بندر بانٹ

یک ضرب المثل ہے کہ کسی جگہ دو بلیاں اکٹھی رہتی تھیں انہیں جو بھی کھانے کو ملتا وہ اسے آپس میں بانٹ کے کھا لیتیں .ایک مرتبہ انہیں ایک روٹی مل گئی جب اسے آدھا آدھا کیا تو شک ہوا کہ ایک ٹکرا بڑا اور ایک چھوٹا ہے .کافی سوچ وچار کے بعد کسی دوسرے سے فیصلہ کروانے کا ارادہ کیا اور اس کے لیے ایک بندر کو منصف بنا لیا  گیا.بندر نے ایک ترازو لیا اور اس کے دونوں پلڑوں میں ایک ایک ٹکرا رکھ دیا تو ایک پلڑا زیادہ وزن کی وجہ سے جھک گیا .اب اس بندر نے جھکے ہوے پلڑے کی طرف  سے روٹی کے ٹکڑے کو اٹھایا اور اس میں سے تھوڑا توڑ کے خود کھا لیا .جب اسے واپس رکھا تو دوسرے پلڑے میں وزن زیادہ ہو گیا اور دوسرا جھک گیا .بندر نے یہی کام اب دوسرے ٹکڑے کے ساتھ کیا اب پھر پہلے والا جھک گیا اس طرح کرتے کرتے وہ بندر بلیوں کی ساری روٹی کھا گیا اور بلیاں اپنے منصف کو دیکھتی رہ گئیں۔۔۔

آج اس منصف ” امریکہ” بندر کے ہاتھ میں جو ترازو ہے اس میں کئی پلڑے ہیں۔۔۔۔
انصاف کے طلبگار جب ایک پلڑے میں فلسطین کی طرف توجہ دیتے ہیں تو بندر افغانستان والا پلڑا جھکا کے توجہ ادھر کروا دیتا ہے جب توجہ ادھر جاتی ہے تو بندر کشمیر والا پلڑا جھکا کر  توجہ ادھر کروا دیتا ہے .کشمیر پر توجہ دو تو بندر برما ،میانمار، والا پلڑا جھکا کر  توجہ دوسری جانب مبذول کروا دیتا ہے .برما کو دیکھو تو عراق والا پلڑا جھکا دیتا ہے، عراق کی طرف توجہ کرو تو لیبیا والا پلڑا جھکا دیتا ہے اور یہی سلسلہ چلتا جا رہا ہے اور آج کی ان دونوں بلیوں ” پاکستان اور ترکی”کو انہی پلڑوں اور ایسے ہی ترازوؤں میں   الجھا  رکھا ہے کہ اصل پلڑا جو کہ سب سے وزنی ہے اور سب سے قیمتی بھی ادھر توجہ ہی نہی جانے دے رہا اور اگر ان بلیوں کی توجہ ادھر جاتی بھی ہے تو جلدی سے دوسرے پلڑوں میں ہلچل مچا دیتا ہے۔۔۔اور وہ اصل اور سب سے خاص پلڑا ہے شام” سوریا”جو اس منصف بندر سے بچنے کا بھی اوربھگانے کا بھی اصل راستہ ہے .ویسے تو یہ سارے ہی پلڑے ان بلیوں کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں کہ کب یہ اس منصف بندر کی نا انصافیوں پر اس پر  جھپٹتی ہیں۔۔۔۔بس یہ بلیاں وقت سے پہلے ہی سمجھ لیں کہ یہ منصف بندر ساری روٹی اسی بہانے کھا جاۓ گا اور شاید انہیں بھی!

Avatar
Ajaz Bhatti
electronics engineer

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *