خواتین ڈائجسٹ کی کہانیوں میں کیا لکها ہوتا ہے

دو طرح کےڈائجسٹ پڑھنے کا تجربہ رہا، اول جاسوسی یا سسپنس، دوم خواتین ڈائجسٹ- تجزیہ کرنے کی ہماری اوقات نہیں، تجزیہ کرنا بڑے لکھاریوں کاکام ہوتا ہے- جس “وارداتِ قلبی” کے تجربہ سے گزرے وہ البتہ بیان کرسکتے ہیں- جاسوسی یا سسپنس ڈائجسٹ میں آپ کو سستا جنسی چٹخارہ مل جاتا ہے- خواتین ڈائجسٹ، جو اپنے تئیں ‘پاکیزگی’ کی چادر میں لپٹے ہوتے ہیں، سستی رومانویت اور خیالی دنیا کے ہیرو اور ہیروئین سے بھرے ہوتے ہیں-مسئلہ کامیاب ،خوبصورت، اعلیٰ عہدوں پہ متمکن، بزنس مین، افراد کو ہیرو کے طورپہ لینا ہی ہے-

گذارش یہ ہے کہ کامیاب ہونے کے لئے جتنا کامیاب لوگوں کی کہانیاں پڑھنا ضروری ہے اس سے کہیں زیادہ ناکام لوگوں کی کہانیاں پڑھنےسے انسانی ذہن عبرت پکڑتا ہے اور وہ راستہ اختیار کرنے سے باز رہتا ہےجو ناکام لوگوں کا ہوتا ہے- خواتین ڈائجسٹ کا عام تاثر جو ذہن پہ پڑتا ہے وہ یہ کہ کہانی کا اختتام اچھا ہوتا ہے، ہیپی اینڈنگ، ہیرو ایک کامیاب سوٹڈ بوٹڈ بزنس مین ، سی ایس پی آفیسر، یا ویل رپیوٹڈ فرم میں اعلیٰ نہیں تو اچھے عہدہ پر ضرور دکھایا جاتا ہے- اس کا استدلا ل ہماری ایک بڑی لکهاری نے یہ کیا ہے کہ ہر امتحان میں اول رہنے والی پچاس فیصد آبادی کو کیوں ایسا لٹریچر بیچا جائے جس میں کسی تھڑے باز کو آئیڈئیلائز کرنے کی ترغیب ہو- اس استدلا ل میں کمزوری یہ رہ جاتی ہے کہ یہ ہمیں نہیں بتاتاکہ کتنے فیصد مختلف ملکی سطح کے امتحانات میں اول آنے والی بچیاں ان سستی رومانویت اور سستی کامیابیاں بیچتے خواتین ڈائجسٹ پڑھ پڑھ کر امتحانات میں اول آتی ہیں۔سی ایس پی بنتی ہیں یا پرائیوٹ کارپوریٹ سیکٹر میں ڈویژنل ہیڈز کی پوزیشن انجوائے کرتی ہوں-اور اس سارے فسانے میں اول نہ آنے والی، روپیٹ کر میٹرک پاس کرنے والی یا کسی فاصلاتی نظامِ تعلیم  سےاستفادہ کرنے والی لڑکیوں کا ذکر کہاں ہے؟

جب ایسی اوسط درجہ کی تعلیمی قابلیت والی لڑکیاں متواتر ایک ایسے ہیروجو کامیاب سوٹڈ بوٹڈ بزنس مین ، سی ایس پی آفیسر، یا ویل رپیوٹڈ فرم میں اعلیٰ نہیں تو اچھے عہدہ پر متمکن کی کہانیاں پرھتی چلی جاتی ہونگی تو ان کی نفسیاتی شکستگی کا اندازہ آپ خود کیجئے- بچیاں جب کہانیاں پڑھتی ہیں تو سب سے بہترین کردار کو سفید گھوڑے پہ بے داغ خوبصورت پیرہن میں ملبوس اپنے لئے آتا تصور کرلیتی ہیں-جبکہ میرے جیسا اگڑم بگڑم بھی ان کا مقدر ہوسکتا ہے- مسائل پھر جنم لیتے ہیں جب ڈائجسٹ کی خیالی خوش کن دنیا کے برعکس تلخیوں کا سامنا ہوتا ہے اور شریک سفر مجھ ایسا کوئی اگڑم بگڑم ہوتا ہے- شادی کے بعد کیا ہوتا ہے کا خوبصورت تخیل اپنی جگہ مگر ایک سات سالہ بچے کےساتهہ طلاق کے بعد کیا ہوتا ہے کی اذیت کیساتهہ جینا کیسا ہوتا ہے کی حقیقت ان ناولز میں کم دکهائی جاتی ہے-

بےشمار کہانیاں لکھی جارہی ہیں- کیا وجہ ہے کہ شہرت “ایمان امید اور محبت” ،”پیرِکامل” جیسی کہانیوں کو ہی ملتی ہے- آپ بک سٹال پہ جائیے ، کسی خاتون کزن کی بک کلیکشن کا جائزہ لیجئے، ہر دو میں سے ایک یا ملتی جلتی کا وہاں موجود ہونا لازم ہے- وجہ ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ اس میں ہیرو ایک کامیاب شخص دکھایا گیا ہوتا ہے-سونے پہ سہاگہ ہوتا ہے، سوہنا بھی اور کامیاب بھی- سوہنے اور کامیاب سے شادی ہر لڑکی کا حق ہے، اس حق سے پہلے مگر یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ لڑکی خود کتنی کامیاب ہے- رورو کر دس جماعتیں پاس کرنے والی کسی انٹیلیجنس آفیسر یا کارپوریٹ کے اعلیٰ افسر کے خواب دیکھے گی اور بیاہی کسی موٹر میکینک ، ویلڈر، پلمبریا الیکٹریشن سے جائے گی تو ناکام حسرتوں کے بعد یاسیت کے دوروں کا شکار ہی ہوگی-

ویلڈر اور الیکٹریشن اپنے اہلِ خانہ کو ایک اچھی زندگی دے سکتے ہیں ،ہم اپنی حقیقی زندگیوں میں مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ کتنے الیکٹریشنز ہیں جو جان توڑ مشقت سہہ کر اپنے بچوں کے لئے معقول زندگی کا بندوبست کررہے ہوتے ہیں، مگر پیرِکامل ایسی لکھاریاں اس زندگی کو اچھی زندگی دکھاتی ہی نہیں- انہیں تو بابو ٹائپ ہیرو چاہیے-کسی کا مشاہدہ بتاتا ہوگا کہ خواتین ڈائجسٹ کا مطالعہ کرنے والی خواتین کامیاب گھریلو زندگی بسر کررہی ہیں اور جو نہیں پڑھتیں وہ پھڈے باز ہی رہتی ہیں- ہمارا مشاہدہ بتاتا ہے کہ ہمیں ان ڈائجسٹ کے مطالعہ کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا- تو اس قضیہ کاابطال و اثبات انفرادی مشاہدوں پہ ہو ہی نہیں سکتا- اجتماعی نتائج ،جو محض مفروضے ہیں ،کی تصدیق کیسے کریں-

انسان قدم بہ قدم آگے جاتا ہے، رسالوں میں تخلیق ہونے والاادب اور اشفاق احمد اور معاصرین کی تخلیق کو اگربالترتیب دوسرے اور پہلےنمبر پہ بھی رکھ لیں تو کتنی خواتین ہیں جو خواتین ڈائجسٹ پڑھنے والی ہیں اوردرجہ دوم کے ذائقے سےاٹھ کر درجہ اول میں آتی ہیں- کتنی سوشل میڈیا کی بہترین لکھاری ہیں جواس طرز پہ لکھتی ہیں، ان ناولز کو بطور حوالہ استعمال کرتی ہیں، یا اپنی تحریروں میں ان کو پڑھنے کی ترغیب دیتی نظر آتی ہیں-مجھے تو نظر نہیں آئیں- اب بھی خواتین ڈائجسٹ کی لکھاریوں کی ناموس کی حفاظت کاعلم چند ایک نے تب بلند کیا جب ناموس تنقید کی زد میں آئی-ابھی ہم 2016 کے مقابلہ کے امتحان میں اول آنے والی انجنیئر ملیحہ ایثارکی سوشل میڈیا پہ تقریر سنتے ہیں تو وہ کہتی پائی جاتی ہیں کہ کتنے ہیں جنہوں نے جان پرکنز کی ‘اکنامک ہٹ مین’ پڑھی ہے، اور وہ زور دیتی ہے پڑھنے پہ، نمرہ یا اقراءصغیر کو پڑھنے کا مشورہ اس نے کیوں نہیں دیا- کیوں کہ وہ جان گئی ہوگی کہ اس سستے پن کے مطالعہ سے کوئی بھی شخص کامیاب نہیں ہوسکتا –

Avatar
امجد خلیل عابد
ایک نالائق آدمی اپنا تعارف کیا لکھ سکتا ہے-