کشمیر موجودہ صورت ِ حال اور ہماری کشمکش۔۔۔ڈاکٹر شاہین مفتی

ہندوستان نے صدر ٹرمپ اور عمران خان کے مصافحے اور ثالثی کے اعلان پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کشمیر کے دونوں محاذوں پر حفاظتی اقدامات کر لیے ہیں اور خطے میں ایک تیسری بڑی طاقت کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے مشورے کو جھٹکتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر کے 72سالہ تنازعے کو ایک صدارتی حکم سے سر ِ دست ملیا میٹ کر دیا ہے۔۔۔آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی لائن آف کنٹرول اورعلاقے میں غیر جانبدار رائے شماری کا مقدمہ انڈیا ہی اقوام ِ متحدہ میں لیکر گیا تھا۔۔آج تک انصاف کے دروازے  کی تالہ بندی ہی رہی ۔کشمیریوں کی زندگیاں آزادی اور خوشحالی کےخواب۔ان کی معاشی اور مذہبی آزادی قید و بند میں ہی دم توڑ گئی۔آخر یہ دن آگیا۔۔
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون ِ خاک نشیناں تھا رزق ِ خا ک ہوا

دنیا انکی آہوں اور چیخوں سے گونج رہی ہے لیکن ان کی سونا اگلتی سرزمین پر قبضہ کرنے والے ان کے لاشے گلیوں بازاروں میں گھسیٹتے پھرتے ہیں۔انسانی حقوق کی انجمنیں تماشا دیکھ رہی ہیں اور کوئی  دست گیری کرنے والا نہیں۔
پریشانی یہ آن پڑی ہے کہ اس اچانک افتاد میں پاکستان کیا کرے۔کیا ایک بے مقصد جنگ میں کود پڑے یا مراجعت اور بنیادی موقف سے سر ِ دست ہاتھ کھینچ لے۔عافیت اس میں ہے کہ وہ بھی انڈیا کی حکمت ِ عملی اپناتے ہوئے صورتِ حال سےنکلنے کی کوشش کرے۔
پاکستان کو چاییے کہ فوری طور پر صدارتی آرڈیننس کی مدد سے آزاد کشمیر کو اور گلگت کو اپنے دوصوبے قرار دیتے ہوئے موجودہ لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد مان لے۔۔۔وقتی طور پر اس مسئلے کا یہی پُر امن حل ہے۔

اٹھارویں ترمیم کے باعث صوبے بہت سے معاملات میں پہلے ہی خود مختار ہیں۔آزاد کشمیر کی ریاست کا حفاظتی انحصار پہلے ہی ہماری فوج پر ہے۔آزاد کشمیر کابینہ بر وقت یہ فیصلہ کر سکتی ہےاور اس میں اس کی بنیادی سلامتی اور خودمختاری کو بھی کوئی  خطرہ نہیں۔
اس ادغام کے بعد کشمیری اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں گے۔پھر بین الاقوامی سطح پر انڈیا پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ سری نگر اور جموں میں مسلم اکثریت والے علاقے کو مسلمانوں کا صوبہ بنا دے جہاں ان کی حکومت ہو اورانہیں مذہبی و شخصی آزادی حاصل ہو۔جموں کشمیر ریاست کا مسئلہ ہی یہی تھا کہ مجموعی اعتبار سے ہندوؤں اور اقلیتوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ تھی اب بھی بھارتیا جنتا پارٹی کی حکومت چل رہی ہے۔۔جسے انڈین حکومت کی آشیر باد حاصل ہے۔

مسلمان گروہ شروع سےاپنے طور پر کئی  نظریات میں تقسیم تھے۔عمر عبداللہ بھی کمزور پڑے ۔۔امریکہ کی بھی دلی خواہش تھی کہ وہ افغانستان سے نکل کر لداخ یا گلگت کے کسی ایسے حصے میں بیٹھ جائے جہاں وہ انڈیا پاکستان افغانستان کے علاوہ چین پر براہِ  راست نظر رکھ سکے اور اپنا اثرورسوخ بحال رکھتے ہوئے علاقے کے قدرتی وسائل پر بھی قابض ہو اور تینوں ملکوں کی افرادی قوت اور فوج کو بھی اپنے عزائم کے لیے استعمال کرسکے۔۔انڈیا کی اس حکمت ِ عملی سے سر ِ دست امریکہ کی فوری پیش قدمی کے امکانات کم ہوئے ہیں۔۔۔

ادھر جہادی طاقتوں کو توڑنے کے لیے پاکستان نے مدرسوں کو قومیانے کا فیصلہ کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اسلام پسند جہادی قوتوں کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے۔فوج مالی مشکلات کا شکار ہے اور کسی طویل جنگ کا رسک بھی نہیں لینا چاہتی۔حکومت اور حزب ِ اختلاف میں بہو ساس کا جھگڑا جاری ہے۔۔۔پاکستانی حکومت اپنے بہت سے معاملات میں سنجیدہ نہیں اور طالع آزماؤں کے ہاتھ میں کھیل رہی ہے۔اس نازک موقع پر اگرتدبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ہم اور زیادہ نقصان اٹھائیں گے۔

ڈاکٹر شاہین مفتی
ڈاکٹر شاہین مفتی
پروفیسر ڈاکٹر اردو ادب۔۔شاعر تنقید نگار کالم نگار ۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *