رافیل ! بھارت کی تاریخی بے وقوفی ۔ ماسٹر محمد فہیم امتیاز

اگر آپ کو لگ رہا ہے بھارت نے رافیل لے کر فضائی طاقت کے بیریئر توڑ دیے ہیں تو آپ مکمل طور پر غلط ہیں!

دراصل طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے یہ رافیل خریدے گئے ہیں، یہ ایڈوانس نہیں چلا انڈیا، یہ ضرورت تھی انڈیا کی، کیونکہ موجودہ کوئی بھی طیارہ پاک فضائیہ کے مقابلے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا!

جس کا ثبوت 27 فروری کو لڑائی میں زمیں بوس ہونے والے دو طیاروں کے علاوہ فنی خرابی کے باعث گرنے والے اس ایک سال کے اندر اندر ہی بھارت کے تقریباً 15 طیارے بھی ہیں،اس کے علاوہ 27 فروری کے بعد مودی کی تقریر میں چیخیں کہ(آج اگر رافیل ہوتا تو یہ نہ ہوتا وغیرہ وغیرہ) اور بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا یہ بیان کہ جتنے پرانے طیارے ہم اڑا رہے اتنی پرانی کار بھی کوئی نہیں چلاتا۔۔ بھی ہیں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ اس وقت جب بھارتی معیشت ٹوٹے ہوئے شہتیر کی مانند گر رہی ہے تقریباً پندرہ بینک دیوالیہ ہو گئے ہیں، انٹرنیشنل کرنسی ایکسچینجرز پر نو انڈین کرنسی کے بورڈ آویزاں ہو گئے ہیں، ایسے  وقت میں انڈیا 8.78 بلین ڈالر کی ڈیل کر رہا ہے رافیل کے لیے (مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق) تو یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ انڈیا آگے بڑھا ہے انڈیا نے باامر مجبوری یہ طیارے خریدے ہیں پاک فضائیہ کے مقابلے کے لیے!

یہاں تک تو ہو گئی ایک بات۔

اب دوسرا پہلو کہ ہم بالکل بھی رافیل کو انڈراسٹیمیٹ نہیں کر رہے،بلاشبہ یہ موجودہ دور کا ایک بہترین فائٹر جیٹ ہے  مگر، کیا یہ بھارتی امیدوں پر پورا اُتر سکتا ہے، کیا یہ پاکستان کی فضائی دفاع کو خطرے سے دوچار کر سکتا ہے ، کیا اس کے بعد پاکستان کے پاس آپشنز ختم ہو جاتے ہیں ؟ کیا بھارت کا مقصد پورا ہو رہاہے ؟ تو ان سبھی سوالات کا جواب ہے،  نہیں۔۔

لہٰذا مجھے کہنے دیجیے کہ بھارت نے رافیل خرید کے اپنی بےوقوفی پر ایک اور مہر ثبت کر دی ہے، کیوں؟

کیونکہ مستقل قریب میں پاکستان کی فضائی دفاع کے جو ممکنہ اہداف ہیں، ان کے مقابلے میں رافیل کہیں نظر بھی نہیں آتا،یا رافیل خرید کر بھارت نے پاکستان کے لیے جو جو آپشنز چھوڑ دیے ہیں وہ بھارتی پالیسی میکرز کے منہ پر طمانچہ کہلائے جا سکتے ہیں ۔

بھارت کو رافیل تین سال بعد ملنا ہے،تین سال یعنی 2022 میں،بھارت نے آج سے تین سال بعد رافیل لینے کا معاہدہ کیا جو کہ ایک فورتھ جنریشن طیارہ ہے! اور یہ معاہدہ کر کے بھارت نے پاکستان کو موقع دے دیا ہے کہ بھارت کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر سکے۔ جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری کی مدد سے۔ جی بالکل بھارت تین سال بعد کا معاہدہ کر رہا  ہے جب کہ پاکستان بلاک تھری خود بنا رہا ہے جو کہ اگلے سال ان شاءاللہ ہمارے پاس ہوگا، تو جب پاکستان کو بھارت کا مستقبل (رافیل) معلوم  ہے تو پاکستان بلاک تھری کی اویانکس اور ویپن کیپبیلٹی کو اسی حساب سے تیار کرے گا اور کر رہا ہے، بلاک تھری رافیل کی ٹکر کے لیے ہی بنایا جا رہا ہے، اس کی سپیسیفکیشن انتہائی حیران کن ہیں، جس کی ایک مثال یہ  کہ رافیل میں میزائل سسٹم بی وی آر(MBDA) استعمال ہوا ہے جس کی رینج 150 کلومیٹر تک ہے، جبکہ تھنڈر بلاک تھری میزائل ٹیکنالوجی PL-15 استعمال ہو رہی ہے، جس کی رینج 300 کلومیٹر تک اور یہ میک 4 سے 6 تک کا وار ہیڈ لے جا سکتا ہے، لہذا جے ایف 17 تھنڈر کی صورت میں بھارت ایک بڑے سرپرائز سے دوچار ہونے والا  ہےاور پھر یہی نہیں۔۔اس کے بعد دوسرا آپشن دیکھیے،   کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی چین سے جے 20 خریدنے کی خبریں گردش میں رہیں تھیں، یاد رہے کہ جے ٹوینٹی  ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ ہے ۔ چائنہ دنیا میں تیسرا ملک ہے جس کے پاس ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ موجود ہے، جسے خریدنے کا ارادہ پاکستان ظاہر بھی کر چکا ہے(جو شاید بجٹ ایشو کی وجہ سے طوالت کا شکار ہے) اور یہ سٹیلتھ (ریڈار پر نظر نہ آنے والا) ٹیکنالوجی کا حامل جیٹ ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے میں آپکے سامنے جے 20 اور رافیل کی چند چیزیں رکھتا ہوں تاکہ آپکو اندازہ ہو جائے کہ ان دونوں طیاروں میں کتنا فرق ہے۔

جنریشن۔

رافیل 4.5 جنریشن  جبکہ جے 20 ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ

میکس ٹیک آف ویٹ۔

رافیل 24500کلوگرام جبکہ جے 20  37013 کلوگرام

فیول کیپیسٹی۔

رافیل lb10400 _جبکہ جے 20   25000lbs

رینج۔

رافیل 3700کلو میٹر جبکہ جے20   6000 کلو میٹر

کمباٹ رینج۔

رافیل 1852 کلو میٹر جبکہ  جے20 2000 کلومیٹر

اس کے علاوہ اہم ترین   بات یہ بھی کہ رافیل سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل نہیں۔

تو سوچیے اگر بلاک تھری بنانے کے علاوہ بھی پاکستان رافیل(جو تین سال بعد ملنا  ہے) کے جواب میں چائنہ سے جے 20 خرید لیتا تو،کہاں گیا بھارتی فضائی دفاع؟ اور کس مرتبان میں اچار ڈالے گا رافیل کا؟

اس کے بعد کمباٹ ایفیشنسی کی بات کریں تو اس پر ملٹری واچ میگزین نے مئی میں ہی رافیل کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے کہ ”رافیل کسی بھی طرح سے بھارت کے لیے بہتر آپشن نہیں “جس میں اس نے بتایا کہ بہت سی چیزوں میں تو سخوئی تیس طیارہ ہی رافیل سے بہتر ہے جو کہ پہلے سے انڈیا کے پاس موجود ہے، جسے 27 فروری کو مگ کے ساتھ ہی پاک فضائیہ سجدے میں بھیج چکی ہے۔

اس کے بعد تیسرا آپشن “پراجیکٹ عزم” جی۔۔۔ امریکہ روس اور چین کے بعد پاکستان چوتھا ملک ہے جو پراجیکٹ عزم کی شکل میں اپنے خود کے ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ پر کام کر رہا ہے،یہاں پر مودی کے گھٹنوں میں موجود عقل مزید واضح ہو جاتی ہے کہ جب پاکستان خود سے ففتھ جنریشن فائٹر پر کام کر رہا اس وقت بھی یہ فورتھ جنریشن طیارے کا معاہدہ کر رہے ہیں، وہ بھی تین سال بعد کا۔۔

حالانکہ جب بھارت کو رافیل کا توڑ جے-20 یا جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری کی صورت میں نظر آ رہا تھا اور پھر اس کے بعد ایک بڑا چیلنج پاکستان کا اپنا پراجیکٹ ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ کے ساتھ بھی سامنے تھا تو یہاں پر عقل کا تقاضا بھی یہ تھا اور پاکستان سمیت کوئی بھی ملک بھارت کی جگہ ہوتا تو وہ ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ کے لیے معاہدے کرتا یا کوشش کرتا بنانے کی، لیکن یہاں پر بھارت نے روس کے ساتھ 2007 میں سائن کیے گئے (FGFA) پروگرام (ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ مل کر بنانے کا) سے بھی گزشتہ سال ہاتھ کھینچ لیا، اور بیک سٹیپ پر آ گیا، یعنی بجائے اسکے کہ اس حساس صورتحال میں جب پاکستان کے پاس تین تین آپشنز موجود ہیں، جن میں دو ففتھ جنریشن کے  ہیں،بھارت اپنے اسی معاہدے کو دوبارہ پروسیڈ کرتا اور سخوئی 57  ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ پر کام کرتا ۔ اس نے تین سال بعد ملنے والے فورتھ جنریشن طیاروں کا معاہدہ کر کے 8.78 بلین ڈالر یعنی تقریباً 59,000 کروڑ جھونک دیے، جس سے گرتی ہوئی معیشت کو مزید جھٹکا بھی لگا اور ہندوستان یقینی طور پر اگلی کم از کم ایک دہائی تک کسی بڑے دفاعی پروجیکٹ کو بھی پروسیڈ کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گا، رافیل حاصل کرنے کے باوجود موجودہ فضائی طاقت میں بھی کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہآ سکی(توڑ موجود) اور اگلے کئی سال تک  پاکستان کے ففتھ جنریشن (اگر پاکستان چاہے)طیاروں کے رحم و کرم پر بھی  ہے۔

ماسٹر محمد فہیم امتیاز
ماسٹر محمد فہیم امتیاز
پورا نام ماسٹر محمد فہیم امتیاز،،ماسٹر مارشل آرٹ کے جنون کا دیا ہوا ہے۔معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ،سائبر ٹرینر،بلاگر اور ایک سائبر ٹیم سی ڈی سی کے کمانڈر ہیں،مطالعہ کا شوق بچپن سے،پرو اسلام،پرو پاکستان ہیں،مکالمہ سمیت بہت سی ویب سائٹس اور بلاگز کے مستقل لکھاری ہیں،اسلام و پاکستان کے لیے مسلسل علمی و قلمی اور ہر ممکن حد تک عملی جدوجہد بھی جاری رکھے ہوئے ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *