وردی، پگڑی اور واسکٹ کی کرپشن

اگر وہ وڈیو کلپ جعلی نہیں تو حیرت ہے کہ حامِد میر صاحب کو گِلہ بھی ہوا تو خود اپنی برادری اور اپنے ہی چینل سے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کی گئی شجر کاری کرپشن کا تو زور و شور سے تذکرہ کرتے ہیں مگر کِسی نے شہباز شریف کی حالیہ میٹرو بس مُلتان بد عنوانی کو نہیں ’اُچھالا‘ جِس کی مالیت کئی لاکھ ڈالر بنتی ہے۔تو چلیے، اِس سچے یا جعلی ویڈیو کلِپ کے بعد بات چل ہی نکلی ہے، سو اِس بہانے، بارے کرپشن کے کُچھ بیان ہمارا بھی ہو جائے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک عام صحافی کی تحقیقاتی نیوز اسٹوری زیادہ سے زیادہ کیا ہو گی؟ خیبر پختونخوا میں شجرکاری کے ضمن میں  کی گئیں  بے قاعدگیاں، بہاولپور میں چولِستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے نام پر گھپلا یا زیادہ سے زیادہ حالیہ سی پیک منصوبوں میں ہونے والی سول اشرافیہ کی معمولی بے ضابطگیاں۔ یعنی ایک عام صحافی اشرافیہ لِکھے بھی تو اُسے ساتھ ’سوِل‘ کی پخ لگانی پڑتی ہے۔ ایسے میں اصل اور حقیقت پر مبنی ایک ایسی کرپشن کے بارے میں وہ کیا لِکھ پائے گا جو دہائیوں سے مُلک کی جڑوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔
وگرنہ، اہلِ نظر تو سی پیک میں متوقع بدعُنوانی کو تب ہی سمجھ گئے تھے جب نواز شریف نے ہمالیہ سے اُونچی، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی پاک چین دوستی والا سکرپٹ بولا تھا۔ اِس کے بارے میں کُچھ افراد نے لکھنے کی کوشش بھی کی مگر اُسے ناکام بنا دیا گیا۔یادِش بخیر، نواز شریف نے وزیرِاعظم بنتے ہی پہلا دورہ چین کا فرمایا، جِس میں نِجی ٹی وی چینل کے ایک صحافی بھی شامِل تھے۔ ہم اُن کا نام بوجوہ ظاہِر نہیں کر سکتے۔ اُن کی مُلاقات  جب حُسین نواز سے ہوئی تو انہوں نے  عادتاً حسین نواز سے کوئی سیاسی سوال پوُچھ لیا، جِس کا جواب یہ تھا کہ وہ سیاستدان نہیں ہیں، لہٰذا  اِس کا جواب کِسی سیاسی شخصیت سے پوُچھا جائے۔ بہتر تھا کہ ہمارے وہ دوست اُن کا جواب سُن کر خاموش رہتے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے حسین نواز صاحب پر ایک اور سوال داغ دیا کہ جب وہ وزیرِاعظم کے dependent child بھی نہیں ہیں اور کابینہ کے رُکن بھی نہیں ہیں تو اِس دورے میں کِس حیثیت سے شامِل ہیں؟
اِس کا جواب اُنہیں وطن واپِس لوٹتے ہی مِل گیا، جب اُن کی سرکاری ایکریڈیشن منسوخ کر دی گئی۔ صاحبو، اُن کی ایکریڈیشن تا حال منسوخ ہے، پورا کرایہ ادا کر کے سفر کرتے ہیں، سرکاری اسپتالوں سے مفت نُسخہ لے کر مہنگی ادویات خریدنے کے لیے دوستوں سے اُدھار لیتے ہیں اور کریانے والے کے ہاں ’کھاتہ‘ کھول رکھا ہے۔ ا’ن کا حال پوُچھا جائے تو اپنی کھانسی کے دورے کو درمیان میں روک کر، پورے خشووخضوع سے کہتے ہیں ’اللہ دا لَکھ لَکھ شُکر اے، توں سنا‘۔
ایسے کئی اور بھی نا عاقبت اندیش صحافی ہیں۔صِرف وہ کیا، ہم نے خود لِکھا کہ جی ایس پی پلَس اسٹیٹَس بظاہِر حاصِل تو پاکستان کی برآمدات (Exports) بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے مگر اِس کا فائدہ محض اُن مُٹھی بھر مِل مالکان کو ہو گا جو یہ خبر سنتے ہی چین میں سینکڑوں فیکٹریاں لیز پر لے چُکے ہیں۔ وہ چین ہی سے کم قیمت پر خام مال خریدتے ہیں، چین کی سستی لیبر استعمال کرتے ہیں اور اپنی مصنوعات کو بہت کم قیمت پر تیّار کر لیتے ہیں۔ اب بین الاقوامی منڈی میں Country Of Origin سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ مصنوعات بنانے والی کمپنی کا Country Of Origin کیا ہے، اورچونکہ میڈ ان پاکستان کا لیبل لگی مصنوعات بھی یورپ میں بھیجی جا سکتی ہیں اور یورپ میں مال پہنچنے کے بعد اُن کا لیبل بھی باآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اوپر سے جی ایس پی اسٹیٹَس کے ذریعے ایک بڑی مَد میں بین الاقوامی محصول یعنی ڈیوٹی بچا لی جاتی ہے۔ سو اِس منافع بخش کھیل میں اگر چچا ایکسپورٹر ہیں تو بھتیجے اِمپورٹر، ابا جی ریٹیلر ہیں تو صاحبزادے مینوفیکچرر۔۔۔۔۔
اور صاحبو، اِسے کرپشن نہیں بلکہ Cost War کہا جاتا ہے اور اِن میں سے بیشتر کمپنیوں کے لائیزون (Liaison) دفاتر اب بھی الحمدللہ ہانگ کانگ میں موجود ہیں۔بات محض اتنی سی ہے کہ ہم کرپشن، یا بد عنوانی یا بے ضابطگی کی شرح کیسے کرتے ہیں؟۔۔۔۔اسٹیفن ڈی مورس سیاست کے ایک پروفیسر لکھتے ہیں کہ سیاسی بدعنوان ذاتی طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے جو نجی فائدہ اٹھانے کے لیے کیا  جاتا ہے۔ درست۔ معاشیات دان آئن سینئر کے مُطابِق، بد عنوانی ایک ایسا خُفیہ عمل ہے جِس کے ذریعے ایک تیسرے فریق کی خدمت اِس نیّت سے کی جاتی ہے کہ وہ خُفیہ طور پر کِسی شخص کے نِجی مفادات کے لیے قانون یا حکومت پر اثرانداز ہو سکے۔ صاحب، یہ بھی درست۔ اور ورلڈ بنک کے ڈینیئل کوف مین نے تو یہاں تک لِکھا ہے کہ اصل بد عنوانی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔
اگر اِن تین لوگوں کی شرح کو ہم بھی دیگر معروف محققین کی طرح درست مان لیں تو کم از کم دو بنیادی باتیں سامنے آتی ہیں۔
اوّل: یہ کہ نِظامِ زر (Capitalism) میں سرکاری طاقت حاصل ہی کرپشن کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ ورنہ اِس بات کی کوئی منطق ہی نہیں کہ انتخابات میں روپیہ پانی کی طرح بہایا جائے، دِن رات سازشیں کر کے اور مِلِٹری اسٹیبلشمنٹ کی منت سماجت کر کے حکومت بنائی جائے اور سِول بیوروکریسی میں ہر سطح پر ظفر حِجازی جیسے لوگ پیدا کیے جائیں۔ اور یہ المیہ صِرف پاکستان کا نہیں بلکہ ہر اُس جگہ کا ہے، جہاں نِظامِ زر کا تسلُط ہے۔
کہیں ہِل میٹل اسٹیبلشمنٹ ہے تو کہیں ٹرمپ آرگنائزیشن۔ یہ بات ضمنی مگر اہم ہے کہ ٹرمپ آرگنائزیشن کے قانونی اثاثہ جات ساڑھے تین بلین ڈالر مرقوم ہیں، جِن میں رئیل اسٹیٹ، ہوٹلز، گالف کورسز، کسینواور ٹرمپ پروڈکشن ایل ایل سی جیسے کئی کارپوریٹ ادارے  شامل ہیں۔ اِسی طرح برطانیہ میں ایسے 68 سیاستدانوں کا تذکرہ گارڈیئن کرتا ہے جو کئی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے قانونی مالک ہیں۔ اِن میں لیبر پارٹی کے ارکان بھی ہیں اور کنزرویٹِو کے بھی۔ بہت سے ایسے نام بھی ہیں جو سرکاری اثاثوں کو پرائیویٹائز کرنے کے لیے پہلے اِن میں بدعنوانی کو فروغ دیتے ہیں اور پھِر نجکاری کے ذریعے اُسی تیسرے فریق کے ہاتھ قومی اثاثے فروخت کر دیتے ہیں جِس کا ذکر ڈینیئل کوف مین نے کیا ہے۔ کُچھ محقِق بریکسٹ کے نام پر برطانیہ میں ہونے والی ڈیتھ مینجمنٹ کا ذمہ دار بھی ایسے ہی سیاستدانوں اور اُن کے سہولت کاروں کو سمجھتے ہیں۔
دوئم: اب ہم بد عنوانی کے اُس حصے پر آتے ہیں جِسے سمجھتے تو سبھی ہیں مگر اِس کا اظہار صرف چیدہ چیدہ صحافی ہی کرتے ہیں اور وہ ہے ایک بد عنوان سماج کے قیام میں فوج کا کِردار۔ عائشہ صِدیقہ کافی تفصیل سے لِکھ چُکی ہیں کہ ساخت کے اعتبار سے فوج ایک کارپوریٹ ادارہ ہے، جِس کا بجٹ ہوتا ہے، جِس کے افسران کی تنخواہیں اور مراعات ہوتی ہیں اور یہ سب قانونی ہوتا ہے۔ مگر اِس کی کارکردگی پر سوال اُٹھانا پاکِستان میں صحافت کے نِصاب سے باہِر ہے۔مثلاً اگر یہ سوال اُٹھایا جائے کہ دہشت گردی کے خِلاف ہر آپریشن صرف نوّے فیصد ہی کیوں کامیاب ہوتا ہے اور دس فیصد کی گنجائش کیوں رکھی جاتی ہے؟؟ یا یہ سوال اُٹھایا جائے کہ آئی ایس پی آر کے مُطابِق تو خیبر ون کے دوران ہی اُس خِطّے میں نوّے فیصد کامیابی حاصِل ہو گئی تھی تو پھِر یہ خیبر ٹو، تھری اور فور کیوں؟ یا یہ سوال کہ آپریشن ضربِ عضب کے دوران ہی دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو کیوں ختم نہیں کیا گیا کہ بعد میں آپریشن ردالفساد شروع کرنے کی ضرورت پیش آ گئی؟ اِن کا جواب دینے کی بجائے ریاست ایسے سوال اُٹھانے والے مُحبِ وطن شہریوں کوکبھی غدّار کہتی ہےتو کبھی را کا ایجنٹ۔ بالائے سِتم یہ کہ اِن حالات میں لا پتہ ہوجانے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔ ایک شعر ہے، شاید  احمد فراز کا کہ ۔۔۔
امیرِ شہر، غریبوں کو لوُٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہِ مذہب، کبھی بنامِ وطن!
اب بات کرپشن کے ضِمن میں ہو رہی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنرل سر فرینک والٹر سے لے کر جنرل قمر نوید باجوہ تک سبھی جرنیل، چار مارشلاؤں سمیت کرپشن سے پاک رہے؟ ہم نے تو آج تک نہیں سنا کہ اِن پندرہ یا سولہ جرنیلوں پر کبھی کوئی بد عنوانی کا الزام لگا ہو۔ جنرل مُشرف پر بھی آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ درج ہوا، بد عنوانی کوئی ثابت نہیں ہوئی۔ تو نتیجہ یہ نِکلا کہ سب جرنیلوں نےجو بھی کیا مُلک کے وسیع تر مُفاد میں کیا اور قاعدے سے کیا۔یہاں ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کو ایک فلاحی مملکت کی بجائے قومی سلامتی کی ریاست کِس نے بنایا؟ اگر قائدِاعظم پاکستان کو ایک فلاحی مملِکت بنانا چاہتے تھے تو اِس بد عنوانی کا مُرتکِب کون ہوا، کوئی ادارہ یا کوئی فرد یا یہ نِظامِ زر؟؟؟
اور اگر اِس عمل کو بد عنوانی فرض کر لیا جائے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ایک بد عنوانی بہت سےگھناؤنے مظاہِر پر منتج ہوئی ہو؟ ممکِن ہے اِس کے نتیجے کے طور پر ہم چارروائتی جنگوں میں ’بنامِ وطن‘ اپنی ہی دھرتی کی کوکھ بانجھ کر بیٹھے ہوں؟ رہی بات بحیلہِ مذہب کی تو اِس بات کو تو اب سب ہی تسلیم کر بیٹھے ہیں کہ برادر اِسلامی ملک افغانستان میں ہم نے مذہب کے نام پر ایسی پراکسی جنگ لڑی کہ آج بھی زندگی میّتوں پر رو رہی ہے۔ اور کِسے یقین ہے کہ آنے والے دِنوں میں یہ آنسو خُشک ہو سکیں گے کہ ایک بُرقع پوش، جہاد آمادہ مولوی عبدالعزیز آج بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔ دارالعلوم حقانیہ کو سکول چلانے کے لیے، جوچاہے مُجاہد سازمدرسہ نہ بھی ہو…… بھاری رقم تو دی گئی ہے۔ ممتاز قادری کو گلوریفائی کرنے والی تنظیم ’تحریکِ لبیک یا رسول اللہﷺ‘ والے علامہ خادم رضوی فورتھ شیڈول میں نامزد ہونے کے باوجود جگہ جگہ اجتماعات تو کرتے ہیں۔
حد تو یہ ہے کہ گجرات میں نواز شریف کا اِستقبال کالعدم لشکرِجھنگوی کے ایک صاحب کرتے ہیں توٹیلیویژن پر شیخ رشید صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خادم رضوی سے بحیلہِ مذہب، عمران خان کے لیے سپورٹ حاصل کریں گے۔
تاہم، جب ہم افغان پراکسی کے نتائج کو تسلیم کرتے ہیں، ان کی باقیات کے خِلاف عسکری طاقت استعمال کرتے ہیں تو اِس سے ایک سوال اُٹھتا ہے کہ اگر پراکسی جنگیں افغانِستان میں یہی نتائج برآمد کرتی ہیں، تو ایسی کونسی منطق ہے، جِس کے تحت یہ سمجھا جائے کہ بھارت کے خلاف پراکسی جنگیں لڑنے سے پاکستان کو کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو گی؟ اگرحقانی نیٹ ورک کل کا اثاثہ اور آج کا دشمن ہو سکتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ حافِظ سعید، اظہر فاروقی، کمانڈر صلاح الدین اور ذکی الرحمان لکھوی وغیرہ، جو آج مجاہدینِ کشمیر بتائے جاتے ہیں آنے والے کل میں یہ سب امنِ عالم کے خونی قرار نہیں دیے جائیں گے؟
بد عنوانی کے حوالے سے ایک انگریزی کہاوت ہے
“Power corrupts and absolute power corrupts absolutely”
یعنی طاقت بد عنوان کرتی ہے اور طاقتِ مطلق مکمل طور پر بد عنوان کر دیتی ہے۔ گویا، اِس کہاوت کے حوالے سے کرپشن کے اصل مظہریعنی طاقت پر غور کریں تو ہمارے سیاسی زعماء کو بھی طاقت کے اصل ماخذ محض وردی اور پگڑی والے ہی نظر آتے ہیں۔ یعنی، ہم اُن قؤتوں کا تعین کر سکتے ہیں جو سیاسی و غیر سیاسی تمام اہلیانِ  زر کو موقع فراہم کرتی ہیں کہ اِس بد عنوان اور اِستحصالی نظام کو ایک لمبے عرصے تک عوام پر مُسلط رکھا جا سکے کیونکہ وردی، پگڑی، واسکٹ اور بزنس سوُٹ والے طبقے کا مُفاد اِسی بد عنوان نِظام سے وابستہ ہے۔
تو صاحبو، پھِر نظامِ  زر سے منسلک یہ طبقات قانونی اور غیر قانونی بد عنوانی کیوں نہ کریں؟ کیوں نہ اِس نظام کے تحت بنائے گئے تمام ادارے بد عنوان ہوں۔ جی ہاں، ہم نے ادارے ہی لِکھا۔ سب سے بڑی مِثال عدالتِ عظمیٰ ہے۔
آپ ہی کہیے کہ عدالتِ عظمیٰ کا سربراہ جب کہتا ہے کہ دو قومی نظریے کے تحت ایک قوم مُسلمان تھی اور دوسری کا وہ نام بھی نہیں لینا چاہتا توکیا ایسی عدالتِ عظمیٰ اُن اقلیتوں کو انصاف دے پائے گی، جِن کی حفاظت کا عزم پِچھلے دِنوں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کیا ہے؟ کیا جنوبی پنجاب کے ایک چک میں جب مزارعوں کی زمین پر وڈیرہ قبضہ کر لیتا ہے تو کونسی عدالت از خود نوٹِس لے کر اُسے انصاف فراہم کرتی ہے؟ اب مقننہ کو لے لیجیئے۔ کیا مقننہ نے ایساکوئی قانون بنایا جِس کے تحت لاکھوں مزارعین کو اُن کی زمین کی مالکی فراہم کی جاسکے؟ اور صاحب، زمین کی مالکی تو دور کی بات ہے، سالوں سے اِن مزارعین کے ایک قائد مہر عبدلستار کو ہائی سکیورٹی جیل میں قید کر رکھا ہے۔ دہشت گردی کے مقدمات اُس پر ہیں، را سے اُس کا تعلق بتایا جاتا ہے، القائدہ سے اُس کا تعلُق بتایا جاتا ہے اور نجانے کیا کیا….. جو ہر ذی شعور شخص کو معلوم ہے کہ جھوُٹ ہے مگر مہرعبدالستار عین قانون کے تحت اسیر ہے۔
صاحبو، کیا مہر عبدالستار کی اسیری کو نظام کی بد عنوانی کہنا غلط ہو گا؟ اور پھِر یہی کیا، اِس نظامِ  زر کی کرپشن کا شکار کون سا ادارہ نہیں۔ کیا سرکاری  سکول نہیں، پولیس تھانے نہیں، سرکاری ہسپتال نہیں، پراونشل بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ نہیں؟؟؟
مگر صاحبو، اِس کا ایک حل ضرور ہے اور وہ یہ کہ ملک بھر میں تمام سرکاری بیوروکریسی کی بجائے منتخب نمائندے نِظام چلائیں، فوج سرحدوں پر چلی جائے اور تمام نجی اثاثوں، پرائیویٹ سکولوں، پرائیویٹ صنعتوں، پرائیویٹ کلینکوں اور ہر طرح کی نجی ملکیت کو قومیا لیا جائے، یعنی عام زبان میں Nationalize کر لیا جائے۔ اگر ہماری قوم یہ کر پائی تو نہ ایوانوں میں شریفین و خان و زردارہوں گے نہ  کہ یہ کرپشن، جِس کا گِلہ ہم نے اُس ویڈیو کلِپ میں سُنا۔

فہیم عامِر
فہیم عامِر
ایک عرصے سے صحافت سے منسلک ہیں اردو اور انگریزی زبانوں میں کالم نگاری کرتے ہیں۔ بقیہ تعارف تو ہماری تحریریں ہی ہیں، جِن میں سے کچھ ہماری فیس بُک پر موجود ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *