ہمارا فریڈم فلوٹیلا کہاں ہے؟۔۔۔آصف محمود

صبح نیند سے جاگا تو سامنے رکھے ’ ماوی مرمرا‘ کے ماڈل پر نظر پڑی۔ ماوی مرمرا فریڈم فلوٹیلا ترکی کے اس قافلے کا مسافر بردار بحری جہاز تھا جو غزہ کے محاصرے کو توڑتے ہوئے وہاں محصورین تک ادویات ، خوراک اور بچوں کے کھلونے پہنچانے روانہ ہوا تھا۔ اس بحری جہاز پر جب اسرائیلی فوج نے حملہ کیا تو اس کا کپتان بھی شہید ہو گیا۔ شہید کپتان کے صاحبزادے پاکستان آئے تو خبیب فائونڈیشن کے ندیم احمد خان صاحب کے ساتھ وہ میرے ہاں تشریف لائے ۔جاتے ہوئے انہوں نے مجھے ’ ماوی مرمرا‘ کے اس ماڈل کا تحفہ دیا جو میں نے غیر معمولی اہتمام سے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔صبح دم اس پر نظر پڑی تو دل پر ایک سوال نے دستک دی: کشمیر کے محصورین کے لیے ہمارا فریڈم فلوٹیلا کب روانہ ہو گا؟ کشمیر میں محض انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ۔کشمیر میں نسل کشی ہو رہی ہے۔ انٹر نیشنل لاء میں نسل کشی کی جو تعریف کی گئی ہے کشمیر کے حالات اس کے عین مطابق ہیں۔ Genocide Convention کے آرٹیکل 2 کے مطابق کسی بھی مذہب ، نسل یا قومیت سے تعلق رکھنے والے گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کر دینے کی نیت سے مندرجہ ذیل اقدامات میں سے کوئی ایک بھی قدم اٹھایا گیا ہو تو اس کا شمار ’ نسل کشی‘ میں ہو گا۔ 1۔اس گروہ کے لوگوں کا قتل کیا جائے۔ 2۔اس کے لوگوں کو جسمانی نقصان پہنچایا جائے یا ذہنی اذیت سے دوچار کیا جائے۔ 3۔اس کی زندگی میں ایسے مسائل پیدا کر دیے جائیں کہ وہ جزوی یا کلی تباہی کے خطرے سے دوچار ہو جائے۔ کشمیر میں یہ تینوں کام ہو رہے ہیں۔نسل کشی کا یہ عالم ہے کہ خود جموں کشمیر ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے 38 اجتماعی قبروں سے 2730 لاشے برآمد کیے ہیں۔ٹیلی گراف کے مطابق صرف راجوڑی اور پونچھ کی اجتماعی قبروں سے 6 ہزار لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ٹیلیگراف میں’’ دی ماس گریوز آف کشمیر‘ کے نام سے چھپنے والی کیتھی سٹارک کلارک کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ابھی مزید سولہ اضلاع میں اجتماعی قبروں کی تلاش جاری ہے۔ اس رپورٹ میں ایک گورکن کا اعتراف بھی شائع کیا گیا کہ کس طرح بھارتی فوج اسے رات کی تاریکی میں لاشیں دفنانے پر مجبور کرتی تھی۔ اس کا کہنا تھا لاشیں جلیں ہوتی تھیں اور ان کے اعضاء کٹے ہوتے تھے۔ پیلٹ گنز کا استعمال ہو رہا ہے۔ وحشیانہ تشدد تو خیر معمول کی بات ہے۔ عصمت دری کے واقعا ت اتنے خوفناک ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔دلی کی سیما قاضی کی رپورٹ ’’ ریپ ، امپیونٹی اینڈ جسٹس ان کشمیر‘‘ کے مطابق چیچنیا اور سری لنکا کی شورش میں ہونے والی عصمت دری کے واقعات سے زیادہ واقعات کشمیر میں رونما ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے 52 ویں اجلاس میں پروفیسر ولیم بیکر نے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میںعصمت دری ایک باقاعدہ پالیسی کا حصہ ہے تا کہ لوگوں کی توہین اور تذلیل کی جا سکے اور انہیں سبق سکھایا جا سکے۔یہی بات’ انسائیکلو پیڈیا آف وار کرائمز اینڈ جینو سائڈ‘ میں کرسٹوفر کیتھر وڈ نے بھی لکھی ہے۔دو ماہ سے زیادہ کا کرفیو معمولی ظلم نہیں ہے۔کیا معلوم اس دوران لوگوں پر کیا قیامت بیت چکی ہو۔ ان کی نسل کشی ہو رہی ہے۔ یہ جسمانی اور ذہنی اذیت سے دوچار ہیں۔اور ان کی زندگی میں ایسے مسائل پیدا کر دیے گئے ہیں کہ وہ کلی طور پر تباہی کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ ان کی آبادی کا تناسب کم کرنے کے لیے وہاں ہندوئوں کو لا بسانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔’’ جینو سائڈ‘ ‘ کنونشن کے آرٹیکل 2،روم سٹیچیوٹ آف انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے آرٹیکل 6 اور جنرل اسمبلی کی قرارداد (A/RES/96-I) کے مطابق یہ کشمیریوں کی نسل کشی ہو رہی ہے۔یہ غزہ جیسی دردناک صورت حال ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا ’’ فریڈم فلوٹیلا‘‘ کہاں ہے؟ فریڈم فلوٹیلا کے قافلے میں ’ ماروی مرمرا‘ پر 37 ممالک کے لوگ سوار تھے۔اقوام متحدہ کے سابق اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ڈینس ہالیڈے ،کویتی پارلیمنٹ کے رکن ولید تبطبیبی ،سویڈن کے پارلیمنٹیرین مہمت کپلان ، ملائیشیا کے پارلیمنٹیرین محمد زکریا ،عراق اور موریطانیہ میں امریکہ کے سابق سفیر اور دہشت گردی پر سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ٹاسک فورس کے ڈائرکٹرایڈورڈ پیک ،امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سابق اہلکار اور ریٹائرڈ کرنل میری این رائٹ،جرمنی کی دو خواتین اراکین پارلیمان اینتھ گروتھ اور انگر ہوگر جیسے لوگ اس کا حصہ تھے۔بلکہ خود اسرائیلی پارلیمان کی رکن حنین زوہبی بھی اس قافلے میں شریک تھیں۔ایک یہودی جینت کوبرین بھی اس قافلے کا حصہ تھے۔ چنانچہ اسرائیل پر ایک غیر معمولی دبائو آیا۔اگر چہ اس نے اس قافلے کو روکا اور شہادتیں بھی ہوئیں لیکن اس کا شدید رد عمل آیا۔دنیا بھر سے اسرائیل پر تنقید ہوئی ۔ دبائو اتنا شدید تھا کہ اسرائیل کو نہ صرف سارا سامان غزہ پہنچانا پڑا بلکہ غزہ کا محاصرہ بھی ختم کرنا پڑا اور تمام قیدی رہا کرنے پڑے۔ ترکی نے اسرائیلی فوجیوں پر مقدمے قائم کر دیے۔یہ مقدمے ختم کرانے کیلیے اسرائیل کو ترکی کو خون بہا بھی دینا پڑا۔بلاشبہ یہ بھی کوئی مثالی صورت حال نہ تھی لیکن طویل مزاحمت کے ہر پڑائو پر جو کچھ کیا جا سکتا ہو وہ تو کر گزرنا چاہیے۔ کشمیر میں اس وقت صورت حال سنگین ہے۔دنیا بھر سے نمائندہ حیثیت کے لوگ اکٹھے کر کے انسانی بنیادوں پر ایک قافلہ مقبوضہ کشمیر روانہ کیا جائے تو نہ صرف بھارت پر غیر معمولی دبائو آ ئے گا اور کشمیریوں کے لیے آسانی پیدا ہو گی بلکہ دنیا بھر میں کشمیر کا المیہ یوں نمایاں ہو کر سامنے آئے گا کہ شاید برسوں کی سفارت کاری بھی یہ کام نہ کر سکے۔کشمیری دنیا بھر میں موجود ہیں ان سے بات کی جائے، دنیا میں حقوق انسانی کی بہت سی تنظیمیں ہیں انہیں بلایا جائے، دنیا کے اہل صحافت کو مدعو کیا جائے، کھیلوں اور شوبز کی دنیا کی شخصیات کو ساتھ لیا جائے ،دنیا بھر میں اراکین پارلیمان سے بات کی جائے ، جارج گیلوے تو کہہ چکے کہ ایسا کوئی قافلہ روانہ ہوا تو وہ اس کا حصہ ہوں گے۔سوال وہی ہے: ہمارا فریڈم فلوٹیلا کہاں ہے؟

Avatar
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *