حدیث اور سنت کا فرق۔قسط3

اسلامی سماج کی تشکیل کی تحریک اس قدر پُرزور، متحرک اور ہمہ گیر تھی کہ صحابہ کرام جہاں ایک دوسرے سے بے تکلف روایات لے کر انہیں آگے روایت کر دیتے تھے وہیں جب کوئی روایت کتاب و سنت سے ہم  آھنگ نہ پاتے تو اسے رد کر دیتے. اگرچہ اس دور میں احادیث کے رپورٹر صرف صحابہ کرام تھے پھر بھی کئی ایک احادیث کی authenticity چیلنج کی گئی جس پر ہم ان شاء اللہ نسبتاً تفصیل سے بات کریں گے تاہم اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ ان میں سے کسی پر دروغ گوئی کا الزام لگایا جاتا بلکہ اولا ً یہ بات سب جانتے تھے ہر شخص نے ہر روایت  خود رسول اللہﷺ سے نہیں سنی ہوتی تھی بلکہ ایک دوسرے سے معلوم کر کے اسے روایت کرتے تھے. ان حالات میں احتیاط کی ضرورت تھی کیونکہ اسی معاشرے میں منافقین بھی رہتے تھے جو باقاعدگی سے تمام اسلامی امور میں شریک ہوتے نیز ہر فرد کے فہم روایت کا معیار مختلف تھا اور حافظے یکساں نہیں تھے سماجی پس منظر بھی اثر انداز ہوتا تھا، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی تھا کہ دین کی کوئی بھی بات کسی سے بھی لیتے ہوئے اس کی مکمل تصدیق کر لی جائے، تاہم چند فقہاء صحابہ کرام اس درجے کے تھے کہ ان کے بیانات کی تصدیق کی ضرورت نہیں محسوس کی جاتی تھی بلکہ ان کی طرف مراجعت کی جاتی جن میں خلفاء راشدین، عبداللہ بن مسعود اور سیدہ عائشہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سب سے نمایاں تھے.

صحابہ کرام کے بارے میں یہ اصول کہ- الصحابۃ کلھم عدول_کا یہ مطلب نہیں کہ صحابہ کرام معصوم تھے.بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی باہمی خانہ جنگیوں اور ایک دوسرے سے اختلافات کے باوجود وہ رسول اللہﷺ  کی طرف کوئی جھوٹ منسوب نہیں کرتے تھے، یہی بات حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہی کہ کنا لا نتھم بعضنا بعضا الکذب. پس عدل سے مراد شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی تصریح کے مطابق “عدالت فی روایۃ الحدیث” ہے.

أخبار آحاد میں باہمی اختلافات!

اخبار احاد کو روایت و درایت کے اصول پر پرکھنے کے باوجود ایسا ممکن نہیں تھا ان میں کوئی مکینیکل یکسانی پیدا کی جا سکتی  کیونکہ ان کا تعلق ایک زندہ سماج کے مختلف افراد کے متنوع حالات سے تھا، ان کے پس منظر مختلف تھے، ان کے مسائل گوناگوں تھے، ان کے نفسیاتی، روحانی، جذباتی اور سماجی حالات یکساں نہیں تھے اس لیے ضرورت تھی کہ مختلف لوگوں کو ایک ہی طرح کی صورت حال سے نکلنے کے لیے الگ الگ حل دیے جاتے. احادیث میں اسی قسم کا تنوع تھا، مثلاً کئی لوگوں نے آپ سے سوال کیا :

کون سا عمل سب سے افضل ہے؟
آپ نے ہر ایک کو الگ الگ جواب دیا۔۔۔کسی سے فرمایا :ایمان باللہ پھر جہاد فی سبیل اللہ پھر حج مبرور،کسی کو بتایا، بروقت نماز پھر والدین سے حسن سلوک،کسی کو بتایا، روزوں کی کثرت،کسی کو ذکر اللہ، دوسرے کو دعا، تیسرے کو حسن خلق، چوتھے کو طویل خامشی، پانچویں کو دوسروں کو اپنی اذیت سے محفوظ رکھنا، چھٹے کو لوگوں کو کھانا کھلانا، ساتویں کو تعلیم قرآن، آٹھویں کو صبر اور نویں کو خوش حالی کا انتظار کرنے کی تلقین کی گئی.

یہ تمام روایات روایتا ً اور درایتا ًدرست ہیں لیکن ان میں اختلاف سائلین کے حالات اور پس منظر کی وجہ سے ہے.غزوہ تبوک میں آپ نے صدیق اکبر سے ان کا سارا مال اور عمر فاروق سے ان کا نصف مال قبول فرما لیا لیکن دوسری طرف ایک شخص ایک انڈے کے برابر سونے کی ڈلی لے کر آیا تو آپ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔یاد رہے کہ ان اختلافات کا تعلق حالات اور افراد کے اختلاف سے ہے جسے اختلاف تنوع کہتے ہیں.
ہماری ابھی تک کی بحث تشریعی روایات سے متعلق ہے!

(جاری ہے)

ڈاکٹرطفیل ہاشمی
ڈاکٹرطفیل ہاشمی
استاد، ماہر علوم اسلامی، محبتوںکا امین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *