دھوبی کا کتا، گھر کا نہ گھاٹ کا ۔۔۔ شاہ عالم

ایک زبان زد عام محاورہ ہے جس کا پس منظر تو الحمد للہ ہمیں بھی نہیں معلوم  البتہ طریقہ استعمال یہ ہے کہ اگر آپ نے کسی معزز بندے کی محرومی و ناکامی پر تعریض کرنی ہے تو کہیں ‘خدا ہی ملا نہ وصال صنم’۔ اگر ہما شما جیسا ہی مخاطب ہو تو یہ محاورہ اسے ایک سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مارا جاسکتا ہے ‘دھوبی کا کتا، گھر کا نہ گھاٹ کا’۔ عزیزم چیکو بھی یہ محاورہ بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ مگر بالیقین نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں پس منظر معلوم ہے یا نہیں۔ وہ ماشاءاللہ اس قدر باصلاحیت واقع ہوئے ہیں کہ سوچے سمجھے اور جانے بغیر بھی انتہائی خود اعتمادی سے کچھ بھی لکھ سکتے ہیں۔

جہاں تک ہمیں معلوم ہے یہ محاورہ درحقیقت “دھوبی کا کتکا، گھر کا نا گھاٹ کا” تھا۔ جس میں غالبا کسی کاتب کی عجلت پسند طبیعت کے باعث “کتکا” کو “کتا” سے تبدیل کردیا گیا یا پھر کتوں کی شہرت نے کاتب کو ایسا کرنے پر مجبور کردیا۔ اور گلی محلوں میں حقیقی و معنوی کتوں کی کثرت کے باعث اسے قبولیت عامہ بھی حاصل ہوگئی۔

کتا تو آپ سب کو معلوم ہی ہوگا کہ کون ہوتا ہے؟۔ تاہم کتوں کوخود بھی اپنے کتے ہونے کا علم ہوتا ہے یا نہیں؟۔ اس بابت کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔ انسانوں میں بھی تو بہت سے ایسے نابغے موجود ہیں جنہیں اپنے انسان ہونے کا نہیں معلوم اور وہ جانوروں کی سی حرکات کرتے ہیں۔ البتہ “کتکا” لکڑی کے اس مستطیل ٹکڑے کو کہا جاتا ہے جس سے دھوبی کپڑوں پر تشدد کرتے ہیں تاکہ کپڑوں کا اندرونی میل باہر آسکے۔ پولیس والے بھی اسی مقصد کے لیے کتکا استعمال کرتے ہیں مگر وہ لکڑی کا نہیں ہوتا چنانچہ اسے چھتر کہا جاتا ہے۔

شنید ہے کہ اصل لفظ ختکہ تھا۔ ہم جیسے دیہاتیوں سے خ ادا نہیں ہوتا تھا تو انہوں نے اپنی سہولت کے پیش نظر اسے کتکا کردیا۔ عرفِ دیہات میں اسے “تھاپی” بھی کہا جاتا ہے مگر وہ چونکہ کتکے کی بہ نسبت چھوٹی ہوتی ہے اور گاؤں دیہات کی خواتین کے کام آتی ہے کپڑے پیٹنے اور شوہر کے ہاتھوں خود پٹنے میں، لہذا وہ مؤنث ہوتی ہے اور گھر میں ہی رہتی ہے۔ جبکہ کتکا بھاری اور وزن دار ہوتا ہے۔ دھوبی دن بھر اس سے کپڑے کوٹنے کے بعد جب شام کو دھوبی گھاٹ سے گھر جانے لگتا ہے تو شدید پریشان ہوتا ہے

پریشانی کی تفصیل یہ ہے کہ اگر اس کتکے کو گھر لے کر جائے تو اس کا وزن دن بھر کے تکان زدہ دھوبی کو مزید تھکادیتا ہے اور اگر اسے دھوبی گھاٹ پر چھوڑجائے تو کوئی نا کوئی شرپسند دھوبی یا محنتی چور اسے چوری کرلیتا ہے۔ اس طرح یہ کتکا نہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا۔ بلکہ اسے ان دونوں مقامات کے علاوہ کسی اور محفوظ مقام پر چھپایا جاتا ہے تاکہ اگلی صبح وہیں سے کام شروع کیا جائے جہاں ادھورا چھوڑا تھا۔

ہماری نظر میں تو یہی اس محاورے کی بنیاد ہے۔ اس میں کتا کب اور کیسے داخل ہوا؟۔ اس کا جواب وہی دیں جو اس محاورے کو کتے کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ ہم تو کتوں سے ویسے ہی دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ ویسے بھی آج کل کے کتے بالکل ہی کتے ہوتے جارہے ہیں۔ ان سے دوری بنائے رکھنے میں ہی عافیت ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *