• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • وحشت کی اسیری۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

وحشت کی اسیری۔۔رمشا تبسم کی ڈائری “خاک نشین” سے “خود کلامی کی اذیت” کا اقتباس

وصل کا نومولود احساس جب بغل گیر ہونے سے پہلے ہی مار دیا جائے تو ہجر کا سانپ بن بلائے مہمان کی طرح گود میں آ کر پناہ لے لیتا ہے۔جانتے ہو اس نومولود وصل کی لاش ٹھکانے لگانے کے لئے اپنے آپ کو کئی بار ہجر کے سانپ سے ڈسوانا پڑتا ہے۔رگوں میں بہتے خون کا اک اک قطرہ جو وصل کی امید لئے ہوئے تھا اس کو ہجر کے سانپ کی نظر کرنا پڑا۔کئی  بار یہ بن بلایا مہمان اتنی وحشت طاری کرتا ہے کہ  انسان رگوں کو چیر کر اسکو اک اک قطرہ خون پلا کر پالتا جاتا ہے اور اپنا وجود سفید پڑتا جاتا ہے۔۔ بالکل کسی سفید ناگن کی مانند۔۔پھر یہ ہجر کا سانپ اپنی حدت سے سفید ناگن کو لپٹ جاتا ہے۔کبھی محسوس ہوتا ہے کہ  یہ میرے آنگن میں وصل کے نومولود کو کبھی اب پلنے نہیں دے گا۔۔ کبھی اب اس ہجر کے سانپ کی اذیت بھی اسکی اٹھکھیلیاں سی محسوس ہوتی ،سرور بخشنے لگتی ہیں ۔جو پھر مجھے یاد کے سنہرے جنگل سے گزار کر پھر سے ہرا بھرا کر دیتی ہیں۔۔اور پھر سے یہ ہجر کا سانپ میرے دامن میں پھن پھیلائے مجھے پل پل ڈسنے کو تیار ہو جاتا ہے۔۔پھر سے مجھے سفید ناگن بنانے کو تیار ہو جاتا ہے۔۔اب یہ ہجر کا زہر میری رگوں میں وصل کے لئے دوڑتے ہر خون کے قطرے میں پھیل چکا ہے۔اب جو وصل کی پیدائش ہو تو میں اسکو خود ڈنگ مار لوں گی۔۔
میری خواہشوں کے قاتل۔۔۔میں اب صرف میں رہتی ہوں۔مجھے اب نہ “تم” ہونے کی چاہت ہے نہ ہی “ہم” ہونے کا شوق۔ میں اب صرف “میں”رہنا چاہتی ہوں۔

ہاں میں اب وہ نہیں ہوں۔۔ جو کسی کو پسند آنا چاہوں۔میں وہ نہیں جو اب تمہیں بھی پسند آ جاؤں۔۔مجھے ایسا ہونا بھی نہیں جو کسی کے پسند کے معیار سے گزر کر اسکی پسند بنے۔۔میں اب ایسی ہی ہوں۔۔مجھے سمندروں کے سنگ نہیں ان سے مخالف سمت بہہ کر سکون ملتا ہے۔ بہاروں میں نہیں خزاؤں میں خوشبوئیں محسوس کرتی ہوں۔ ویرانیوں میں چہکنے لگی ہوں۔۔تنہائیوں میں مہکتی ہوں۔تتلیوں کے پر نوچتی ہوں۔پھولوں کو مسلتی ہوں۔پرندوں کو قید کرتی ہوں۔فضاؤں میں زہر گھولتی ہوں۔لفظوں سے زخمی کرتی ہوں۔۔درد کو بڑھا کر سکوں محسوس کرتی ہوں،نفرتوں میں جیتی ہوں،نا امیدیوں میں زندہ رہتی ہوں،کالی راتیں مجھے بھاتی ہیں،اجالوں سے دور جاتی ہوں،پروانہ بن کر جلتی ہوں، شمع بن کرتڑپتی ہوں،ہاں مجھے محبتوں سے اب نفرت ہے ،میں عادتاً اب بری ہوں،میں لہجوں کے زہر سے ڈستی ہوں۔۔
تم میرا وجود کچھ حد تک نفرتوں کے حوالے کر گئے تھے۔مگر اب جو ہجر کا سانپ اٹھکھیلیاں کرتا ہے میرا مکمل وجود محبت میں مر چکا ہے۔اب صرف وحشت کا سماں ہے۔ اب صرف وحشت باقی ہے۔میرے لبوں کی حدت اب تمہیں سرور نہیں، زہر عطا کرے گی۔
میں اب درد کو لفظوں کی لڑی میں پرو کر , کَرب کے آنسوؤں سے غسل دے کر, احساسات کا کفن پہنا کر, جذبات کے قبرستان میں, لمس کی قبر میں اتار کر, پھر وقت کی ظالم آندھی سے محبت کی قبر کے نشاں مٹانے کی کوشش کرتی ہوں۔۔۔

میں درد کو جینے لگی ہوں۔۔میں صرف اب درد کو ہی جینا چاہتی ہوں، پر نوچی تتلیوں کی مانند تڑپ محسوس کرنا چاہتی ہوں،پھول بننے سے پہلے توڑی ہوئی کلی کی طرح مرجھانا چاہتی ہوں،پروانے کی مانند شمع سے جلنا چاہتی ہوں،بھیگی ہوئی چڑیا کی مانند ڈرنا چاہتی ہوں،رات دیر تک گھونسلے سے دور رہنے والے پنچھی کی مانند پل پل تڑپنا چاہتی ہوں،صبح کی لُو پھوٹتے ہی چاندنی کی مانند غائب ہونا چاہتی ہوں،میں کسی مچھلی کی مانند مگر مچھ کے منہ کا نوالہ بننا چاہتی ہوں۔۔

یہ سناٹے اب میرے دوست ہیں۔۔۔۔یہ شور میرا دشمن ہے،اداسیاں میری سہیلیاں ہیں،خوشیاں میری دشمن ہیں،رات کی کالک میری ساتھی ہے۔ دن کا اجالا جان کا دشمن ہے۔ہنستے چہرے بھیانک لگتے ہیں۔۔۔روتی آنکھیں دل کو بھاتی ہیں،آوازیں زہر لگتی ہیں،خاموشیاں سریلی لگتی ہیں، اُلو کا بولنا مجھے مست کرتا ہے، پرندوں کا چہکنا عذاب محسوس ہوتا ہے،نفرت میری دنیا ہے،محبت ایک بھیانک پاتال ہے۔۔۔ہمدردیاں بھی زہریلی ناگن لگتی ہیں،بے حسی کوئل کی سریلی آواز کی سی ہے۔
زندگی کو اماوس کی رات جیسا بنانا چاہتی ہوں،تم جو مجھے یوں الگ, تنہا گوشئہ ویراں میں چھوڑ گئے تو میں اب موت کو ایک خوبصورت جزیرے کی مانند تصور کرتی ہوں اور خود میں اس جزیرے کی ملکہ ہوں،جانتے ہو اس جزیرے پر میں ایک گھر بناؤں گی۔۔ایسا گھر جہاں کی دیواروں کو پھولوں کا سارا رس نچوڑ کر لگاؤں گی۔ہر پھول ہر کلی کا رنگ چھین کر انکو سفید ناگن سا بنا دو گی،ہر تتلی کے پر نوچ کر اپنے آنگن کو سجاؤں گی۔ہوائیں ان پروں کو جب چھوئیں گی تو ان کے مختلف رنگ ان کے مردہ وجود کی تڑپ سے مجھے سرور بخشیں گے۔۔دھنگ کے سات رنگ چرا کر اس میں اپنی وحشت کا زہر گھول کر اپنی منڈیر پر بکھیروں گی۔پنچھی ان رنگوں کو دیکھ کر للچا کر ادھر آئیں گے اور دم توڑ دیں گے۔

سنو!میرے آنگن میں لگے جھولے پر جہاں میں ہجر کے سانپ کو بٹھاؤں گی ،کے وصل کی کوئل ادھر آئے تو یہ اب اسے نگل جائے ۔تم اس جھولے پر میرے ساتھ بیٹھنے کو آؤ تو میری وحشت کی اسیری قبول کر کے آنا۔۔ورنہ اپنی حساسیت,محبت اور نزاکت لئے میرے تتلیوں کے پر نوچے گھر میں کبھی نہ آنا،اب یہاں وحشت کا راج ہے،تمہیں میری اسی وحشت کی اسیری میں جینا ہے تو چلے آنا ورنہ مجھے میری وحشت میں محبت سے وصل کا نومولود پودا اب گوارا نہیں۔۔۔

سنو میری جان کے دشمن ! اس ڈائری میں آج میں پہلی تتلی زندہ قید کر رہی ہوں۔۔جب یہ ڈائری بند ہو جائے گی یہ تتلی تڑپ تڑپ کر مر جائے گی،اس کے رنگ اس کے خون سمیت انہی صفحوں کی زینت بن جائیں گے،جہاں میرے جذبات آنسوؤں میں بہہ کر پہلے سے ماتم کناں ہیں،کچھ اسی طرح ان آنسوؤں کو بھی تتلی کے سنہری اور چمکتے رنگوں سے خوبصورتی بخشنے والی ہوں۔۔کبھی نہ کبھی اس ڈائری کا مضمون تم پر مکتوب بن کر ضرور کھلتا چلا جائے گا ۔تم جب اس صفحے کو کھولو گے تو میری اذیت, میری تڑپ, میری تنہائیوں کی سسکیاں اور اس ڈائری کے صفحوں پر موجود برسوں کی نمی میرے سیلن زدہ گندے وجود ،جہاں اُس وقت شاید کائی لگ چکی ہو گی ،وہاں یہ تتلی اس عذاب میں سوکھی ہوئی مردہ سی, عبرت کا نشاں بنی , تمہارے لئے ایک افسوس کا اژدھا بن کر تم کو نگل جائے گی۔ پھر تُمہیں وصل کا نومولود وجود کبھی اپنے سینے سے نہ لگانے کا افسوس ہمیشہ عذاب کی طرح جھیلنا پڑے گا۔۔۔تم خود پھر تنہائی اور پچھتاوے کے دکھ میں ایک سیلن زدہ گندے اور بدبودار وجود بن جاؤ گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *