اوئے آپ سے مخاطب ہوں۔۔۔عارف لالا

میرے پشتون دوست وزیرستان یا پشتون علاقے میں فوج کی کسی بھی کاروائی پر فوراً مجھ سے جواب مانگنے لگتے ہیں۔اور کسی حد تک مجھے ذمہ دار سمجھتے ہیں کہ “لالہ اپنی فوج کی حرکتیں ملاحظہ کریں۔”

بھائیوں اگر یہ میری فوج ہے تو کیا آپ کا تعلق افغانستان یا اسرائیل سے ہے؟ یا کون سے حرامی النسل نے آپ کو میرے بارے بتایا ہے کہ میں ڈی جی آئی ایس آئی آر ہوں۔ یا آئی ایس آئی کا اسٹیشن کمانڈنگ آفیسر ہوں؟۔

میں بھی آپ کی طرح مزدور کار بندہ ہوں۔ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے روز مرتا ہوں اور اگلی صبح ان کے ستے ہوئے چہرے دیکھ کر مجبورا ًپھر سے جی اٹھتا ہوں کہ رات تک ان کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا سکوں۔
میں فوج کے مقدمے نہیں لڑتا۔ میں نے ہمشہ ریاست کی بات کی ہے۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ فوج وزیرستان میں غلط کررہی ہے۔ تو مقامی جی او سی کے پاس جرگہ کی شکل میں چلے جائیں اپنا احتجاج ریکارڈ کروا دیں۔ یہ آپ کا آئینی حق ہے۔ جس سے کوئی بھی آپ کو روک نہیں سکتا۔ بس آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ فوج کوئی شجرہ ممنوعہ نہیں ہے نہ آسمان سے نازل کی گئی کوئی مقدس مخلوق ہے۔ میرے اور آپ کی طرح کے لوگ ہیں۔ ان سے بات کریں۔ اگر خیسور میں چرواہےکا قتل اس کے معصوم بیٹے کے سامنے فوج نے کیا ہے،تو جی او سی میرانشاہ براہ راست اس معاملے کے ذمہ دار ہیں کہ وہ تفتیش کرائیں اور فوج کو اس مشکل وقت میں مزید ایسی کسی بھی کاروائی سے روکیں۔ کیونکہ مشرف کی لگائی ہوئی آگ اتنی جلدی ٹھنڈی ہونے والی نہیں لگتی۔
میں نے آج تک کسی فوجی میس میں کھانا تو درکنار، مجھے تو ابو علیحہ یا شاہجہاں سالف کی طرح لاپتہ ہونے کا شرف بھی حاصل نہیں رہا ہے، کہ فوجی دال کھائی ہو۔ پس درجہ بالا میری بکواس سے ظاہر ہوا کہ میں کسی کے قول، فعل یا کردار کا ذمہ دار نہیں ہوں۔

میرے پاس رہنا ہے تو کھوتی کہانی پڑھو اور میرے دن بدن کمزور ہوتے بازو دیکھو۔ جب سے خان صاحب برسر اقتدار آئے ہیں،بھوک و افلاس سے وزن گِرا رہا ہوں۔ اور یار دوست اسے عیاشی قرار دیکر دوسری شادی کی منصوبہ بندیوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ حالانکہ میرا بس نہیں چلتا کہ پہلی والی کو لعنت دے کر گھر سے دفع کراؤں۔یا وہ مجھے خوشی خوشی طلاق دے کر گھر سے نکلوا دے۔ اور میں خود کو دو لعنتیں دے کر حافظ النساء کی طرح مردانہ زندگی گزاروں اور سب کنواروں کو یہ بتاؤں کہ اپنی زندگی تباہ نہ کریں۔ جب تک معاشی حالات ٹھیک نہیں ہوتے۔ شادی کا سوچے وی ناں۔ صابن اُٹھا، اندرجا ،اگر صابن بھی مہنگا ہے تو کیلے کے چھلکے آزما۔ کیونکہ 1997 کے تجربات سے ثابت شدہ ہے کہ کیلا جلد کیلئے بہت مفید ہے اور قبض کشاء بھی ہے۔

کرنل عثمان گل پشتون نہ بنیں کہ جمعہ کے جمعہ نہاتے پھیرو۔ نہانے کیلئے جمعہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بندہ ویسے بھی نہا سکتا ہے۔ اگر وہ صلاحیت بھی نہیں تو مر جاؤ تم لوگ۔ اس ملک میں پھر آپ کو جینے کا کوئی حق بھی نہیں ہے۔

آپ سب سے التماس ہے کہ مجھے ایسے واقعات کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ جیسے پچھلے دنوں عمر علی کی وجہ سے مسکان خٹک واقعہ میں میری شلوار بیچ چوک لٹک گئی تھی۔اور میں ریاستی ادارے کو ٹارگٹ کرنے پر گرفتار ہوتے ہوتے بچا تھا۔میں عمر علی کو ایف آئی اے ساتھ لیکر گیا کہ ہتھکڑیاں اکیلے میں نہیں پہنوں گا۔آپ کو یہ زیور پہناؤ
گا۔ شکر ہے کہ وہاں کا آفیسر اپنا پرانا فین نکلا۔ لہذا قوم پر احسان عظیم کرکے مجھے معاف کیا،کہ کم از کم قوم “کھوتی کہانی” سے محروم نہ رہے۔
اگر مجھے کچھ ہوا یا لاپتہ ہوا تو میں فوراً بک دوں گا کہ میں بابا کوڈا کی طرح پیڈ کانٹینٹ ہوں۔اور مجھے یہ پیسے آپ دے رہے ہیں۔ تاکہ انتشار والی صورتحال پیدا ہو۔۔اور ملک کی بدنامی ہو۔

سمجھ گئے؟

اوئے آپ سے کہہ رہا ہوں۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *