• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اپوزیشن میں دراڑ ڈالنے کی کوششیں۔۔۔۔غیور شاہ ترمذی

تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اپوزیشن میں دراڑ ڈالنے کی کوششیں۔۔۔۔غیور شاہ ترمذی

حاجی صاحب کے مبینہ اشارے پر اس وقت کچھ تجزیہ نگار اور کئی “پہنچے ہوئے” لوگ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اپوزیشن کے اتحاد میں دراڑ ڈالی جائے- تحریک عدم اعتماد کی سرپرائز ناکامی سے تقریباً بوکھلائی ہوئی متحدہ اپوزیشن یہ سمجھ ہی نہیں پا رہی کہ اس کے ساتھ ہوا کیا ہے-

اس سارے معاملے  کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں تاکہ بات سمجھ سکیں- اس وقت سینٹ کے کل ارکان کی تعداد 104 ہے جن میں سے مسلم لیگ نون کے اسحاق ڈار نے منتخب ہونے کے باوجود تاحال حلف نہیں اٹھایا۔ یوں اس وقت ایوان میں 103 سینیٹرز بیٹھتے ہیں۔ جمعرات یکم اگست کو جب اپوزیشن کی جانب سے چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی گئی تو اپوزیشن کے 64 سینیٹرز نے اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر اس قرارداد کی حمایت کی- قرارداد کی کامیابی کے بعد عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی اور ایوان میں خفیہ رائے دہی کے ذریعے ووٹنگ کے عمل کا آغاز کیا گیا۔

ایوان میں حکومت اور اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد 36 ہے جبکہ جماعت اسلامی کے 2 سنیٹرز ہیں جنہوں نے رائے شماری میں حصہ لیا- صادق سنجرانی کے حق میں 45 ووٹ پڑے جس کا مطلب یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے 9 سینیٹرز نے ان کو ووٹ دیا۔ اس کے علاوہ صادق سنجرانی کی جیت میں اپوزیشن کے ان 5 ووٹوں نے اہم کردار ادا کیا جو مسترد ہوئے۔ جبکہ اس وقت مسلم لیگ نون کے سینیٹرز چوہدری تنویر اور حافظ عبدالکریم ملک سے باہر ہیں۔ اس طرح یہ 2 ووٹ بھی اپوزیشن کے کم ہوئے۔ اسحاق ڈار کے حلف نہ اٹھانے کا بھی اپوزیشن کو ہی خمیازہ بھگتنا پڑا۔

سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے 53 ووٹوں کی ضرورت تھی جبکہ ان کے خلاف 50 ووٹ پڑے۔ اس طرح وہ صرف 3 ووٹوں سے بچ گئے۔

یہ متحدہ اپوزیشن کے لئے بہت شدید دھچکا تھا- کون توقع کر سکتا تھا کہ أدھا گھنٹہ پہلے جن 64 لوگوں نے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کھلم کھلا حمایت کی ہے, ان میں سے 14 سینیٹرز کیسے اور کیوں خفیہ رائے شماری میں اس کھلی حمایت سے پھر جائیں گے- یہ عام انسانوں والی خدا کی بستی نہیں ہے بلکہ کانٹوں سے اَٹی ہوئی وہ کارزار سیاست ہے جس میں نہ تو مقدس کتابوں پر اٹھائے  حلف کی پاسداری کی جاتی ہے اور نہ ہی وفاداری بدلتے ہوئے یہ سوچا جاتا ہے کہ ان سے تعلق کئی سالوں پرانا ہے- اس عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کا نون لیگ کے حامیوں کو اتنا یقین تھا کہ انہوں  نے صادق سنجرانی کے بعد بلوچستان حکومت, پھر پنجاب حکومت اور فائنل مرحلہ میں عمران خان کی حکومت کے گھر چلے جانے کی خبریں دینی شروع کی ہوئی تھیں-

اس عدم اعتماد تحریک کی ناکامی کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے کارکنان کا ردعمل انتہائی مایوسی والا ہے۔ اپنی اس مایوسی کاغصہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے اتحادیوں پر بھی نکال رہے ہیں جبکہ کچھ میڈیا ہاؤسز اور حاجی صاحب کے خیر خواہ اینکرز بھی اپوزیشن کو تقسیم کرنے کی حکمت عملی کے تحت ان کارکنان کے سامنے اپوزیشن کی دوسری پارٹیوں کی قیادت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ ایک اینکر صاحب غصہ میں زرداری صاحب کو غداری تک کا مرتکب قرار دینے کی کوشش کر رہے تھے مگر شاید آن ائیر ہونے کی وجہ سے الفاظ ان کے منہ میں پھنس رہے تھے- ایک اور اینکر شکست کا ملبہ شہباز شریف پر ڈال رہے تھے اور ثابت کرنے کی کوشش میں تھے کہ انہوں نے اپنی اور حمزہ شہباز کی کیسوں سے رہائی کی قیمت پر یہ تحریک عدم اعتماد ناکام بنائی ہے- “سچ” کے نام سے چلنے والے پروگرام کے اینکر کہہ رہے تھے کہ مولانا فضل الرحمان کی جمیعت علمائے اسلام اگلے چند دنوں میں بلوچستان کی صوبائی حکومت کا حصہ بن جائے گی اور یہ وہ معاوضہ ہو گا جو مولانا نے صادق سنجرانی کےخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے عوض وصول کرنا ہے-

مولانا فضل الرحمن کی پارٹی کے کل 4 سینیٹرز ہیں- ان میں سے ایک کے بارے میں شکوک ہیں کہ جنہوں نے صادق سنجرانی کو ووٹ دیا ہے،یہ وہ سینیٹر ہیں جو کافی عرصہ سے حکومت کے ساتھ مشکوک رابطوں میں تھے اور وفاقی وزارت کے شدید خواہش مند بھی تھے- افواہوں کے حساب سے ابھی طے ہونا باقی ہے کہ مولانا کے چاروں سینیٹرز صادق سنجرانی کو پیارے ہوئے ہیں یا اکیلے وہی والے- اگر اکیلے وہی ہیں تو وفاقی وزارت کا بہت جلد حلف اٹھا لیں گے اور اگر چاروں نے سنجرانی کی حمایت کی ہے تو اس کا “انعام” بلوچستان کی صوبائی حکومت میں شمولیت سے سب کو نظر بھی آ ہی جائے گا-

نون لیگ کے 10 سینیٹرز پر الزام ہے کہ انہوں نے سنجرانی کی حمایت میں ووٹ دیا ہے- یعنی اگر شہباز شریف نے ڈیل کی ہے تو انہوں نے اپنے 30 میں سے کم از کم 10 سینیٹرز کو تو اس بارے اعتماد میں لیا ہی ہو گا- یہ ناممکن سے بھی اگلی بات ہے کیونکہ نون لیگ کے جتنے بھی سینیٹرز ہیں, ان کی تقریباً ساری تعداد ہی مریم نواز شریف اور میاں نواز شریف سے زیادہ مربوط ہے- اس لئے یہ ناممکن ہے کہ شہباز شریف اپنے بھائی اور بھتیجی کی پالیسی کے خلاف چلتے ہوئے ایسی کوئی ڈیل کرنے کی کوشش کریں یا اس کے بارے سوچیں بھی-

حاجی صاحب سے مربوط “پہنچے ہوؤں” اور کچھ میڈیا اینکرز کی پھیلائی افواہوں کی روشنی میں فرض کر لیتے ہیں کہ زارداری صاحب کی اندر خانے ڈیل ہوگئی تھی اور انہوں نے اپنے 3 سینٹرز کو کہہ دیا تھا کہ وہ سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنائیں لیکن سوال یہ ہے کہ نون لیگ کے 10 سینیٹرز کو کس نے حکم دیا تھا کہ وہ بھی سنجرانی کی حمایت کریں۔ اس بارے میں یہ اینکرز اور پہنچے ہوئے لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا آئیں بائیں شائیں کرنا شروع کر دیتے ہیں-

اپوزیشن پارٹیوں کے راہنما سنجرانی کو ووٹ دینے والوں کو موقع پرست اور خود غرض قرار دیتے ہیں- لیکن انہیں یہ سمجھنا ہو گا اس میں سارا قصور ان بکنے والوں کے ساتھ ان کا بھی تو ہے- جب سیاسی پارٹیاں ایوانوں میں عام نظریاتی کارکن کی جگہ کاروباری اور دکانداروں کو بھیجیں گے تو وہ ایک جمع ایک مساوی دو نہیں بلکہ گیارہ کر کے ہی رہیں گے- سیاسی جماعتوں کو اپنے پروگرام اور نظریات پر نظرثانی کرنا ہو گی ورنہ ہمیشہ شکست ان کا مقدر ہی ہو گی- دوسری طرف حکومت وقت کو بھی یہ سوچنا ہو گا کہ وہ 14 (اب تک نا معلوم) سینیٹرز پرانے تعلق کے بعد اگر اپنی پارٹیوں کے بھی نہ ہو سکے تو ان کے بھی نہیں بن سکیں گے- اگر اپوزیشن پارٹیوں نے اپنا اتحاد برقرار رکھتے ہوئے اگلی آل پارٹیز کانفرنس تک ان 14 سینیٹرز کو ڈونڈھ نکال کر اپنی پارٹیوں سے نکال باہر کر دیا تو حاجی صاحب اور ان کی کٹھ پتلیوں کے مقابلہ میں جیت ان کی ہمراہی ہو گی-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *