قلندر کی ہیر۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط7

عقل و دانش کے موتی جتنے سالٹ رینج کی روایات میں بکھرے  ہیں ،شاید ہی کہیں اور پائے جاتے ہوں۔ نئی نسل تو ان سے بے بہرہ ہے ہی پچھلی پیڑی جس نے یہ سُن رکھے تھے وہ بھی ان کی منطق پوری طرح نہیں سمجھ پائی ۔ فرمایا گیا تھا۔

” بے جوڑ ، جوڑ ،اگر جوڑتے ہوئے ٹوٹ جائے ،اسے نعمت سمجھنا کہ انہونی سے بچ گئے ہو”۔۔۔

یہ شاید رشتہ کرنے بارے ہدایت ہے کہ جوڑی اگر زندگی کے کسی نازک موڑ پہ  ٹوٹے تو نقصان کی تلافی ممکن نہیں  رہتی۔۔یہ بات سائیں غلام شاہ اور گلاب بی بی پر صادق آئی، اگر گاؤں کی زمین کی ملکیت معلوم ہونے سے پہلے ان کا رشتہ ہو جاتا تو ایک صاحب جائیداد خاندان کی عورت کسی گانے بجانے والے میراثی کے ہاں کیسے رہ سکتی تھی ؟۔۔

دوسری روایت یہ کہ اگر کوئی  بھینس دودھ اچھا نہ دے، گائے وچھا نہ دے، داند پھیرا اچھا نہ دے ۔۔۔۔تو ان کے تھان بدل دو!
یہ بات بھی درست ثابت ہوئی، سائیں باپ کے گھر سے بے گھر ہوا ، مزار پہ  مقیم ہوا تو پیر درویش بن گیا۔۔

گلاں نے گاؤں چھوڑا ۔پنڈی شفٹ ہوئی  تو ، بی بی گلاب بانو، بن گئی ، وہاں بھی گھر کی مالکن ہو گئی۔

سالٹ رینج کا منظر

صوبیدار صاحب کا پورا دن بلال کے والد کے ساتھ مورگاہ میں گزرا۔ دونوں بزرگوں نے پچھلے دنوں کے واقعات پر اپنے تجربہ سے سیر حاصل بحث کی، یہ طے کر لیا کہ صوبیدار صاحب کے حصے کے دو مکان ٹرانسفر کرنے ہیں،ایک گھر گلاں یا اس کی ماں کے نام کرنا ہے گاؤں میں انکی بیٹھک والی قریب دس مرلہ زمین کے تبادلہ میں،کالونی کی زمین بلال کے ابا کے نام پر تھی بلڈنگ صوبیدار صاحب نے بنائی ، اس زمین کی قیمت کے بدلے صوبیدار صاحب دوسرا مکان بلال کو دیں گے۔۔بلال کی ایک ٹانگ میں ہلکا سا لنگ تھا ، باپ کی اسے ڈاکٹر بنانے کی خوائش بھی اسی وجہ سے تھی کہ وہ فوج میں نہیں جا سکتا تھا، اس سے بڑی بہن شادی شدہ تھی، چھوٹا بھائی  تو ایف اے کر کے باپ کی تگ و دو سے فوج میں لفٹین بھرتی ہو گیا تھا۔

صوبیدار صاحب نے گلاں بی بی بارے خاندان ، زمین اور بلال کی دلچسپی کے مدنظر رشتہ کرانے کی آفر بھی دی۔۔بلال کے باپ نے اس پر سوچنے ، بیوی اور بیٹی سے مشورہ کے لئے مہلت مانگی،یہ مسئلہ بھی زیر غور آیا کہ بلال کاروبار تو کرے گا نہیں، اس کا روزگار ملازمت کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔۔گلاں کی اماں کے لئے مورگاہ کے نواحی ہیلتھ سنٹر میں ٹرانسفر کرانے کا طریقہ بھی سوچا گیا۔۔

صوبیدار صاحب کی اپنے علاقے کے پنڈی میں مقیم بااثر لوگوں سے دوستی بلکہ گھریلو تعلقات تھے،جن میں کرنل محمدخان ، میجر ضمیر جعفری ، جج قاضی گل سرفہرست تھے۔
ویسے دوستی نہ بھی ہو تو بھی چکوالیے کسی بھی گرائیں کا جائز ناجائز کام کرا کے دینا عبادت مانتے ہیں۔۔۔

بلال ، گلاں اور اس کی اماں کا سارا دن صوبیدار صاحب کی بیگم کے ساتھ گاؤں کی باتیں کرتے گزر گیا۔بیچ میں دو بار مارکیٹ سے کچھ سامان لانے بلال کو بھیجا گیا تو وہ گلاں کو بھی بائیک پہ  ساتھ لے گیا۔
شام کو صوبیدار صاحب گھر واپس آئے تو ماحول بالکل گاؤں کی حویلی والا تھا۔بلال بھی  رات کا کھانا کھا  کر  گیا۔۔۔۔دوسرے دن پہلے رورل ہیلتھ سنٹر بلال کا والد اور صوبیدار صاحب گئے ۔ نصیب کی بات وہاں کا انچارج ڈاکٹر بلال کے ابا کا جاننے والا تھا۔ وہ شام کو مورگاہ میں ہی پرائیویٹ پریکٹس کرتا تھا۔ نرس کی سیٹ خالی نہیں  تھی،لیکن مڈ وائف کی جگہ عرصے سے خالی تھی، جو رینک میں برابر تھی۔

گلاں کی اماں گاؤں کے سرٹیفکیٹ کے مطابق دائی  بھی تھی اور نرس بھی، تقری تو ڈاکٹر نے کر دی ، مسئلہ پرانی نوکری کو شمار کرنے اور دوسرے ضلع میں ٹرانسفر کا تھا۔ پندرہ دن جوائننگ ٹائم رکھا گیا

اگلا سٹاپ پٹوار خانہ تھا، پٹواری تو بلال کے ابا کا مرید تھا۔ پانچ پانچ مرلہ کے فرد ملکیت دستی تیار ہو گئے ،انہی  پر انتقال کا اندراج بنا، اور تحصیلدار کی منظوری پٹواری نے ذمہ لی اور وقتی استعمال کے لئے کچے انتقال کی کاپی بھی جاری کر دی، اب گلاں کی اماں سے زبانی ہوئے گاؤں والی دس مرلہ زمین کی تحریر اور تصدیق تھی۔پٹواری نے ایک محرر رجسٹری کو بلوایا، ساتھ سٹامپ پیپر منگوا لئے، معاہدہ لکھا گیا، بس انگوٹھے لگنے رہ گئے۔۔
یہاں سے فارغ ہو کر صوبیدار صاحب نے قاضی گل جج صاحب کو فون کھڑکا دیا۔
جج صاحب چیمبر میں ہوں گے کہ عدالت کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ انہوں نے صوبیدار صاحب کی فون پہ  کلاس لے لی، بے تکلف دوست دوسرے کو جھاڑنے کا موقع  کب چھوڑتے، شکوہ عدم ملاقات تھی، طے ہوا کہ اتوار کو پنڈی کلب میں کرنل محمدخان کی بیٹھک پہ  اکٹھ ہو گا جج صاحب ضمیر جعفری صاحب کو بھی ساتھ لائیں گے۔

صوبیدار صاحب کے ہاں کھانے کی دعوت کی گئی، بلال زمان کی فیملی کی، اس کے بہن ساجدہ اور بہنوئی  دو بچوں کے ساتھ آئے، بھائی لفٹین اسد زمان جو چھٹی پہ  آیا وہ ، والدہ اور والد راجہ محمد زمان ، بی بی گلاب بانو کو فارملی دیکھنے آئے تھے۔ پُرتکلف کھانے اپنی جگہ ، گلاں بغیر کسی میک اپ کے ، ہلکے گلابی رنگ کے جوڑے میں جو بیگم صوبیدار نے صدر سے خرید کے دیا تھا ، واقعی گلاب اور الھڑ مٹیار لگ رہی تھی، دمکتا چہرہ، ابھرتی جوانی اور زندگی میں پہلی بار مرکز نگاہ بننے سے بڑھ کے خوشی کے جذبات پورے بدن سے امڈ رہے تھے، ساجدہ کو تو وہ بے حد پسند آئی، پینڈو روایت کے مطابق
اسے سرخ دوپٹہ بلال کی ماں اور بہن نے اوڑھایا۔ مٹھائی  جو ساتھ لائے تھے سب کو کھلائی  گئی، بغیر کسی زبانی اعلان کے سمجھو رشتہ طے ہو گیا۔۔

پتہ نہیں  کیوں یہ لطیف اور حسین رسوم اور طریقے چھوڑ کے لوگ رشتہ قائم کرنے کو کوئی  سودا طے کرنا سمجھنے لگے ہیں۔۔صوبیدار صاحب اور انکی بیگم بھی شاید اپنے کسی بچے کی شادی طے ہونے پہ  اتنے خوش نہیں  ہوئے ہوں گے۔
گلاں کی ماں کی آنکھوں سے خوشی اور تشکر کے آنسو تھم نہیں رہے تھے۔ اس نے تو یہ منظر کبھی نہ سوچا تھا۔۔۔نہ اس کا خواب دیکھا تھا ۔ مزے کی بات یہ کہ بلال دلہن کی طرح شرما رہا تھا ساجدہ اور اسد اسے چھیڑے جا رہے تھے۔ صوبیدار صاحب مہینوں کے ذہنی دباؤ اور تناؤ سے نکل آئے تھے۔

درویش صرف مزاروں پہ  نہی ہوتے عام لوگوں کی طرح معاشرے میں بھی رہتے ہیں،قدرت نے صوبیدار فیملی پر ایک بیوہ اور یتیم بچی کی ذمہ داری ڈالی، یہ ان کے لئے نعمت تھی، قسمت نے بھی یاوری کی ، سارے معاملات جو ناممکن نظر آتے تھے سیدھے ہوتے گئے، درویش کی قناعت عیاں ہو گئی۔
راجہ زمان کی بلال کے لئے مانگی دعائیں بھی لگا قبول ہو گئیں وہ اب بدلا ہوا ذمہ دار نوجوان بننے لگا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *