بیوہ/مطلقہ کی عدت پر ایک سیکولرموقف۔۔۔(قسط3)سلیم جاوید

بیوہ/مطلقہ کی عدت پر ایک سیکولرموقف۔۔۔(قسط2)سلیم جاوید

عرب معاشرہ میں معاشیات کا سارا نظام مردوں کے ہاتھ میں تھا- بالخصوص مکہ میں چونکہ بت پرست رہا کرتے تھے جہاں عورت کو نہ وراثت میں سے کچھ ملتا تھا ( بلکہ وہ خود وراثتی مال ہوا کرتی تھی) اور نہ ہی اس کا کوئی ذاتی ذریعہ آمدن ہوا کرتا تھا-

پتہ نہیں کہاں سے احباب ایسی بات ڈھونڈ لاتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں عرب میں عورتیں بھی بزنس وغیرہ کیا کرتی تھیں- بعثت اسلام کے بعد تو سینکڑوں عورتوں کے احوال محفوظ ہیں ہی مگر زمانہ جاہلیت کی بھی کئی چیدہ خواتین کا تذکرہ ہمارے پاس ہے- کچھ عورتوں کے نام کوئی  بتائے گا جومعاشی طور پر خود مختارہوا کرتی تھیں؟ -لے دے کرایک حضرت خدیجہ کی مثال دی جاتی ہے جوایک استثنیٰ ہے اورانکی مثال بھی اس لئے منطقی نظر آتی ہے کہ خاکسار کے گمان میں حضرت خدیجہ ، اسلام سے پہلےایک عیسائی فیملی سے تعلق رکھتی تھیں(کیونکہ انکے ہاں، خاوند کا سارا مال، بیوی کو وراثت میں مل جاتا تھا- چنانچہ اسی وجہ سے ہی وہ مالداربھی تھیں اور خاوند کا کاروبار بھی سنبھالا ہوا تھا)- میرے اس گمان کی وجہ یہ ہے کہ انکا ایک کزن یعنی ورقہ بن نوفل،ایک عیسائی  عالم تھا-ـ( مکہ میں یہودی نہیں رہتے تھے تاہم چند ایک عیسائی گھرانے موجود تھے)- ویسے کوئ ساتھی اگرباحوالہ بتا سکے کہ حضرت خدیجہ پہلے کس دین کی پیروکار تھیں تومیرے علم میں بھی اضافہ ہوجائیگا-

بہرحال، ایک دومثالوں کے سوا کہیں سے یہ بات نہیں ملے گی کہ اس زمانے کی عام عورت کو معاشی خودمختاری حاصل تھی-(اپ دورحاضرکے فاٹا کے علاقہ کا کلچرہی سمجھ لیجیے)-

عورت کی اس کسمپرسی پرخدا نے اسکے لئے اسباب رزق پیدا فرمائے- وہ یوں کہ پدری قبائلی معاشرے کوہمہ وقت جنگ وجدل کی وجہ سے افرادی قوت کی اشد ضرورت ہوتی تھی چنانچہ عورت ایک قیمتی شئے ہوگئی- زیادہ بچے جننے والی، زیادہ قیمتی- مگرشادی کا حق مہر اور مرد کی طرف سے نان ونفقہ ہی عورت کا ذریعہ آمدن تھا-اگر چہ تعداد میں عورتیں زیادہ تھیں مگرصاحب مال لوگوں کی طرف سے کئی کئی شادیاں ( برائے اولاد) کرنے کی وجہ سے اکثر” مال” کھپ جاتا تھا توغریب مردوں کیلئے بچتی ہی نہ تھیں- چنانچہ، “کم رو” یا “بانجھ “کو بھی”بر”مل جاتا تھا اور آجکی طرح، کنواری بیٹھی عورتیں نہ ہونے برابرتھیں-

عرب میں جوائینٹ فیملی سسٹم نہیں تھا کہ ایک گھر میں دیور، سسر رہتے ہوں( گھربھی کیا گھر تھےکہ صرف کمرہ یا خیمہ ہی میسر ہوتا تھا)- ایسے میں عورت کے پاس میکہ میسر نہیں ہوتا تھا کہ بیوگی کی صورت میں بھائی  بھابی کے ہاں آکررہے- بڑی عمر کی عورت تواپنے کماؤبیٹوں کے پاس رہ جاتی (اگرچہ رکھتے اس کو الگ گھر میں ہی تھے- بس نان ونفقہ مہیا کرتے تھے) لیکن جس کے بچے چھوٹے ہوتے اور وہ بیوہ ہوجاتی تو اسکا اپنا ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا، اپنے بچوں کو کہاں لے جاتی ؟-( اسی لئے بچے کی ملکیت باپ کو دی گئی تھی کہ معاشی طور پریہ عورت ان کو نہیں پال سکتی تھی- دوسرے قبیلہ والا مرد، پہلے والے کے بچوں کو پالنا پسند نہیں کرتا تھا ورنہ ایک ہی قبیلہ میں پرانے خاوند کے بچے نئے شوہرنے پالے-چنانچہ بچے کی ملکیت باپ کے پاس ہونا، ایک سماجی قانون ہے، خدائی قانون نہیں ہے)-

اس زمانے میں ایک عورت کاخاوند مرجاتا توآج کےحساب سے یوں سمجھیئے کہ کمپنی میں اس عورت کی “جاب” ختم ہوگئی- نئی جاب تلاشنے میں وقت تو لگے گا- یہ جو دوچار ماہ کا عرصہ، نئی شادی کیلئے(نئے معاشی انتظام کیلئے) چاہیے تو یہ کہاں جاکررہے گی؟- چنانچہ بڑی حکمت سے بتایا گیا کہ خاوند یا اسکا خاندان ، اس عورت کواتنا عرصہ (چار ماہ) تک رہایش وخرچہ دیتے رہیں گے- محدود مدت اس لئے بتائی گئی تاکہ عورت “نئی جاب” کیلئے فکرمند ہوجائے-

یہ تھا اس زمانے کا عرب کلچر-

عرب کلچرہی کے ضمن میں نوٹ کیجیے کہ اگراس زمانے کےکسی مرد کے پس بیوی کیے نان نفقہ کی گنجائش ہوتی تو شادی کرنا بہت آسان کام تھا – عموماً خود عورت ومرد آپس میں بات طے کرلیتے تھے- جیسے شادی کرنا آسان تھا، ویسے ہی طلاق لینا دینا بھی آسان تھا- عرب کلچر میں طلاق نہ صرف یہ کہ کوئی  بہت معیوب بات نہیں تھی بلکہ خواتین خود بھی دھڑلے سے طلاق لے لیا کرتی تھیں-

بعد از اسلام ، صحابہ سے کئی کئی شادیوں اور طلاقوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں- پیغمبر اسلام کی بیویوں کیلئے خدا نے سپیشل سٹیٹس رکھا تو انکو بیوگی کے بعد شادی کی اجازت نہ تھی ورنہ عدت کا مسئلہ حل ہوچکا ہوتا- امہات المومنین کے علاوہ مگرکئی صحابیات کو بیوگی وطلاق کے مراحل سے گزرنا پڑا تھا- ہمارے ایک مشہور مبلغ کے بقول، ایک خوبصورت صحابیہ نے تیس نکاح کیے تھے- ( ظاہر ہے کہ ہر دوسرے نکاح سے پہلے چار ماہ عدت گزاری ہوگی- نہ جانے کتنے سال بنیں گے؟)- مدینہ میں عام طر پر گھرکا مطلب ایک ہی جھونپڑا ہوا کرتا تھا-مجھے خوشی ہوگی اگر ان صحابیات کے ناموں کی لسٹ فراہم کی جائے جنہوں نےوہاں بیٹھ کرچار چار ماہ کی عدت گزاری ہو؟ – جہاد کے لشکرمیں عورتیں ساتھ جایا کرتی تھیں ( ظاہر کے اپنے محرم یعنی شوہر کے ہمراہ- کنواری کو اکیلے عام سفر کی اجازت نہیں تھی توجہاد میں کیسے جاتی؟)- ایسا بھی ہوا کہ عین میدان جنگ میں ایک صحابی شہید ہوا تو اسکی بیوہ سے اسی رات دوسرے صحابی نے نکاح کرلیا- سوال اٹھتا ہے کہ اس عورت نے عدت کہاں گزاری ؟- حضرت خالدبن ولید کے کیرئر کاسخت مرحلہ وہ تھا جب ان پرالزم لگا کہ ایک خوبصورت عورت کو حاصل کرنے، اسکے مسلمان شوہر کو بلاوجہ قتل کردیا- اس مقدمہ میں جناب ابوبکرنے مقتول کے بھائی کو خون بہادیکرراضی کرلیا مگراس عورت سے جناب خالد نے اسی رات شادی کرلی تھی- کیا حضرت خالد کو معلوم نہیں تھا کہ عدت بھی گزارنا ضروری ہے؟ ( جبکہ عرب لوگ حفاظت نسل بارے حساس تھے)- پیغمبرکے زمانے میں گھروں میں اٹیچ واش رومز نہیں ہوتے تھے بلکہ عورتیں جنگل میں دور جاکر فراغت کیا کرتی تھیں- عدت میں بیٹھی رہنے والی عورت ان چار ماہ میں فراغت کہاں کیا کرتی تھی؟-

اب قرآن کی طرف آیئے- اٹھائیس پارے کے شروع میں ایک آیت ہے کہ ایک صحابیہ کو طلاق ہوئی  تو حضور کے پاس فریاد لے کرآئی- حضور نے فرمادیا کہ طلاق ہوگئی مگر حضور نے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ عدت کے دوران نکل کرمیری طرف کیوں آئی  ہو؟-تمہیں توباہرنکلنا منع ہے-

بہرحال، روایات وغیرہ کو ایک طرف رکھیے- ہم ان شاء اللہ قرآن کی آیات کی تشریح سے اپنا فہم آپ کے ساتھ شیئر کریں گے ،جس سے اختلاف کرنا ( بلکہ ہماری اصلاح کرنا)، آپ کا حق (بلکہ ذمہ داری) ہے-

برسبیل تذکرہ، عرب کلچر والی بات کو آپ “ایک نشست میں تین طلاق” والے مسئلہ پربھی ضرور منطبق کیجیے گا- اس زمانے (اس کلچر)میں مشکل سے “خریدی” گئی عورت کو طلاق دینے کا سارا نقصان مرد کو ہوتا تھا، جبکہ عورت کو فوراٍ دوسری جگہ “جاب” مل جاتی تھی – ایسے میں تین طلاق ایک ساتھ نافذ ہونا، دراصل مرد کو سبق سکھانا تھا( کہ اپنے ٹمپرکو ہروقت کنٹرول میں رکھو)- آجکل ملازم کو یکلخت فائر کردینے میں کمپنی کو کوئی نقصان نہیں ہوتا کیونکہ ایک سے بڑھکر ایک کوالیفائیڈ ملازم مارکیٹ میں بے روزگار پھررہا-چنانچہ ایک ہی نوٹس پربرطرف کرنے سے سارا نقصان ملازم کو ہوتا ہے- اس لئے عقلی ودینی تقاضا یہی ہے کہ کمزور کے حق میں قانون سازی کی جائے-ملازم کو فائر کرنے سے قبل ، چند وارننگ لیٹرز کو لازمی قرار دیا جائے-

عدت کے موضوع پر چھ اقساط پیش کی جاچکی ہیں اور مضمون کی بنیاد بن چکی ہے-

خیال ہورہا ہے کہ دوچار روز وقفہ کرلیا جائے- اسکی دو وجوہات ہیں-

1- پہلی وجہ یہ کہ خاکساردفتری امور کے سلسلے میں دوچار دن ربع الخالی ملٹری سٹیشن میں ہوگا جہاں فون وانٹرنیٹ سگنز میسر نہیں ہیں- ان شاء اللہ آمدہ جمعہ کوملاقات ہوگی-

2- وقفہ کی دوسری وجہ یہ کہ آگے اب قرآنی آیات کی تشریح شروع ہوگی جو ایک سنجیدہ و ٹیکنیکل کام ہے جس میں عربی دان حضرات کی معاونت وتوجہ درکار ہوگی-

قرآن ہرمسلمان کوبرابرتدبر کی دعوت دیتا ہے – کسی انسان کے ذہن میں جوسوچ بھی آتی ہے، وہ اسکا ذاتی کمال نہیں ہوتا –تاہم، یہ خدشہ پیش نظر رہنا چاہیئے کہ آیا یہ سوچ، رحمان کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے؟-

چنانچہ، تعمیری مشاورت خیرکی کنجی ہوتی ہے- احباب اگر گذشتہ اقساط پر ایک نظر ڈال لیں تو شرکت فکرمیں آسانی ہوگی- اس لئے کہ ہمارے دلائل کا اصل رخ انکو معلوم ہوجائے( ابتک کے مضمون کا لنک پانچ صفحات میں ساتھ موجود ہے)-

آگے ہم پانچ آیات کی تشریح کریں گے-جسکے بعد یہ مضمون مکمل ہوجائے گا ان شاء اللہ- اس مضمون کی سمری یہ ہے کہ فی زمانہ، بیوہ کیلئے عدت ضروری نہیں جبکہ مطلقہ کیلئے عدت ہوتی ہی نہیں ہے-

جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *