• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تحریک انصاف کی حکومت کی انسان دشمن پالیسیاں۔۔اسدرحمان

تحریک انصاف کی حکومت کی انسان دشمن پالیسیاں۔۔اسدرحمان

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پہ پاکستان کے مقتدر ریاستی حلقوں کی جانب سے لفظی گولہ باری کا سلسلہ تو پچھلے ایک لمبے عرصے سے جاری تھا لیکن پچھلے دنوں اس پہ ایک عملی اقدام بھی اٹھا لیا گیا ہے۔  تحریک انصاف کے وزیر اعظم عمران خان کی نامزد کردہ سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ٹویٹ کے ذریعے عوام کو یہ خوشخبری سنائی کہ آٹھ لاکھ سے زیادہ ( غیر مستحق ) خاندانوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی لسٹ سے نکال دیا گیا ہے اور اس کارِ ثواب کے نتیجے میں حکومت کو سولہ ارب روپے   بچت ہو گی۔

ایک ایسی حکومت جس کا ابھی تک کا دعویٰ سماجی بہبود اور غربت کا شکار عوام کیلئے زیادہ وسائل مختص کرنا تھا ایک عدد اور یو ٹرن کا شکار ہوتی نظر آتی ہے۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں غربت پہلے سے بڑھ چکی ہے اور غربت کی سطح سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں قریباً پونے دو کروڑ افراد کے اضافے کا اندیشہ ہے لیکن ایسے میں حکومتی وزرا کی توجہ شہریوں کی بہبود کی بجائے اپنے نمبر ٹانکنے پہ لگی ہوئی ہے۔

ثانیہ نشتر صاحبہ جن کا تعلق صحت کے شعبے سے ہے اور دعوی ٰ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے پبلک پالیسی کو عوام دوست بنانا لیکن انکا طرزِ حکمرانی تو اس دعویٰ  کے الٹ تصویر پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر صرف ان کیٹگریز کو ہی دیکھا جائے کہ جن کی بنیاد پہ آٹھ لاکھ خاندانوں کو پروگرام سے باہر کیا ہے، جنکو  کہ سالانہ اٹھارہ ہزار کی ایک نمائشی رقم دی جاتی تھی، تو اربابِ اختیار کی سنگدلی اور عوام دشمنی کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

کیا کسی گھر میں ایک موٹر سائیکل کا ہونا یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ وہ خطِ ٖغربت سے نیچے نہیں ہو سکتے ، موٹر سائیکل رکشہ چلانے والے بھی اس کیٹگری میں آئے ہوں گے۔ اور قسطوں پہ موٹر سائیکل لینے والے بھی جو کہ شاید موٹر سائیکل کی قسط بھی قرض لے کر دیتے ہوں لیکن چونکہ موٹر سائیکل کو محترمہ نشتر صاحبہ ایک سٹیٹس سمبل یا مہنگی سواری سمجھتی ہیں اس لئے اس بنیاد پہ  چوالیس ہزار خاندانوں کو ایک ایکزیکٹو آرڈر کے ذریعے نکال باہر کیا گیا۔

 اسی طرح پی ٹی سی ایل کا بل ایک ہزار سے اوپر کا بہانہ بھی عجیب ہے، عمومی طور پہ سروے کے دوران اس قسم کے سوالات کیے جاتے ہیں جس میں فون کے اخراجات وغیرہ کی بابت معلومات لوگوں سے پوچھی جاتی ہیں اس میں سوال کی نوعیت کچھ یوں ہوتی ہے کہ پچھلے ایک ماہ میں اندازہ آپ کا بل کتنا آیا؟ اب پاکستان میں ایک تو پی ٹی سی ایل لینڈ لائن  اب ویسے ہی کافی حد تک مت متروک ہو چکا ہے اور پوسٹ پیڈ موبائل کنکشن استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی آٹے میں نمک کے برابر ہے اور زیادہ تر لوگ پری پیڈ ہی استعمال کرتے ہیں ایسے میں موبائل بل کا سوال ہی کافی حد تک سماجی و معاشی حالات کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اسکے علاوہ  کسی مہینے میں صارف کا خرچ کسی بھی وجہ سے کم یا  زیادہ ہو سکتا ہے اور اندازے کی غلطی کا بھی احتمال نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، صرف اس بنیاد پہ قریباً ڈیڑھ لاکھ گھرانوں کو اس لسٹ سے نکال دیا گیا ہے یہ دراصل ایکزیکٹو اتھارٹی کا ایک آمرنہ استعمال ہے۔

تیسری کیٹگری ان لوگوں کی ہے جو کہ پاسپورٹ یا آئی ڈی کارڈ ایکزیکٹو آفس سے بنوا چکے ہیں۔ پاکستان میں ریاست سے کسی قسم کی امداد یا رجسڑیشن کیلئے شناختی کاغذات کی اہمیت پچھلے بیس سال میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اور انکم سپورٹ حاصل کرنے کیلئے بھی یہ کاغذات لازمی ہیں۔ ایکزیکٹو برانچ سے کارڈ بنانے کی فیس زیادہ ضرور ہے لیکن اتنی زیادہ نہیں ہے کہ کسی ہمسائے یا صاحبِ ثروت شخص کی مدد سے اسکو ادا نہ کیا جا سکے۔ کیا اس بات کو مدِ نظر رکھا گیا ہے کہ شاید غریب گھرانوں نے صرف اس پروگرام کا حصہ بننے کیلئے ہی آئی ڈی کارڈ بنوانے کی درخواست دی ہو؟ صرف اس بنا پہ لوگوں کو لسٹ سے باہر نکالنا ایک جلد بازی میں اٹھایا گیا عمل ہے ۔

چوتھی کیٹگری میں باہر سفر کرنے کی معلومات کا ڈیٹا جو کہ نادرا سے لیا گیا کے مطابق لاکھوں لوگوں کو اس پروگرام سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ اس بات کا لحاظ نہیں رکھا گیا کہ حادثہ کی صورت میں خوشحال لوگ بھی خطِ غربت سے نیچے گر سکتے ہیں۔ کمانے والے فرد کی موت یا بیماری اور اسکے علاج پہ خرچ ایک خاندان کو غربت کی جانب دھکیل سکتا ہے۔ پاکستان سے باہر جانے والے اکثریتی مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے افراف ہی ہوتے ہیں جن کی کمائی انکو غربت کی لکیر سے اوپر رکھتی ہے اور کسی بھی وجہ سے واپسی کی صورت میں وہ دوبارہ انہی حالات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

 بینظیر پروگرام ۲۰۱۰ میں لانچ ہوا تھا پاکستان کا اکثریتی مزدور طبقہ گلف میں محنت مزدوری کی غرض سے ضرور جاتا ہے لیکن واپس آنے کے بعد اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ پاکستان میں اس کے حالات خراب نہ ہوں گے۔ اسی طرح حج اور عمرے کی سہولیات بھی مختلف ذرائع سے مل جاتی ہیں کہ جب کوئی (خدا ترس ) امیر آدمی عمرے کا بندوبست کر دیتا ہے ۔ ہمارے مذہبی معاشرے میں خاص کر بزرگوں کی اکثریت مکہ اور مدینہ ضرور جانا چاہتی ہے اور ایسے واقعات ہمارے اردگرد ہوتے رہتے ہیں کہ ایسے افراد کو قرعہ اندازی یا مالی مدد کر کے عمرہ کروایا جاتا ہے۔ کیا عمرے پہ جانا یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ آپ غریب نہیں ہیں یا محترمہ نشتر صاحبہ نے دراصل ملک سے باہر جانے کو اپنے طبقے کے معمولات سے تعبیر کیا ہے کہ یہ افراد بھی چھٹیاں منانے ملک سے باہر گئے ہوں گے؟

پاکستان کے اکثریتی پختون مزدور گلف ریاستوں میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور حادثے کی صورت میں معذوری کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ۲۰۰۵ میں مزدوری کی تلاش میں باہر گیا ہو لیکن پھر واپس آ گیا ہو اب گزر بسر کے حوالے سے تنگی کا شکار ہو لیکن نادرا کے ڈیٹا کے ذریعے اس حکومت نے اسکو غیر مستحق بنا کر اپنی ( ایفشنسی) کا ہدف بنا ڈالا۔

پاکستانی ریاست کا واحد مقصد عوام سے ٹیکس زیادہ سے زیادہ جمع کر کے سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور دیگر پروفیشنل طبقات کے اخراجات کو پورا کرنا نظر آتا ہے۔ موجودہ حکومت اس طرزِ حکمرانی کو انتہائی بے حسی اور  زیاں کے احساس کے بنا ہی آگے بڑھائے چلے جارہی ہے۔ کابینہ میں منسٹر اس بات پہ ٹھٹھا اڑاتے ہیں کہ لوگ گاڑی میں بیٹھ کر اس پروگرام سے پیسے لینے آتے ہیں۔ ان بے حس لوگوں کو ان حقائق کا اندازہ نہیں کہ پنتالیس سو روپے سہ ماہی کوئی اتنی بڑی رقم نہیں کہ کوئی بھی صاحب ثروت اس کیلئے اپنا وقت برباد کرتا پھرے۔ جس ملک میں بی آر ٹی کا بجٹ کھربوں کے حساب سے بڑھایا جائے، دفاعی اخراجات میں ہر تین ماہ بعد سپلیمنٹری ترمیم کے ذریعے کھربوں کا اضافہ معمول ہو وہاں چند سو روپوں کی بابت “چیک اینڈ بیلنس” کا بڑھا ہوا إحساس دراصل نظریہ قابلیت کے پیچھے چھپ کر محرومی کو گناہ بنا کر پیش کرنا ہے۔ (meritocracy) کا نظریہ جو کہ پاکستانی کی پروفیشنل ایلیٹ کا آجکل فیشن ہے اسکی سطحیت کا اس ے بڑا اظہار نہیں ہو سکتا کہ ایک غریب کو اٹھارہ ہزار سالانہ دیتے ہوئے تو اتنی چھان پھٹک کی جائے لیکن صرف چینی کی سالانہ سبسڈی کا حجم پورے انکم سپورٹ کے حجم سے بھی زیادہ ہو۔ 

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

Avatar
اسد رحمان
سیاسیات اور سماجیات کا ایک طالبِ علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *