جہنم کی ائر کنڈیشننگ کا ٹھیکہ /ڈالر کے پَر(14)-حامد عتیق سرور

ڈالر کی قیمت کے بارے میں بحث ہماری قوم کا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے ۔ اس کابھاو کو اکثر معیشت اور حکومت کی کارکردگی کا معیار سمجھا جاتا ہے ۔ یہ اکثر سننے کو ملتا ہے کہ ضیا کا مارشل لا اچھا تھا کہ ڈالر 11 روپے میں ملا کرتا تھا اور آج کی حکومت یوں بری ہے کہ ڈالر دو ہفتے پہلے تک 340 کو چھو کر آیا ہے اور ابھی بھی یہ اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ موجودہ کریک ڈاؤن کے بعد ڈالر کی قیمت دوبارہ کب بڑھے گی ۔
ڈالر چونکہ پاکستان کی مروجہ کرنسی نہیں سو اس کے بھاو کا اتار چڑھاو بھی منڈی میں موجود دوسری اشیا کی طرح طلب اور رسد کی بنیاد ہی پر ہوتا ہے ۔ ڈالر کی سپلائی کے پانچ ممکنہ ذرائع ہیں یعنی برآمدات ، بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات ، پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری ، بیرونی امداد اور بیرونی قرض ۔ دوسری جانب ڈالر کی ڈیمانڈ کے بھی پانچ ہی ماخذ ہیں ۔ ہماری درآمدات ، بیرونی قرض اور سود کی ادائیگی ، بیرونی کمپنیوں کی اپنے ملکوں میں منافع کی ترسیلات اور پاکستانی شہریوں کے بین الاقوامی سفر / تعلیم / رہائش/ خریداری کی ادائیگی۔
عمومی طور پر اس ڈیمانڈ اور سپلائی کے نقطہ اتصال پر ڈالر کی قیمت کا تعین ہوتا ہے ۔ پاکستان میں 2013 سے 2017 تک ڈالر کی قیمت 105 روپے پر ٹکے رہنے کی وجہ یہی تھی کہ ان تمام مارکیٹ قوتوں کا توازن اسے اس قیمت پر رکھے ہوئے تھا۔ اس دور کی پالیسی کے ناقد یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ ڈالر کی سپلائی میں بیرونی قرضوں کی دستیابی اور ڈیمانڈ میں قرض / سود کی نسبتا” کم مقدار اس توازن اور ڈالر کی کم قیمت کا باعث تھی ۔
2017 کے بعد اچانک ڈالر کی قیمت بڑھتے ہوئے 180 کو چھونے لگی جو بعد میں کووڈ کے زمانے میں 160 پر آکر رکی ۔ اگست 2021 میں افغان حکومت کی تبدیلی کے بعد اور پھر فروری 2022 میں یوکرین جنگ سے ڈالر کی قیمت نے وہ راستہ اختیار کیا کہ آج بہت سارے حکومتی تردد کے بعد بھی 300 تک پہنچا ہوا ہے اور مستقبل کی اڑان کی پیش گوئیاں بدستور ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ 2017 کے بعد آخر کیا ہوا ہے کہ ڈالر کی اڑان رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔ قریب اسی زمانے میں بھارت کے ہاں ڈالر 60 روپے سے 82 روپے تک پہ پہنچا ہے جس میں 2018 سے یہ سفر 65 سے 82 کا ہے یعنی کوئی 26 فیصد اور بنگلہ دیش میں 77 سے 106 کا یعنی کوئی 28 فیصد مگر پاکستان میں یہ بے قدری 185 فیصد کو چھو رہی ہے جو یقینا” بہت تشویش کی بات ہے ۔
بہت سادہ الفاظ میں یہ کہا جاتا ہے کہ کسی ملک کے ایکسچینج ریٹ کی گراوٹ اس ملک اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے انفلیشن ریٹ کے سالانہ فرق کے برابر ہوتی ہے ۔ جیسے پاکستان کا افراط زر 30 فیصد ہو اور یورپ /امریکہ میں 5 فیصد تو پاکستانی کرنسی کی سالانہ depreciation کوئی پچیس فیصد ہونا چاہئیے ۔ مگر اس سادہ سی equation کے لئے باقی تمام اشاریوں کا یکساں ہونا ضروری ہے یعنی کرنٹ اکاؤنٹ ، ٹریڈ اکاؤنٹ، بین الاقوامی ادائیگی ، شرح سود وغیرہ میں کوئی بڑی تبدیلیاں نہ آرہی ہوں ۔
پاکستان کے ہاں 2018 کے بعد اور خصوصی طور پر افغانستان سے امریکی انخلا کے ساتھ دو بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ۔ ایک ہماری بین الاقوامی قرض / امداد تک رسائی میں رکاوٹ جس کی وجہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی جیو سٹریٹجک irrelevance بھی ہے اور ہمارا گزشتہ سالوں کا جمع شدہ قرض بھی جس کی ادائیگی کے دن آپہنچے ہیں ۔ 2000 میں اسی قسم کے حالات میں 9/11 کا سانحہ ہو گیا تھا اور ہم ڈیفالٹ کرتے کرتے اچانک ڈالروں کی بارش میں نہانے لگے تھے ۔ مگر اس بار یوں لگ رہا ہے کہ ہماری ڈالر میں قرض اور امداد لینے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے اور قرض واپسی کی مقدار میں سہولت بھی نہیں مل رہی ۔ اس پر طرہ یہ کہ ماضی قریب میں لگے بجلی گھروں کی دس سالہ capacity payment کے دن 2020 سے شروع ہو چکے ہیں اور ہماری سالانہ بین الاقوامی ادائیگی یکایک 10 ارب سے بڑھ کر 25 اور 30 ارب کو چھونے لگی ہیں ۔
اس تمام chaos میں ڈالر کی ڈیمانڈ میں ایک اور بڑا اضافہ ہمارے صاحب ثروت لوگوں کی جانب سے اپنی رقوم کو ڈالر میں تبدیل کرنے سے آیا۔ کاروباری اور امیر لوگوں نے یہ سب ڈالر میں سرمایہ کاری کر کے منافع حاصل کرنے کو کیا تو upper middle class نے اپنی savings کو افراط زر سے مضر اثرات سے بچانے کے لئے ۔ قیمت کا اتار چڑھاو سے اندازہ ہے کہ کوئی پانچ سے دس ارب ڈالر اس صورت میں پاکستان کے اندر اور باہر رکھ لیا گیا ہے ۔ پاکستان سے باہر رکھنے کے لئے پچھلے تین سال میں ہنڈی / حوالے کے علاوہ برآمدات کی قیمت کم دکھانے اور درآمدات کی قیمت زیادہ دکھانے کا بے تحاشا استعمال ہوا ہے جس کی ایک صورت سولر کی امپورٹ overinvoicing کی صورت میں نظر آرہی ہے ۔ کرنسی کی physical transfer میں لنڈی کوتل ، چمن ، تافتان کی منڈیوں کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اور تو اور عمرہ ، حج اور زیارات کے نام پر بھی بہت بڑی بڑی کرنسی transfers ہوئی ہیں ۔ اور کتنے ہی ڈالر ابھی بھی گھروں کے تہ خانوں ، تجوریوں اور بینک لاکرز کی زینت ہیں ۔
اس اضافی ڈیمانڈ نے ڈالر کو جو Moody’s کے مطابق 245 پر ہوتا، کو 300 تک پہنچا دیا ہے ۔ یاد رہے کہ پکڑ دھکڑ سے اسے عارضی طور پر روکا جا سکتا ہے مگر جب تک ہم فاریکس کی informal market کو مکمل دستاویزی دائرے میں نہیں لاتے لوگوں کو مارکیٹ میکینزم سے ڈالر نکالنے پر مجبور نہیں کرتے اور کرنسی کی بے جا ٹرانسفر کے رستے مسدود نہیں کرتے، اس وقت تک یہ 250 روپے فی ڈالر کے ریٹ کا حصول ممکن نہیں ۔
اس سے کم ریٹ کے لئے ہمیں بہت کچھ اور بھی کرنا ہے جس کا راستہ اگلے دس سال تک بہت کٹھن ہے ۔ پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور برآمدات کو دو گنا کرنا آسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں ۔ درآمدی اشیا کی مہنگائی تکلیف دہ ضرور ہے مگر ” تو شب آفریدی، چراغ آفریدم ” کے طفیل ہم شاید porta کی بجائے لوکل کموڈ لگانا شروع کردیں ، Fotile کی بجائے سپر ایشیا آجائے، پٹرول کی بجائے EV کا کچھ ہو سکے ۔ نئی بجلی سولر پر جا سکے ۔ 2022 کی جون والے مالی سال میں پاکستان کے سٹیٹ بینک میں 70 ارب ڈالر آئے اور 100 ارب کی ادائیگی ہوئی ۔ 30 ارب قرض وغیرہ سے دیا ۔ اس صورت سے ہر سال تیس فیصد کرنسی کی قیمت نہ گرے تو اور کیا ہو۔ دوسری جانب 22 فیصد کے پالیسی ریٹ کے باوجود ہماری نوٹ چھاپنے کی رفتار ( جس کے پیچھے یقینا” معاشی مجبوریاں بھی ہیں) بھی کم نہیں ہو رہی ۔ ہماری money supply یعنی M2 , دو ہزار اٹھارہ کے 15 کھرب سے اب بتیس کھرب کو پہنچ گئی ہے ۔ صرف اسی اقدام کو لیں تو مقامی اشیا اور خدمات کی قیمت کو دوگنا ہونا سمجھ میں آنے لگتا ہے ۔
ضروری ہے کہ فارن ایکسچینج کی نقل و حرکت پر مناسب اور مسلسل documentation اور regulation پر ادارہ جاتی نظم مضبوط کیا جائے ، money supply کے اضافے کو قومی آمدنی میں اضافے کے کسی مناسب multiple پر رکھا جائے اور پیداواری صلاحیت ایسے بڑھائی جائے کہ برآمدات بھی بڑھ سکیں اور مقامی اشیا پر خود انحصاری بھی۔
کام مشکل ضرور ہے مگر ویتنام سمیت بہت سے ممالک یہ سب کچھ ایک دو دہائیوں میں کر کے دکھا چکے۔ حالات اتنے برے نہیں جتنے زمبابوے کے 2010 میں اور وینزویلا میں اب ہیں کہ ڈالر مقامی کرنسی کے مقابلے میں اربوں اور کھربوں کو پہنچا ۔ کسی طور لوگوں کی panic buying قابو میں آئے تو 25 سے 50 روپے تو ویسے ہی کم ہو جانے ہیں اور باقی کام کے لئے محنت ، کفایت شعاری اور ترقی ۔ مرض لا علاج نہیں ۔ بس وہی ہے کہ بقول اقبال :
جلوہ ء طور تو موجود ہے ، موسیٰ ہی نہیں

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply