ آپ کو تعجب ہو گا کہ جب دلی سے بٹھنڈہ آتے وقت میں نے جے جے ونتی سٹیشن دیکھا تو مجھے بھی پسند نہیں آیا۔ میاں کی ملہار سے آپ کی مراد غالباً خاوند کی ملہار ہے۔ جی نہیں میں نے یہ نہیں سنی۔ ویسے ایک خاندان کے افراد بھی میاں کہلاتے ہیں۔ شاید یہ ان کی ملہار ہو۔ آپ کا فرمان ہے کہ ٹو ڈی صبح کی چیز ہے لیکن میں نے لوگوں کو صبح شام ہر وقت” ٹو ڈی بچہ ہائے ہائے” کے نعرے لگاتے سنا ہے۔

بھوپالی کے متعلق میں زیادہ عرض نہیں کر سکتی، کیونکہ مجھے بھوپال جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ البتہ جوگ اور بہاگ کے بارے میں اتنا جانتی ہوں کہ جب یہ ملتے ہیں تو سوزِ عشق جاگ اٹھتا ہے (ملاحظہ ہو وہ گرامو فون ریکارڈ “جاگ سوزِ عشق جاگ)

جی ہاں مجھے فنونِ لطیفہ سے بھی دلچسپی ہے۔ مصوری، بت تراشی، موسیقی، فوٹوگرافی اور کروشیے کی بہت سی کتابیں ابا جان کی لائبریری میں رکھی ہیں۔ میں اچھی فلمیں کبھی نہیں چھوڑتی۔ ریڈیو پر اچھا موسیقی کا پروگرام ہو تو ضرور سنتی ہو، خصوصاً دوپہر کے کھانے پر۔

سیاست پر جو کچھ آپ کے لکھا ہے اس کے متعلق اپنی رائے اگلے خط میں لکھوں گی۔

آپ کی بہن مجھ سے خفا ہے اور خط نہیں لکھتی۔ شکایت تو الٹی مجھے ان سے ہونی چاہئے۔ انہوں نے رفی کو وہ بات بتا دی جو میں نے انہیں بتائی تھی کہ اسے نہ بتانا۔ خیر بتانے میں تو اتنا حرج نہ تھا لیکن میں نے ان سے تاکیداً کہا تھا کہ اس سے نہ کہنا کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ اس سے نہ کہنا۔

پتہ نہیں یہ کزن والی کون سی بات ہے جس پر انہوں نے مجھ سے قسم لی تھی کہ رفی تک نہ پہنچے۔ مجھے تو یاد نہیں۔ ویسے میری عادت نہیں کہ دانستہ طور پر کوئی بات کسی اور کو بتاؤں۔ اگر بھولے میں منہ سے نکل جائے تو اور بات ہے۔

خط گھر کے بجائے کالج کے پتے پر بھیجا کیجئے اور اپنے نام کی جگہ کوئی فرضی نام لکھا کیجئے تاکہ یوں معلوم ہو جیسے کوئی سہیلی مجھے خط لکھ رہی ہے۔

باقی سب خیریت ہے۔

فقط

آپ کی بہن کی سہیلی

SHOPPING

( اور اس خط کا ذکر کسی سے بھی مت کیجئے۔ تاکیداً عرض ہے۔ )

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *