چہار درویشنیں ۔۔شفیق زادہ/قسط2 — ’ پری کہانی ‘

تعارف ’ چہار درویشنیں ‘ از شفیق زادہ
حالات کے بے رحم تھپیڑوں پر جیتے، خود ناراضی کا شکار اپنے آپ سے لڑتےایک ایسے شخص کی کہانی جس نے زندگی سے انتقام لینے کی ٹھانی ہوئی تھی، چاہے اِس کوشش میں چاہت اور چہیتے ہی کیوں نہ بھسم ہو جائیں۔ جدید دور کی ایکتا کپوری ٹرینڈچار شرعی بیویوں کا دھماکہ خیز اتحاد، جس نے راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کا تورا بورا کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی۔ رومانویت اور مزاح کا حسین امتزاج، جس میں چار بیویاں اپنے اکلوتے شوہر پر دعویدار ہیں۔ چہار درویشنیں حالات کا وہ آئینہ جس میں ہر مرد کو اپنی عکسی خواہش نطر آسکتی ہے جسے مسخ کرنے کے لیے زنانہ بریگیڈ بھی میسّر ہوتی ہے ۔

قسط (2)
’ پَری کہانی‘
زندگی مزے سے گزرر ہی تھی اور محسوس ہی نہ ہوتا کہ آنے والا دن عید کا ہوگا یا گزری رات شبِ برات تھی۔ مسرتوں اور لطف کے تمام لوازمات موجود تھے گویا ’ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘ والا معاملہ تھا، دونوں ہی عالم دوبارہ نیست کے چکر میں نہ پڑنے کے لیے ایک دوسرے کا آج نقد کل ادھار کر رہے تھے۔ خالہ نے اپنی تمام توجہ اور محبت کوخالو پر مرکوز کر دیا تھا۔ شادی کے وقت توان کی عمر ہی کیا تھی، اگر آج کے دور میں ہوتیں تو کسی کیمبرج  سکول سے اے یا او لیول کے امتحان کی تیاِری کر رہی ہوتیں ۔ وہ افواج وَ مجاہدین کا زمانہ تھا، سینما میں گنز آف نےویرون کو ’ نور الدین کی بندوق ‘ اور سیمسن اینڈ ڈلائلہ کو ’شمس الدین دِلّی والا ‘ بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ اور رہی رال ٹپکانے سانس پھلانے والی ’ ریان ڈاٹر ‘ نامی ’ کارڈیو ایکسر سائز والی فلم ‘ تو وہ مارشل لائی کرمچاریوں کی سپہ سالار پرستی اور داڑھے رکھے مجاہد برہمچاریوں کوٹِکٹکی کی حمایت کرنے پر بہ طور انعام دکھائی جاتی تھی ۔ مارشل لا کے نظریہ ضرورت کو اپنی زندگی میں گھس بیٹھیا بنا بیٹھنے والے نئے نویلے ’ اہل ِبیعت ‘ کو مصری فلم ’ عابدہ ‘ پریسکرائب کی جاتی تھی ۔ جن سینما گھروں میں یہ فلم چلتی وہ انٹر میشن سے پہلے ہاؤس فل اور بعد میں صرف ہاؤ ہاؤ کرتا ہاؤس رہ جاتا۔ محلے میں اگر کوئی ایک شخص بھی مشہور ڈراؤنی فلم ’ ایگزارسسٹ ‘ دیکھ آتا تو روز شام ڈھلے گلی کی نکڑ پر بنے ٹھّیے پر بیٹھے ڈرنے کے تمنائیوں کو اس کی کہانی یوں سنایا کرتا کہ راتوں کو چوکیداری کرنے والا افغانی بھی ’ جب جاگتے رہو ‘ کا دعوتی نعرہ لگا تا تو خوف سے یوں گھگیا یا سا محسوس ہوتا کہ گھروں میں جاگ جانے والوں کے ارمان سو جاتے۔ یہ سادگی وہ زمانہ تھا جب کراچی کی شارع فیصل پر ’ رشوت خور کا بدل دیا نام ، زلیل کمینہ رکھ دیا نام ‘ کے چھوٹے چھوٹے بِل بورڈ ہی رشوت خور کو آٹھ آٹھ آنسو رلا کر تائب کرنے کو کافی ہو اکرتے ۔ بد عنوانی ابھی تک کارپو ریٹ انٹرپرائز کا درجہ نہ پا سکی تھی ۔ سیاست ابھی تک دیہی تھی اور جمہوری انتقام نے شہری عملداری کا رخ نہیں کیا تھا بلکہ سرکاری عمّال بے ایمانی ایمانداری سے کیا کرتے ۔ چھوٹی برائی ہی بڑی سمجھی جاتی اور بڑی عاقبت کا بیڑہ غرق کرنے کا سبب مانی جاتی۔ اس زمانے میں کبھی کبھار محلے کے کسی گھر میں ڈیڑھ سو روپے فی رات کے حساب سے عاشق ایوان فردوسی ٹائپ کا بھدا سا بھاری بھرکم وی سی آر مع دشمن ملک کی تین عدد سیاہ پوش ثقافتی یلغاری فلموں کے گھر میں قدم رنجہ فرماتا تھا تو خواتین خوامخواہ شرمانے اور حضرات یہ خوامخواہی اشارہ سمجھ کرمونچھوں کو تاؤ دینے لگ جاتے۔ پھیکی بد مزہ ازدواجی زندگی جینے والوں کے لیے اس پر چلنے والی نیلی فلمیں اس زمانے کی فائزر کی ’ نیلی گولی ‘ ہوا کرتیں۔۔ سفید پوش گھرانوں کے بچوں کا اخلاق خراب کرنے کے لیے زینت امان کی فلمیں اور رشی کپور ریکھا پر فلمبند ’ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے ‘والا گانا  بھی کافی سمجھا جاتا تھا جب تک راج ببر نے ’ انصاف کا مندر ‘ بناکر معیار بدتری کو بلند نہ کردیا۔ ایسی سادگی والے دور میں ہوئی شادی کے ابتدائی مہینوں میں سب کچھ رومان پرور اور ہیجان خیز تھا اور ان کے بعد بھی زندگی کے معمولات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ خالو انہیں ٹوٹ کر چاہتے تھےاور خالہ تو خالو حضور کے پہلے لمس سے ہی یوں پگھل چکی تھیں کہ جیسے اب منتطر ہوں کہ خالو انہیں جس سانچے میں چاہیں ، ڈھال لیں ۔ ہر گزرتے روز محبت میں دیوانہ پن بڑھنے لگا تھا مگر احساسات بدلنے لگے تھے، رفتہ رفتہ  وقت گزرنے کے ساتھ دھیرے دھیرے اُنہیں لگنے لگا تھاکہ کچھ ایسا ہے جو کہ نارمل نہیں ہے۔پھر خالہ کو یک دم زندگی میں کسی کمی کا احساس ہونے لگا۔ پھر اِس مبہم احساس نے اپنی گرفت مضبوط کرلی اور اپنی موجودگی کو محسوس کرانا شروع کردیا۔ پھرخالہ نے خالو سے ایک انوکھی فرمائش شروع کردی، جو کہ خالوکے لذّتِ’ کام ودہن ‘ میں رکاوٹ بننے لگی تھی۔ خالو اس فرمائش کو پورا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ خالہ کے مائکے والے اگر رئیس نہ تھے، تو گئے گزرے بھی نہ تھے، کوئی ایسا شوق نہ تھا کہ جو پورا نہ کیا گیا ہو۔ کوئی تمنا اور آرزو نہ تھی جو کہ حصول کے عمل سے نہ گزری ہوئی ہو، مگر کوکھ سُونی رہے تو بھلا عورت بھی مکمل ہوتی ہے۔ ایک جیتے جاگتے ہنستے کھیلتے کھلونے کی چاہ اُن کو اُداس رکھنے لگی۔ مرد کا ساتھ عورت کے ادھورے پن کو ختم کرتا ہے، مگر عورت کی تکمیل صرف تخلیق کے کرب سے گزر کر ہی ہوتی ہے۔ قدموں کے تلے جنت نہ فرشتوں کا اور نہ ہی مرد بلکہ صرف اور صرف ماں کا اعزاز ہے، استحقاق ہے، مقدّر ہے۔
خالو کو اَب خالہ کی یہ بے تان کی بھیرویں بہت گراں گزرنے لگی۔ انہیں ایسا محسوس ہوتا کہ کسی نے بمباٹ ٹھرّے کی بوتل ختم ہوتے ہی بڑا سا رَس بھرا لیموں معدے میں اُتار کر خوب نچوڑ کر سارا نشہ ہرن کردیا۔ ایک دن کسی دوست سے کہا ’پتا نہیں، سالی کو آج کل بچے پیدا کرنے کا مسخرہ پن کیوں سوجھ رہا ہے ، زندگی حرام کردی ہے۔ حد ہے کہ جب نشاط سر چڑھ کر بول رہا ہو تو یہ باؤلی بچہ بچہ کی بھیرویں بکواس شروع کردیتی ہے۔ اپنی تو یہ کیفیت ہوجاتی ہے ، جیسے کہ بیچ چڑھائی پر گاڑی کا پیٹرول ختم ہوجائے! لگتا ہے مڈٹرم سلیکشن کر کے قائدِ ایوان بدلنا ہی پڑے گا، بھائی میاں! اپنی یہ گھریلواسمبلی کی بانی رکن لائف ٹائم اَچیو منٹ ایوارڈ نہ لے سکے گی‘۔

خالو نے تو جوانی کی پختگی کوچُھو لیا تھا اور خالہ نوجوانی کی حدود سے نکل کر بھرپور جوانی کی جانب پیش قدمی کر رہی تھیں۔ جیون ساتھی سے اُن کا تصوّ ر شوہر کے روپ میں ایسا ساتھی تھا، جو زمانے کی تکالیف اور زندگی کی مشکل شاہراہ پرمحافظ اور مضبوط سہارا ثابت ہو، پر خالو کو یہ باریکیاں اور نزاکتیں کہاں سمجھ آتیں تھیں۔ ان کی ذہن و دل میں سختی سے بندھی کچھ ایسی گرہیں تھیں جنہیں انہوں نے اپنے آپ سے بھی چھپایا ہوا تھا، بھلا خالہ کو کیسے خبر ہوتی ۔ ایک اچھی لگی بندھی نوکری اور اِس پر اندرونِ صوبہ واقع زمینوں سے ہر سال وافر مقدار میں فصل کی رقم اُن کے اللّے تللّے پورے کرنے کے لیے کافی سے بھی زیادہ تھے۔ بے چاری خالہ نے جس پہلے مردکو محبوب کے روپ میں دیکھا، وہی شوہر بھی ثابت ہوا کہ اِس سے پہلے نہ کبھی کوئی تھا اور آگے نہ کوئی ہوگا۔ مشرق کی مٹی سے ڈھلی ایک روز اُسی مٹی کی چادر اُوڑھ کر سو جانے والی جنم جلی کبھی دل کاحال زبا ں پر نہ لا سکی۔

ویسے خالو اپنے تئیں اِن خیالات کو اندھے کنوئیں میں پھینکنے پر کچھ زیادہ غلط نہ تھے۔ عورت کے صرف ماں کے روپ میں اپنے ہوش سنبھالنے اور اُس کے ہوش گم ہونے تک اپنے باپ کے ہاتھوں صرف ایک جنس کی طرح استعمال ہوتے دیکھا۔ جب بھی ان کی نظر اپنی ماں کی طرف گئی ، متوّرم دیدوں اور آنسو بھری آنکھوں سے ٹکرا کر لوٹ آئی۔انہیں اپنی ماں کے چہرے کو غور سے دیکھنے کی ہمت کبھی نہ ہو سکی، شاید اِسی لیے ماں کا ہیولہ بھی تصوّر میں نہیں رہا۔ کم عمری میں ونی کا شکار بے چاری ماں ابھی جوانی کی دہلیز بھی نہ پار کرسکی تھی کہ  ہوش و خرد سے  بیگانہ ہوگئی، مگر باپ اِس کے باوجود بھی اپنی ترنگ سے باز نہ آیا۔ پھر ایک دن وہ یوں سوئی کہ پھر کبھی نہ اُٹھی۔ بچپن گزارتے خالو کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ اچھا ہوا کہ بُرا۔ پاگل ماں کی موت بھی باپ کے پاگل پن کو ختم نہ کرسکی۔ پیسہ بہت اور عیاشی کے راستے اُس سے بھی کہیں زیادہ ، باپ نے نہ بدلنا تھا اور نہ ہی بدلا ، وہ اپنے آپ میں ہی مصروف رہا۔ وہ ان کے دل کے آبگینے ٹوٹنے کی صدا موت کے غم کی خا موشی میں بھی نہ سن کا، شاید سننا ہی نہ چاہتا تھا۔ سو اِسی طرح رُلتے لڑھکتے خالو بھی بلوغت کی دہلیز کے پار ہوہی گئے، مگر اپنے اَن چاہا ہونے کا دُکھ نہ کسی سے بیان کر سکے اور نہ دھیان سے نکال سکے۔
خالو اپنی ماں کو ہی اس کی قابلِ رحم حالت کا ذمّہ دار ٹھہرانے لگے تھے۔ وہ یقین کر بیٹھے تھے کہ ماں کی حد سے زیادہ بڑھی وفا شعاری اور نیکو کاری ہی اس کے لیے عمر قید مع بد ترین مشقت کا باعث تھی۔ وفا، خدمت اور ایثار و نثار جیسے اظہارسے اُنہیں چِڑ ہونے لگی تھی۔ اُنہیں معلوم نہ تھا کہ چِڑ کی یہی چنگاری شعلہ بن کر ایک دن خود اُن کی اپنی زندگی میں ہی آگ لگا دے گی۔ مگر وہ اِس کا ادراک نہ کرسکے اور نہ اس کے لیے تیار تھے۔ وہ اپنے آپ سے ہی شکست خوردہ تھے اور اِس پر خوش بھی۔
ممتا اور بپتا دو ایسے اجنبی احساسات تھے، جن سے خالو کو کبھی آشنائی نہ ہو سکی۔ انہوں نے تہیّہ کرلیا تھا کہ جس لاپروائی اور بیگانگی کے ماحول میں اُن کی پرورش ہوئی ، وہ اپنی اولاد کو اِس کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ اُنہوں نے اپنی اِس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے طے کر لیا تھا کہ وہ کبھی اولاد کے بکھیڑے میں نہیں پڑیں گے۔ وہ اپنی بدنصیبی کا انتقام انجانے میں شاید اپنے ہی چاہنے والوں سے لینا چاہتے تھے۔
شادی کودو سال ہو چلے تھے اوراُنہیں اب خالہ کی چیں چیں بہت بُری لگنے لگی تھی۔ شہر میں نائٹ کرکٹ کا بخار نیا نیا پھیلا تھا، جس نے نائٹ میچ ٹورنامنٹس کے روپ میں من چلوں کی ’پاپی چُولو ‘ یعنی موج مستی کا سامان پیدا کردیا تھا۔ خالو نے بھی کرکٹ کا روگ پال لیا او ر بطور جادوئی فنگر سپنر پورے شہر میں مشہور ہوگئے جس کی پھینکی گئی گیندیں سانپ کی طرح پینترے بدل کر وکٹ پر ٹھک جا لگتی ۔ دُور دُور سے ٹیمیں اُن کو اپنی طرف سے کھیلنے کی دعوت دیتیں اور اِسی بہانے وہ اکثر راتوں کو گھر سے غائب ر ہنے لگے۔
اِدھرخالہ تنہا سوچ کی مدھم آنچ میں جلتی بھنتی رہتیں اور پھر ایسا وقت آیا کہ اُن کی راتیں مُصلّے پر گزرنے لگیں۔ یہ رشتہ اتنا مضبوط ہو گیا کہ نئی جا نماز کی سجدے کی جگہ کثرتِ سجدہ کی وجہ سے بے رنگ ہو چلی تھی ۔ وہ تو اِس پر بھی قانع تھیں کہ کاش کوئی ننھا معصوم وجود ہوتا، جس کو گود میں بھر کر کلیجے سے اُٹھتی ہُو ک کو ٹھنڈا کرلیتیں، مگر یہ نہ ہونا تھا اور نہ ہوا۔
اُن کے دل میں اولاد کی خواہش کم تو نہ ہوئی، پر عمر میں صدیوں جیسے دس سال ضرور بڑھ گئے۔ خالو پہ گزرتے زمانے اور بدلتے حالات کا کچھ اثر نہ ہوا، خالہ کی انوکھی فرمائش کے مقابل اُنہوں نے بھی اِنہیں اپنے مطالبوں کی یک نکاتی فہرست پکڑادی۔ ان کا مطالبہ جان کر خالہ نے تلخی سے سوچا،’مرد کو صرف اپنا اور وہ بھی ایک یہی شرعی حق کیوں یاد رہتا ہے‘۔ رشتوں کے اسیر زوجین کے درمیان فاصلے تو پہلے ہی تھے، اب جدائی بھی گہری ہوتی چلی گئی۔
جس دن چاندی کا پہلا تار اُن کے بالوں میں جِھلملایا، خالہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں، وہ اِ س بُری طرح بِلکیں کہ تین سال پہلے باپ کی میّت اُٹھتے سمے بھی نہ روئی تھیں۔ سامنے کی دیوار پر لگا ان کا ہم راز آئینہ بھی دھندلا گیا تھا، شاید رو رہا تھا کہ اُس نے کبھی خالہ کو ہنستا کھیلتا، زندگی سے بھرپور و مسرور دیکھا تھا۔خالہ کی زندگی کے افسانے کاخوب صورت موڑ تمام ہونے والاتھا۔ اُنہوں نے دل کے ارمانوں کی قبر پر تنہائی کی بھاری سِل رکھ کرخالو کی یک نکاتی فہرست کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے سوتن کی اجازت دے دی۔
چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں
تعارف روگ ہو جائے تو اُس کو بھولنا بہتر
تعلق بوجھ بن جائے تو اُس کو توڑنا اچھا
وہ افسانہ جسے انجام تک لانا  ہونا ممکن
اسے ایک خوب صورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

خوشی سے پھولے نہ سماتے خالو حضور نے عقد ثانی میں آٹھ پہر بھی نہ لیے اور کوٹھی میں تیسرے مکین کا اضافہ ہوگیا۔ خالو کے لیے وقت نے اُلٹی چال شروع کردی اور خالہ کے سنّاٹے میں اور اضافہ ہوگیا۔ چھ مہینے پہلے بِکے زرعی زمین کے ایک بڑے مربع نے اِس شادی کو فائنانس کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ تین مہینے تک تو پتا بھی نہ چلا کہ خالو کب آئے اور کب گئے۔ خالہ کو آمدو رفت کا بھلے پتا نہ چلا ہو، مگر پردے کے پیچھے کے مناظر سے خوب آگاہی تھی اور  کیسے نہ ہوتی  کہ عشرہ پہلے وہ خود بھی اِس پری کہانی کا ایک کردار رہ چکی تھیں، مرکزی کردار۔
زمانہ بدل رہا تھا اور ساتھ خالو کے سوچنے کا انداز بھی، اب کی بار خالو کو نائٹ کرکٹ کا بخار دس مہینے میں ہی چڑھ گیا،اور پھر ایک شام دونوں سوتنوں کی ملاقات ہوگئی۔ بھیگتی شام رات کی بانہوں میں گھلنے لگی تو فاصلے سمٹنے لگے۔ یہ فاصلے مٹے تو لب کھلے اور لبوں کے ساتھ حالات کے گتھم گتھا پیچ بھی کُھلنے لگے۔ دونوں عورتیں ایک دوسرے کا آئینہ ثابت ہوئیں۔ کربِ نِسواں کی گُتھی سلجھنے لگی تھی۔ اُن دونوں کی شکل ،صورت و عمر میں بھلے کوئی مماثلت نہ ہو، پر عورت ہونے کا دُکھ دونوں کا یکساں تھا۔
جاری ہے

———–
(اور یہیں سے شروع ہوتی ہے خالو کی’ درگت دی گریٹ‘ ، مرد وہ بھی ’ زن گزیدہ ‘ اپنی ہی جوروؤں کی تگڑم اور پھر چوکڑی کے ہاتھوں کِس کِس مشکل سے نہ گزرا ہوگا، یہ سب جاننے کے لیے اگلی قسط ملاحظہ کریں )

ShafiqZada
ShafiqZada
شفیق زاد ہ ایس احمد پیشے کے لحاظ سےکوالٹی پروفیشنل ہیں ۔ لڑکپن ہی سے ایوَی ایشن سے وابستہ ہیں لہٰذہ ہوابازی کی طرف ان کا میلان اچھنبے کی بات نہیں. . درس و تدریس سے بھی وابستگی ہے، جن سے سیکھتے ہیں انہیں سکھاتے بھی ہیں ۔ کوانٹیٹی سے زیادہ کوالٹی پر یقین رکھتے ہیں سوائے ڈالر کے معاملے میں، جس کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طمع صرف ایک ہی چیز ختم کر سکتی ہے ، اور وہ ہے " مزید ڈالر"۔جناب کو کتب بینی کا شوق ہے اور چیک بک کے ہر صفحے پر اپنا نام سب سے اوپر دیکھنے کے متمنّی رہتے ہیں. عرب امارات میں مقیم شفیق زادہ اپنی تحاریر سے بوجھل لمحوں کو لطیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ " ہم تماشا" ان کی پہلوٹھی کی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ کہتے ہیں جس نے ہم تماشا نہیں پڑھی اسے مسکرانے کی خواہش نہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *