کتابی کالم ۔۔۔حسن نثار

میری لائبریری میں ایک حصہ صرف ان کتابوں کے لئے مخصوص ہے جو خود میں نے لکھی ہیں، جن کے دیباچے میں نے لکھے ہیں یا جو مختلف شاعروں، ادیبوں نے لکھیں اور مجھے تحفے میں دیں۔

گزشتہ روز میں کوئی اور کتاب ڈھونڈ رہا تھا کہ اچانک اک سنہری جلد والی کتاب نکل آئی جس کی جلد کا سنہرا پن عشروں بعد بھی قائم تھا۔

مطلب یہ کہ اس وقت کے جلد ساز بھی جینوئن ہوا کرتے تھے۔ یہ کتاب میرے والد نے 11-4-61 مجھے تحفے میں دی جو دراصل پورا سیٹ ہے۔ یہ فیروز سنز دی مال لاہور سے خریدی گئی جس کی گول سٹامپ بھی اس پر ثبت ہے۔ تب میں 7ویں کا طالب علم تھا۔ کتاب کا نام ہے :”THE PUPILSʼ CLASS-BOOK OF ENGLISH COMPOSITION”مصنف E.J.S LAY اور والد کی انتہائی خوبصورت ہینڈرائٹنگ میں لکھا ہے۔”FOR MY SON 11.4.61 NISARULHAQ” میٹرک سے پہلے پہلے میں “GREY WOLF”پڑھ چکا تھا جس کے نتیجہ میں آج تک مصطفیٰ کمال اتاترک میرے ساتھ ساتھ ہیں اور اس حد تک کہ میری تصویر ان کی ایک قدآدم تصویر کے ساتھ میری سٹڈی میں موجود ہے جس میں اتاترک کسی غیر ملکی خاتون کے ساتھ محورقص ہیں۔

جتنی محبت اور عقیدت کے ساتھ آپ نے زبردستی مثنوی مولانا روم پڑھائی سمجھائی اس وقت بھی بہتے آنسوئوں کی طرح میرے اندر ترو تازہ ہے۔ والد نے یہ ورثہ کچھ اس طرح مجھے منتقل کیا کہ آج بھی “SEVEN ADVICE OF MEVLANA”سٹڈی میں آویزاں ہے جس کے نیچے مولانا کا دھاتی مجسمہ ہے اور اس کے دائیں بائیں مولانا کے محو رقص درویشوں کے مجسمے۔

مولانا کی یہ سات نصیحتیں کسی کپڑے پر نقش ہیں جن کے گرد انتہائی خوب صورت نقش ونگار اور اوپر نیچے دھاتی بارڈر ہے۔ شہکار سے کم نہیں۔IN GENEROSITY AND HELPING OTHERS BE LIKE A RIVER.

IN COMPASSION AND GRACE BE LIKE SUN

.IN CONCEALING OTHERS FAULTS BE LIKE A DARK NIGHT.

.IN ANGER AND FURY, BE LIKE DEAD

IN MODESTY AND HUMILITY BE LIKE EARTH.

IN TOLERANCE BE LIKE A SEA.EITHER EXIST AS YOU ARE OR BE AS YOU LOOK.’’دریا دلی میں دریا ہو جا‘‘ ’’COMPASSIONاور وقار میں سورج بن جا‘‘ ’’دوسروں کی غلطیاں کمزوریاں تاریک رات بن کے چھپا‘‘ ’’غصہ اور طیش کے عالم میں مردہ بن جا‘‘ ’’عجز و انکسار میں دھرتی کا روپ دھار لے‘‘ ’’سمندر جیسی قوت برداشت پیداکر‘‘ ’’جیسے ہوویسے جیو یا ویسے بن جائو جیسے دکھائی دیتے ہو‘‘

مجھ جیسے کمزور آدمی کو ان سادہ سی سات نصیحتوں پر عمل کرنے کے لئے سات زندگیاں درکار ہیں لیکن ہاتھ پائوں ضرور مارے اور یہ تو دوست احباب ہی بتا سکتے ہیں کہ اس کوشش میں کتنا زیادہ ناکام اور کتنا کم کامیاب رہا۔

پھر کچھ یوں ہوا کہ صفدر سعید مرحوم اور خلیل مرحوم جیسے کلاس فیلوز کی صحبت میں مجھے بھی ’’آنہ لائبریری‘‘ کی لت لگ گئی۔

ابن صفی اور اکرم الہٰ آبادی ترجیحات میں سرفہرست قرار پائے۔ نام نہاد تاریخی ناول علیحدہ۔ پھر بتدریج منٹو، کرشن، بیدی، بلونت سنگھ، واجدہ تبسم، قرۃ العین،غلام عباس، قاسمی صاحب، انتظار حسین، میرزا ادیب، صفیہ جان نثار اختر جیسوں کے دربار میں دست بستہ۔

اس دوران عجیب سی رسہ کشی جاری رہی کہ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، ابا کو آنہ لائبریریوں کےتصور سے ہی چڑ تھی خاص طور پر جاسوسی اور نام نہاد تاریخی ناولوں کو تو وہ وقت کی بربادی بلکہ بچوں کے لئے افیون سمجھتے تھے۔

’’بابر نامہ‘‘ ٹھیک تھا لیکن بابر کے بارے ناول نما کوئی شے ان کے لئے قابل قبول نہ تھی۔آہستہ آہستہ اک درمیانی رستہ تلاش کرلیا گیا کہ کچھ اپنی پسند اور کچھ سے کچھ زیادہ ان کی پسند مثلاً شروع شروع میں الف لیلیٰ، شاہنامہ، گلستان، عمر خیام کی رباعیات وغیرہ جس کے بعد جب ’’گورکی‘‘ کی ’’ماں‘‘ پڑھنے کو دی تو کہا اس کے کیریکٹرز کی فہرست ساتھ ساتھ تیار کرنا۔

دیر بعد سمجھ آئی کہ حکمت کیا تھی۔ اصل مسئلہ یہ کہ وہ ہر کتاب کےبعد اس پر گفتگو بھی کرتے۔ یہی رویہ انگریزی فلموں بارے تھا۔ مثلاً’’سپارٹکس‘‘ دکھائی تو دو تین سیشنز اور یہاں تک کہ کرک ڈگلس اور ٹونی کرٹس کون ہیں کہ شاید ٹونی کرٹس ’’سن آف سپارٹکس‘‘ کا ہیرو تھا۔

اسی طرح ’’ہنچ بیک آف نوٹرےڈیم‘‘ اور اس کا انتھنی کوئن ’’انکل ٹامز کیبن‘‘ ان کی فیورٹ کتابوں میں سے ایک تھی۔

’’گلیورز ٹریولز‘‘ اور ’’کوٹ آف مونٹی کرسٹو‘‘ تو تب ہمارے نصاب میں شامل تھیں لیکن جیسے انہوں نے سمجھائیں، وہ انہی کا حصہ تھا۔

موپساں، چیخوف، پشکن، اور میکیاویلی کی ’’پرنس‘‘ اور ساتھ ہی ان کا یہ فٹ نوٹ کہ برصغیر کا چانکیہ اس سے بھی چار ہاتھ آگے تھا۔ ٹائن بی اور ریمزے میور زمانہ طالب علمی سے ان کی ٹپس پر تھے۔

میں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی پسندیدہ کتابیں محمدہ اور حاتم کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔ یہ تب بہت چھوٹے تھے جب “THE SECRET, DAILY TEACHINGS” اس طرح شروع کی کہ میں، محمدہ اور حاتم ہر روز ایک صفحہ پڑھتے، اس پر ہلکی پھلکی گفتگو کرنے کے بعد تینوں اس صفحہ پر دستخط کرتے لیکن اب نوبت ہنری کسنجر کی کتابوں تک آ پہنچی ہے۔

پچھلے دنوں ایک ریسرچ نظر سے گزری جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پڑھنے کے عادی لوگوں کی زندگی کا دورانیہ نہ پڑھنے والوں سے زیادہ لمبا ہی نہیں صحت مند بھی ہوتا ہے لیکن برا ہو اس ’’میڈیا‘‘ وغیرہ کا جو کتاب سے کوسوں دور لے گیا۔

پڑھنے پڑھانے کا شوق رواج تو یہاں پہلے ہی کم تھا بلکہ بہت کم تھا رہی سہی کسر ’’ٹیکنالوجی‘‘ نے پوری کردی کہ اچھے خاصے لوگ بھی نیٹ کو پیارے ہوگئےیا وڈیو گیمز پر لگ گئے۔

RAT RACE نے والدین سے وقت بھی چھین لیا اور مجھے اندازہ ہے کہ یہ سب کچھ کسی بھی طور پر ریورس نہیں ہوسکتا لیکن خواہش کرنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں کہ ماں باپ اپنے بچوں کے درمیان کتابوں کا پل بنالیں جس پر کبھی کبھار چہل قدمی بھی کر لیا کریں کہ یہ فکری ہی نہیں روحانی اور جذباتی صحت کے لئے بھی بہت کارآمد ہوگا۔

جب کوئی بچہ بوڑھا ہونے کے بعد عشروں پہلے باپ کی عطا کی ہوئی کتابیں دیکھتا ہے تو جو محسوس کرتا ہے وہ دنیا کے کسی شاپنگ مال پر کسی قیمت پر دستیاب نہیں۔

بشکریہ  روزنامہ جنگ

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *