بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط10)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

گزشتہ قسط:

باپ بیٹا دونوں سوار ہو کر نکلے، اپنی زمینوں کا چکر لگایا، پھر راجباہ کی  طرف گئے، وہاں بنے کچے راستے پر دونوں نے ریس لگائی ، چک کے چوک سے واپسی بھی گھوڑیاں دُڑکی چال میں آئیں ، اصغر نے کہیں بھی آگے نکلنے کی سعی نہ کی۔ڈیرے پہ  جب منشی نے باوا جی کو گھوڑی سے اتارا تو بے اختیار کہہ اٹھا۔۔۔“ مُرشد خیر ہووے ، تساں تے انج ای شاہسوار ہو ہجے تک ۔ ماشااللّہ “
باوا جی گھوڑی کی رال تھپتھپائی  ۔ گھوڑی نے پیار سے سر جھکایا۔ جیسے دعا دے رہی ہو، جو ہر گھوڑا اپنے سوار کو سواری کرنے پہ دیتا ہے، یوں لگا کہ بیٹے کے ہمراہ گھڑسواری سے باوا جی کی عمر دس سال کم ہوتے جوانی لوٹ آئی۔

نئی قسط:

بنک کا زونل آفس سٹی مین برانچ کے اوپر واقع ہے، وی پی صاحب کے کمرے سے پورا کمرشل ایریا نظر آتا ہے۔۔پارکنگ میں جب اصغر شاہ کی جیپ رُکی تو انہوں نے دیکھ لیا، احترام میں باوا وقار شاہ کو مین ڈور پہ  ریسیو کرنے نیچے اتر کے آگئے، باوا جی کی شخصیت کا سحر ہی ایسا  تھا کہ کوئی  کتنے بڑے عہدے پر ہو ان سے مؤدب ہو کے ملتا۔

وی پی صاحب نے اپنے مارکیٹنگ، پلاننگ، بلڈنگ اور لیگل کے افسر لائن اپ کر رکھے تھے۔ کانفرنس روم میں نشست ہوئی ۔ ان کے  فیلڈ سٹاف نے سائیٹ کا سکیچ بنا رکھا تھا، دونوں شاپس کا گودام ،برآمدہ ملا کے پلاٹ سائز 30 – 50 فٹ تھا، دو منزلہ عمارت کا رقبہ 3000 مربع فٹ بنتا تھا، شاہ پور والی چک کیٹیگری تھری میں آتا تھا جہاں کرایہ بہت کم ہوتا، دیگر ٹیکنیکل چیزوں  پر تفصیل سے بات ہوتی رہی، باوا جی خاموش رہے ، اصغرساتھ ساتھ سوال پوچھتا رہا، فائنل تخمینہ یہ بنا کہ تعمیر کی لاگت چھ لاکھ روپے ہو گی، جو بنک ایڈوانس کرایہ کی مد میں دے گا، پانچ سال کا معاہدہ ہو گا ، جس میں یہ رقم بنک ایڈجسٹ کرے گا، سالانہ اضافہ ڈال کے بنک ہر ماہ قریب آدھا کرایہ سات ہزار ادا کرے گا ، بنک کے ہیڈ آفس سے منظوری اور جگہ خالی کرانے کے لئے دو ماہ کا وقت رکھا گیا۔۔۔

باوا جی نے اصغر شاہ سے پوچھا، مطمئن ہو ۔؟ اس نے ادب سے سر جھکا کے ” جی ” کہا۔۔۔

آفر لیٹر پر باپ بیٹے نے دستخط کیے ، فرد ملکیت کی کاپی لف کی گئی، وی پی صاحب نے لنچ منگوا لیا، دو افسر رک گئے۔باقی چلے گئے، یوں مبارک سلامت کے ساتھ ، کھانا کھایا گیا۔

باوا جی نے وی پی صاحب سے کہا کہ آئندہ کاروائی  ان کے نام پہ  بھی اصغر شاہ کریں گے، اس امر کا اتھارٹی فارم بھی پُر ہو گیا، باوا جی نے دستخط کر دیئے،اصغر نے ناظر صاحب کے گھر پہلے ہی فون کر کے ذیشان کو بنک آنے کا کہہ رکھا تھا، کاروائی  مکمل ہونے تک وہ پہنچ گیا، افسررخصت ہوئے تو وی پی صاحب کا آفس ایک خانگی نشست گاہ بن گیا، باوا جی اور وہ اپنے آبائی  تعارف سے آپس میں ڈانڈے ملانے لگے، ذیشان نے اصغر کو امتحان کی ڈیٹ شیٹ لکھوائی ، پہلے دن اردو کا صبح اور اسلامک سڈیز کا پیپر شام کو دو دن بعد تھے، اگلے دن انگلش، پھر ایک دن چھوڑ کے میتھ اور اکنامکس اور بس ۔۔۔

باوا جی نے رخصت چاہی تو وی پی صاحب ٹھک سے بولے

میں نے تو آج کا دن صرف آپ سے ملاقات کے لئے وقف کیا ہے اور کوئی  مصروفیت نہیں  رکھی، آپ ادھر صوفے پہ  آرام سےتشریف رکھیں ، آپ سے ملنے کا کب سے اشتیاق تھا، بہن کے گھر ذیشان آپکے بارے  میں اتنی باتیں سناتا۔

بچوں نے موقع  غنیمت جانا، وہ اجازت لے کے نیچے کھسک گئے، وی پی نے چپڑاسی کو بلا کے اچھی سی چائے بنا کے لانے کو کہااور سائیڈ والے صوفے پر بیٹھ گیا، باوا جی بھی جوتے اتار کے ریلیکس ہو گئے

وی پی صاحب نے بتایا ۔ ، میرا نام غلام شبیر ہے بنک میں جی ایس ملک ہوں۔ ہم لوگ قطب شاہی اعوان ہیں

ضلع خوشاب سے تعلق تھا، وہاں نسل در نسل دشمنی اور مقدمے بازی سے تنگ آ کے میرے دادا ملتان آ گئے یہاں ہر چک میں جاننے والے آبادکار تو تھے، دادا تحصیل میں نائب محرر ہو گئے، والد صاحب اکیلی اولاد تھے انکی جان بچانے کو یہ ہجرت کی تھی خوشاب میں تو ہر نسل میں ایک دو قتل ہوتے آ رہے تھے، والد صاحب نے محکمہ انہار میں نوکری کی پھر کینٹ بورڈ میں رہے، گھر بنایا ، ہم بہن بھائی  کو پڑھایا، ناظر صاحب کے خاندان سے سے دادا کے تعلقات تھے،یوں وہ میرے بہنوئی  بن گئے، میں ایم اے اکنامکس کر کے بنک افسر بھرتی ہوا دس سال میں یہاں پہنچ گیا ہوں

چپڑاسی چائے لے آیا تو بیان میں وقفہ آ گیا۔۔۔۔باوا جی کو شیخ جی کی عرضی یاد آ گئی، چائے پیتے انہوں نے فرمائش ڈال دی ، کہ حاجی کے پوتے کو بنک میں جاب دلا دیں، ساتھ اپنے منشی کے بیٹے کو بھی چپڑاسی رکھنے کا کہا۔ وی پی صاحب نے فوراً حامی بھر لی کہ دونوں کو بے شک کل ہی بھیج دیں، ٹرینررکھ لیں گے برانچ کھلی تو چک بھیج دیں گے۔

بات پھر خاندان پر آئی  تو باوا جی نے بتایا کہ بڑے دو بیٹے اور دونوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں انکے بریف کوائف بھی بتلا دیئے، ساتھ اصغر کے بارے یہ فرمایا کہ چاہتے ہیں یہ بھی زندگی میں سیٹل ہو جائے۔

وی پی نے کہا کہ فکر نہ کریں انکے لئے اصغر اور ذیشان بیٹوں کی طرح ہیں وہ پہلے سے انکی کوچنگ کرتے رہتے ہیں۔ان کی اپنی تو بس دو بیٹیاں ہیں بڑی نے نشتر میں پچھلے سال ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا ہے چھوٹی ایف ایس سی میں ہے۔ وی پی صاحب جس اپنائیت اور گرویدہ ہو کے گفتگو کر رہے تھے باوا جی جیسے زیرک کے لئے مدعا سمجھنا مشکل نہ تھا، وہ جان گئے کہ خاندان ذات برادری سے بچھڑ کے آبائی  وطن چھوڑنے والے صاحب اولاد کے دل میں بچوں کے رشتے کرنے کی پھانس کیسے چُبھی رہتی ہے، لیکن انہوں نے کمال شفقت سے فرمایا،،

ملک غلام شبیر صاحب ہم سب اس گردش زمانہ کے شکار ہیں، نہ آبائی  پیشے رہے نہ آبائی  شہر اور گاؤں ، میں خود اکثر پریشان ہوتا ہوں کہ اس نئی نسل کو پرانی روایات ، رشتے، رواج، بلکہ بولی تک سے جب واقفیت ہی نہیں  رہے گی،تو یہ زندگی میں سوائے روزی روٹی گھر گاڑی مکان کے اور کیا کرے گی۔۔۔

وی پی صاحب کے چہرے پر اطمینان کی جھلک نمودار ہوئی  کہ انکی بات کا رسپانس مثبت ملا  ہے۔

انہوں نے باوا جی کو گھر چلنے کی دعوت دی، تو باوا جی کو میجر صاحب کی دعوت کا خیال آ گیا، دن کے تین بج رہے تھے، انہوں نے میجر کے گھر فون ملوایا، ان سے بات ہوئی ، اطلاع یہ تھی کہ کرنل صاحب زیارت سے کل واپس پنڈی پہنچ گئے ،ان کی بیگم بیمار ہیں اس لئے ملتان نہیں  آ رہے ۔ باوا جی نے اصغر کے پیپرز کا بتایا، یوں میس میں دعوت والی ملاقات کینسل ہو گئی، اتنی دیرمیں بچے اصغر اور ذیشان واپس آ گئے، باوا جی نے وی پی صاحب سے گھر جانے سے معذرت کی ، سب پارکنگ تک آئے اور باواجی ، اصغر کے ساتھ رخصت ہوئے۔

واپسی پے غلہ منڈی میں شیخ جی سے ملاقات کی، انہیں اطلاع دی کی بنک میں وی پی صاحب سے بات ہو گئی ہے،شیخ جی پوتے کے ساتھ جا کے ان سے مل لیں وہ ابھی اسے ٹرینی رکھ لیں گے، ساتھ یہ بھی کہا کہ منشی کا بڑا بیٹا بھی ساتھ لے جائیں اس کی نوکری بھی بنک میں ہو جائے گی، سرگوشی میں کہا ، خاموشی سے سٹاک نکالنا شروع کر دیں۔

اس دوران وہاں سے باوا جی نے گاؤں میں بڑے بیٹے اکبر شاہ سے کال کر کے وہاں کی خیریت دریافت کی ، دوسرا بیٹا میجر جعفرشاہ بھی گاؤں میں تھا اس سے بھی بات ہو گئی، وہاں کے معاملات ٹھیک تھے بس وہ باوا جی کی واپسی کا شدت سے انتظار کر رہےتھے، باوا جی نے اصغر کے امتحان بارے بتایا کہ اس کے بعد پروگرام بنے گا۔

باوا جی اب روزانہ شام کو دو تین میل گھڑ سواری کرتے۔پتہ نہیں ذہنی سکون سے اس ورزش کی ضرورت محسوس ہوئی یا ورزش سے سکون میسر ہوا ۔ روزانہ جو دن میں دوائیں پھانکتے تھے وہ بھی کم ہو گئیں اب صرف بلڈ پریشر اور ملٹی وٹامن کی ایک ایک گولی کھاتے، بھوک بھی لگتی اور نیند بھی اچھی آنے لگی، اصغر پیپرز دینے چلا جاتا تو وہ اپنی پرانی روٹین کے مطابق منشی کے ہمراہ دونوں گھوڑیوں پہ  چک جانے لگے۔

اگلے ہفتے میں کام بھی بہت ہوئے، شیخ جی کے پوتے اور منشی کے بیٹے کو بنک میں ٹرینی۔ زیر تربیت یا سکھلائی  پر مین برانچ میں ہی نوکری پر رکھ لیا گیا، شیخ جی نے گودام خالی کرا دیئے۔ بنک والوں نے اپنے اثرو رسوخ سے برانچ کھولنے کی منظوری لے لی، بنک میں بلڈنگ کی تعمیر کے لئے امپرسٹ اکاؤنٹ کھل گیا، ٹھیکیدار چن لیا گیا۔ اور سائیٹ پہ  کام شروع ہو گیا، باوا جی نے منشی کو اعتماد میں لے کے اور اکبر شاہ سے فون پہ  بات کر کے منشی کی بیٹی اور داماد کو گھریلو کام کاج کے لئے گاؤں میں اپنے گھر بھجوا دیا۔ دوسرا حاطہ بھی منڈی کے مزدوروں اور منشی کے بیٹوں سے جو اسے بطور رہائش گاہ استعمال کرتے تھے، لے کے ٹھیکیدار کو مٹیریل اور لیبر رکھنے کو دے دیئے۔۔۔۔
شاہ پور والی چک میں اب بائی  پاس روڈ بننے سے یہاں پرانے حاطے توڑ کے نئے گھر بننے لگے تھے،اصغر شاہ کے پیپرز ہو گئے اور باوا جی کی واپسی کا پروگرام بن گیا تو دعوتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ملک غلام شبیر ، وی پی صاحب کے ہاں بڑی پُرتکلف دعوت ہوئی، جس میں انکی بیٹیوں کے پکائے کھانوں اور انکے گھریلو امور پر گرفت کی خوب تشہیر ہوئی۔

میجر صاحب نے بھی آفیسرز میس میں ڈنر دیا جس میں ان کے ہم زلف فیملی کے ساتھ شریک ہوئے ان کی بڑی بیٹی نمایاں تھی، میجر صاحب کی بیگم نے بطور خاص اسے اصغر سے ملوایا اور ان کی گپ شپ کرائی،شیخ جی نے بھی حسب استطاعت وی پی صاحب کو سپیشل بلا کے باوا جی کے ساتھ گھر پہ ان کو لنچ دیا۔

لیکن سب سے اہم دعوت تاجی شاہ کا کلب میں ڈنر تھا، جس میں اس کے کزن جو جج صاحب کے بیٹے اور انکے سالے تھے لاہور سے فیملی کے ساتھ آئے، ان کی بیٹی بھی اصغر کی ممکنہ امیدوار طور کےمتعارف  پر کرائی  گئی، ساتھ آئل کمپنی کے سی ای او ریٹائرڈ کرنل صاحب اور متعلقہ اداروں کے تین چار افسران بھی فیملی کیساتھ شریک تھے۔
تاجی شاہ نے اصغر کو چھوٹے بھائی  کی طرح سب سے متعارف کرایا، اس کی کاروباری اہلیت کی خوب تعریف کی۔۔۔۔
اصغر تو ان سب تقریبات میں نروس رہا لیکن باوا جی نے جو اس خاطر مدارات کے مقاصد سے واقف تھے خوب انجوائے کیا، ان کی شگفتہ گفتگو اور بذلہ سنجی ہر محفل پہ  چھائی  رہی۔
اصغر شاہ کو یہ فائدہ ہوا کہ زندگی میں پہلی بار اسے اپنے باپ سے اتنی قربت اور بے تکلفی میسر آئی  ، ہر دعوت کے بعد باپ بیٹے میں باہم تبصروں نے اس کی جھجک ختم کر دی، اب وہ ہر معاملے پر اعتماد سے باتیں کرنے لگا۔باوا جی بھی اسے بے تکلفی سے مخاطب کرتے، ہاں یہ بھی تھا کہ روایتی بزرگ کی طرح اسے ہر موقع  کے مطابق اپنی یاداشت سے کہانیاں ضرور سناتے، ان چند دنوں میں اصغر شاہ اپنی تین چار پشتوں میں ہوئی  شادیوں، بزرگوں کے افیئرز، رقابت ، مسابقت ، غرض سارے احوال سے واقف ہو گیا، خاص طور پہ  اسے اپنے بڑے بہن بھائیوں کے رشتے ہونے اور جہاں نہ ہوئے اس تفصیل نے ان معاملات پر ذہنی بالیدگی اور میچورٹی دی۔

جو باتیں باوا جی پہلے سناتے وہ سمجھ نہ پاتا اب ان کی توجیہات وہ سمجھ گیا جیسے۔۔اکثر جب وہ یہ کہتے کہ میرا بس چلتا تو بیٹی فوجی افسر سے ہی بیاہتا لیکن کسی فوجی افسر کی بیٹی بہو نہ بناتا ۔۔
وہ یہ سن کے حیران ہوتا لیکن اب جو کچھ اس کے سامنے آشکار کیا گیا، اس سے وہ اپنے والد کے زیرک دانش فہم اور تجربے کا معتقد ہو گیا۔
باوا جی نے اب اصغر سے اپنی زندگی کے نازک ترین پہلو پہ  بات کی، وہ یہ جانتے تھے کہ اولاد جوان ہو جائے تو اس کے ساتھ اپنی زندگی کی مشکلات، ناکامی اور حادثات بھی شیئر کرنے چاہئیں کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ والدین تو پھولوں کی سیج پر عمر گزار آئے اور ممکنہ مسائل سے نپٹنے کو تیار بھی رہے، تو انہوں نے اصغر کو پاس بٹھا کے بہت پیار سے کہا،
“بیٹا سُنو ، مجھے یہ حقائق تمہارے بڑے بہن بھائیوں کو بتانے کی ضرورت نہیں  پڑی کہ وہ تو ان سے آگاہ تھے گواہ تھے۔
مجھے میری دادی نے پالا تھا، شادی کے بعد میرے سارے کام منشی کرتا، تمہاری والدہ تو بیمار رہتی تھی، اولاد ہونا تو امر ربی ہے، جس پر میں ہمیشہ شکر ادا کرتا ہوں، تمہاری بڑی بہن نے بہت بچپن سے گھر کا نظام سنبھالا، تم چھوٹے تھے تمہاری والدہ فوت ہوئی تو دوسری شادی کر سکتا تھا، لیکن گدی ، خاندان اور تم لوگوں پر کوئی  اثر نہ پڑ جائے اس لئے میں نے نہیں  کی، تمہاری پرورش میں ماں کی کمی پوری کرنے کی کوشش کی لیکن خلا پُر نہ کر سکا، میں نے انتظار کیا تم سمجھدار ہو جاؤ تو رموز زندگی تمہیں بتاؤں ، اب تم اس قابل ہو تو کاوش کرتا ہوں،دعا بھی کرتا ہوں، تمہیں موقع  دے رہا ہوں کہ میری زندگی میں بہن بھائیوں رشتہ د اروں خاندان ملازموں اور دیگر سے معاملات کرو، دنیا ویسی نہیں  ہوتی جیسی دِکھتی ہے، میں تمہاری سوچ اور معاملہ فہمی سے مطمئن ہوں بس فیصلے کرنے سے پہلے جو  سوچ  لو، تو اس پہ  قائم رہنا۔
باوا جی شاید بہت محتاط تھے کھل کے بات ابھی بھی نہیں  کر پا رہے تھے، جوش جذبات میں رو پڑے۔۔۔
اصغر بھی ان کے گلے لگ کے رونے لگا، انہوں نے پیار سے بہلا لیا، اصغر بھی سنبھل گیا تو ہنس کے بولا
ابا جی آپ نے آنٹی زہرا سے شادی کر لینی تھی ناں ، سُنا ہے وہ ہر شرط مان کے آپ سے بیاہ  کرنا چاہتی تھی !
باوا جی نے لمبی سانس لی اور کہا، اصغر میں تمہیں کسی سوتیلی ماں کے حوالے نہیں  کر سکتا تھا۔۔
باہر منشی کے کھانسنے کی آواز آئی ، دونوں نے چہرے صاف کیے باوا جی نے اسے آواز دی ۔ چائے نہیں  لائے تم ۔۔
وہ فلاسک اور کپ اٹھائے بیٹھک کے اندر آیا، پرانا سنگی تھا صورت حال سمجھ گیا، بات کرنے کو بولا۔۔
مُرشد آپ نے بشیر کو تو بنک میں بھرتی کرا دیا اب اس چھوٹے ساجُو کو بھی کسی کام لگائیں آڑھت تو بند ہو گئی اور یہ دوبارہ سکول بھی نہیں  جاتا، دس جماعت پاس کرتا تو کوئی  چنگی نوکری کر لیتا،اصغر نے خود کپ پکڑے چائے انڈیلی اور باوا جی کو پکڑائی۔
باوا جی نے کہا مانیا ویکھ تو اور میں تو اب کام کاج سے فارغ ہو رہے ہیں اب اصغر اور ساجد کام سنبھالیں گے۔
ساجد اب اصغر کے ساتھ رہے گا جیسے تم میرے ساتھ تھے، وہ سمجھدار ہے اور تم سے بہتر کاریگر ہے ہر شے کا !
آج سے وہ بیٹھک پہ  رہے گا، گیراج کے ساتھ والا کمرہ خالی کراؤ اور اس کا بیڈ روم تیار کرو۔
اصغر حیران رہ گیا کہ باوا جی کو کیسے اس کی یہ بات بن کہے پتہ چل گئی کہ وہ ساجد کو ساتھ رکھنا چاہتا ہے !

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *