آئی ایس آئی یا انٹر سروسز انٹیلیجنس۔۔۔۔عارف خٹک/قسط1

ہر ملک کی کُچھ خفیہ تنظیمیں ہوتی ہیں،جو طاقت کا توازن برقرار رکھنے کےلئے فوج، سول اداروں یا شخصیات کے زیر اثر کام کرتی ہیں۔ لہذا منتخب حکومت یا ادارے ان تنظیموں کو چلانے کی مجاز ہوتی ہیں۔

خفیہ اداروں کا کام فقط معلومات حاصل کرنا ،جو ملک کی بقاء کےلئے اہم ہوں،حاصل کرتی ہیں۔ خفیہ اداروں کی مختلف ذیلی شاخیں ہوتی ہیں،جن کو مختلف ذمہ داران کنٹرول کرتے ہیں۔ اس لئےچیک اینڈ بیلنس کےلئے ہر شاخ فوج کی ماتحت ہوتی ہے۔جو اپنی سالانہ کارکردگی سویلین حکومت کو پیش کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔
انٹر سروسز انٹیلیجنس پاکستان بھی ایک پیشہ ور ادارہ ہے۔ جو فوج کے ماتحت کام کرتا ہے۔ اس ادارے میں جہاں فوج کے حاضر سروس ذمہ دار افسران ہوتے ہیں ۔وہاں مقامی طور پر ان کے پرائیویٹ کنٹریکٹرز، سورسز اور مخبروں کا جال بچھا ہوتا ہے۔۔جو صرف اور صرف معلومات، پروپیگنڈے کے پھیلاؤ یا رکاوٹ، تجزیات اور شخصیات کی نگرانی متعلقہ سرپرست اداروں کو دینے کی مجاز ہے۔ آئی ایس آئی کا براہ راست کسی زمینی ایکشن سے کوئی خاص کام نہیں ہوتا۔وہ فقط متعلقہ معلومات کے حصول کےلئے سرگرداں رہتی ہے۔
آئی ایس آئی کا قیام 1948ء میں عمل میں  لایا گیا۔ جہاں قیام پاکستان کےساتھ ہی اقوام متحدہ میں افغانستان کا پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار، کشمیر پر ہندوستان کے ساتھ شدید ٹکراؤ والے اختلافات، روس کے بڑھتے ہوئے سرخ سائے اور ملک کے اندر قیام ِپاکستان کے مخالف مسلکی اور فکری گروہ،ان سب کی موجودگی نے پاکستانی فوج کو ایک ایسا ادارہ بنانے کی ترغیب دی۔جو معلومات کے حوالے سے سریع الاثر اور سریع الحرکت عمل کی حامل ہو۔جس کی مکمل باگ ڈور فوج کے زیر اثر ہو۔ لہٰذا 1948 ءمیں انٹر سروسز انٹیلیجنس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس کی کمان جنوری 1948ء تا 1951ء آسٹریلوی نژاد آفیسر والٹر جوزف کاوترون کو دی گئی۔ معلومات کے مطابق ڈاکٹر جوزف کو آئی ایس آئی کا بانی مانا جاتا ہے۔ جو آئی ایس آئی سے سبکدوش ہونے کے بعد 1954ء تا 1958ء کراچی میں آسٹریلیا کا ہائی کمیشن بھی تعینات رہا۔

آسٹریلوی نژاد جوزف کھترون ایک انٹیلیجنس ماہر تھا۔جو پہلی جنگ عظیم میں آسٹریلین ٹروپس کےساتھ ترکی، فرانس اور بیلجیئم میں لڑا۔ 1919ء میں برٹش آرمی جوائن کی اور 1930ء تا 1934ء تک شمال مغربی سرحد کے مہمند قبائل کے خلاف لڑا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران مشرق وسطٰی کے انٹیلیجنس سنٹر کا سربراہ رہا۔ 1947ء میں وہ پاکستان کےلئے خدمات انجام دیتا رہا۔ 1951ء میں میجر جنرل اور ڈپٹی چیف آف  سٹاف رہا۔ موصوف سکندر مرزا کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔

دُنیا کی پاکستان مخالف قوتیں جنہوں نے پاکستان کو برطانیہ کی ایک کالونی ہی سمجھا۔جہاں ہر قسم کے برطانوی مفادات کےلئے پاکستان کا وجود لازمی تھا۔ اُنھوں نے پہلے دن سے ہی پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کو نشانے پر رکھ لیا۔

آئی ایس آئی کو اپنی بقاء اس لئے بھی عزیز تھی،کہ 150،000 فوجیوں جن کو 4،000 آفیسرز نے لیڈ کرنا تھا۔ وہاں صرف 2500 افسران پاکستان کے حصے میں آئے۔ پندرہ اگست تک پاکستانی فوج کے پاس ایک پاکستانی میجر جنرل، دو پاکستانی بریگیڈیئر اور چھ پاکستانی فُل کرنل تھے۔ حالانکہ پاکستان کو 13 جنرلز، چالیس بریگیڈیئر اور 53 کرنلز کی ضرورت تھی۔ لہٰذا اس کمی کو پورا کرنے کےلئے 500 انگریز آفیسرز کو کنٹریکٹ پر تعینات کردیا گیا۔ اس بے سروسامانی اور ہُلڑبازی کی کیفیت میں جوزف نے ایرانی انٹیلیجنس SAVAK کےانتظامی ڈھانچے کو مدنظر رکھ کر آئی ایس آئی کا تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا۔ مگر جلد ہی اُس کو اندازہ ہوگیا،کہ SEVAK کا ڈھانچہ بہت کمزور ہے،تو اُس نے برطانوی خفیہ ایجنسی MI6 کو فالو کیا۔ مگر کافی عرصے تک آئی ایس آئی کا کوئی مضبوط کردار ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اُبھر کر سامنے نہیں آسکا۔
کولڈ وار کے دوران امریکی خفیہ ادارہ CIA اور روس کے KGB کی اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتوں کی وجہ سے “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس” کے مصداق معلومات کےحصول کے لئے ہر جائز و ناجائز منصوبہ سازی، پروپیگنڈہ اور ظلم کی حد تک ایک دوسرے کے جھکاؤ کی خواہش نے جہاں ایک سفاک اور تاریک تاریخ رقم کی ۔وہاں چھوٹے ممالک یا نئے آزاد ہونے والے ممالک میں جہاں اخلاقیات کی پہلے ہی شدید کمی تھی،ان پر مزید اثر انداز ہوگیا۔ اور ہر حربے کو جائز اور قانونی حق گرداننے کی سوچ نے تقریباً ہر ملک کے انٹیلیجنس اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

حالانکہ دوسری جنگ عظیم میں یہی اعزاز نازی انٹیلیجنس گسٹاپو Gestapo(نازی دور میں ہٹلر کی زیرِ نگرانی قائم ہونے والی خفیہ فورس)کے پاس تھا۔ جس کو جواز بناکر سی۔آئی۔اے اور کے۔جی۔بی نے وہ حرکتیں دوبارہ دُہرائی،جن کو دیکھ کر دماغ ماؤف ہوجاتا ہے۔بدقسمتی سے وہ اپنے اس عمل کو جائز ثابت کرنے کےلئے دفاع اور مخالفین کو سائنٹیفک وار سائیکلز کا نام بھی دیتے آرہے ہیں۔

آئی ایس آئی ابتداء میں 1960ء تک صرف کشمیر بارڈر اور شمالی علاقہ جات تک محدود رہی۔ بعد میں آئی ایس آئی کو پاکستان کے ملٹری اتاشی کی بیرون ممالک تعیناتی کی ذمہ داریاں سونپی جانی تھیں۔ مگر آئی ایس آئی کوئی اتنا بڑا انٹیلیجنس مینڈیٹ بھی نہیں تھا۔
کشمیر کے تنازعہ پر ہندوستان کےساتھ کی گئی محاذ آرائیوں نے آئی ایس آئی میں ایک نئی رُوح پھونک دی۔ لہٰذا 1948ء سے لیکر 1970ء تک آئی ایس آئی نے فقط ہندوستان کو فوکس کیا۔
70 کی دہائی میں سویت یونین کی افغانستان میں مداخلت نے جہاں دنیا کی تاریخ بدل دی۔ وہاں اس کا سب سے زیادہ فائدہ آئی ایس آئی کو ہوا۔ آئی ایس آئی کو پہلی بار امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے، برطانیہ کے ایم آئی سکس اور یورپی خفیہ اداروں کےساتھ گُھل مل جانے کا موقع ملا۔ جہاں جدید ٹیکنالوجی، جدید انفراسٹرکچر، بھوت پلاننگ اور دفاعی منصوبہ بندیوں نے گویا آئی ایس آئی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ آئی ایس آئی کو پہلی بار اندازہ ہوگیا۔کہ دراصل ان کی بنیادی غلطی ہی ہندوستان پر فوکس کرکے اپنی توانائیاں ضائع کرنا ہیں۔ لہٰذا پوری لگن اور توجہ سے اُنھوں نے قریب سے امریکی اور دوسرے انٹیلیجنس اداروں کو سٹڈی کرنا شروع کیا۔ اور بالآخر اس نہج پر پُہنچ گئ۔کہ 2001ء میں امریکی صدر کی خصوصی درخواست پر افغانستان پر امریکی حملے سے آئی ایس آئی کو مکمل طور پر باہر رکھنے کی درخواست کی گئی۔

جاری ہے

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *