ڈھیٹ ۔۔ربیعہ سلیم مرزا

پتہ نہیں مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ یہ سب خواب ہے ۔وہ ساری عورتیں جنہیں میں بھیگی آنکھوں سے پہچان نہیں پائی
وہ رو کیوں رہی ہیں ۔؟
میں چیخنا چاہتی ہوں ۔زور زور سے چیخنا ۔۔۔
“میرا بھائی چلا گیا  ہے ۔۔”
مگر میں چپ ہوں ۔میرے ساتھ بیٹھی میری چھوٹی بہنیں ۔۔۔جب کوئی عورت بین کر تی  ہے  تو مجھ سے چپک جاتی ہیں ۔ڈرسی جاتی ہیں ۔
یہ روتی کیوں نہیں ہیں ؟
“شاید روتے روتے تھک گئی ہوں ”
یا شاید آنسو ہی نہ ہوں ۔صحن میں بھابھی کے خاندان کی عورتیں اسے تسلی دیتی ہیں، کبھی رلا دیتی ہیں، کبھی رولیتی ہیں۔

“بھابھی کا خاندان بہت بڑا ہے “۔۔
اتنے لوگ اتنے لہجے ہیں کہ سمجھ نہیں آتے ،پھر میں نے جیسے خواب میں سنا کسی نے میری بہن سے پوچھا
“دومہینے پہلے تمہارا شوہر فوت ہوا تھا ”
میں جاگ گئی “آج ہمارا بھائی چلا گیا ہے ”
آنکھیں بھیگی ہوں تو اندر باہر سارے منظر دھندلے دکھائی دیتے ہیں ۔حالانکہ دونوں میرے اتنے قریب بیٹھی ہیں کہ مجھے آنسؤوں کی آواز تک سنائی دیتی  ہے۔
دونوں مجھ سے چھوٹی کیوں ہیں ۔؟
کہیں سے سرگوشی سنائی دیتی  ہے۔
“یہ محسن کی بہنیں ہیں “؟
“برقعے والی عدت میں  ہے ۔”
میرے  دونوں کان جو سن رہے ہیں کیا سوگ ہے ۔؟

tripako tours pakistan

میلوں تک پھیلی ہوئی دھوپ  ہے ۔طویل راستے کے دونوں طرف کہیں کوئی چھاؤں نہیں ۔بھابھی اور بہن کی بیوگی  کے  درمیاں دو مہینے ہیں ۔لیکن ہمارے معاشرے میں عدت کی کوئی مدت نہیں ہوتی ۔

میری بہن میری ماں سے دس سال پہلے بیوہ ہوگئی ۔ماں بیٹی میں ایک بات مشترک  ہے ۔دونوں کے آگے پیچھے نہ میکہ، نہ سسرال
محسن جس عمر میں یتیم ہوا تھا میرا بھتیجا باپ سے دوسال پہلے ہوگیا ۔

شکر  ہے اس کے سر پہ ننھیال کی مضبوط چھاؤں  ہے ۔بھابھی کے باپ، بھائی بہت اچھے ہیں ۔محسن کے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا ۔
اس کی گزری زندگی کو دیکھوں تو کٹھن راستہ تھا، تین بہنوں کو عزت سے رخصت کیا ۔اپنی شادی کروائی ۔ماں کو کسی محرومی کا احساس نہیں ہونے دیا ۔
امی کو اس کی عادت ہوگئی تھی تبھی چار سال بھی نہ اکیلے گزار سکیں۔
ہمیشہ کیلئے جانے سے پہلے مجھ سے کہنے لگیں ۔ “ربیعہ، تم بڑی ہو، بہنوں کا خیال رکھنا ”
میں نے روتے ہو ئے سرہلادیا تھا ۔
خیال ہی نہیں آیا ورنہ ان سے کہتی “محسن کو کہیں بہنوں کا خیال رکھے ”

Advertisements
merkit.pk

لگتا  ہے  ماں جانتی تھی کہ محسن نے ان کے پیچھے آجانا  ہے ۔ربیعہ بہت ڈھیٹ  ہے  جی لے گی،مجھے بھی لگتا ہے  بیٹیاں ہوتی ہی ڈھیٹ ہیں ۔سب کچھ سہہ جاتی ہیں ۔
لہذا اب میں ٹھیک ہوں ۔یہ دکھ بھی سہہ گئی ہوں ۔بہت ڈھیٹ ہوں ۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply