• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کالا باغ ڈیم ۔ پاکستان کے پانی، بجلی ، سیلاب اور زراعت کے مسئلے کا واحد حل ، ایک مغالطہ

کالا باغ ڈیم ۔ پاکستان کے پانی، بجلی ، سیلاب اور زراعت کے مسئلے کا واحد حل ، ایک مغالطہ

پاکستان میں جب بھی بجلی اور پانی کا بحران شدت اختیار کرتا ہے یا سیلاب آتا ہے، تب تب ڈیم کے حامیوں کا کالا باغ ڈیم بنانے کے مطالبے میں تیزی آتی ہے۔ ڈیم کے حامی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ ڈیم کی مخالفت سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہے اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر تکنیکی لحاظ سے درست ہے اور اس سے کسی صوبے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ جبکہ مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس ڈیم سے صوبہ خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ اس منصوبے سے پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کو ضرر پہنچے گا اور یہ ان تینوں صوبوں کے لیے قاتل ہے۔ کالا باغ ڈیم کیخلاف تین صوبائی اسمبلیاں متفقہ قراردادیں پہلے ہی پاس کر چکی ہیں۔

گو کہ کالا با غ ڈیم کا مقصد بجلی کی پیداوار اور زراعت کے لیے پانی کا ذخیرہ کرنا شامل ہیں ،لیکن ڈیم کی تعمیر کے مخالف ماہرین نے اس منصوبے سے حاصل ہونے والے فوائد کے مقابلے میں اس کے نقصان کو زیادہ بہتر طورپر آشکار کیا ہے۔ جن میں ماحول پر پڑنے والے مضر اثرات، بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی، زرخیز علاقوں کا پانی میں ڈوب جانا اور مزید اراضی سیم اور تھور کا شکار ہوجائے گی۔

چونکہ یہ موضوع تکنیکی ہے اس لیے ہم نے اس سلسلے میں عثمان قاضی صاحب سے کالا باغ ڈیم کے بارے میں کچھ سوال و جواب کیے۔ عثمان قاضی صاحب نہ صرف اس شعبے میں ایکسپرٹ ہیں بلکہ تجربہ بھی رکھتے ہیں۔

سوال: کیا کالا باغ ڈیم سے سندھ کو فائدہ ہو گا ؟

جواب : ادھوری معلومات اور فرسودہ ٹیکنالوجی کا بیان۔ سندھ کو “زیادہ” فائدے کا سبز باغ اس پر مستزاد۔ سندھ تو اب تک تربیلا ڈیم کے “زیادہ” فوائد نہیں سمیٹ پایا ہے۔ مقدور ہو تو ٹھٹھہ سے کیٹی بندر تک سوکھے طاس میں اڑتی خاک اور تھور کا مشاہدہ کیجیے اور ان “زیادہ” فوائد پر اش اش کیجیے۔ جہاں پہلے دخانی جہاز چلا کرتے تھے، آج صحرا کے جہاز کا چارہ تک دستیاب نہیں

سوال:آپ کیسے کہہ  سکتے  ہیں کہ بڑے ڈیم نقصان دہ  ہیں ؟ جبکہ جو پانی سیلاب میں ضائع ہوجاتا ہے اگر وہ ہی تسلسل سے دریا میں گرتا رہے تو سندھ سیلاب سے بھی بچ گیا اور آبپاشی کے لیے پانی بھی مل گیا. لوگ اور مکانات جو سیلاب سے ضائع ہوجاتے ہیں، وہ بھی محفوظ رہیں گے۔

جواب : سیلاب میں تباہی ہونے کا سبب دریاؤں پر بندات کا نہ ہونا نہیں بلکہ اس کا الٹ ہے۔ سیلاب زرخیز مٹی کی تہہ بچھاتے ہیں جس پر پانی گزرنے کے بعد اتھلے کنوؤں کی مدد سے  کاشت کی جاتی ہے۔ فصل کی کٹائی کے بعد لوگ دریا کے طاس سے اپنا عارضی ٹھکانااکھیڑ کر اونچے کناروں کی جانب چلے جاتے ہیں۔ ڈیمز کی تعمیر کے سبب طاس میں پانی کا گزر کم ہوجاتا  “ویسے اباسین میں مون سون کے سیلاب کو روکنا دنیا کے کسی ڈیم کے بس میں نہیں ہے۔ یوں بھی اس سیلاب کے دوران ڈیمز کو گاد بھرنے سے بچانے کے لیے ان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں”۔ ہوتا یہ ہے کہ بہاؤ کی کمی کے سبب مدت تک خشک رہنے والے طاس میں لوگ گھر بنانا شروع کر دیتے ہیں جو ہمیشہ سیلاب کی زد میں رہتے ہیں۔ جو با اثر ہوتے ہیں، وہ دریا کی زمین سے قبضہ کی گئی اراضی کے بچاؤ  کے لیے حفاظتی بند بھی تعمیر کر لیتے ہیں چنانچہ سیلاب کا رُخ دوسرے کنارے پر واقع قدیمی بستیوں کی جانب پھر جاتا ہے۔ اس کی سینکڑوں مثالیں سنہ 11اور 14  کے سیلابوں کے  ریکارڈ میں موجود ہیں۔

میٹھا پانی سمندر کے کھارے پانی کو دریا کے ڈیلٹا میں اوپر چڑھنے سے روکتا ہے اور تمّر [مینگروو] کے جنگلات کو زندہ رکھتا ہے جو سمندری طوفان اور صحرا زدگی کے خلاف قدرتی روک کا کام دیتے ہیں اور قیمتی جھینگوں مچھلیوں، کیکڑوں کی افزائش کا ماحول فراہم کرتے ہیں۔ میٹھے پانی کے بہاؤ کو روکنے سے یہ سارا نظام تلپٹ ہوجاتا ہے۔ صرف تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد سے مینگرو  کا رقبہ نوّے فی صد سے زیادہ برباد ہوگیا ہے۔فائدہ ڈیم کے قریب کے علاقے کے بڑے زمین داروں کو ہوتا ہے جبکہ تباہی ڈیلٹا والوں کی پھِر جاتی ہے۔ وسیع و عریض جھیل کے سبب ڈوبنے والی زرخیز زمین اور بستیوں کا مستقل اتلاف اس پر مستزاد ہے۔ یہ محض کنکریٹ کے پجاری اور کمیشن کے رسیا انجینئرز، کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی ہے کہ ڈیمز کی تعمیر سے سیلاب کو روکا جا سکتا ہے۔

سوال : تو پھر پانی کس طرح محفوظ کیا جائے  ؟ بجلی کیسے بنائی  جائے؟ اگر ڈیم نہ ہوں تو ؟ اس کا کیا حل ہے ؟

جواب : پانی محفوظ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے قدرتی ڈھلان پر بہنے دیا جاۓ۔ آخر پانی  “محفوظ” کیوں کیا جاۓ؟ اسے کس سے خطرہ ہے ؟  یہ تصور کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے “ہیڈ” کی ضرورت ناگزیر ہے، فرسودہ ہو چکا ہے۔ اوّل تو یہ کہ “رن آف دی ریور” بجلی پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی بہت ترقی کر گئی ہے۔ دوسرے یہ کہ جس ملک میں لوگ سارا سال گرمی اور دھوپ کی شکایت کرتے ہوں وہاں “آف گرڈ” شمسی توانائی کو چھوڑ کر پن بجلی کے بڑے بڑے منصوبوں کے پیچھے بھاگنا حماقت ہے۔ تیسرے، جس ملک میں ہر طرف نامیاتی کچرے کے انبار لگے ہوں وہاں صنعتی پیمانے پر اس سے توانائی پیدا نہ کرنا مجرمانہ فعل ہے۔ میں نے چین میں چاول کی پرالی، درختوں کے گلے سڑے پتوں اور گھریلو کچرے سے بڑے پیمانے پر بجلی بنتے دیکھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے ہمارا قدیمی شوق “ایشیا میں  سب سے بڑی” چیزیں بنانے کا ہے جس میں یار  لوگوں کے ہاتھ بھی کچھ کمیشن لگ جاتی ہے ۔ لہذا دوسری طرف نگاہ ہی نہیں جاتی ۔

سوال:کیا شمسی توانائی کا سامان بہت مہنگا نہیں ہے ؟ دوسرا پانی کا ذخیرہ خشک سالی کے لیے نہیں کیا جاتا ؟ تیسرا کیا پانی کا ذخیرہ فصلوں کے لیے نہیں ہوتا ؟

جواب: پہلی بات یہ کہ “مہنگی” وہ چیز ہوتی ہے جس کی قیمت ادا کرنا پڑے۔ اگر سندھ کو اس کے ماحول کی تباہی اور پختونخوا کو اس کی   دریا برد اراضی کی اصل قیمت ادا کرنی پڑے تو ڈیم کے حامیوں کو لگ پتا جائے گا۔ اس وقت چوں کہ یہ سب “وسیع تر قومی مفاد” کے نام پر مفت چھینا جا سکتا ہے، سو سستا لگتا ہے۔ یہ سب لاگت ڈال کر موازنہ کریں تو شمسی توانائی ہرگز مہنگی نہیں لگے گی۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارے نزدیک خوراک کا تحفظ اولیت رکھتا ہے یا نقد آور فصلات کی کاشت؟ ہماری سب سے بڑی غذائی فصل گندم ہے جس کی پانی کی ضرورت انتہائی کم ہے۔ خشک علاقوں میں بھی اسے تیس دن میں ایک سینچائی مل جائے تو یہ تیار ہو جاتی ہے۔  پانی کی اتنی کمی کبھی نہیں ہوتی کہ گندم کے لیے پانی نہ مل سکے۔ اگر بنیادی مقصد کپاس اور گنے کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے تو اسے غور سے دیکھنا پڑے گا کہ کپاس اور گنے کی پیداوار کا فائدہ کن طبقات کو ہے اور نقصان کسے۔ اس میں خصوصا ً کپاس کی فصل کے لیے درکار زہریلی ادویات کے اقتصادی اور ماحولیاتی اثرات کو بھی زیرِ نظر رکھنا ہو گا اور شوگر مل مافیا کی ریشہ دوانیوں کو بھی۔ کچھ دوست رزِ مبادلہ کے لیے کپاس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہیں۔ کوئی دس سال قبل ہمارے ایک استاد نے ایک ریسرچ کی جس کی رو سے اگر دریا میں  پانی بہنے دیا جائے تو صرف “سی فوڈ” کی برآمد سے کپاس سے زیادہ منافع کمایا جا سکتا ہے۔ اس میں اڑچن بس یہ ہے کہ  اس عمل میں چند بلوچ اور سندھی ماہی گیر امیر ہو جائیں گے جبکہ کپاس سے فائدہ پنجاب کےجاگیردار کو ہو گا۔ یہیں آ کر سوئی اٹک جاتی ہے۔

‏‪: سوال : سندھ اور پختونخوا میں ماحول اور زمین کو کھا جانے میں دریا شامل رہا.اسی طرح یہی حال جنوبی پنجاب میں بھی رہا ہے، دوہزار آٹھ دس اور بارہ کے سیلاب میں زیادہ نقصان اِنہی علاقوں میں ہوا.مگر پھر بھی یہاں کے لوگ ڈیم بنانے کے حق میں ہیں. کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اضافی پانی محفوظ کر لیا جائے گا. بجلی کے لیے نہیں بلکہ نقصان سے بچ جانے کے لیے.۔ کیا یہ نظریہ درست ہے اس حوالے سے؟‬

جواب: اباسین کے سیلاب کو دیوار چین بھی ذخیرہ نہیں کر سکتی۔ اگر کوئی ایسا ڈیم بن بھی جائے تو جلد مٹی سے بھر جائے گا۔

سوال: اندرون سندھ جہاں, چھوٹے بڑے تمام شہروں میں, کاروبار میں بڑھوتری, جسے عرف عام میں سیزن لگنا کہتے ہیں, پھٹی یعنی کپاس کی پیداوار پر منحصر ہے.اب سوال یہ ہے کہ کپاس سے سارا  فائدہ, پنجاب کے جاگیردار کو ہو رہا ہے. سندھ کا جاگیردار کیا کپاس سے نقصان اٹھا رہا ہے ؟

جواب: بے شک سندھ کا جاگیردار بھی کپاس کے کاروبار سےمستفیذہورہا ہے مگر بطور جونیئر پارٹنر۔

سوال: جو فلاسفی  آپ نے ڈیم نہ بنانے کی بتائی ہے, کیاآ پ بتانا پسند کریں گے کہ اس پر کس ترقی یافتہ, یا ترقی پذیر ملک میں عمل ہو رہا ہے؟ وہ کون سی معیشتیں ہیں جہاں بڑے ڈیم نہ بنا کر اور سی فوڈ سے زیادہ فائدہ اٹھایا گیا ہے؟

جواب: دیگر ممالک کی مثال یوں تو بے محل ہوگی چونکہ اباسین کی وادی کا ایک مخصوص ماحولیاتی نظام ہے جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، مگر عرض ہے کہ امریکہ میں سالانہ بیسیوں پرانے ڈیم ڈھائے جا رہے ہیں چونکہ ان کی تباہ کاریاں سامنے آ رہی ہیں۔ اور نئے ڈیم نہیں بنائے جا رہے۔ اصل ضرورت اس سوال پر غور کرنے کی ہے کہ ہمارے نزدیک “ترقی” کس چیز کا نام ہے۔ آیا اس سے مراد ترقی کا موجودہ ماڈل ہے جس کے ثمرات ایک مخصوص طبقے تک محدود ہیں یا کوئی بہتر ماڈل بھی ممکن ہے جس میں مساوات اور دیر پائی کو بھی اہمیت حاصل ہو۔

سوال: کالا باغ ڈیم نہ سہی مگر ڈیم بنائے بغیر پانی کا ایشو کیسے حل ہو؟ مستقبل کا مسئلہ پانی ہوگا. سیلابوں کے بعد قحط کا دور آئے گا تب کہاں سے پانی لیں گے؟

جواب: سمندر کے پانی کو بھی میٹھا کرنا ہوگا.کھارے پانی کو میٹھا بنانے کی ٹیکنالوجی بھی اب آسان تر اور ارزاں تر ہو رہی ہے۔ اس کے کچھ دیسی طریقے بھی لوگوں نے اختراع کیے ہیں جنہیں ذرا سی توجہ سے بہتر بنایا جا سکتا ہے، لیکن ہمارا سارا زور ڈیم بنانے پر ہے۔

سوال: سندھ کو سب سے زیادہ اس بات کی فکر ہے کہ پنجاب کہیں پانی نہ چوری کر لے۔ اگر پنجاب آئینی گارنٹی دے کی کالاباغ سے نہر نہیں نکالے گا۔ پانی چوری نہیں کرے گا تو پھر کسی کو کوئی  اعتراض تو نہیں ہوگا؟

جواب: میرے بھائی  ، آپ کو علم ہوگا کہ پنجاب میں نہروں کی تین اقسام ہیں۔ اوّل، وہ نہریں جو دفاعی نکتہ نظر سے سود مند ہیں اور انہیں سال بھر بند نہیں کیا جاتا۔ دوم، آبپاشی کی نہریں جنھیں بھل صفائی کے لیے بند کیا جاتا ہے۔ سوم اباسین کا پانی ستلج اور جہلم میں ڈالنے والی رابطہ [لِنک] نہریں جنھیں پانی کی کمی کے زمانے میں فورا ً بند کردیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار ملک کے سب سے بڑے بین الصوبائی ادارے “مشترکہ مفادات کی کونسل” کا طے کردہ ہے اور تقریباً  آئینی گارنٹی کا درجہ رکھتا ہے۔ سن ننانوے میں پورا مغربی اور جنوبی ایشیا خشک سالی کا شکار تھا۔ دریاؤں میں پانی کی شدید کمی تھی۔ میں واپڈا ہاؤس لاہور میں ایک میٹنگ کا مشاہدہ کر کے آیا ،جہاں اس وقت کے وفاقی سیکرٹری پانی اور بجلی نے بڑے تیقّن سے اعلان کیا کہ لنک کینالز کو ایک ہفتہ قبل بند کر دیا گیا ہے۔ اچانک کسی تکنیکی کام سے مجھے چشمہ بیراج جانا پڑا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ چشمہ جہلم لِنک کینال لبا لب بہہ رہی ہے۔ میرے ہمراہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست تھے جو اتفاق سے اس میٹنگ میں صوبائی حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے۔ یہ کھُلّم کھُلّا چوری دیکھ کر مارے قلق کے ان کی آواز بند ہو گئی۔ ہمارے شور مچانے پر ایکس ای این صاحب کو تشریف لانا پڑی  اور انہوں نے فرمایا کہ اچانک بند کر دینے سے نہر کے کناروں کے ڈھے جانے کا خدشہ ہے چنانچہ ہم تقریباً  ایک انچ روزانہ کے حساب سے اسے بند کرتے ہیں۔ ایک تو وہ یہ نہیں بتا پائے کہ یہ کلیہ انہوں نے سیال حرکیات کی کس کتاب سے اخذ کیا ہے۔ دوسرے ہم نے حساب لگایا کہ اس رفتار سے نہر بند کرنے کے لیے کوئی چار ماہ کا عرصہ درکار ہوگا جو اتفاق سے پنجاب میں ربیع کی فصل کی سینچائی کا درکار وقت بھی تھا۔ مزید حسنِ اتفاق یہ کہ ایکس ای این صاحب بھی اسی صوبے کے تھے۔ تو سرکار، آئین میں تو آرٹیکل چھ بھی ہے۔ کیسی گارنٹی اور کس کا اختیار؟

سوال: ٹیکساس میں کئی ہزار چھوٹی بڑی مصنوعی جھیلیں ہیں۔ یہ جھیلیں بارش کےپانی کو سمندر میں گرکر ضائع ہوجانے سے بچا کر ، اسی پانی کو ذخیرہ کرکے بنائی گئی ہیں۔ ان جھیلوں کی تعمیر میں کبھی کبھار کئی چھوٹے موٹے شہر بھی خالی کروا لیے جاتے ہیں اور کئی سو ایکڑ زرعی اراضی بھی لوگوں سے قیمتاً حاصل کی جاتی ہے۔ اس عمل میں کسی کی بھی کوئی چوں چراں برداشت نہیں کی جاتی۔ آخر ہم کیوں نہیں زبردستی ملک کے مفاد میں کالا باغ ڈیم بناتے؟

 

جواب: جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں، ٹیکساس کی مذکورہ جھیلیں برساتی ندی نالوں کے موسمی بہاؤ کو ذخیرہ

کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، نہ کہ، مثلاً  ہوور اور گرینڈ کولی ڈیم کے مانند کسی بہتے دریا پر بند باندھ کر۔ اس قسم کی جھیلوں اور اباسین جیسے دریاؤں کی ہیئت میں بنیادی فرق ہے۔ ملک کے خشک علاقوں بلوچستان، سندھ میں کیرتھر کے دامن میں، پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں اس نوع کے چھوٹے چھوٹے آبی ذخائر بنانا ماحولیاتی اور معاشی لحاظ سے سود مند ہے مگر ہم نے ٹھان رکھی ہے کہ ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرنے سے ہماری عزت بھی گھٹے گی اور کمیشن کی مد میں بھی کچھ خاص ہاتھ نہیں آئے کا۔ لہذا ہم تو اباسین پر ہی بند باندھیں گے۔

سوال :عثمان صاحب ایک آخری سوال کہ کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ پنجاب کے کسان کو کپاس اور گنا اُگانے کے لیے بھی پانی مل جائے، اس طرح پنجاب کو بھی شکوہ نہ ہو اور وہ کالا باغ بنانے کی ضد بھی چھوڑ دے۔

جواب: میں تو سِر ے سے کپاس اور گنے کی افادیت پر چہ کنم میں ہوں۔ (ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ یہ دونوں فصلیں دریائی یا نہری پانی ہی نہیں، زیر زمین پانی کی سطح بھی گرا دیتی ہیں۔)ذرا چالیس  سال  پیچھے  چلے جائیے۔ ملک کے بہت سے علاقوں میں افیون بطور نقد آور فصل کاشت ہوتی تھی اور اس کی مقامی فروخت سے ٹیکس اور برآمد سے زرِ مبادلہ کمایا جاتا تھا۔ مقامی سطح پر اس کے برے اثرات نہ ہونے کے برابر تھے مگر بین الاقوامی سطح پر اس کے مرکبات نے تباہی ڈھا رکھی تھی چنانچہ ہم نے اس کی کاشت پر پابندی لگا دی۔ خوراکی فصلات کے سوا کوئی بھی فصل ناگزیر نہیں ہوتی۔ مجھے تو سندھ اور بلوچستان کے صحرا میں چاول کی کاشت کی بھی سمجھ نہیں آتی۔

سب سے زیادہ افسوسناک بات اس منصوبے کے بارے میں اسلامسٹ کا رویہ ہے کہ ان کے خیال میں ہمسایہ ملک انڈیا کالا باغ ڈیم کی مخالفت پر سالانہ 12 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ جو کہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ (یہ بات مسلم لیگ کے سینیٹر چوھدری جعفر اقبال نے  سینٹ کے  ایک اجلاس میں کہی تھی )۔ اسلامسٹ کے خیال میں جو اس منصوبے کی مخالفت کرے گا وہ غدار اور انڈین ایجنٹ ہوگا۔

ایک اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ کالا باغ ڈیم بنانے کے حامی اپنے موقف کو تقویت پہنچانے کے لیے کہتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم کے لیے پہلی تجویز قائداعظم محمد علی جناح نے دی تھی اور متعلقہ محکمہ کو 1948میں دریائے سندھ پر ہائیڈ رو پراجیکٹ پرکام شروع کرنے کی ہدایت کی تھی مگر ان کی وفات کے بعد ان کے احکامات کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ اس بات کا انکشاف نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں ایک مضمون میں عبدالمجید منہاس نے کیا تھا ۔

ہم مضمون کو اس بات پر ختم کرتے ہیں کہ چاہے کسی منصوبے سے کتنا ہی فائدہ کیوں نہ ہو مگر ہمارے لیے پاکستان کی سلامتی کے لیے یہ بات زیادہ اہم ہے‫ کہ جس چیز پر ہمارے تین بھائی متفق نہیں، وہ بنانے کا فائدہ؟ ہمارا مشورہ یہ ہی ہے کہ کالا باغ ڈیم کی ‬بجائے  متبادل منصوبوں پر کام شروع کر دینا چاہیے۔

ہم شکرگزار ہیں جناب عثمان قاضی صاحب کے کہ انہوں نے اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ ساعتیں نکال کر ہمیں اتنے اہم مسئلہ پر اپنے خیالات سے مستفید کیا۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق اور ائ ٹی کے شعبہ سے تعلق ہے۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور ہمیں تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *