سادگی اور بچت۔۔۔۔علینا ظفر

چند روز پہلے لاہور میں صاحبِ گفتگوجنابِ محترم عرفان الحق صاحب کی بزم میں سادگی اور بچت کے موضوع پر لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔9 ستمبر 2018 بروز اتوار مجھے بھی اس محفل میں شرکت کا موقع ملا۔ مجھے ہمیشہ سے ہی ان کی محفل کے منعقد ہونے کا شدت سے انتظار رہتا ہے کیونکہ وہ بات کو نہایت آسان اور عام فہم انداز میں ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی باتیں سمجھاتے اور سکھاتے ہیں۔
آسمان پر نمودار سورج اور چھائے ہلکے بادلوں کے سائے میں لاہور کی مصروف شاہراؤں سے گزرتے مقررہ وقت سے کچھ دیر قبل جب ہم محفل میں پہنچے تو بیک گراؤنڈ میں میاں محمد بخش رحمتہ اللہ علیہ کا مسحور کن کلام حاضرینِ محفل کی سماعتوں میں رس گھول رہا تھا۔ تلاوتِ کلامِ پاک اور نعت خوانی سے تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا جس کے بعد بابا جی عرفان الحق صاحب نے دورِ حاضر کی زندگی میں رونما ہونے والی بے جا اسراف ، فضول خرچی اور نمود و نمائش جیسی اخلاقی بیماریوں اور ان کے مسائل کے حل سے متعلق سیر حاصل گفتگو فرمائی۔ انہوں نے گفتگو کے آغاز میں وزیرِ اعظم عمران خان صاحب کی سادگی مہم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نئے وزیرِ اعظم کے مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں اُس سُنت کی یاد دلا دی جو ہم نے چھوڑی ہوئی تھی۔انہوں نے حاضرین محفل کو سنتِ رسول ﷺ پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم سنتِ رسول ﷺ کو بھلا بیٹھے ہیں مگر سب ہی خود کو عاشقِ رسول کہلانا پسند کرتے ہیں۔حتی المقدور کوشش کریں کہ کسی نہ کسی طرح رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اختیار کریں۔
آج کے دور میں عام زندگی میں روز مرہ زیرِ استعمال قیمتی بنیادی اشیا کے متعلق انہوں نے پیغمبر حضرت سلیمانؑ اور قیصرو کسری کے دور کی مثالیں دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کے ادوار میں بھی ڈویلپمنٹ ہو چکی تھی اور قیمتی اشیا ء اور سازو سامان استعمال ہوتا تھا۔ ہم لوگ مفروضے بنا لیتے ہیں کہ اس وقت ایسا کچھ نہیں تھا۔ حضرت سلیمان ؑ کے دور میں ملکہ جب محل میں داخل ہوئی تو اپنے لباس کو پنڈلیوں سے اُٹھا کر چلنے لگی وہ سمجھی کہ شاید پانی سے گزر نا ہے جبکہ حضرت سلیمانؑ نے بتایا تو معلوم ہوا کہ وہ پانی کی طرح شفاف فرش تھا۔قیصر و کسری کے دور میں بھی قیمتی چیزیں استعمال ہوتی تھیں مثلاً برتن اور چمچےوغیرہ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعا لی عنہ کے دور میں بھی ایسا بہت سا قیمتی سازو سامان مالِ غنیمت کے طور پر پیش ہوا۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے زمین پر سونا، لکڑی اور مٹی کے برتن کا استعمال اور چمچ کی جگہ ہاتھ کا استعمال کرنا کیوں اپنایا؟ کیونکہ اس طرح آپ کو انہوں نے سادگی اور بچت کا طریقہ بتایا۔ جب آج کے دور میں رسول اللہ ﷺ اور دیگر انبیا کی مثال دیتے ہوئے سادگی اختیار کرنے کی بات کی جاتی ہے تو لوگ اس کو مجبوری سے تشبیہہ دیتے ہیں کہ اس دور میں ترقی اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ سادہ زندگی گزارتے تھے۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ یہ ان کی مجبوری نہیں بلکہ چوائس تھی۔جبکہ ہم نے کس چیز کو چوائس بنا لیا ہے؟ کیا وہ سادگی اور طریقہ ء رسول ﷺ ہماری زندگیوں میں ہے؟
بے شمار قرضوں کی حالت میں ڈوبے اس ملک کی سنگین صورتحال کے تحت فضول خرچی کے بارے بات کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ آج ہم قوم ہونے کے ناطے اور ذاتی حیثیت میں بھی مقروض ہیں۔کیا زیب دیتا ہے کہ قرضے لے کر اللے تللے میں خرچ کریں؟ انہوں نے مال کی محبت دلوں سے نکالنے کی تاکید کی اور فرمایا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فتح فارس کے موقع پر اتنا کثیر تعداد میں سامان دیکھ کر رونے لگے تو لوگوں نے پوچھا کہ جنگ میں فتح ہوئی ہے، بہت سا سامان ملا ہے اور یہ تو خوشی کا موقع ہے مگر آپ رو کیوں رہے ہیں؟ تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ تمہیں سامان جبکہ مجھے اس میں فتنہ نظر آرہا ہے۔ مال و دولت کا رشتوں میں دراڑ بننے کے سبب پر فرمایا کہ ہم میں دوستی ،رشتہ دار، محبت دور ہوگئی کیونکہ ہم مال کے فتنوں میں پڑے ہیں۔ اگر آپ سامان سے محبت چھوڑ دیں تو آج بھی گھروں میں وہی برکتیں ملیں گی جو پہلے دور میں تھیں۔ مزید فرمایا کہ اللہ کے رسول، بہن بھائیوں ، دوستوں سے محبت کرو، مال سے محبت مت کرو۔ جو سامان کی محبت میں گرفتار ہیں وہ آرام کی تلاش میں ہیں۔ نیند کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں۔ یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہےکہ بے سکون یا آرام کی زندگی اپنانی ہے۔جو لوگ سامان کی محبت میں آج گرفتار نہیں ہیں سکون ان کی زندگیوں میں ہے۔
بابا جی نے گھروں میں بے جا تزین و آرائش کی بجائے سادگی اختیار کرنے کا درس دیا۔فرماتے ہیں کہ گھروں میں سادگی اپنائیں ۔ آپ ﷺ کی ازدواجِ مطہرات کےپاس صرف ایک ایک مرلے کے گھر تھے۔ جو سامان گھر میں آرائش کے لیے استعمال ہو سہولت، آسانی ، ضرورت ، موسم اور دشمنوں سے تحفظ کے لیے استعمال نہ ہووہ حرام ہے۔اپنی امیری کا کسی پر رعب نہیں ڈالیں۔ حلال کمانے والے کو کسی پر رعب ڈالنے کی توضرورت ہی نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ کے گھر میں چند برتن اور چمڑے کا بستر موجود تھا۔ گھر میں فالتو سامان موجود نہیں تھا۔آج آپ یورپ، فرانس، امریکہ یا دنیا کے کسی ممالک میں چلے جائیں وہاں کے گھروں میں مختصر سامان رکھا ہوتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ کچھ موجود نہیں ۔ اتنے ہی برتن ہیں جتنے گھر کے افراد کی ضرورت ہے۔مستقبل کی وہ فکر نہیں کرتے۔ سارے سنت کے طریقے تو انہوں نے اپنا رکھے ہیں جبکہ یہاں ہمارے ہاں لوگوں نے مال اکھٹا کیا ہوتا ہے کہ بچوں کے کام آئےگا۔
سواری کے استعمال پر گفتگو فرماتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ ﷺنے جب مدینہ کے اندر ہی یعنی مختصر سفر کرنا ہوتا تو گدھے کی سواری کرتے۔اونٹ شہر سے باہر جانے کے لیے استعمال ہوتا۔دنیا کے بے شمار ممالک ہیں جہاں سائیکل استعمال ہوتی ہے۔ ان کی تو کوئی شان نہیں گھٹتی، ہماری تو گھٹتی ہےکہ لوک کیہہ آکھن گے؟(لوگ کیا کہیں گے؟)موٹر سائیکل اور ممکن ہو تو چھوٹی گاڑی استعمال کریں۔ پیٹرول کی بچت کریں۔چائے کے بعد سب سے زیادہ ہماری امپورٹ پیٹرول ہے۔
بابا عرفان الحق صاحب نے سادہ اور سستا لباس استعمال کرنی کی تلقین بھی فرمائی۔ خواتین کے لیے فرمایا کہ اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے کہ تمہاری عورتیں گھسیٹتی ہوئی تمہیں دوزخ میں لے کر جائیں گی۔آپ کی الماری کپڑوں سے بھری ہوئی نہیں بلکہ اٹی ہوئی ہوتی ہے اور اس کے لیے چاہے شوہر کو ناجائز کمانا پڑے۔ ہماری ام المومنین کے پاس گنتی کے چند کپڑے ہوتے تھے۔کوئی اپنی محفل سے آپ کو نکالے گا نہیں اور نہ ہی کہے گا کہ تم پچھلی محفل والے کپڑے پہن کر آ گئے۔ اسراف گناہ ہے۔ کیا آپ کو علم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تین جوڑے اور صرف ایک جوتا ہوتا تھا۔صرف ایک جوتا اور تین جوڑے جن میں سے ایک وفود سے ملنے کا، دوسرا جنگ کا اور تیسرا روٹین کا استعمال کرنے کے لئےتھا۔اگر کپڑا پھٹ جاتا تو خود پیوند لگا کر اسے ہی پہن لیتے۔مختصر تعداد میں کم سے کم لباس استعمال کریں اپنا پیسہ ضائع نہ کریں۔
انہوں نے فرمایا کہ رزق ضائع کرنا بہت بڑا کرائم ہے۔کھانے میں سادگی اختیار کرنے سے متعلق فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک دن میں دو طرح کا کھانا نہیں کھایا۔آج یہی بات سائنس کہتی ہے کہ جو لوگ دن میں دو یا دو سے زائد اقسام کا کھانا کھاتے ہیں وہ نظامِ ہضم کی بیماریوں میں مبتلا رہتے ہیں۔رسول اللہ ﷺنے اپنی حیاتِ مبارکہ میں سادہ کھانا کھایا، ستواستعمال کر لیا، بکری کا دودھ پی لیا، تربوز کھا لیا۔اگر آپ ﷺفزیکلی فٹ نہ ہوتے تو غارِ حرا میں جا ہی نہ سکتے ۔ آپ ﷺ صرف چند کھجوریں اور ستو کا استعمال کرتے۔ہمارے تو کھانے کی چیزیں ہی ختم نہیں ہوتیں۔ اگر کوئی شخص زیادہ کھا رہا ہے تو کسی اور کے حصے کا مال کھا رہا ہے، وہ ظلم کر رہا ہے۔آپﷺ نے پیٹ پر پتھر باندھے کہ ایسا کرنے سے بھوک کا احساس نہیں ہوتا۔آپﷺ اتنا کم کھاتے۔ساتھ انہوں نے وقت کی بچت کے حوالے سے فرمایا کہ کوشش کریں کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے تین کے بجائے دو وقت کا کھانا کھائیں۔اس سے وقت کی بچت بھی ہوتی ہے۔ آپ خود دیکھیں گے کہ آپ کا کتنا وقت بچے گا اور آپ اپنے گھر کو بھی زیادہ وقت اور توجہ دے پائیں گے۔ روحانی سی بات ہے گھر میں آگ زیادہ جلانے سے شیطان کی انٹری ہو جاتی ہے۔کُکڈ(پکی ہوئی) چیزوں میں کمی کر دیں۔ اللہ نے بے شمار پھل آپ کو دیا اس کو کھائیں ، مستفید ہوں۔
معاشرے کی مختلف تقریبات پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ منگنی، نکاح، مایوں، مہندی وغیرہ جیسی تقریبات کو سادہ کیے بغیر ہم قرضے کی اذیت سے نہیں نکل سکتے۔ اللہ کے سامنے بیٹھیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ خود سوچیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ کئی دیہاتوں میں میں نے سادگی دیکھی کہ تقریبات میں گوشت کے استعمال کی بجائےصرف دال بنتی ہے۔فوتگی کی رسومات میں بھی بہت خرچ ہوتا ہے۔
پانی کی بچت سے متعلق فرماتے ہیں کہ کائنات کی سب سے اہم چیز پانی ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ اللہ اس کا سوال تم سے پوچھے گا کہ تم نے پانی کو کتنا مس یوز کیا؟ہمارے ہاں پانی کی پیداوار نہیں بڑھ رہی۔ جس چیز کی پیداوار نہ بڑھے اس کو بہت احتیاط سے استعمال کرنا چاہیئے۔جو پانی کو بچا رہا ہے وہ انسانی زندگی کو بچا رہا ہے۔ہم پانی کو بہت ضائع کرتے ہیں۔شیو کرتے وقت، پیسٹ کرتے وقت اور نہاتے وقت ٹونٹی کھلی ہوتی ہے۔ ہمیں اس پر کانشس ہونا ہے۔ اللہ پکڑ کرے گا۔ ہندوستان میں استعمال ہونے والے برتنوں کے سائز ہی چھوٹے ہیں تاکہ بچت ہو سکے۔ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہم پانی کے بارے میں کتنے لاپرواہ ہیں۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ جب کسی کو پینے پانی دو تو آدھا گلاس پانی پیش کرو کیونکہ اگر بچ جائے تو جھو ٹا پانی کوئی نہیں پیتا۔ اسی طرح بجلی ضائع کرنے کی ممانعت کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ بجلی کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ جو بٹن آن کر دیا وہ آن ہی ہوتا ہے۔اندازہ ہی نہیں کہ کس قدر ملک کی بجلی استعمال ہو رہی ہے۔
مبہم اور طنزیہ گفتگو سے گریز کرنے پرفرمایا کہ گفتگو میں بھی سادگی اپنائیں۔ رسول اللہﷺ کی گفتگو میں سادگی تھی۔ کام زیادہ کریں اور گفتگو کم کریں۔امام زین العابدین کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ مجھے اجازت دیجیے میں تبلیغ کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا، اجازت دیتا ہوں مگر بات نہیں کرنی ، (تبلیغ)اخلاق سے کرنی ہے ، خدمت سے، سیوا سے کرنی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے زمانے میں ٹشو پیپر نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ جو لوگ 70، 80 کی دہائی میں مڈل ایسٹ سے آئے دو بیماریاں لائے ایک سوفٹ ڈرنکس اور دوسرا ٹشو پیپر۔تولیے کو رواج دیں ۔اس کو چھوڑیں اور ترک کریں۔ڈرنکس کے استعمال کا پیسہ باہر جاتا ہے۔بہت سا زرِ مبادلہ ضائع ہوتا ہے۔پچیس ارب ڈالر کا خرچ صرف چائے پر ہی آجاتا ہے۔اس کی جگہ اپنے ملک کے شہر پشاور کا قہوہ استعمال کریں۔
انہوں نے فرمایا کہ اسلامی مملکت میں تین چیزیں اہم ہوتی ہیں، درجہء عدل، درجہء احسان اور درجہ ء ایثار۔آج دیکھیں کہ پورا ویسٹ صرف عدل پر کھڑا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فلاحی ریاست کی بنیاد تینوں چیزوں پر رکھی۔مملکتِ اسلامیہ کے بیت المال کو لوٹنے والے کو معاف نہیں کیا جاسکتاکہ رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا۔اُس دورمیں بیت المال کے اونٹوں کے چوری ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان اونٹوں کی چوری کرنے والے کو سزائیں دی گئیں۔چائنہ کی مثال دیتے ہوئے فرمایاکہ ایک مرتبہ پاکستان کے سابق وزیرِ اسحاق خان چائنہ گئے وہاں کے حکمران سے کہا کہ میں آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔اس نے فارغ وقت میں انہیں ساتھ لیا اور انتہائی سستی گاڑی نکالی اور بتایا کہ یہ میرے ذاتی استعمال کی ہے۔اس میں بیٹھ کر جب اس حکمران کے گھر تک پہنچے جو کہ تنگ گلیوں میں تھا، اور کہا کہ یہاں سے اب ہمیں پیدل جانا ہےکہ گاڑی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ جب گھر میں داخل ہوئے تو صرف دو کرسیاں موجود تھیں اور پھر جب چائے پیش کی گئی تومعلوم ہوا کہ گھر میں چائے کے صرف دو ہی پیالےموجود ہیں جن میں ایک اس حکمران جبکہ دوسرا اس کی بیوی کاتھا اور اس وقت چائے صرف دو لوگوں کے حصے میں آئی، ایک اسحاق خان اور دوسری اس چینی حکمران کے۔ چین کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اُس ملک میں ایک مرتبہ چھت ٹپکنے لگی تو بنانے والی کمپنی کے لوگوں کو سزا کے طور پر وہیں رکھ کرایک دیوار تعمیرکر دی گئی۔اس کے بعد کبھی چائنہ میں چھت نہیں ٹپکی۔ہم کرپشن پہ بہت باتیں کرتے ہیں لیکن یہ سب چیزیں اپنانے کی ضرورت ہے۔
بابا جی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ باتیں رسائل و اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے محض زبانی کلامی کہہ کرہی نہیں کرنی، ہمیں ان باتوں کا چسکا نہیں لینا بلکہ عملاً اختیار بھی کرنا ہے۔ کوئی آپ کی ناک نہیں کٹے گی، کوئی آپ کو کنجوس نہیں کہے گا۔اگر آپ نے یہ سب چیزیں اپنا لیں تو پاکستان میں چار مہینوں میں قرضہ ختم ہوسکتا ہے۔قرآن نے اسراف کو بھی گناہ کہا اور کنجوسی کوبھی۔ میانہ روی اختیار کریں۔ عام انسانوں کی طرح معاشرے میں گھل مل کر زندگی اختیار کریں۔ میانہ روی اختیار کریں۔اوور ایکٹ مت کریں۔ لوگ منہ پر آپ کی تعریف اس وقت تو کر رہے ہوتے ہیں مگر بعد میں کہتے کہ آپ لوگ اوور ایکٹ کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺنے اس دور کےسب سے غریب اور عام آدمی کے طور طریقے کو ایڈاپٹ کیا۔ ہمیں سب کاموں کو عملاً کرنا ہے۔ اگر سادگی اختیار کرتے ہیں تو 60 فیصد جسمانی بیماریاں بھی ختم ہو جائیں۔بابا جی کے مطابق اپنے اخراجات میں کمی کرنے والی قوموں کا شمار طاقتور قوموں میں ہوتا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ اپنے اخراجات میں دو دو قدم پیچھے آجائیں جیسے کرکٹ کے میدان میں باؤلر باؤلنگ کرتے وقت پہلے دو قدم پیچھے آتا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص کما کر نہیں بلکہ بچا کر امیر ہوا۔اگر ہزار کمانے والا بہت زیادہ خرچ کر دیتا ہےاور سو روپیہ کمانے والادس روپے بچاتا ہےتو امیر کون ہوا؟آج ہم اتنے مقروض ہیں کہ باہر کے ملکوں کے ماہرین سے مشورہ لیتے ہیں ، کوئی اور ہمیں ڈکٹیٹ کر رہا ہے۔ ہمیں بچت اورسادگی اپنا نی ہےاور یہ خود کرنا ہے۔ ہمیں سیونگ کی تربیت ہے۔ ایک صحابی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھاکہ یا رسول اللہﷺ میں اپنی جائیداد کا نصف حصہ وقف کر دوں؟ فرمایا، نہیں۔پھر پوچھا، اس سے کم؟ فرمایا، نہیں۔ دوبارہ پوچھا، کیا اس سے بھی کم؟ فرمایا، کچھ حصہ اپنی اولاد کے لئے رکھو۔ رسول اللہﷺ نے بتایا کہ جمع کرو مگر سود حرام ہے۔
بابا جی نے فرمایا کہ مسلمان رہنے کی نہیں جانے کی تیاری کرتا ہے۔جب آپ کو علم ہو جائے کہ آپ نے یہاں سے چلے جانا ہے تو آپ کی سوچ میں فرق آجائے۔ایک شخص کی دنیا میں رہائش اختیار کرنے کے سلسلے میں مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺنےاس شخص کو دیکھ کر فرمایا تھاکہ ہم جانے کی اور تم یہاں رہنے کی تیاری کر رہے ہو۔ ایک پاکستانی شخص بیرونِ ملک مقیم تھا۔ اس سے ملاقات کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ اس نے کہاکہ میرا سارا خاندان یہیں ہے تو میں بھی یہاں آ کر رہوں گا، مجھے بیرونِ ملک نہیں رہنا۔ میں نےاس سے کہاکہ رہنا تو تم نے یہاں بھی نہیں ہے۔
آخر میں بابا جی نے ہمارے خلفائے راشدین کی عوام سے محبت اور ہمدردی کی بہترین مثال دیتے ہوئے دو وقعات بیان فرمائے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعا لی عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعا لی عنہ کی جگہ ایک بوڑھا اور نابینا شخص کو کھانا کھلانے اس کے ہاں گئے اور اس کے منہ میں جب نوالہ ڈالنے لگے تو اس نے پوچھا، کیا ابوبکر رضی اللہ تعا لی عنہ گزر گئے؟ انہوں نے فرمایاکہ آپ کو کیسے علم ہوا؟ کہا کہ وہ نوالہ نرم کر کے مجھے کھانا کھلایا کرتے تھے۔سیدنا عمرِ فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے غلام کی مثال دے کر فرمایا کہ سواری لیے ایک جگہ سے وہ گزر رہے تھے تو لوگوں نے دیکھا کہ غلام سواری پر جبکہ خود پیدل چلتے ہوئے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سواری کی باگ تھام رکھی تھی۔محترم عرفان الحق صاحب نے دعائیہ اور پُر امید لہجے میں یہ پیغام فرمایا کہ ہم میں بھی لوگوں کے لیے اتنی ہمدردی اور محبت ہو کہ نوالہ نرم کر کے کسی کو کھلایا جائے اور عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرح غلام سوار ہو اور سواری کی باگ عمر کے ہاتھ میں ہو۔اگر ایسا ہو جائے تو انشا اللہ ہم ہی سرخرو ہوں گے، سنت کو اپنائیں۔اللہ میرا اور آپ کا حامی و ناصر ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *