مکالمہ کو تیسری سالگرہ مبارک ہو ۔۔۔ غیور علی خان

دو ہزار سولہ کی بسنت رت میں جب ہر سو پھولوں کی مَدھ بھری جوانی خرد مندوں کو دیوانہ بنانے کا ساماں پیدا کیے ہوئی تھی، پکھی پکھیرو کے میٹھے گیت دہر کو دہر کا فسانہ بنا رہے تھے اُس سمے ایک سودائی کبھی تتلیوں کے رنگ چرا کر کبھی بچوں کی ہنسی مستعار لے کر انسانیت کے کینوس پہ قطبین کے حاشیے جوڑنے کی تگ و دو میں مصروف ہوتا تھا۔

جس طرح چڑھتی جوانی کی ایک علامت چہرے پہ یکے بعد دیگرے نکلنے والے مہاسے ہوتے ہیں اسی طرح انعام رانا کی عنفوانِ سخن کا حظ احباب اس کی تحاریر کی صورت ایک معاصر اردو ویب سائیٹ پہ لیا کرتے تھے۔

پھر مرورِ ایام نے انعام کی بانہہ ایسی مروڑی کے اس نے بیٹھے بیٹھے مکالمہ کے اجرا کا فیصلہ کر لیا اور بقول امیر مینائی

وہ بیٹھے بیٹھے جو دے بیٹھے قتل عام کا حکم
ہنسی تھی ان کی کسی پر کوئی عتاب نہ تھا

مگر مجھ نادان سمیت کئی لال بجھکڑ اس قضیہ پہ ایسے چیں بہ چیں ہوئے جس کا بیاں فراغ روہوی نے کچھ اس طرح کیا ہے کہ

اس ایک بات پہ ناراض ہیں سبھی سورج
کہ میں نے اُن سا افق پر ابھرنا چاہا تھا

مکالمہ کی ابتدا و ترویج کا بنیادی مقصد فکری قطبین کے مابین ایک مثبت رابطے کا رواج ڈالنا تھا کہ ملت کے دریدہ دامن کے رفو ہونے کا کچھ انتظام تو ہو کیوں کہ جس ڈھنگ سے ہمارے معاشرے میں مخالف مکتبۃ فکر کی کھلی اُڑائی جاتی ہے اس کا حال جمال اویسی نے کیا خوب باندھا ہے کہ

پتھر سے مکالمہ ہے جاری
دونوں ہی طرف ہے ہوشیاری

تاریخ بیان کرتی ہے کہ تمام تر مخالفتوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود انعام رانا نے آج سے تین سال پہلے آج ہی کے دن مکالمہ کی نیو رکھی تھی۔ اُس دور سے اِس یوم تک یہ ظالم جس طرح مکالمہ کے منچ سے بد ذاتِ خود و ہمنوا متفرق مضامین کی مشکیں کستا رہا ہے وہ ایک راجپوت سورما کا چومکھی لڑائی میں طاق ہونے کی دلیل ہے۔ حضرتِ داغ نے نہ جانے کس قلبی کیفیت پہ یہ شعر موزوں کیا ہوگا پر اس کا ناپ انعام رانا و مکالمہ ٹیم کی بوقلمونی پہ بھی چُست آتا ہے کہ

سخت جانی سے مری جان بچے گی کب تک
ایک جب کُند ہوا دوسرا خنجر آیا

کہنے کو تو یہ کاوشِ مکالمہ ابھی اپنے گہوارے میں ہی ہمک رہی ہے تاہم بتدریج ہمارا اجتماعی شعور کہیں کہیں ایک دوسرے کے پرانے پاجامے ادھیڑنے کے بجائے چاک گریباں کی سوزن کاری کی سعئ لاحاصل میں بھی مشغول دِکھتا ہے۔

ہر پھول کا ایک رنگ ہوتا ہے، اپنی سگند ہوتی ہے، اپنا مزاج ہوتا ہے کہ رات کی رانی چٹکتی چاندنی میں اپنے جوبن پہ ہوتی ہے یا گلِ دوپہری سورج کے سامنے ہی اپنے بھید بھاؤ دیکھاتا ہے۔ اسی طرح یہ محبت کے کمہار بھی اپنے ظروف امید کی ڈھنڈی چھاؤں میں سُکھاتے ہیں۔ انعام رانا بھی پریت کا پیمبر ہے اور اسی لیے مخالفتِ دوراں کے باوجود اس نے ہمیشہ نفرت کے سامنے بند باندھنے کی کوشش کی جس کی ہمیں بھر پور مخالفت کرنی چاہیے تاکہ اس شعر کی تمثیل ہوسکے۔۔

اپنے آپ کو گالی دے کر گھور رہا ہوں تالے کو
الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کی

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *