سستی شہرت کا نقصان

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو شہرت،عزت اور دولت نہ چاہتاہوـ ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ دنیا میں  اُسے اچھے نام سے یادکیا جائے  اُس کی ہر محفل میں تعریف ہو.  تعریف کرنے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے بس نیک نامی مراد ہے اور ان تمام چیزوں کا تعلق قسمت سے جڑا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے دولت انسان چالاکی، عیاری، دھوکے اور چالبازی سے حاصل کر لے لیکن عزت، محبت اور شہرت کے لیے کسی تردد، ترکیب، ترسیل، تماشے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
موجودہ دور میں محبت کو کچھ لوگوں نے تجارت بنا لیا ہے اور بے تحاشہ دولت کے انبار اکٹھے کر کے ”جبری عزت“ بھی حاصل کر لی ہے جبکہ شہرت کے لیے بھی پی آر شپ اور ہزارہا ہتھکنڈے اختیار کر لیے ہیں لیکن سچی اصلی اور حقیقی عزت، محبت، شہرت کسی بیساکھی اور سہارے کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس دنیامیں بہت بڑے بڑے لوگ آئے جن کا نام مٹانے کی لوگ کوششیں کرتے رہے دشمن خود مٹ گئے مگر اُن  لوگوں کا نام نہ مٹا سکے سکندر اعظم  نے صرف 33 برس کی عمر میں آدھی دنیا فتح  کی اور ایک معمولی بخار سے مر گیا. اتنی عمر میں تو آج کل لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں۔ قائداعظم دشمنوں اور سازشوں کے نرغے میں رہے انگریزوں، ہندوؤں، سکھوں کے علاوہ کچھ مسلمانوں نے بھی  اُن کی مخالفت کی لیکن قائداعظم کو خدا نے عزت بھی دی، شہرت بھی.
 ادب میں میر تقی میر کو لے لیں۔ میر کا نام اور کام تین صدیاں گزرنے کے بعد بھی پورے آب و تاب سے چمک رہا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں میر تقی میر کے لیے عزت اور محبت اسی طرح قائم و دائم ہے۔ اسد اللہ خان غالب، سعادت حسن منٹو، میرا جی، اقبال، فیض،  ایسے نام ہیں جو تابندہ ہیں ساغر صدیقی کو دنیا کا ہوش نہیں تھا اج وہ غزلوں میں زندہ ہیں۔۔۔کیونکہ  پیدائش کےساتھ ہی اللہ تعالی عزت، محبت، شہرت نصیب میں لکھ دیتاہے وہ مل کر رہتی ہے۔ اس کے لیے بھاگنا اور پی آر شپ کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مگر پھر بھی پوری دنیا اس کے پیچھے بھاگتی ہے. اور ہر کوئی اس تاک میں لگا ہوا ہے کہ اسے شہرت نصیب ہو حالانکہ شہرت ہر کسی کو نصیب کہاں ہوتی ہے.  لوگوں کا کام انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچاتا ہے.  صحافت، ادب، کھیل، شاعری اور دیگر اصناف میں کتنے نام ہیں اب ہر کسی کو تو دنیا نہیں پہچانتی. ہر کوئی پاولوکولو نہیں بن سکتا نہ ہی ہر کوئی آئن سٹائن بن سکتا ہے.
پروجیکشن ٹولز  اور پی آر کی ضرور ت  صرف ان کو پڑتی ہے جن کے نصیب میں قدرت نے یہ نعمتیں نہیں لکھی ہوتیں جیسے اولاد مرد کے نصیب سے اور دولت عورت کی قسمت سے ملتی ہے۔ اسی طرح ہمارے مقدر میں جو کچھ ازل سے لکھا ہوتا ہے وہی ملتا ہے۔ جس طرح کسی کے دل میں زبردستی گھر نہیں کیا جاسکتا اُسی طرح خود کو عزت نہیں دی جاسکتی . پروٹوکول اور وی آئی پی سچویشن پیدا کر کے کسی کے دل میں آپ عزت کا جذبہ نہیں ٹھونس سکتے۔ زبردستی کی محبت اور عزت وقتی یا مصلحتاً یا خوف کا نتیجہ ہوتی ہے۔ باس سے آفس میں ہر کوئی ڈرتا ہے مگر یہ ڈر صرف آفس تک محدود ہوتا ہے جب دوری ہوجاتی ہے تو کچھ بھی نہیں ہوتا. اسی طرح شہرت کسی پروجیکشن یا پلیٹ فارم کی محتاج نہیں ہوتی۔ جب فرازکا نام آتا ہے تو چاروں طرف فراز کی خوشبو رقص کرتی ہے
ملک ریاض کے پاس کتنا پیسہ ہے مگر کالم لکھنے کے لیے اُسے جاوید چودھری کو پیسے دینے پڑے تاکہ شہرت ملے.  اب بھی پیسہ دے کر وہ شہرت اپنے نام کر رہا ہے.  اسی طرح سیاست دان، بیوروکریٹ جب تک بر سراقتدار ہوتے ہیں لوگ عزت کرتے ہیں اور  شہرت اُن کا مقدر ہوتی ہے. جب اللہ عزت دیتا ہے تو ملالہ یوسف زئی جیسے لوگوں کو بھی عزت میسر آجاتی ہے   تو  جس کا مقدر ہو، وہ اسے گمنائیوں کی گھاٹیوں سے آسمانوں کی وسعتوں میں پہنچا دیتی ہے شاہ رخ خان جس کو پروڈیوسر دھتکارتے ہیں مگر وقت اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے ،جو بینک قرضہ نہیں دیتا پھر وقت آتا ہے وہ وہی بینک خریدلیتا ہے.
موجودہ دور میں ہر شخص خود کی پروجیکشن میں لگا ہوا ہے جس کے لیے وہ سوشل میڈیا کا سہارا لے رہا ہے.  ہمارے ایک استاد کے مطابق اگر خود کو پروجیکٹ نہیں کروگے تو دوسرے لوگ تمھیں کوئی عزت نہیں دیں گے.  ہم اکثر اخبارات میں دیکھتے ہیں کہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد ، پاس ہونے کے بعد اخبار میں خبر چھپتی ہے کہ فلاں نے ڈگری حاصل کرلی.  مقصد کیا ہوتا ہے مشہوری اور دوسروں پر رعب ڈالنا.  ادارے اس مقصد کے لیے فرم ہائیر کرتے ہیں کاروبار کی وسعت کے لیے اشتہاری ٹولز کا استعمال کرتے ہیں جس کے لیے اچھا خاصہ بجٹ مختص کیاجاتا ہے. ان سب کے پیچھے مقصد تشہیر ہوتا ہے مشہوری ہوتی ہے.
ہم نے بہتوں کو دیکھا ہے کہ وہ فیس بک اور سوشل میڈیا پر شہرت طلبی کے مذموم ارادے سے جلوہ افروز ہوتے ہیں ۔۔ یعنی ان کا اصل مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ شہرت مل جائے۔ اس مقصد کے حصول میں وہ سیاسی پارٹیوں کی طرح ہر پینترے کھیلتے ہیں ، ان کا ہر کام ریاکاری اور مکاری کا شاہکار ہوتاہے۔بہت سے لوگ دوسروں کے  مضامین اپنی طرف منسوب کرکے پورا کرتے ہیں  اور یوں شہرت طلبی ، واہ واہ ، لوگوں میں اپنا شمار بڑوں میں کرانے کا خواب انہیں لے ڈوبتا ہے. قندیل بلوچ ،وینا ملک، اور دیگر بہت سے قصے ہمارے سامنے ہیں جو سستی شہرت کےلیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں.اور پھر یہ چیز انہیں کہیں کانہیں چھوڑتی ….!

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *