• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • زمانے کے فراعنہ فیصلہ صادر کر چکے ہیں۔۔۔۔ملک گوہر اقبال خان رما خیل

زمانے کے فراعنہ فیصلہ صادر کر چکے ہیں۔۔۔۔ملک گوہر اقبال خان رما خیل

کہتے ہیں ایک بادشاہ نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے۔ وزراء میں سے جب بھی کوئی وزیر غلطی کرتا بادشاہ اسے ان کتوں کے آگے ڈال دیتا اور کتے اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر اسے مار دیتے۔ ایک دن ایک خاص وزیر نے بادشاہ کو غلط مشورہ دے دیا جو اسے بالکل پسند نہیں آیا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ وزیر کو ان کتوں کے آگے پھینک دیا جائے۔ وزیر نے بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپ کی خدمت کی ۔ خدمت میں دن رات ایک کیے اور آپ ایک غلطی پر مجھے اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن میری بے لوث خدمت کے عوض آپ مجھے دس دن کی مہلت دیں پھر بے شک آپ مجھے کتوں میں پھینکوا دیں۔ بادشاہ یہ سن کر مہلت دینے پر راضی ہوا۔ وزیر وہاں سے سیدھا رکھوالے کے پاس گیا جو ان کتوں کی حفاظت پر مامور تھا۔ اور اس سے کہا کہ مجھے دس دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں۔ رکھوالا وزیر کے اس فیصلے پر حیران ہوا لیکن اس نے اجازت دے دی۔ ان دس دنوں میں وزیر نے کتوں کے کھانے پینے، اوڑھنے بچھونے اور نہلانے کے سارے کام اپنے ذمّے لیکر نہایت ہی تندہی کے ساتھ سر انجام دئیے۔ دس دن مکمل ہونے پر حکم کے مطابق وزیر کو ان کتوں میں پھینکوا دیا گیا۔ لیکن وہاں کھڑا ہر شخص اس منظر کو دیکھ کر حیران ہوا کہ آج تک نجانے کتنے وزیر ان کتوں کی خوراک بن چکے ہیں آج یہی کتے اس وزیر کے پیرو ں کو چاٹ رہے ہیں۔ بادشاہ بھی یہ منظر دیکھ کر حیران ہوا اور پوچنے لگا کہ آج ان کتوں کو کیا ہوا؟

وزیر نے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت میں آپ کو یہی دکھانا چاہتا تھا میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی اور یہ میرے ان دس دنوں میں کیے گئے احسانات بھول نہیں رہے ہیں۔ اور یہاں میں نے دس سال آپ کی خدمت کی لیکن آپ نے میری ایک غلطی پر میری ساری زندگی کی خدمت پس پشت ڈال دی۔

یہ سن کر بادشاہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے فرمان جاری کیا کہ وزیر کو کتوں کے آگے سے با عزت اٹھوا کر مگرمچھوں کے تالاب میں ڈال دیا جائے۔

عزیزانِ من۔ آپ شاید ہنس رہے ہو ں گے، لیکن یہ لمحہ ء  فکر  یہ ہے کہ وزیر کی کوششوں نے بادشاہ کو اس کی غلطی کا احساس تو دلایا لیکن خود کو سزا سے نہیں بچا سکا کیوں؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ وزیر کی موت کا فیصلہ بادشاہ کی زبان سے صادر ہوچکا تھا۔ اور یہ بادشاہوں کی روایت کے خلاف تھا کہ ان کی زبان سے نکلا ہوا کلمہ بدل دیا جاتا۔ تاریخ اس پر شاہد ہے کہ ان بادشاہوں نے ہمیشہ عیسیٰ، موسیٰ، بودھ اور محمد رسول اللّٰہ کی تعلیمات کو پامال کرنا گوارہ کیا ہے لیکن اپنی زبان سے صادر ہوئے ہر فیصلے کو آج تک بدلا نہیں ہے۔ در حقیقت انسانیت پر مظالم ڈھانے والے کردار تین ہیں ۔ جنہیں  قرآن مجید نے شیطان، فرعون اور قارون کی اصطلاح میں ذکر کیا  ہے۔ قرآن حکیم نے ان تینوں پر اتنی لعنتیں برسائیں ہیں کہ عام بول چال میں یہ نام گالی تصور کیے جاتے ہیں۔ قرآن کریم جس بنا پر ان کو مستحق لعنت قرار دیتا ہے وہ تین چیزیں ہیں۔

1 غرورِ نسل،

2 غرورِ اقتدار،

3 غرورِ دولت۔

نسلی غرور کا دیوتا شیطان ہے جس نے آدم کی ذات پر اپنی ذات کو برتری دی۔ ملوکیت کا مجسمہ فرعون ہے جس نے خدا کے بندوں پر اپنی خدائی قائم رکھنے کے لیے معصوم بچوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔ اور ایسا سرمایہ دار کہ دولت و ثروت کا گھمنڈ اس کے دل کو پتھر بنا دے وہ قارون ہے۔ یہ تینوں کردار انسانیت کی مقدس سطح میں اونچ نیچ اور نشیب و فراز کے گڑھے ڈال کر یکسانیت ، اخوت اور مساوات کی سطح کو درہم برہم کر ڈالتے ہیں۔ بھائی چارے  کی چادر کو پارہ پارہ کر دیتے ہیں لہٰذا انسانیت کی نظر میں بھی مردود و ملعون ہے اور خدائے متعال کی  نظر میں بھی معتوب و مبغوض ہے۔ شیطان، فرعون اور قارون کے یہ تینوں کردار ازل سے لیکر آج تک ہر معاشرے میں فساد کے موجب بنے ہوئے ہیں۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق بکھیریں ،تو ہمیں ان تینوں میں سب سے بڑا فسادی کردار قارون کا یعنی سرمایہ دار کا نظر آتا ہے۔ یہ سرمایہ دار اپنا سرمایہ بڑھانے کے لیے کبھی مذہب کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے تو کبھی پوری کی پوری ریاست کو اپنے سامنے سرنگوں ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ سیدنا یوسف کے دور کے کاہنان معبد سرمایہ دار ہی تو تھے۔ سیدنا عیسیٰ کا واسطہ بھی بنی اسرائیل کے سونے کے تاجروں اور ان کی روٹیوں پر پلنے والے اور سونے کے سکوں کے بدلے دین میں نئی نئی اختراع کرنے والے ہیکلِ سلیمانی کے کاہنوں سے تھا۔ اور رہے وہ عرب کے سرمایہ دار قریش انہوں نے تو کعبۃ اللہ کو ” چیمبر آف کامرس” بنا رکھا تھا۔ جہاں حرمت کے مہینوں میں دنیا کے بڑے تجارتی میلے لگتے تھے۔ آج بھی یہ سرمایہ دار دنیا کے ہر بڑے سے بڑے فساد کے موجب بنتے ہیں۔ ہر خطے میں یہ لوگ دنیا کمانے کے لیے اقوام کو منتشر کرکے ہجوم میں بدل دیتے ہیں۔ آج امریکہ موجودہ دور کا فرعون کیسے بنا ہوا ہے اگر آپ کبھی تحقیق کرنا گوارہ کر لیں تو آپ یہ جان لیں گے کہ دنیا کے سب بڑے بڑے سرمایہ دار امریکہ میں رہتے ہیں اور انہی کی دولت سے امریکہ چلتا  ہے۔

عزیزانِ من! انسانیت واجب الاحترام حقیقت ہے یہ رنگ و نسل سے بہت بلند ہے۔ جغرافیائی حدبندیوں سے آزاد ہے کیوں کہ اس کو” احسن تقویم عطا” ہوئی ہے۔لہٰذا ہم پر پہلا اور آخری فرض یہ ہے کہ انسانیت کے فطری تقاضوں کو پورا کریں۔ ہم انسانیت کے سچے اور پاکباز خادموں کا احترام کریں خواہ وہ کسی قوم سے، کسی امت،کسی جماعت یا کسی بھی ملک میں گزرے ہو۔ تمام انسان بھائی بھائی ہیں کیوں کہ  وہ ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔ خواہ ان کا کوئی رنگ ہو، ان کی بولی خواہ کچھ بھی ہو وہ سب انسانیت میں مشترک ہیں۔ ان میں اگر کوئی امتیاز ہوسکتا ہےتو وہ نسل، رنگ یا ملک اور قوم کی بنا پر نہیں بلکہ اخلاق، کردار، افادیت اور خدمت خلق کی بنا پر۔

سب سے زیادہ مستحق تعظیم وہ ہے ،جو کردار میں سب سے اعلیٰ ہو۔ نسلی امتیاز اور قبائلی اونچ نیچ شیطنت ہے اسے ختم ہونا چاہیے انسان اس غرور میں مبتلا ہو کر انسانیت کی اس وسیع چادر کو پارہ پارہ کر ڈالتا ہے۔ وہ سرمایہ داری جو انسانی صورت کو تجوریوں کا اژدہا بنا دے قارونیت ہے کیا اس کو ختم نہیں ہونا چاہیے؟ یہ انسانیت کو پامال کرتی ہے، کمزوروں کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتی ہے اور اپنے نفع کی  خاطر دوسروں کا خون چوستی ہے۔ ملوکیت، ڈکٹیٹر شپ کا پرانا نام فرعونیت ہے ہمیں یہ شعور اجاگر کرنا چاہیے کہ ایسا نظام حکومت انسانیت کے لیے لعنت ہے اورآئندہ کے لیے اس کا سدِ باب ہونا چاہیے۔ ہمارا رحم ایسا رحم ہونا چاہیے جس کے دامن خدا کی تمام مخلوق کے لیے وسیع ہو۔ ہمارا عدل ایسا عدل ہو جو اپنے پرائے، دوست و دشمن سب کے لیے یکساں ہو۔ کیاآج کشمیر، برما ،افغانستان اور شام کے باشندوں پر جاری مظالم کے پیچھےموجودہ دورکی شیطنت، فرعونیت اور قارونیت کھڑی نہیں ہے؟ اور کیا آج بھی ہمارے حکمران اس کتوں والے بادشاہ کی طرح سراسر ظلم پر مبنی فیصلوں پر ڈٹے   ہوئے نہیں ہیں ؟

پوری دنیا یہ سمجھتی ہے کہ ” ریسلر ٹرمپ” اور” کرکٹر نیازی” کشمیر کے بارے میں کیا فیصلہ کرچکے ہیں۔جس طرح وزیر کی موت کا فیصلہ بادشاہ صادر کرچکا تھااسی طرح زمانے کے فراعنہ کشمیر کا فیصلہ صادر کرچکے ہےیں ، چاہے کشمیر کے لوگ خون کے آنسو ہی  کیوں نہ روئیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *