اگلی باری کس کی ہو گی؟؟۔۔ممتاز علی بخاری

معصوم زینب کے ساتھ زیادتی بھی ہو گئی اور پھر اسے گواہی دینے یا ملزمان کی پہچان کرنے کے خدشات کے پیش نظر درندوں نے اسے جان سےبھی مار دیا۔ سوشل میڈیا پہ اسے انصاف دینے کے لیے ایک مہم شروع ہو گئی ہے. آپ کے ذہن میں بھی اب سوال پیدا ہو رہا ہو گا کہ اب کیا ہو گا. مجھ سے پوچھیے حضور…. خادم اعلیٰ اس پر نوٹس لیں گے. ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا اعلان کرے گی. معصوم زینب کے والدین جب عمرے سے واپس آتے ہیں تو وزیر اعلیٰ (اگر انہیں مقتولہ کے والدین کی سیاسی وابستگی ہضم ہو گئی تو) اس کے گھر جائیں گے, اس کے والدین کو تسلی دیتے, دلاسا دلاتے بیسیوں فوٹوز کھینچوائیں گے. اور پھر چند دن گزرنے کے بعد نئی  رپورٹ کا پتا ہو گا نہ ہی انکوائری آگے جائے گی… یقیناً کوئی طاقت کا دیوتا یا اس کے رشتے دار ملوث ہو گا.

انسانی حقوق کی آواز بلند کرنے والے اس کی تصویریں آویزاں کر کے اپنے چندے اور فنڈز اکٹھے کریں گے .بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات پر چند دن ٹی وی چینلز والے چٹخارے لے لے کر پاکستان بھر میں ہونے والے اس قسم کے جنسی جرائم پیش کریں گے. سیاسی جماعتوں والے اپنی اپنی سیاست چمکائیں گے…. اسی کشمکش میں چند روز گزر جائیں گے…. سب بھول جائیں گے…. سب بھول جائیں گے! شب و روز کی الجھنوں میں , غم روزگار میں , زندگی کی پریشانیوں میں اگر کسی کو یہ واقعہ یاد رہے گا تو اس بے چاری کے والدین ک۔۔ جو ایک کرب اور تکلیف میں مرتےدم تک مبتلاء رہیں گے۔ ان کو تسلی دینے والی زبانیں بھی جلد بند ہو جائیں گی اور وہ تاحیات اس اذیت کا شکار رہیں گے۔ بھلا کس کے پاس وہ اپنی فریاد لے کے جا سکتے ہیں۔ حکمرانوں کے پاس.؟؟ حمزہ شہباز کی بیوی آج تک رُل رہی ہے کہ وہ اسے اپنی بیوی تسلیم کر لے. کیا وہ کسی بچی کی عزت کا محافظ بن سکے گا یا اس کے والد گرامی اور مستقبل کے وزیر اعظم جو ہر مسئلے کا حل معطلی, نوٹس اور تحقیقاتی کمیٹی بنانے میں اور اس کے نتائج چھپانے میں سمجھتے ہیں یا وہ وزیراعظم جو ابھی تک خود کو وزیراعظم ہی نہیں مان رہے جو میرا وزیر اعظم نواز شریف کے راگ الاپتے ہیں۔

آپ سب بھی بھول جائیں گے…. میرا یقین جانیے آپ بھی بھول جائیں گے۔ پھر کچھ وقت بیتے گا کسی اور کے ساتھ ایسا ہی کوئی سانحہ ہو گا .ایک بار پھر یہی ریہرسل شروع ہو گی اور پھر خاموشی چھا جائے گی. بس متاثرہ خاندان ہی ایک مسلسل اور نہ ختم ہونے والی بھٹی میں جلتے رہیں گے  اور جب تک آپ کی باری نہیں آ جاتی اس وقت تک آپ بھی ایسے واقعات کو چند دنوں میں بھول جائیں  گے۔ خدارا اس آگ کو بجھانے میں اپنا کردار ادا کریں قبل اس کے کہ یہ آگ آپ کے گھر کو جلا کر خاکستر کر دے۔ خدا کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں۔ زینب کے لیے , اس جیسے دوسرے معصوم بچوں کے لیے ۔آپ اگر ان کے لیے دردِسر نہیں لے سکتے تو اپنے بچوں کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تاکہ مستقبل میں آپ کو ایسی کسی کیفیت سے نہ گزرنا پڑے جس سے زینب کے والدین گزر رہے ہیں۔

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *