ڈیپریشن کا علاج کیسے کریں؟۔۔۔(قسط1)حافظ محمد زبیر

یہ بات درست نہیں ہے کہ مذہبی شخص کو ڈیپریشن نہیں ہوتا۔ ڈیپریشن ایک بیماری ہے تو جس طرح مذہبی شخص کو بخار ہو سکتا ہے تو اسی طرح ڈیپریشن بھی ہو سکتا ہے بلکہ ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ بعض کیسز میں مذہبی لوگوں کو ڈیپریشن زیادہ ہوتا ہے۔ تو جس طرح بخار کی وجوہات ہوتی ہیں جیسا کہ وائریل انفیکشن ہے یا بیکٹیریئل انفیکشن ہے وغیرہ وغیرہ تو اسی طرح ڈیپریشن کی بھی وجوہات ہوتی ہیں۔ تو بخار کی وجوہات ختم کریں گے تو بخار ختم ہو جائے گا اور یہی معاملہ ڈیپریشن کا بھی ہے کہ اس کی وجوہات تلاش کر کے انہیں ختم کریں تو ڈیپریشن جاتا رہے گا۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ سائیکالوجی میں ڈیپریشن کا عام طور معنی اداسی (sadness) کیا جاتا ہے کہ ایک بندہ اداس ہے یا اس کا کچھ کرنے کو دل نہیں کر رہا تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ڈیپریس ہے۔ آسان الفاظ میں ڈیپریشن سے مراد طبیعت میں گراوٹ ہے یعنی آپ کی طبیعت ایسے گر جائے کہ آپ خود بھی بستر پر گر جائیں اور اٹھنے کو دل نہ کرے، عزم اور ہمت باقی نہ رہے، بس یہی کیفیت ہو کہ پڑے رہو، حالات تو بدلنے والے ہیں نہیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ بخار کا علاج محض دعا سے نہیں کرتے بلکہ دواء پہلے لیتے ہیں اور پھر دعا کرتے ہیں، یہی معاملہ ڈیپریشن کا بھی ہے۔ تو یہ صرف دعا سے جانے والا نہیں ہے بلکہ اس کا علاج کرنا پڑے گا۔

شاید دور حاضر میں ڈیپریشن کی سب سے بڑی وجہ انداز فکر ہے۔ ہم سب کا سوچنے کا ایک انداز بن چکا ہے، مذہبی آدمی ہو یا غیر مذہبی۔ ہمیں اگر ڈیپریشن سے نکلنا ہے تو سوچ کے اس اسٹائل سے نکلنا ہو گا۔ سوچ کا یہ انداز معاشرے میں رائج ہے، لہذا نہ چاہتے ہوئے بھی ہم پر غالب آ جاتا ہے۔ سوچ کا یہ انداز ہمارے لائف اسٹائل نے بھی پیدا کیا ہے، میڈیا نے بھی، ماحول نے بھی اور معاشرے نے بھی۔ بس اپنی سوچ کو ایک دوسرا رخ دینے کی کوشش کریں، مثبت رخ کہ ڈیپریشن عموما منفی سوچ سے پیدا ہوتا ہے۔ اور ہر شے کا ایک مثبت رخ ہوتا ہے، آپ نے صرف ذہن کو اس کی طرف لگانا ہے۔ دنیا میں کوئی شیء ایسی نہیں کہ ہر اعتبار سے نیگیٹو ہو۔ اللہ عزوجل نے پر چیز میں نیگیٹو کے ساتھ پازیٹو پہلو بھی رکھ دیا ہے، بس اس پازیٹو کو دیکھنا شروع کر دیں تو ڈیپریشن ختم ہونا شروع جائے گا۔

ذہن کی سوچ کی مثال دریا کے پانی کے بہاؤ کی سی ہے، اس کے مخالف سوچنا دراصل دریا کی سمت کے مخالف تیرنے جتنا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر عادت پڑ جائے تو پھر دریا کی مخالف سمت تیرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ تو شروع میں یہ مشکل لگے گا کہ ذہن اگر ہر چیز میں نیگیٹو پہلو کی طرف دوڑ پڑتا ہے تو اسے اس کے پازیٹو رخ کی طرف موڑنا اور اس پر سوچتے چلے جانا مشکل ہو گا۔ لیکن ایک تو تعوذات کا اہتمام کریں یعنی وہ دعائیں کہ جن کے شروع میں اعوذ باللہ آتا ہے اور دوسرا ذہن کو جس قدر ممکن ہو ہر چیز میں پازیٹو رخ پر سوچنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کریں، بھلے ذہن پانچ سات سیکنڈ کے لیے ہی سوچ پائے لیکن مسلسل ایسا کرنے سے یہ دورانیہ بڑھتا چلا جائے گا۔ اور جیسے جیسے یہ دورانیہ بڑھے گا تو ڈیپریشن بھی کم ہوتا چلا جائے گا۔

ڈیپریشن آج کل کے دور میں اتنا ہی عام ہے جتنا کہ سر درد اور پیٹ درد، تو اس سے پریشان نہیں ہونا ہے۔ بس جیسے سر درد کی وجہ اوور برڈن (over burdon) ہونا ہے یا پیٹ درد کی وجہ کچھ ان ہائیجینک (unhygienic) کھا لینا ہے تو اسی طرح ڈیپریشن کی وجہ بھی نیگیٹو سوچ ہے، جو کبھی کبھار آ جائے جیسے سال میں دو چار مرتبہ تو حرج نہیں لیکن مسلسل ہو تو زندگی عذاب ہے۔ تو اس مسلسل بیماری سے بچنا چاہیے جو بستر پر گرا دے۔ اور ڈیپریشن کی دوسری وجہ تنہائی ہے، اس کو دور کریں۔ جب میاں بیوی کا آپس میں تعلق ہو کر بھی نہ ہو تو وہ ڈیپریشن میں چلے جاتے ہیں کیونکہ وہ ساتھ ہو کر بھی تنہائی محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ تو اس کی تنہائی تو دور ہو سکتی ہے کہ جس کا لائف پارٹنر یا دوست نہیں ہے لیکن جو لائف پارٹنر اور دوست کے ہونے کے باوجود تنہا ہو تو اس کی تنہائی دور کرنا ناممکن ہے۔ تو وہ لائف پارٹنر کو نہیں بدل سکتا لیکن دوست تو بدل سکتا ہے ناں۔

تو نارمل لوگوں کو دوست بنائیں، ان کی کمپنی میں کچھ وقت گزاریں، ان سے تبادلہ خیال کریں تو خود سے پازیٹو سوچنا شروع کر دیں گے۔ تو ڈیپریشن کا ایک علاج مثبت سوچ ہے، دوسرا مثبت سوچ رکھنے والوں کی صحبت میں بیٹھنا اور تیسرا قناعت پسند ہونا ہے۔ قناعت پسند آدمی کو کبھی ڈِپریشن کی بیماری نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیپریشن کی ایک بڑی وجہ دور پار کی وہ منزلیں بھی ہیں کہ جو ہمارے خوابوں میں تو ہیں لیکن ان تک پہنچنے کی سکت ہماری ٹانگوں میں نہیں ہے۔ تو زندگی کے مقاصد (goals) اگر چھوٹے ہوں تو انسان چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے خوش ہونا سیکھ جاتا ہے۔ اور اگر خواہشات کی فہرست بہت لمبی ہے تو بہتوں کے پورا ہو جانے سے بھی خوشی نصیب نہ ہو گی، بلکہ غمگین ہی رہیں گے۔ [جاری ہے]

حافظ محمد زبیر
حافظ محمد زبیر
ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی ہیں اور کامساٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ آپ تقریبا دس کتب اور ڈیڑھ سو آرٹیکلز کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *