بھارتی فوج کشمیر میں کب اتری؟۔۔۔آصف محمود

’ مطالعہ پاکستان‘ کے ناقدین اس نکتے پر تو بہت مضامین باندھتے ہیں کہ قبائل کشمیر میں کیوں گئے ۔ان کے خیال میں قبائل کی لشکر کشی سٹینڈ سٹیل معاہدے کی خلاف ورزی تھی اور اسی وجہ سے مہاراجہ نے مجبور ہو کر بھارت سے الحاق کیا۔ لیکن یہ حضرات اس نکتے پر بات نہیں کرتے کہ بھارت کی فوج کشمیر میں کب اتری؟ نا معتبر الحاق کے بعد یا اس سے پہلے؟

تو کیا خیال ہے اس موضوع پر تھوڑا سا ’ مطالعہ ہندوستان ‘ ہو جائے ؟

قبائل کی لشکر کشی پر اٹھائے جانے والے سوالات اور اعتراضات کا جواب گذشتہ کالموں میں تفصیل سے دیا جا چکا۔ تکرار سے اجتناب کرتے ہوئے آج اس بات پر غور کرتے ہیں کہ بھارت نے فوجیں کب اتاریں۔الحاق سے پہلے یا الحاق کے بعد؟ یہ معمولی نکتہ نہیں ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بھارت نے 26 اکتوبر کو کشمیر میں فوج کشی کا حکم دیا اور 27 اکتوبر کی صبح 9 بجے اس کے دستے سری نگر ایئر پورٹ پر اتر چکے تھے۔ جس وقت یہ دستے سری نگر ایئر پورٹ پر اترے اس وقت تک کشمیر کا بھارت سے کوئی الحاق نہیں ہوا تھا۔ الحاق ہونا تو دور کی بات اس وقت تک مہاراجہ نے ابھی اس دستاویز کو دیکھا تک نہیں تھا۔

آئیے ذرا واقعات کو ان کی درست ترتیب میں رکھ کر سمجھ لیں۔ 24 اکتوبر کو جب مہاراجہ کے خلاف کامیاب بغاوت ہو چکی تھی ، مہاراجہ نے اپنے نائب وزیر اعظم کو دلی بھیجا تا کہ بھارت سے فوجی امداد کی بات کر سکے۔ بھارت کی دفاعی کمیٹی کے سامنے معاملہ رکھا گیا اس کی سربراہی مائونٹ بیٹن کر رہے تھے۔ کہا گیا بھارت اس صورت میں مہاراجہ کی مدد کر سکتا ہے اگر وہ بھارت سے الحاق کر لے۔ اسی نکتے کو بنیاد بنا کر ہمیں باور کرایا جاتا ہے کہ دیکھیے جناب پاکستان نے تو قبائل بھیج دیے اور معاملہ خراب کر لیا لیکن بھارت نے انٹر نیشنل لاء کا اتنا خیال رکھا کہ الحاق کے بغیر کشمیر میں فوج بھیجنے سے انکار کر دیا اور اس وقت تک فوج داخل نہیں کی جب تک الحاق نہیں ہو گیا۔۔اس کے بعد مطالعہ پاکستان کے ناقدین ہاتھ نچا نچا کر ہمیں بتاتے ہیں کہ خارجہ پالیسی میں قانونی نزاکتوں کا خیال ایسے رکھا جاتا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے۔اس جھوٹ کا ہمیں علم ہونا چاہیے۔ دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے اگلے روز 25 اکتوبر کووی پی مینن سری نگر پہنچے اور بعد میں لکھا کہ مہاراجہ کی عملداری ختم ہو چکی تھی اور وہ کسی بھی قیمت پر الحاق کرنے کو تیار تھا۔ایک روز سری نگر میں گزارنے کے بعد وہ کشمیر کے وزیر اعظم مہر چند مہاجن کے ساتھ دلی واپس چلے گئے۔مہاجن وہ ذات شریف تھے جنہیںچند روز قبل وزیر اعظم بنوایا گیا اور ریڈ کلف کمیشن میں کانگریس ( بھارت) کے نمائندہ تھے۔ یاد رہے کہ کشمیر کے وزیر اعظم رام چندرا کاک کو کو کانگریس کے دباؤ  پر معزول کر کے نظر بند کیا جا چکا تھا۔رات آٹھ بجے یہ دلی پہنچے اور وزیر اعظم صاحب سیدھے نہرو کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ نہرو نے مہاجن سے کہا کہ آپ سری نگر جائیں اور مہاراجہ سے الحاق کی دستاویز پر دستخط لے آئیں۔ وزیر اعظم صاحب اتنے خوفزدہ تھے کہ انہوں نے کشمیر جانے سے انکار کر دیا۔

یہ تھی ان کی عملداری کی حالت جو کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کرنے جا رہے تھے۔ وی پی مینن کا دعوی ہے وہ 26 اکتوبر کو مہاجن کے ساتھ جموں گئے تھے لیکن اب یہ دعوی جھوٹ ثابت ہو چکا ہے۔الیسٹر لیمب سمیت نصف درجن مبصرین شہادت دے چکے ہیں کہ وی پی مینن بھارت سے باہر نہیں گئے تھے۔26 اکتوبر کو ان کی مصروفیات کا سارا شیڈول منظر عام پر آ چکا ہے۔چھبیس تاریخ کو صبح دس بجے وہ دفاعی کمیٹی کی میٹنگ میں شریک تھے۔تین پینتالیس پر وہ جموں جانے کے لیے ایئر پورٹ گئے لیکن پھر واپس آ گئے۔پانچ بجے وہ دہلی میں تھے۔جہاں ان کی ملاقات برطانوی ہائی کمیشن کے الیگزینڈر سمن سے ہوئی اور انہوں نے سمن سے کہا اب وہ الحاق کی دستاویز پر دستخط کرانے کے لیے جموں اگلے روز جائیں گے ۔ اگلے روز صبح 9 بجے سری نگر ایئر پورٹ پر بھارت کے ڈکوٹا جہازوں میں فوجی دستے اتر چکے تھے۔

لندن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جب بھارت کی فوجین سری نگر اتر چکیں تب مینن اور مہاجن جموں کی طرف روانہ ہوئے تا کہ مہاراجہ سے دستخط کروا سکیں۔اس کا اعتراف برطانوی ہائی کمیشن کے گوپل سوامی نے بھی کیا ہے۔سٹینلے والپرٹ نے Tryst with Destiny میں نہرو کا یہ اعتراف شائع کیا ہے کہ جب بھارت نے فوج سری نگر میں اتاری اس وقت تک کشمیر کا بھارت سے الحاق نہیں ہوا تھا۔یہی بات مہر چند مہاجن نے بھی اپنی کتاب Looking back میں بین السطور تسلیم کی ہے۔ یہ بات گویا ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جب بھارت کی فوج سری نگر ایئر پورٹ پر اتری تو اس کی حیثیت ایک جارح فوج کی تھی۔ بھارت اپنے موقف کے حق میں بھلے جتنے ہی دلائل کیوں نہ دے لے سامنے کی حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ قانون حالات و اقعات کو دیکھتا ہے اور واقعات یہ ہیں کہ بھارت کی فوج پہلے اتری اور الحاق کی نامعتبر دستاویز پر دستخط بعد میں ہوئے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

الحاق کے حوالے سے باقی سارے سوالات کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو محض یہی ایک نکتہ اس الحاق کو نامعتبر اور غیر قانونی ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ انٹر نیشنل لاء اس ضمن میں بہت واضح ہے۔ویانا کنونشن آن دی لاز آف ٹریٹیز کے آرٹیکل 49 کے مطابق ایسا ہر معاہدہ باطل تصور ہو گا جو طاقت استعمال کر کے کیا گیا ہو یا جو طاقت استعمال کرنے کی دھمکی دے کر کیا گیا ہو۔ فوجی دستے آپ نے سری نگر ایئر پورٹ پر اتار دیے۔دس ڈکوٹا جہاز اسلحہ اور سپاہی سمیت کشمیر میں اتر چکے۔ اس صورت میں معاہدہ آزادنہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ اس سوال کے جواب میں سو توجیہات پیش کریں قانون کی نظر میں اس معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ مثالی کیس ہے جہاں ویانا کنونشن کے آرٹیکل 49 کا اطلاق ہوتا ہے۔

Facebook Comments

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply