مکالمہ کی تیسری سالگرہ اور انعام رانا۔۔۔عامر کاکازئی

کوئی چار سال پہلے ہمارے دوست، بھائی ثاقب ملک نے ہماری ہمت افزائی کی کہ ہم لکھیں۔ پوچھا کہ کون چھاپے گا۔۔ بولے کہ ہم اپنی سائیٹ پر چھاپیں گے۔ اس طرح ہم نے لکھاریوں کے میدان میں قدم رکھا۔ بعد میں وجاہت مسعود، وسی بابا اور عدنان کاکڑ صاحب کی وجہ سے ہم سب میں بھی لکھنے کا اتفاق ہوا۔ اسی اثنا میں ہمارے دوست مجاہد خٹک صاحب نے ہمیں بتایا کہ لندن کے ایک وکیل بابو انعام رانا صاحب ہیں جنہوں نے مکالمہ کے نام سے آن لائن میگزین شروع کیا ہے اور ہماری ہمت افزائی کی کہ ہم اس میگزین میں لکھیں۔ اس طرح تین سال پہلے جہاں ہمارا لکھنے کا سفر شروع ہوا وہاں ایک بہترین انسان یعنی انعام رانا بھائی سے بھی دوستی شروع ہوئی۔ میگزین کے اجرا ءکے سات مہینے کے اندر اندر انہوں نے مکالمہ کانفرنس دبئی کراچی اور لاہور میں منعقد کروائی  جو کہ ایک نئے میگزین کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ اس کانفرنس میں انہوں نے ہمارے جیسے بہت چھوٹے سے لکھاری کو خاص عزت دی۔ ہمارے پک اینڈ ڈراپ سے لے کر ہوٹل کی رہائش تک کی ذمہ داری نبھائی۔ دوستی میں عزت ہمیں ایسی دی کہ ہم ان کے ولیمے کے چند گنے چنے مہمانوں میں سے ایک تھے۔انگلش میں ایک فقرہ ہے ڈاؤن ٹو ارتھ۔  جب بھی ملے ان سے ، لگا کہ یہ فقرہ بنا ہی ان کے لیے ہے۔ جو خلوص محبت اور عزت ان سے ملی، اس کے لیے ہم ان کے احسان مند ہیں۔
جہاں تک لکھنے کی بات ہے جب جب ہمارا مضمون لیٹ ہوا تب تب ان کی طرف سے ایک پیاری سی یاد دہانی کی عرضی آجاتی تھی کہ بھائی لکھیے اور جلد لکھیے۔ یہ صرف ان کی محبت ہے کہ ہم ابھی تک لکھ رہے ہیں اور مکالمہ میں ہی لکھ رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک مشترکہ دوست کی بدولت یہ ایک مسئلے میں گرفتار ہوئے۔ تو سب سے پہلے ہم ہی تھے کہ اس مشترکہ دوست سے ناطہ توڑا کہ جو اس نفیس انسان کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے تو وہ سب کے ساتھ یہ ڈرامہ کرسکتا ہے۔
 بڑے بھائی ہونے کے ناطے ان سے درخواست ہے کہ اپنی ذات کو اور مکالمہ کو فضول کے تنازعات سے بچائیں۔۔
دعا کہ انعام بھائی ہمیشہ خوش رہیں، ان کے رزق میں اضافہ ہو اور جلد ہی ہمیں تایا بننے کی خوش خبری سنائیں۔
مکالمہ اس وقت دنیا کا واحد میگزین ہے جس میں اپنا مضمون شائع کروانا سب سے آسان ہے۔انعام بھائی چونکہ انگلینڈ میں ہیں اس لیے ون ونڈو آپریشن کے تحت اس سائیٹ کو بھی چلا رہے ہیں، مطلب کہ رائٹر کو مکالمہ میں اپنی تحریر کو پبلش کروانا سب سے آسان ہے۔ بس اپنا اکاونٹ بنائیں، اپنی تحریر کو لکھیں اور پبلش کا بٹن دبا دیں۔ لیجیے آپ کی تحریر ایڈیٹر کے لیے تیار ہے کہ وہ پڑھے، اگر ضرورت ہے تو ایڈیٹ کرے اور ساتھ میں ٹائمر لگا دے پبلش کرنے کے لیے۔ایک خاص وقت تک آپ اپنی تحریر سے رجوع کر کے ایڈیٹ بھی کر سکتے ہیں۔اور ساتھ میں اگر ضرورت ہے تو لگائیں  پکچر اپنی پسند کی ۔ غرض کہ پورا مکالمہ آپ کے فنگر ٹپس پر ہے جس سے اس سائیٹ سے اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔
مکالمہ ایک شخص انعام رانا سے شروع ہوا اور اب ان کے پاس ایڈیٹرز کی ایک پوری ٹیلنٹڈ ٹیم ہے۔ جس کی سب سے بہترین ایڈیٹر محترمہ اسما  مغل صاحبہ ہیں۔ جو نہ دن دیکھتی ہیں نہ ہی رات بس بغیر کسی لالچ کے مکالمہ کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہوتی ہیں۔کوئی بھی رائٹر  اپنی تحریر کی بروقت پبلشنگ کے لیے ان سے رجوع کر سکتے ہیں۔
مکالمہ کے لیے بھی دعا گو ہیں کہ یہ ہمیشہ قائم رہے اور پھلے پھولے آمین!

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *