• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • عورت 7 پردوں میں بھی سب کر سکتی ہے اس کو چھوڑیں اور حکومت کرنا سیکھیں۔۔۔غیور شاہ ترمذی

عورت 7 پردوں میں بھی سب کر سکتی ہے اس کو چھوڑیں اور حکومت کرنا سیکھیں۔۔۔غیور شاہ ترمذی

الف لیلی عرب داستانوں کی مشہور کتاب ہے جو ایک ہزار ایک کہانیوں پر اس طرح مشتمل ہے کہ ہر کہانی جب ختم ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ اگلی کہانی اسی پچھلی کہانی کا تسلسل ہوگی لیکن درحقیقت وہ اپنے طور پر ایک الگ کہانی ہوتی ہے- الف لیلی کی پُرسرار, دلچسپ اور تجسس سے بھرپور کہانیوں کا آغاز شہر یار بادشاہ اور اس کے بھائی کی کہانی سے ہوتا ہے- کہانی پوری تو بیان کرنا اس کالم میں مشکل ہے مگر اس کے تقریباً وسط سے بات شروع کرتے ہیں- جس میں شہر یار بادشاہ اور اس کا بھائی شاہ زمان اپنی اپنی بیویوں کی بےوفائی اور بےراہ روی کا راز جان لینے کے بعد بھیس بدلے ہوئے یہ دونوں بھائی محل کے چور دروازے سے باہر آئے اور کئی دن اور کئی رات چلنے کے بعد سمندر کے کنارے ایک سبزہ زار میں پہنچے جہاں ایک چشمہ بہہ رہا تھا اور بیچ میں ایک درخت تھا۔ اس چشمے سے انہوں نے پانی پیا اور بیٹھ کر سستانے لگے۔

جب ایک پہر دن گزر چکا تو وہ کیا دیکھتے ہیں کہ سمندر میں تلاطم اٹھا اور اس میں سے ایک سیاہ ستون سا اوپر کی طرف بڑھا۔ جب انہوں نے یہ دیکھا تو دونوں بھائی ڈر کے مارے درخت کے اوپر چڑھ گئے جو بہت اونچا تھا اور دیکھنے لگے اب کیا ہوتا ہے۔ وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک لمبا چوڑا بڑی اور چپٹی کھوپڑی والا دیو سر پر ایک صندوق لیے خشکی میں آنکلا اور اسی درخت کے پاس آپہنچا جس پر یہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے۔

وہاں بیٹھ کر اس نے صندوق کھولا اور اس میں سے ایک بڑا پیالہ نکالا۔ پھر اس نے وہ پیالا کھولا اور اس میں سے ایک نوجوان لڑکی نکلی جس کا بدن سڈول اور جس کے چہرے کے آگے سورج مات تھا-

دیو نے اس لڑکی کی طرف دیکھ کر کہا کہ ”اے شریف زادیوں کی سرتاج جس کو میں نکاح کی رات اٹھا لایا ہوں‘ اب میں چاہتا ہوں کہ ذرا سو لوں“- یہ کہہ کر وہ لڑکی کے زانوںپر سر رکھ کر سوگیا۔ لڑکی نے سر اوپر اٹھایا تو ان دونوں بادشاہوں کو درخت کے اوپر بیٹھا دیکھا۔ یہ دیکھ کر اس نے دیو کے سر کو اپنے زانو پر سے اٹھا کر زمین پر رکھ دیا اور خود درخت کے نیچے آکر کھڑی ہوگئی اور اشارے سے کہنے لگی کہ اتر آؤ اور دیو سے نہ ڈرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ خدا کے واسطے ہمیں بدکاری سے معاف رکھو۔

لڑکی نے کہا کہ اگر تم نہ اتروگے تو میں دیو کو جگا کر تمہارے پیچھے لگا دوں گی اور وہ بری طرح سے تمہیں موت کے گھاٹ اتارے گا۔ ڈر کے مارے وہ دونوں اُتر کر اس کے پاس آگئے۔ وہ قریب آئی اور کہا کہ آؤ میرے اوپر آؤ ورنہ میں ابھی دیو کو جگاتی ہوں۔ دیو کے ڈر سے شہر یار نے اپنے بھائی شاہ زمان سے کہا کہ بھائی اس کا کہنا مان لو۔ اس نے جواب دیا کہ نہیں پہلے آپ شروع کیجیے۔۔

وہ یہی بات کر رہے تھے کہ پہلے کون اس سے صحبت کرے کہ لڑکی نے کہا کہ میں دیکھتی ہوں کہ تم دونوں نخرے کر رہے ہو اور اگرتم نے فوراً وہ فعل شروع نہ کیاتو میں ابھی دیو کو جگا دوں گی۔ دیو کے ڈر کے مارے دونوں نے اس کے ساتھ صحبت کی۔ جب دونوں فارغ ہو چکے تو اس نے اپنی جیب سے ایک تھیلی نکالی جس میں ایک ہار کی شکل میں پانچ سو ستر (570) انگوٹھیاں پروئی ہوئی تھیں اور ان سے کہا کہ تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟-

انہوں نے کہا‘ نہیں۔
اس نے کہا کہ یہ ان لوگوں کی انگوٹھیاں ہیں جو دیو کی موجودگی میں مجھ سے ہم بستر  ہوئے ہیں۔ تم دونوں بھائی اپنی اپنی انگوٹھی مجھے دے دو۔

انہوں نے بھی انگوٹھیاں اتار کر اسے دے دیں۔ اس نے کہا کہ سنو، یہ دیو مجھے نکاح کی رات اٹھا لایا ہے اور ایک پیالے میں بند کرکے اس صندوق میں رکھا ہے اور اس صندوق میں سات قفل لگا کر مجھے گہرے اور موجزن سمندر کی اتھاہ میں پوشیدہ رکھتا ہے مگر اسے یہ خبر نہیں کہ ہم عورتیں اگر کچھ چاہیں تو دنیا کی کوئی چیز ہمیں روک نہیں سکتی –

الف لیلی کی کہانی تو ظاہر ہے کہ اس سے بھی آگے چلی اور اس میں مزید قصے شامل ہیں- ہم اپنی بات کو ساڑھے پانچ سو سال قبل مسیح تاریخ کے دانا شخص کنفیوشس کی طرف لے چلتے ہیں جوچین میں رہتے تھے- ان کے پاس اس وقت کے بادشاہ،شہزادے مشورہ لینے آتے تھے کہ آپ ہمیں بتائیں کہ ہم کیسے حکومت کریں, ہم کیا کریں۔ ایک دفعہ ایک شہزادہ نیا نیا بادشاہ بنا تھا- وہ کنفیوشس کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ آپ ہمیں مشورہ دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟

کنفیوشس نے کہا کہ
“ایسا کرو کہ سب سے پہلے اپنی معیشت کو ٹھیک کرو کیوں کہ جب معیشت ٹھیک ہوگی تو لوگوں کے پاس روٹی ہوگی کھانے کو،، لوگوں کے پاس گھر ہوگا، چھت ہوگی اور لوگ تم سے محبت کریں گے تمھارا اقتدار ہمیشہ چلتا رہے گا”-
تو جوشہزادہ نیا نیا بادشاہ بنا تھا اس نے کہا
“اچھا بڑا زبردست مشورہ دیا ہے ۔ اور بتائیں اور میں کیا کروں” ؟-
تو کنفیوشس نے آگے سے ایک اور مشورہ دیا کہ
” اور ایسا کرو کہ اپنی ایک فوج رکھو مضبوط فوج رکھو اس سے  لوگوں کو تحفظ کا احساس ہوگا اور  تمھارا ملک  محفوظ رہے گا”-

نوجوان بادشاہ نے کہا
” اچھا بہت اچھا مشورہ ہے۔۔۔اور کچھ ؟

تو کنفیوشس نے کہا کہ اور ایسا کرو کہ لوگوں کو تمھارے اوپر اعتماد رہنا چاہیے ، لوگوں کا اعتماد کبھی ختم نہ کرنا اپنے اوپر سے ، کیونکہ لوگوں کا اعتماد تمھارے اوپر رہے گا تو ہمیشہ تم حکومت کرتے رہوگے اور تم کامیاب حکمراں کہلاؤ گے”-

بادشاہ نے کہا بہت اچھا مشورہ دیا ہے آپ نے اور اٹھ کر جانے لگا تو اچانک وہ رکا- اس نے کنفیوشس سے پوچھا کہ
” اچھا یہ بتائیں استاد کہ اگر کبھی برا وقت آجائے اور مجھے آپ کے مشورے کی ان تین چیزوں میں سے ایک چیز چھوڑنی  پڑے تو میں کونسی چیز چھوڑوں؟ یعنی معیشت ، فوج، یا اعتماد “-

تو کنفیوشس نےہنس کر آگے سے جواب دیا کہ
” تم فوج کو چھوڑ دینا۔ اس لئے کہ اگر معیشت ہوگی تو فوج دوبارہ بن جائے گی”-

تو نوجوان بادشاہ  اس کا جواب سن کر سر جھکا کر آگے چلنے لگا تو جب وہ دروازہ کے پاس پہنچا تو پلٹا تو کنفیوشس نے جو پیچھے چل رہا تھا بادشاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا کیا ہوا   خیریت؟

تو بادشاہ نے کہا کہ
” آپ نے بڑی عجیب بات کی ہے! مجھے آپ یہ بتائیں کہ آپ نے 3 میں سے 2 آپشن بتائے ہیں کہ معیشت کو رکھو اور فوج کو چھوڑ دو مگر میں آخری دو آپشن میں سے کسی ایک کو چھوڑنا چاہوں تو میں کس چیز کو چھوڑ دوں یعنی معیشت کو چھوڑ دوں یا اعتماد کو چھوڑ دوں”؟ –

تو کنفیوشس نے کہا کہ
” بادشاہ  معیشت کو بھی چھوڑ دینا مگر اعتماد کو ختم نہیں ہونا چاہیے یہ لوگوں کو معلوم ہو کہ ہمارا حکمران بھی ہماری طرح آدھی روٹی کھارہا ہے ، وہ بھی سڑک پر سورہا ہے ہماری طرح، وہ بھی ہمارے جیسی  زندگی بسر کر رہا ہے اعتماد نہیں کھونا چاہیے تمھارا، اعتماد رہے گا تو تمھاری حکومت چلے گی لوگ تم سے محبت کریں گےاور تم ہمیشہ حکومت کرتے رہوگے”-

ان دونوں حکایتوں میں ملک اور جمہوریت کے سارے مسائل کا حل موجود ہے- کنفیوشس کی سنیں- امریکی لہجے میں انگریزی بولنے والوں اور والیوں کو بالکل چھوڑیں- ملکی ماہرین پر بھروسہ کریں, اقتصادیات جب بہتر ہونی ہوئی  تب ہو گی،فی الحال عوام پر اپنا اعتماد قائم کیجیے کیونکہ مسلسل وعدہ خلافیوں کی وجہ سے عوام کی نظر میں آپ کا اعتماد پاش پاش ہو چکا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *